امریکہ کو تو مارتے ہو ،لیکن ساتھ میں پاکستانی فوج کو کیوں مارتے ہو۔۔۔

ایک اعتراض کا جواب

رسول اللہﷺ مجرم قبیلے کے حلیف قبیلے کے فرد کو بھی مجرم تصور کرتے تھے۔

قبیلہ ثقیف،بنو عقیل کے حلیف اور اتحادی تھا۔ثقیف نے رسول اللّٰہﷺ کے اصحابؓ میں سے دو آدمیوں کو قید کر لیا،تو اصحابِ رسول اللّٰہﷺ نے بنی عقیل کے ایک آدمی کو قید کر لیا،اور اس کے ساتھ عضباء اونٹنی کو بھی گرفتار کر لیا۔رسول اللّٰہﷺ ،اس قید کئے گئے شخص کے پاس تشریف لائے،اس حال میں کہ وہ بندھا ہوا تھا۔اس نے کہا اے محمد!آپﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس سےکہا کیا بات ہے؟ تو اس نے کہا  کہ آپﷺ نے مجھے کیوں پکڑا ہےاور کس وجہ سے حاجیوں پر سبقت لے جانے والی(اونٹنی) کو گرفتار کیا ہے؟تو آپﷺ نے فرمایا:‘‘اس بڑے قصور کی وجہ سے میں نے تمہیں تمہارے حلیف قبیلہ ثقیف کے بدلے گرفتار کیا ہے۔پھر آپﷺ اس سے جدا ہونے لگے،تو اس نے آپﷺ کواے محمد! اے محمد! کہہ کر پکارا اور

رسول اللّٰہﷺ مہربان اور نرم دل تھے،لہذاٰآپ اس کی طرف لوٹے تو پھر فرمایا کیا بات ہے،تو اس نے کہا۔‘‘ میں مسلمان ہوں’’۔آپﷺ نے فرمایا:‘‘کاش!تم یہ بات اس وقت کہتے ،جب تم اپنے معاملے میں مکمل طور پر مالک تھے،اگر ایسا ہوتا،تو تم پوری کامیابی حاصل کر لیتے’’۔یہ کہہ کر آپﷺ پھر پلٹنے لگے،تو اس نے آپﷺکو ،اے محمد!اے محمد!کہہ کر پکارا۔آپﷺ اس کے پاس آئے اور فرمایا کہ کیا بات ہے؟تو اس نے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھلائیے اور میں پیاسا ہوں ،مجھے پلائیے۔تو آپ ﷺ نے فرمایا:‘‘یہ تمہاری حاجت و ضرورت ہے،یعنی اسے کھلایا اور پلایا ۔پھر اسے ان دو آدمیوں کا فدیہ بنایا گیا۔

(جنہیں ثقیف نے گرفتارکیا تھا)۔’’(صحیح مسلم)