JustPaste.it

 

ایف اے ٹی ایف بل پاس۔۔۔۔

 اپوزیشن تیرا شکریہ!

 

(قسط دوم)

 

ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے دنیا بھر میں یکساں قوانین لاگو کروانے اور ان پر عمل کی نگرانی کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ یعنی جو قانون یورپ اور چین وغیرہ میں لاگو ہے وہ مدینہ ثانی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی لاگو ہوگا۔

 

پاکستان نے بہت پہلے سے ہی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے عالمی قوانین کو اپنانا شروع کردیا تھا۔ سال 2009ء میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی غرض سے نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی (این ای سی) قائم کی جس کی سربراہی وفاقی وزیرِ خزانہ کو دی گئی۔  2010ء میں پاکستان نے منی لاندڑنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام کے حوالے سے پہلا قانون متعارف کروایا تھا جسے بعدازاں 2016ء میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کی غرض سے بذریعہ ترمیم بہتر بنایا گیا۔

پاکستانی بھی تابعداری میں کسی سے کم نہیں، ایک حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان پر جو شرائط عائد کی ہیں اور جن شعبوں میں پیش رفت کا مطالبہ کیا ہے اس پر عملدرآمد کرنا کسی ایک حکومتی ادارے کا کام نہیں ہے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ، حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر سطح پر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کو جلد از جلد قانون سازی کے علاوہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے عملدرآمد کے طریقہ کار کو بھی وضع کرنا ہوگا۔ ان آقاؤں کی بھی وفاداری دیکھیں، ایف اے ٹی ایف کے جاری کردہ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان نے اب تک 27 ایکشن نکات میں سے بڑے پیمانے پر صرف 5 پر عمل کیا،جبکہ باقی ایکشن پلان پر کی گئی پیش رفت کی سطح مختلف ہیں‘

 

قومی اسمبلی نے مزید کئی بل منظور کیے جس میں نشہ آور اشیا کی روک تھام ترمیمی بل 2020 بھی شامل ہے اسی بل کی منظوری کے ساتھ ساتھ بھنگ کاشت کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی، تاکہ نشہ آور آشیا کی روک تھام احسن طریقے سے کی جائے، اس کے علاوہ ایم ایم اے کے ارکان کے مطالبے پر دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل 2020 پر اگلے اجلاس تک مؤخر کردیا گیا۔

وقف املاک بل منی لانڈرنگ کے شور میں دینی اوقاف پہ قبضہ ہے اور کچھ نہیں ...

اوقاف کنٹرول پالیسی بل کی تفصیلات پہ اگر غور کیا جائے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ھیں ۔

 

مساجد کے خطبوں تک کا کنٹرول اس بل کے نفاذ سے یہاں تک ھو جائیگا کہ خطیب بات کرنے کو بھی ترسے گا !

وقف جگہ پہ مسجد ،مدرسہ تبھی بن پائے گا جب وہ جگہ اوقاف میں رجسٹرڈ ھوگی ۔ اور یہ بات جاننے والے جانتے ھیں کہ نہ نو من تیل ھوگا نہ رادھا ناچے گی !!!

 

جو مسجد مدرسہ کو زمین یا فنڈ دے گا وہ ساتھ اپنی منی ٹریل بھی دے گا ۔۔ کہاں سے لئے پیسے ؟؟

کیا اس پیسے کا ٹیکس دیا ؟؟

کیا وہ ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہے ؟

وقف زمین پر عمارت کی تعمیر کا مکمل ریکارڈ دینا ہو گا

اگر مسجد مدرسہ کسی موقعے پر مکمل اخراجات ۔ فنڈ دینے والوں کی تفصیل یا منی ٹریل نہ دے سکا تو وہ عمارت حکومت کے قبضے میں چلی جائے گی۔

تعمیر ہونے کے بعد بھی مسجد مدرسہ بنانے کےلئے پہلے وقف رجسٹر کرانا ضروری ہو گا ۔۔

انجمن کے تمام عہدیداران کی مکمل ویریفیکشن ہو گی۔۔

ٹیکس ریکارڈ بھی چیک کیا جائے گا۔۔

یعنی مسجد مدرسے پر جو رقم لگا رہا ہے وہ کما کہاں سے رہا ہے ۔ اس پر ٹیکس بھی دے رہا ہے کہ نہیں ۔

ذرا سی شکایت پر بغیر وارنٹ ۔ بغیر کسی وارننگ کے مسجد مدرسہ تعمیر کرنے والے کو چھ ماہ تک کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے جو ناقابل ضمانت ہو گا ۔۔ اس دوران کوئی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی ۔۔

خطبے یا تقریر کی شکایت کی صورت میں بھی چھ ماہ تک رکھا جا سکتا ہے ۔

اگر کوئی جرم نہ نکلا تو رہائی ہو جائے گی البتہ چھ ماہ کی قید پر پوچھا نہیں جا سکتا ہے ۔

اگر چہ اسمبلی کے اراکین میں سے حمایت اور مخالفت دونوں سامنے آئے پھر بھی ہونا تو وہی ہے جو ادھر سے حکم ہو،

 پاکستان نے ہر حال میں خود کو گرے لسٹ سے نکالنا ہے اس کیلئے انہیں کچھ بھی کرنا پڑے کر گزرتے ہیں۔

انہیں مساجد مدارس سے کیا لینا دینا ہے انہیں تو سورۃ الاخلاص پڑھنا نہیں آتا انہیں قرآن کے پاروں کا پتہ نہیں کہ تیس ہے یا چالیس؟ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ کس وقت کے نماز کی کتنی رکعتیں ہیں؟ جن کو پتہ ہے وہ دہشت گردی کے لیبل سے بچنے کی خاطر اسلام کی "سلامتی" اور "شریعت میں امن ہے" کی غلط تشریح کرتے ہیں، تاکہ امریکیوں کی نظر میں ہم پرامن اور جمہوریت پسند نظر آئیں،کیونکہ وزیراعظم، صدر یا آرمی چیف انہوں نے ہی تو منتخب کرنا ہے اس کی تصدیق جنرل حمیدگل نے ایک انٹرویو میں کی ہے جس کی ویڈیو نیٹ پر موجود ہے ...

 

اسمبلی اراکین میں سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ میں واضح کرتا چلوں کہ بلوچستان نیشنل پارٹی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ان بلوں پر ہونے والے اتفاق رائے کا حصہ نہیں ہے، جب ہم حکومت میں تھے تب بھی کسی فیصلے میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا تھا، اب بھی اپوزیشن کی طرز سے کوئی بل آتے ہیں تو ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور ہم آزاد بینچز پر بیٹھے ہوئے ہیں۔اختر مینگل نے کہا کہ پہلے تو یہ وضاحت ہونی چاہیے کہ دہشت گرد ہے کیا چیز، اس کی تعریف ہے، کیا اس ملک کے ایک وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا تھا؟ ایک دوسرے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا تھا؟ اور مجھ سمیت میرے خیال میں اس ایوان کے اکثر اراکین کو انسداد دہشت گردی کورٹ میں پیش کردیا گیا اور بعض ایسے اراکین بھی ہوں گے، جو اس دہشت گردی کے ضمرے میں آتے ہوں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ کھڑکی کا شیشہ توڑنے والا تو دہشت گرد بن جاتا ہے، لیکن پاکستان کا آئین توڑنے والا دہشت گرد نہیں ہوتا، شیشہ توڑنا اہم ہے یا پاکستان کا آئین، پہلے پاکستان کے آئین کو توڑنے والوں کو دہشت گرد قرار دیں، پھر ہم اس بل پر آپ کے ساتھ ہیں۔

مینگل صاحب شاید کچھ زیادہ بول گئے ان بلوں میں ایک بل یہ بھی ہے کہ بوٹ سرکار کے خلاف بولنے پر دوسال قید اور پانچ لاکھ تک کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا ....

اس لیے اب لکھنا بھی اشارۃً ہوگا کہ ہو تو ہو مگر پانچ لاکھ کہاں سے لائے؟؟

اسلیے بوٹ سرکار جو بھی کرتے ہیں ٹھیک ہی کرتے ہیں ...

 ہماری سمجھ کی کمی ہوگی جو ان پر تنقید کریں گے ...

 

قربان جاؤں تحریک طالبان پاکستان کے مجاہدین پر کہ برملا کہا کہ پاک نہیں بلکہ ناپاک امریکی غلام فوجی ہے،

مارنا ہی علاج ہے بس ورنہ برا بلا تو سبھی کہتے ہیں کالے کرتوت سامنے آتے ہوئے بھی کسی کو جرأت نہیں کہ بوٹ سرکار کے خلاف منہ کھولے .....

طالبان نے صرف کہا نہیں بلکہ کر بھی دکھایا اور الحمدللہ اس اجرتی قاتل فوج کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں ...

 اللہ مجاہدین کی مددونصرت فرمائے اور وطن عزیز کے سادہ لوح عوام کو حق جاننے اور حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ...

 اور اس ملک کے علماء کو بھی حق بولنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ....

وماعلیناالاالبلٰغ

 

کالم حرف حقیقت

از مکرم خراسانی