امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں

‘‘قوت وشوکت کا حامل ہر وہ گروہ(طائفہء ممتنعہ)جو اسلام کے مشہورو معلوم احکامات میں سے کسی ایک حکم کی بجا آوری سے انکار کرے،اس سے لڑنا واجب ہے،اگر چہ وہ گروہ کلمہ گو (مسلمانوں) پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو۔مثلاً اگر کوئی گروہ نماز پڑھنے یا زکوٰۃ ادا کرنے یا روزے رکھنے سے انکار کردے۔یا مثلاً وہ یہ کہے کہ ہم سب فرائض تو ادا کریں گے،لیکن شراب نوشی اور زنا نہیں چھوڑیں گے یا سود ترک نہیں کریں گےیا فواحش سے باز نہیں آئیں گے یا ہم جہاد نہیں کریں گے یا ہم ذمیوں پر جزیہ عائد نہیں کریں گے وغیرہ،تو ایسے گروہ کے خلاف قتال کیا جائے گا،یہاں تک کہ پورے کا پورا دین اللّٰہ کے لئے خالص ہو جائے۔’’

(مختصر الفتاوٰی المصری۱۶۷)

پاکستان کی حکومت،فوج اور خفیہ ادارے احکاماتِ شریعت کی بجا آوری سے انکاری طائفہء ممتنعہ ہیں

یہ افسوسناک حقیقت آج روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستانی حکومت،فوج اور خفیہ ادارے بحیثیتِ مجموعی قوت وشوکت کے حامل ایک ایسے ممتنع گروہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ،جو اسلام کے بہت سے مشہور ومتواتر احکامات کی بجا آوری سے انکاری ہے۔ان احکامات میں

 سرِ فہرست اللّٰہ کی نازل کردہ شریعت کے نفاذ کرنے سے انکاری ہے،بلکہ جو مخلصین بھی اسلام کی محبت سے مجبور ہو کر شریعت نافذ کرنے کے لئے کوئی کوشش شروع کرتے ہیں۔۔۔

یہ بد بخت اپنی پوری قوت لے کر ان پر جان ومال،عزت وآبرو اور زندگی کے جملہ پہلووں سے متعلقہ مسائل کا فیصلہ ہوتا ہے،ان کا منبع و مصدر شریعت کی بجائےانسانی آراء و خواہشات ہیں۔پھر یہ طائفہء ممتنعہ اپنی قوت و شوکت کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانانِ پاکستان کو انہی جاہلی وطاغوتی قوانین کی اتباع پر مجبور کرتا ہے اور انہی کی پابندی و احترام پر ابھارتا ہے۔

نیز جو بندہ مومن بھی ان خود ساختہ قوانین کا انکار کرے اور رب کی نازل کردہ پاکیزہ شریعت کو غالب کرنے کی کوشش کرے۔۔۔یہ طاغوتی نظام اسے باغی اور غدار قرار سے کر اس کے خلاف پوری قوت استعمال کرتا ہے۔

(اقتباس از کتاب شمشیرِ بے نیام صفحہ ۹۷۔مصنف شیخ ابو یحییٰ اللیبی شہیدؒ)