اے ایمان والو ! یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ، یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور ساتھی ہیں ، اور تم سے جو کوئی بھی ان کو دوست بنائے وہ انہی میں سے ہے ،

بے شک اللّٰہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتے ۔(المائدۃ۔۵۱)

امام قرطبیؒ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں ،،،،،

(اور تم میں سے جو کوئی بھی انہیں اپنا دوست بنائے ) یعنی مسلمانوں کے مقابلے میں ان کی مدد کرے ( تو وہ انہی میں سے ہے ) یعنی اس کا اور ان (یہود و نصاریٰ ) کا شرعی حکم ایک سا ہے

امام طبری ؒ یعنی (وہ انہی میں ہے ) کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں

۔۔۔انہی (یہود و نصاریٰ )کے دین و ملت پر ہے ،،،،،،

امام مظہری حنفی ؒ اپنی تفسیر میں (فانہ منہم ) کے ذیل میں لکھتے ہیں

یعنی وہ ( انہی کی طرح ) کافر و منافق ہے،،،،،

(حوالہ از کتاب شمشیرِبے نیام مصنف،شیخ ابویحییٰ اللیبی شہیدؒ)