اگر خاوند مرتد ہو جائے تو زو جین کا نکاح ختم ہو جاتا

 

اور اللّٰہ تعالیٰ کافروں کو  ایمان والوں کے اوپر(غلبے کی) ہر گز کوئی راہ نہ دےگا ۔(النسا،۱۴۱)

علامہ ابو بکر جصاص ؒ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:

اس آیت کے ظاہری الفاظ سے اس بات پر استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر خاوند مرتد ہو جائے تو

زو جین کا نکاح ختم ہو جاتا ہےکیونکہ عقد نکاح سے خاوند کو بیوی پر (غلبے کی ) راہ ملتی ہے ۔۔۔۔۔۔وہ اسے اپنے گھر میں رکھ سکتا ہے اس کی تادیب کا اختیار رکھتا ہے ، اسے باہر جانے سے روک سکتا ہے اور اسی طرح بیوی پر بھی واجب ہے کہ وہ عقدِ نکاح کے تقاضوں  کے مطابق خاوند کی اطاعت کرے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے(مرد عورتوں پر نگران ہیں)،،،،جبکہ اللّٰہ تعالیٰ کے اس فرمان ،،،،(یعنی اللّٰہ تعالیٰ کافروں کو ایمان والوں کے اوپر (غلبے کی )ہر گز کوئی راہ نہ دےگا) ۔۔۔۔۔کا تقاضاتو یہ ہے کہ خاوند کے مرتد ہونےکی صورت میں نکاح ختم ہو جائے، کیونکہ جب تک نکاح باقی ہو گا، اس وقت تک اس کے حقوق ثابت رہیں گے، اور اسے اپنی بیوی پر (غلبے کی )راہ حاصل رہےگی۔

(احکام القرآن للجصاص۔۔۲۷۹،۳)