JustPaste.it
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تنظیم دولۃ البغدادی سے متعلق بیان
از: شیخ ابو معاذ نور الدین نفيعة
بوركايز بفاس میں مقیم قیدی
(مراکش، شمالی افریقہ)

مقریزی ویب سائٹ کومراکش میں قید شیخ نورالدین نفيعة المعروف ابو معاذ کی جانب سے ای میل میں ایک بیان موصول ہوا ہے۔شیخ ابو معاذ کا تعلق ان سابقہ مجاہدین میں سے ہے جنہوں نے افغانستا ن کی طرف سویت یونین کے خلاف جہاد کے اوائل میں ہجرت کی اور بہت سی جنگوں میں حصہ بھی لیا۔ وہ شیخ ڈاکٹر عبداللہ عزامؒ سے بھی ملے،اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائیں، اور اس کے ساتھ ساتھ شیخ ڈاکٹر ایمن، شیخ اسامہؒ، شیخ ابن الشیخ اللیبیؒ اور ابو مصعب الزرقاویؒ کے ساتھ ملاقات کا شرف بھی حاصل رہا۔ امراء جہاد اور ان کی شوری کی جانب سے ان کے وسیع فوجی تجربہ اور علم کی وجہ سے بہت احترام اور عزت ملی۔

سقوطِ امارت افغانستان کے بعد وہ اپنے بھائیوں جو پاکستان میں موجود تھےسے جا ملے، جہاں پر وہ اپنی اہلیہ، مہاجرہ،صابرہ، امِ معاذ کے ساتھ کچھ وقت رہے، جو کہ گوانتانامو کے دو قیدی بھائیوں کی بہن بھی ہیں اور جب معاملات بہت مشکل اور مجبوری کی طرف چلے گئے، تو وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ موریطانیہ چلے گئے، جہاں وہ اور ان کی اہلیہ کو اغواء کر لیا گیا۔ پھر ان کو حوا لے کر کے ایک مخصوص پرواز کے ذریعے مغرب(مراکش) کی طرف روانہ کیا گیا، جہاں وہ خفیہ قید خانوں میں ایک سال تک رہے، انہیں تعذیب کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا اور ان کو اس حد تک نظر انداز کر دیا گیا کہ ان کی اہلیہ کے اعصابی نظام اور سر کو شدید تکلیف نے آ لیا۔

بھائی کو ایک مشکوک سانحہ جو’البیضاء (کاسا بلانکا)کے دھماکوں‘(۱۶ مئی ۲۰۰۳ء)کے نام سے جانا جاتا ہے کی وجہ سےتحویل میں رکھا گیا ، اسی پسِ منظر میں ان کو عدالت میں پیش کیا گیا ،بالکل اسی طرح جس طرح ’انکل سیم‘ (امریکہ)کے ذبح خانہ میں اس سے پہلے بیشتر مسلمان نوجوانوں کو پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے بعد ان کو ۲۰ سال کی قید سنائی گئی جن میں سے ۱۲ سال انہوں نے اس دیوارِ ظلمت کے پیچھے کاٹے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں مضبوط بنایا اور وہ واپس نہ پلٹے اور نہ ہی کسی قسم کا اشتعال اور دباؤ جو ان کو سیکورٹی اہلکاروں کی طرف سے درپیش رہا ان کو تبدیل کر سکا، اور شیخ نورالدین ابھی بھی بوركايز بفاس میں صبر اور امید کے ساتھ قید میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو جلد ان قیدخانوں سے رہائی عطا فرمائیں۔ اے اللہ! اسے قبول فرما لیجیے۔ (المقریزی ویب سائٹ)

بیان کا متن
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے،درود اور سلام ہو ان ہستی پر جنہیں رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کیا گیا، اور ساتھ ان کے مبارک اصحابؓ پر بھی اور ان سب پر بھی جو احسان کے ساتھ قیامت تک ان کی پیروی کریں۔

بعد ازاں،
یہ بیان عمومی طور پر امتِ مسلمہ کے نام ہے اور خصوصی طور پر مغربِ بعید (مغربِ اسلامی) کی دوسری طرف کے لیے ہے۔ اس بیان کے ذریعے میں العبدا لفقیر، ابو معاذ، نورالدین نفيعة تنظیم دولۃ الاسلامیہ کے متعلق اپنے موقف کی وضاحت اللہ کی توفیق سے کرتا ہوں، جس کے ذریعے امت کو نصیحت ہےاور خود کو اس ذمہ داری سے آزاد کروانا مقصود ہے؛ میں کبھی بھی مظلوموں کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بن سکتا اور نہ ہی میں ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ کا باعث بننا پسند کروں گاجو اہل قبلہ کے اوپر ظلم کے ساتھ حملہ آور ہوں گے، چاہے ان کا تعلق کسی سے بھی ہو۔ میں کبھی بھی خاموشی اختیار نہیں کروں گا جب میں ہمارے امراء اور علماء کے تقد س کو پامال ہوتا دیکھوں گا یا ان کے ایمان کو کسی کو بدنام کرتا پاؤں گا اور ان کے اعتبار کو بغیر کسی علم، رہنمائی یا ہدایت والی کتاب کے ذریعے نشانہ بنتا دیکھوں گا۔

عامۃ الناس میں جس کسی تک بھی میرا پیغام پہنچے ان کو میں یہ بات زور دیر کر کہنا چاہوں گا کہ دین کے اصولوں میں سے جس پر اللہ تعالیٰ ہم پر راضی ہوں گے اس کے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ، ان کے اصحابؓ، اہل ہدایت امراء اور رسول کے ورثاء (علماء) کی پیروی کی جائے کیونکہ وہ امت کے بہترین لوگ ہوتے ہیں، جو رہنمائی کرتے ہیں اور امت کے مصلح افراد میں سے ہوتے ہیں اور یہ اصول ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم ہوائے نفس اور ان کے پیروکاروں سے دور رہیں اور تفرقہ پھیلانے اور جو ان میں معاونت کرنے کا سبب بننے والوں میں سے ہیں ان سے بھی دوری اختیار کریں اور تکبر اور زمین میں فساد پھیلانے سے بچیں۔

اور دین کے اصولوں میں سے ہی ہے کہ ہم لوگوں کے اوپر ظاہر پر فیصلہ کریں اور ان کے مخفی معاملات کو اللہ کے سپرد کر دیں۔ اور جن کی نیکی ایک عرصہ تک معروف ہو اور طول وعرض میں یہ معلوم بھی ہو تو پھر ایسے شخص کے نیکوکار ہونے پر سوال نہیں اٹھایا جاتا ہے، چہ جائیکہ اس پر بہتان باندھے جائیں اور جس کی دیانت کو ثقہ مانا جاتا ہو اور جس کے علم پر سب شہادت بھی دیتےہوں اس کو کسی کے کہنے پر تلف نہیں کر دیا جاتا ہے۔

ان نابینا آنکھوں سے کہہ دو کہ سورج بھی آنکھیں رکھتا ہے
تمہارے علاوہ کم از کم وہ تو اپنے عروج اور زوال کے وقت کوجانتاہی ہے
جو اس کے ساتھ محبت کے قابل نہیں ہیں ، ان نفوس کوہم عذر دیتے ہیں
کہ اُس کی لگن اور چاہت ہر سطح پر درست نہ ہے

اور آپ ان اعلی مطلوب چیزوں کو سوائے کشادہ دلی اور قلبِ سلیم اور امت کو نصیحت کیے بغیر حاصل نہیں کر سکتے اور اللہ تعالیٰ کبھی بھی ان لوگوں کو مضبوط بنیاد فراہم نہیں کریں گے جن کے اعمال کواہل دانش حکمت کے برخلاف پاتے ہوں جبکہ وہ بہت ہی ناقص اور مخالفت انگریز رویے سے ان عظیم فوائد سے روگردانی کر رہے ہوں جو کہ شریعت کو مطلوب ہیں اور حکمت جس بات کا تقاضا کر رہی ہے۔

اگر بہت سے اہل دانش کو نبوت کی صداقت کی حقیقت شریعتِ اصلی سے ہی مل گئی ہو اور وہ دلائل ان کے کافی ہو جا ئیں اور وہ اس معاملہ میں معجزات کا مطالبہ نہ کریں کیونکہ رسولوں کی تو دعوت خود ایک حق گوائی کے اوپر بہت بڑی شہادت ہوتی ہے،تو پھر اسی پیش نظر جو راستہ جماعت دولۃ الاسلامیہ نے اپنایا ہے وہ بالکل اس کے الٹ ہے، اور اس کے اندر بہت بڑی گواہی موجود ہے کہ یہ لوگ ہدایت والے اور منہجِ نبوت والے رستے سے بہت دور ہیں۔ ہر شخص جو اس رستہ کو جان چکا ہے اور اسے کوئی بھی چیز اس رستہ کو چھوڑنے پر مجبور نہیں کر رہی تاکہ وہ حقائق کی طرف واپس آ جائے اور پھر بھی وہ ان کی مدد کرے، تو پھر یہ بھی انہیں لوگوں میں شامل ہے اور اس کا حکم بھی وہی ہے جو کہ علماء کرام نے بیان کر دیا ہے۔

اور ہم اہل اسلام سے کہتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے وہ سچا ہے اور جو ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خوشخبریاں دی ہیں وہ یقیناً ناگزیر ہیں اور یہ کہ دنیا میں باطل کا وجود صرف اور صرف حق کے اندر موجودحسن کی ہی کی تکمیل کے لیے ہے کیونکہ کسی متضاد بات کا حسن اس کی مخالف بات کی موجودگی کے ذریعےسے ہی جانچا جا سکتا ہے۔

اور جو چیز نفس نا پسند کرتا ہے شاید وہ اسی طرف لے جائے
جو اسے محبوب ہو، ایسا راستہ جس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہو

میں نے اس بیان کو تب تک نشر نہیں کیا جب تک مجھے یقین نہ ہو گیا کہ اب خاموشی کو موافقت سمجھا جانے لگے گاکیونکہ جو بھی مظالم جماعت الدولۃ کی طرف سے اہل شام کے اوپر ڈھائے گئے وہ عیاں ہو چکے تھے۔ اگر میری خاموشی کی طوالت زیادہ دیر تک قائم رہی تو اس کی وجہ حقیقت کے ساتھ رہتے ہوئے معاملہ کو دیکھنا ضروری تھا اور پھر تمام قسم کے مصادر سے اس کی تحقیق کرنا شامل تھا، اور اسی کی بنیاد پر یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ، اور جب وہ حصہ مکمل ہو گیا اور حالات واضح ہو گئے تو پھر یہ مجھ پر ضروری ہو گیا کہ اس معاملہ میں نصیحت کروں، اس امید کے ساتھ کہ جو اللہ رب العزت کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور اس کے ذریعے مظلوم کی نصرت ہو جائےاور جو ہم پر امت کے ممتاز قابل احترام اکابرین کے فرائض ہیں، اس کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔

اور میں یہاں پر اس حدیث کو بیان کرنا چاہوں گا جو کہ صحیح سند کے ساتھ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے بیان کی گئی ہے، جب انہوں نے فرمایا:

[عنقریب لوگوں پر ایسا وقت آئے گا جس میں ہر طرف دھوکا ہی دھوکاہوگا ، جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا، سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا ،خائن کو امانتدار اور امانتدار کو خائن سمجھا جائے کا اور’رویبضہ‘ خوب گفتگو کریں گے، عرض کیاگیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) رویبضہ کون ہیں؟۔آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : عامۃ الناس کےمعاملات میں بولنے والے نااہل ترین لوگ]

اور آخری زمانے میں ان فتنوں کے بڑھنے کی وجہ یہ ہے دین کے علاوہ چیزوں میں تفقہ حاصل کرنےکی کوشش کی جانے لگی ، علم کو بغیر عمل کے لیے سیکھا گیا، اور دنیا کی حرص میں آخرت والے اعمال اس دنیاکے لیے کیے گئے، امانت دار لوگوں کی قلت ہو گئی، اور امراء کثر ت سے ہونے لگے، فقہاء کی قلت ہوئی اور قارئیں کی تعداد بڑھ گئی۔ ان سب سے بچنے کا طریقہ کار یہی ہے کہ جو بھی اس کشتی میں سوار ہیں وہ کتاب و سنت کو مضبوطی سے تھام لیں، اور تنازعہ کی صورت میں اس بات کو اللہ اور اس کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف لوٹا دیں، اور ان کے قول اور فعل سے ایک ہاتھ بھی آگے نہ بڑھیں۔

اس معاملہ میں سب سے مقدم اہل علم والے وہ اشخاص ہیں جن کو ہم حق کے ساتھ جانتے ہیں، اور جن کو ہم نے مخلوق پر رحمدلی والا معاملہ کرتے پایا ہے، اور جن کو اللہ تعالیٰ کی سنت کو جاننے والا سمجھا ہے۔ وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) کے معاملہ میں بغیر علم کے بات کرتے ہیں وہ نور سے دور کر دیے گئے ہیں، اور انہوں نے ہی دین میں فرقہ بنائے اورگروہوں میں بٹ گئے اور امت پر ان گناہگارلوگوں کی نسبت ان گمراہ ائمہ کا نقصان بہت ہی زیادہ رہا ہے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے جو بھی فتنے ظاہر ہو ئے اور جو باطن میں ہیں ان سے سلامتی کا سوال کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں کے لیے عافیت اور یقین کے خواستگار ہیں۔

بوركايز بفاس کی قید میں لکھا گیا
شيخ أبي معاذ نور الدين نفيعة
ویب سائٹ مركز مقريزي برائے مطالعہ تاریخ، لندن
30 شوال 1435ھ ـ 26 اگست 2014

(مصدر)
http://www.almaqreze.net/ar/news.php?readmore=2507