پاکستانی حکومت اور طالبان  کے مذاکرات۔۔۔۔۔۔۔۔

اصل کہانی،اصل حقائق

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستانی حکومت کے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے بہت سی منفی باتیں پرنٹ اور سوشل میڈیا پر چل رہی ہیں،تو سوچا کہ اس بارے میں اصل حقائق کو سامنے لایا جائے،

کیوں کہ بندہ خود ان مذاکرات کے معاملات کے دوران موجود رہا،تو جو حالات و واقعات وہاں اس دوران  پیش آئے،سوچا ان کو امتِ مسلمہ کے سامنے لایا جائے۔

مذاکرات تو بنیادی طور پر حکومت کا ایک بہانہ تھا،کہ جس کے ذریعہ یہ پاکستان کی سادہ لوح عوام کو بے وقوف بناکر،اپنے اعتماد میں لینا چاہتےتھے،ورنہ کون نہیں جانتا کہ آپریشن کا امریکی مطالبہ کتنے سالوں سے چل رہاتھا،لیکن یہ پر بار امریکہ کو یہی جواب دیتے ،کہ اگر ہم نے آپریشن اسی طرح آپ کے کہنے پر شروع کر دیا،تو ساری عوام یہ سمجھے گی،کہ ہم نے آپریشن امریکہ کے کہنے پر شروع کیا ہے،جس کی وجہ سے ہمیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گے،تو اس لئے پہلے ہم اپنے طریقے سے اپنی عوام کو اعتماد میں لیں گے،پھر آپ کا یہ مطالبہ آرام سے پورا ہو جائے گا۔میری اس بات کی تائید یہ بھی ہے،کہ ۲۴ جنوری۲۰۱۴ کو آپریشن کا فیصلہ ہوا،اگلے ہی دن،یعنی ۲۵ جنوری ۲۰۱۵ کو ،امریکا کی طرف سے عرصہ دراز سے بند کولیشن فنڈ  بحال کر دیا گیا،جس کی مد میں ۳۵ کروڑ ڈالرکی منظوری دے دی گئی۔

اب اگر جن کو یہ  اعتراض ہے  کہ ،اجی وہ تو کولیشن فنڈ ہے،آپ اسے کیوں آپریشن کی مد میں تھوپ رہے ہیں،تو ان حضرات سے گزارش ہے کہ،وہ امریکہ میں مقیم پاکستانی سفیرجلیل عباس جیلانی کیطرف سےمیڈیا کو دیئے جانے والابیان دیکھ لیں،کہ جس میں اس نے بہت ہی واضح الفاظ میں کہا ہے،کہ امریکہ نے یہ کولیشن فنڈ وزیرستان آپریشن کے لئے دیا ہے۔تو جب لینے اور دینے والے اصل مدعا خود بیان کر رہے ہیں،تو تماشائیوں کو تبصرے کرنے کی ضرورت نہیں۔

مذاکرات شروع ہونے کاپس منظر یہ تھاکہ،میڈیا کی جانب سے ایک عام تاثر یہ دیا جانے لگا کہ، طالبان خواہ مخواہ جنگ ہی چاہتے ہیں،ورنہ مذاکرات کر کہ مسئلہ کیوں نہیں حل کرتے  ،لہذا اس معاملے پر طالبان نے اپنا موقف یہ دیا کہ ،ہم  پاکستان حکومت اور فوج کی امریکہ غلامی چھوڑنے،اور ملک میں اسلامی نظام کے خواہاں ہے،اگریہ مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے،اور اگر واقعی حکومت اور فوج ،اس معاملے میں سنجیدہ ہیں،اورسنجیدہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں،تو ہم بھی تیار ہیں،اگر یہ مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے،تو ہم اس آپشن کو مسترد نہیں کرتے۔

 مذاکرات کے معاملے پر ،جوں ہی تھوڑی سی بات شروع ہوئی،فوراً ہی امریکہ کی جانب سے امیر حلقہ محسود تحریک طالبان پاکستان ،محترم مولانا ولی الرحمٰن محسودؒ کو ڈرون کے ذریعے شہید کر دیا گیا،لیکن طالبان اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹے،طالبان نے پھر بھی وہی موقف دہرایا کہ،ہماری پاکستان سے کوئی دشمنی نہیں ،یہ پاکستانی فوج اور حکومت آج بھی کفار کی غلامی چھوڑ کر،ملک میں اسلامی نظام نافذ کر دے،ہم سب غم بھلا کر،پاکستان کے غلام بن کر رہنے کو تیار ہیں، حکومت نے اس وقت کہا کہ امریکہ ہمارے مابین مذاکرات نہیں چاہتا،اس لئے وہ جان کر اس مسئلے کو خراب کر رہا ہے،حالانکہ  عین اسی  وقت ،خود دن رات امریکہ کی چاکری میں یہ حکومت اور فوج مصروف بھی ہے،اور پھر باتیں بھی اس طرح کی کرتی ہے،حالانکہ اگر حکومت اس معاملے میں مخلص ہوتی ،تو دو ٹوک الفاظ میں امریکا کو تنبیہ کرتی،لیکن چلیں چھوڑیں ،آپ خود سمجھدار ہیں۔

 پھر امیر تحریک طالبان پاکستان محترم حکیم اللہ محسودؒ کو ڈرون میں شہید کیا،پھر بھی طالبان اپنی بات پر قائم رہے۔

خیر مذاکرات کے معاملے میں اول طور پر حکومت کی طرف سے جو کمیٹی تشکیل دی گئی،تو کافی عرصہ تو حکومت میڈیا پر ان کی پبلیسٹی (مشہوری)کرواتی رہی ،تاکہ عوام سمجھے،کہ نئی آنے والی یہ حکومت ،مذاکرات کے معاملےمیں بہت سنجیدہ ہے،لیکن حقیقت میں یہ سب ٹوپی ڈرامے تھے،جس کی وجہ سے خطیب لال مسجد مولانا عبد العزیز صاحب ،شروع ہی میں اس کمیٹی سے خود ہی دستبردار ہوگئے،کہ ان تلوں میں تیل نہیں،صرف عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے،کہ کمیٹی اختیارات رکھتی ہے،لیکن حقیقت میں ان کے اختیار میں تو، ایک بات تک نہیں۔

لیکن میڈیا پر ایک طویل عرصہ تک یہ ٹوپی ڈرامہ چلتا رہا،کئی کئی ہفتوں بعد حکومتی کمیٹی کا  آپس میں اجلاس ہو رہا ہے،اور اس میں بس آپس میں بیٹھتے تھے،اور کچھ گپ شپ لگا کرا ٹھ جاتے،اور میڈیا اس کو ایسے عوام کو دکھاتا جیسے،بہت بڑی پیش رفت ہو چکی ہے،ورنہ اگر یہ واقعی سنجیدہ ہوتے،تو روزانہ،یا ہر دوسرے دن کے حساب سے مشاورت کرتے،اور جلد سے جلد طالبان سے رابطہ کرتے،لیکن،ہفتوں مہینوں تک،یہ معاملہ چلتا رہا،اور آخر میں پھر یہ ہوا ،کہ یہ حکومتی کمیٹی میں سےبعض ارکان کو فارغ کر کہ نئی کمیٹی بنا دی گئی۔

اب یہ ڈرامہ ،نئے سرے سے شروع کر دیا گیا۔

اب بات کچھ شروع ہوئی،تو طالبان نے ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا،کہ ان مذاکرات کے عمل کے دوران تحریک طالبان پاکستان کی طرف سےمنسلک کوئی بھی گروپ ،کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کرےگا،اور تمام گروپس ،اس بات پر متفق تھے،اور پورے پاکستان میں تحریک کی طرف سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی،جو بعض کچھ واقعات ،درمیان میں ہوئے،اس کی تحریک نے تردید بھی کی،اور وہ تحریک سے منسلک کسی بھی گروپ کی کاروائی نہیں تھی،

یہاں اس بات کو مدِ نظر رکھیں،کہ پاکستان کی حکومت اور فوج کے خلاف ،صرف تحریک ہی جنگ نہیں کر رہی،بلکہ بہت سے اور لوگ بھی موجود ہیں،جن سے بلوچستان بھرا پڑاہے،اور جو کوئی واقعہ مذاکرات کے دوران پیش آیا ہے،تو اس میں تحریک نے اپنا موقف واضح کر دیا،اور تحریک صرف اپنے ماتحت لوگوں کی ذمہ دار تھی،سب کا ٹھیکہ نہیں لیا تھا،تو اس معاملے میں ،انصاف کا تقاضا تو یہ ہے،کہ تحریک کا عذر مانا جائے،جیسا کہ تحریک نے اپنے قائدین میں امیر ِتحریک محترم حکیم اللہ محسودؒ او ر مولانا ولی الرحمن محسودؒکی شہادت کے حوالے سے ،پاکستان کا  عذر قبول کیا،کہ امریکہ مذاکراتی عمل میں مداخلت کرنا چاہتا ہے،اس لئے ،امریکہ نے ان پر ڈرون کیئے،حالانکہ حکومت کی جانب سے بعض علاقوں میں مجاہدین کو جیلوں سے نکال کر شہید بھی کیا گیا،اور طالبان کمیٹی نے حکومتی کمیٹی کو اس کے ثبوت بمع اخباری رپورٹ کے پیش بھی کیئے،جس پر حکومتی کمیٹی نے کہا ،کہ ہم اس حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں،اور آئندہ ایسے واقعے کے نہ ہونے کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔

خیر مذاکرات کے لئے،ایک مہینے کے لئے جنگ بندی کر دی گئی۔اور اب طالبان کی کمیٹی نےجنگ بندی کے اعلان سے پہلے ہی، اپنا ہوم ورک مکمل کر لیا،کہ کن موضوعات پر حکومتی کمیٹیوں سے بات ہوگی،اور اپنےقیدیوں کی لسٹیں بھی تیار کر لیں،کہ بات شروع ہوگئی،تو اس معاملے،کو سب سے پہلے  ،قیدیوں کے معاملے کو سامنےرکھا جائےگا۔اب طالبان کمیٹی جنگ بندی کے اعلان کے بعد انتظار میں بیٹھی ہے،کہ کب یہ حکومتی کمیٹی کےلوگ رابطہ کرتے ہیں۔

اب آپ اس بات سے حکومت کی سنجیدگی کااندازہ لگا لیں،کہ یہ امن کے لئے کس قدر سنجیدہ تھے،کہ جنگ بندی کو تین ہفتے گزر گئے،لیکن انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا،حالانکہ کتنے عرصہ سے میڈیاپر حکومتی کمیٹی کے مشاورتی اجلاسوں کی خبریں آتی رہیں،تو کیا اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی،یہ لوگ اپنے معاملات مکمل نہ کرسکے،

حتیٰ کہ میڈیا پر بھی یہ بات کافی دفعہ آئی کہ ،جب طالبان نے جنگ بندی کر کہ،مذاکرات کا اعلان کر دیا ہے،اور آنے کی دعوت بھی دے دی ہے،تو اب حکومتی کمیٹی جاتی کیوں نہیں ہے؟

تو بھائیو،بات یہی ہے کہ یہ مذکرات صرف حکومت کا ایک ڈرامہ تھا،اور لوگوں کو

بے وقوف بنانے کا ایک حیلہ۔

خیر حکومتی کمیٹی نے جنگ بندی کے ایک مہینےمیں سے تین ہفتے تو یوں ہی ضائع کیئے،اب آخری ہفتے میں طالبان کمیٹی سے رابطہ کیا،اور اپنی پسند کی جگہ پر آنے کی فرمائش کی،جسے طالبان کمیٹی نے مشاورت کے بعد منظور کر لیا،اور انتہائی دشوار اور خطرناک رستوں،اور سیلابی پانی کے ریلوں میں سے گاڑیاں گزار کر مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے،جو کہ عسکری اعتبار سے انتہائی خطرناک جگہ تھی،جہاں سے ٹل کا فوجی قلعہ ،گاڑی پر محض پانچ منٹ کی دوری پر تھا۔

یہاں ایک بات ،قابل غورہے،کہ عسکری لحاظ سے یہ جگہ کافی مشکوک تھی،اور ماضی میں آپ کو یاد ہوگا،کہ مذاکرات کے بہانے بلوا کر حکومت نے،دھوکے سے تحریک طالبان پاکستان کے سابقہ ترجمان حاجی مسلم خان اور ان کے ساتھ مذاکراتی کمیٹی کو گرفتار کیا تھا،جن کو ابھی حال ہی میں انہوں نے جیل میں زہر دے کر شہید کیا ہے،

بہرحال طالبان نے جو طے کیا تھا،اس پر اخلاص سے چلتے ہوئے،مقررہ مقام تک،اپنے خاطر خواہ عسکری بندوبست کے ساتھ پہنچ گئے۔

اب طالبان کمیٹی،جب مقررہ جگہ پر پہنچ گئی،تو اگلے دن،جس کا طے ہوا تھا،کہ حکومتی کمیٹی آئے گی،اس دن موسم تھوڑا خراب ہو گیا،طالبان کمیٹی نے ان کے ارکان سے رابطہ کیا کہ،آپ لوگ کب آؤگے،تو حکومتی کمیٹی نے کہا،ہم پشاور میں ہیں،موسم صاف ہوگا،تو ہیلی کاپٹر میں پہنچ جائیں گے،تو طالبان کمیٹی نے کہا ،کہ موسم کے بارے میں تو حتمی پتہ نہیں چلتا اگر مزید،ایک ہفتے تک،موسم خراب رہا،تو کیا ہم ادھر ہی بیٹھیں رہیں گے،اس لئے آپ ہیلی کاپٹر کو چھوڑیں،بذریعہ روڈ آجائیں،لیٹ ہوا ،تو کوئی بات نہیں، لیکن ان شاء اللہ،آج پہنچ جائیں گے،تو اس بارے میں مولانا سمیع الحق  صاحب کے ترجمان ،مولانا یوسف شاہ صاحب نے حامی بھری کہ میں حکومتی کمیٹی سے بات کرتا ہوں،لیکن حکومتی کمیٹی بالکل نہیں مانی،پتہ نہیں، ہیلی کاپٹر پر بیٹھنے کا انہیں کیا چسکا تھا،حکومت تو پہلےہی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں تھی،اور اوپر سے حکومتی کمیٹی بھی خوب دل پِشوری  کر رہی تھی،

بہرحال وہ ہیلی کاپٹر کے علاوہ پر جانے کے لئے رضامند نہ ہوئے،اور اس دن بھی نہ آئے،طالبان کمیٹی نے مجبوراً وہ دن بھی ایسے ہیں گزار دیا،اگلے دن اللہ اللہ کر کہ موسم ٹھیک ہو گیا،اور حکومتی کمیٹی کےحضرات،ہیلی کاپٹر کی سیر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے،وہاں پہنچ گئے۔

اب علیک سلیک کے بعد مذاکرات کا پہلے غیر رسمی سلسلہ ،بند کمرے میں شروع ہوا،جس میں حکومتی کمیٹی کے لوگوں نےپہلے بات کا آغاز کیا،اور باری باری اپنی بات شروع کی،اور اس میں طالبان پرا لزامات کی بوچھاڑ کر دی،اور اپنی طرف سے پوری کوشش کی ،کہ اپنی

پر مغز تقریروں سے انہیں مرعوب کیا جائے،تاکہ ہمارا پلہ شروع ہی سے بھاری رہے،اور طالبان ہم سے مرعوب ہو کر ہماری ہاں میں ہاں ملائیں،لیکن جب طالبان کمیٹی کی طرف سے بات شروع ہوئی،تو انہوں نے قرآن و سنت سے دلائل کے انبار لگادیئے،اور ان کے ہر سوال کا قرآن و سنت اور عقلی دلائل سے ایسے جوابات دیئےکہ،جسے سن کر حکومتی کمیٹی کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے،حتیٰ کے مولانا سمیع الحق صاحب بھی لاجواب ہو گئے۔

آخر طالبان کمیٹی کے متکلم نے کہا کہ،یہ وقت ان باتوں میں لگنے کا نہیں ہے،جس مدعا پر بات کرنے آئے ہیں،اس کی طرف توجہ دینی چاہئے،خیر اس موضوع پر کچھ دیر بات ہوتی رہی پھر،کھانے اور نماز کا وقفہ آ گیا،ظہر کی نماز کے بعد ،پھر  سے مذکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا،

اب طالبان کمیٹی یہ توقع کر رہی تھی،کہ اب باقاعدہ طور، مرتب کردہ نکات پر بات ہو گی،لیکن معاملہ بالکل اس کے بر عکس نکلا،اور حکومتی کمیٹی نے صرف ایک ہی مطالبہ سامنے رکھا،کہ جنگ بندی میں توسیع کر دو۔طالبان کمیٹی نے کہا،کہ جنگ بندی کے بارے میں،آپ فکر مند نہ ہوں،ہم اس میں توسیع کر دیں گے،آپ دوسرے نکات پر بات کریں ،جس میں سرِ فہرست قیدیوں کی رہائی ہے،اس لئے کچھ دو،کچھ لو،کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے،آپ ہمارے کچھ قیدی رہا کریں،اور ہم آپ کے کچھ قیدی رہا کر دیتے ہیں،اس سے مزید اعتماد بھی بحال ہوگا،اور مذاکراتی عمل میں یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی،ورنہ اگر جنگ بندی کی توسیع ہی کرنی تھی،تو بلوانے کا کیا فائدہ ہوا۔

لیکن حکومتی کمیٹی نے کہا،کہ قیدیوں کے بارے میں ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں،ہم تو صرف جنگ بندی کی توسیع کے لئے حاضر ہوئے ہیں،آپ اس معاملے پر بات کریں،تو طالبان کمیٹی نے کہا،کہ جب تم لوگ،اتنا سا بھی اختیار نہیں رکھتے،تو پھر میڈیا پر کیوں،جھوٹ بول رہے تھے،کہ حکومتی کمیٹی بااختیار ہے،حالانکہ ہمیں دیکھو،ہمیں اپنی طالبان قیادت کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے مکمل اختیار دیا گیا ہے،کہ جو بھی ہم طے کریں گے،وہ مانا جائے گا۔

تو اب مذاکراتی کمیٹی خاموش ہوگئی،اور دوبارہ سے اسی بات پر اصرار کرنے لگی کہ،جنگ بندی میں توسیع کر دو،اورساتھ ہی اپنی چرب زبانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے،اس کے فوائد گنوانے لگی،کہ اس سے دنیا کو یہ پیغام جائے گا،کہ مذاکرات کامیاب جا رہے ہیں،اور امریکہ ،جو یہ نہیں چاہتا کہ مذاکرات ہوں،اس کی سازش بھی ناکام ہوگی،اور اس طرح کے بہت سے فوائد گنوانے لگے،

لیکن طالبان کمیٹی نے کہا،مذاکرات میں پیش رفت جنگ بندی کی توسیع نہیں، بلکہ قیدیوں کی رہائی کی صورت میں نظر  آئے گی،اس لئے،اس موضوع پر بات کرو،لیکن کیونکہ ،حقیقت میں حکومتی کمیٹی ایک کٹ پتلی تھی،ان کے پاس کچھ اختیار تو تھا نہیں،اس لئےگھوم گھما کر واپس اسی جنگ بندی کے مطالبے پر آگئی،اور اب یہ کہنا شروع کیا،کہ اگر آپ جنگ بندی میں توسیع نہیں کریں گے،تو ہم کیا منہ لے کر میڈیا کے سامنے جائیں گے،اور حکومت اور عوام کو کیا جواب دیں گے،

تو طالبان کمیٹی نے کہا،ہم یہاں صرف جنگ بندی ہی میں توسیع کرنے نہیں آئے تھے،بلکہ اور نکات بھی لائے تھے،جس میں سےکسی پر بھی آپ بات کرنے کو تیار نہیں ہیں،تو ہم اپنے ساتھیوں کو کیا جواب دیں گے،کہ ہم کس بات پر مذاکرات کر کہ آئے ہیں،

آپ ایسا کریں کہ،ہمیں کوئی جلدی نہیں،آپ یہیں سے حکومت سے موبائل پر رابطہ کر لیں،یاواپس ٹل قلعے میں چلے جائیں،اور حکومت سے با ت کر کہ کل یا پرسوں تک تسلی سے طے کر کہ جواب لے آئیں،ہم یہیں انتظار کر یں گے،

لیکن حکومتی کمیٹی،اس پر بھی راضی نہیں تھی،اور ساتھ میں ،یہ بھی کہہ رہی تھی ،کہ آپ ہمیں بس جنگ بندی میں توسیع کا پروانہ دے دیں،اور ہم یہاں نہیں رکیں گے،شام سے پہلے پہلے ہمیں جواب دیں،تاکہ ہم واپس ہیلی کاپٹرپر پشاورجا سکیں۔

طالبان کمیٹی نے کہا ،کہ چلیں اگر آپ اس پر بھی راضی نہیں ہیں،تو یہ کرلیں،کہ آپ آرام سے واپس جائیں،اور حکومت سے قیدیوں کے متعلق بات کر کہ ہمیں فون پر  جواب دے دیں،اور اگلی ملاقات کا بھی پھر طے کر لیں گے،کہ کب اور کہاں کرنی ہے،اور اس جواب کے بعد جنگ بندی میں توسیع بھی کر دیں گے،اوریہ کہہ کر حکومتی کمیٹی کو رخصت کردیا۔

اس کے بعد ،طالبان کمیٹی نے بطورِ احسان،جنگ بندی میں دس دن توسیع کا اعلان بھی کر دیا،اور ان کے جواب کا انتظار کرنے لگے،اب اس کے بعد دس دن تک حکومت کی طرف سے انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا،یعنی ان کا دل ہی نہیں تھا،کہ کچھ پیش رفت ہو،اور یہ سیاسی ڈرامہ کسی طرح تکمیل تک پہنچے۔

با لآخر دس دن مزید گزر جانے کے بعد،طالبان نے جنگ بندی کا فیصلہ واپس لے لیا،

کیونکہ جب حکومت ہی سنجیدہ نہیں ہے،تو ہمیں کیا ضرورت ہے،کہ ہم مزید جنگ بندی کریں،جس مقصد کے لئےجنگ بندی کی گئی تھی،اور مزید توسیع بھی کی،وہ مقصد تو حاصل ہی نہیں ہو رہا، جبکہ اگلی پارٹی ہی ،اسےمذاق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی ،تو ٹھیک ہے،پھر اب تلوار ہی درمیان میں فیصلہ کرے گی۔

خیر آپرشن شروع ہوا،لیکن اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی، طالبان نے عسکری حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کرتے ہوئے،پاکستانی  فوج کو،اپنی مرضی کے میدان میں کھینچ لایا،اور جنگ کو شہری طرز کی آبادی کے علاقوں سے نکال کر پہاڑوں میں لے آئے،اور اب آئے روز ان پر کبھی رات میں حملہ ہوتا ہے،اور کبھی دن میں مائن عملیات۔

یہی وجہ ہے،کہ اول تو یہ چھلانگیں لگاتے ہوئے،آپریشن پر فخر کرتے ہوئے،خوش ہورہے تھے،کہ نوے فیصد علاقہ کلیئر ہوگیا،اور یہ وہ نوے فیصد تھا،جس میں طالبان نے جنگ کی ہی نہیں،اور جس باقی کے دس فیصد میں جنگ کی،وہ ڈھائی سال گزر گیا،لیکن کلیئر نہ کروا سکے۔

اب طالبان ان پر دن رات گوریلا طرز کی کاروائیاں کرتے رہتے ہیں،اور ان کا جینا حرام کر رکھا ہے،اور یہ اب خود مقامی لوگوں کی منتیں کر رہے ہیں،کہ تم لوگ امن لشکر بناؤ،لیکن مقامی لوگوں نے باقی ایجنسیوں جیسے ملاکنڈ،باجوڑ ،مومند ،خیبرمیں امن لشکر بنانے والوں کا،آئےروز کی ٹارگٹ کلنگ میں حال دیکھ لیا ہے،اس لئے مقامی لوگ بھی سمجھ گئے ہیں،کہ جیسے اُن کے ساتھ ہوا ،ویسا ہی ہمارے ساتھ ہوگا،اور جیسے ان کے آقا امریکہ نے انہیں ٹوائلٹ پیپر کی طرح،استعمال کر کہ پھینکا ہے،وہی حال ہمارا ہوگا،اس لئے،مقامی لوگ بھی ان معاملات سے اپنے آپ کو دور رکھ رہے ہیں۔

اب تحریک طالبان پاکستان نے اپنی جنگی حکمتِ عملی میں بھی تبدیلیاں کی ہیں،بقول ایک ساتھی کے،کہ اب  ایک ہی دفعہ جمبو پیکیج دیتے ہیں،اورعام حالات میں اپنے سپیشل گروپس کے ذریعےٹارگٹ کلنگ کر کہ اہداف کوکامیابی سے نشانہ بنا رہے ہیں،اور ابھی تو آپریشن کو کچھ ہی عرصہ گزراہے،حکومت نے جتنا کچھ کرنا تھا،کر لیا،اور ملا بھی کچھ نہیں،علاقے جانے سے کیا ہوا،طالبان ایک جگہ سے تقسیم ہو کر اب ملک کے کونے کونے میں پھیل گئے،اور آئے روز کسی نہ کسی کاروائی کی خبر آتی رہتی ہے،اب حکومت اور فوج کی باری ہے،جو لوگ آپریشن ضربِ عضب پر خوشیاں منا رہے تھے،وہ آئی ایس پی آر کے جھوٹے دعوؤں کو ایک طرف رکھتے ہوئے،خود بتائیں کہ اگر واقعی طالبان ختم ہو گئے ہیں،تو یہ آئے روز کوئی نہ کوئی حکومتی یا سکیورٹی ادارے کا بندہ نشانہ بنتا ہے،تو کیا یہ خودبخود قتل ہو جاتےہیں،

آئی ایس پی آر جو ابھی تک جتنے طالبان مارنے کے دعوے کر چکی ہے،شاید اس کا آدھا کیا جائے،تو طالبان کی تواتنی کل تعداد بھی شاید نہ ہو۔اور جہاں تک علاقہ جانے کی بات ہے،جب طالبان کی جنگ ہی گوریلا طرز کی جنگ ہے،اور گوریلا،ایک علاقے تک محدود نہیں ہوتا،تو علاقے کا آنا جانا کیا معنیٰ ۔

یہی نعرہ آج سے پندرہ سال پہلے بش بھی لگاتا تھا،کہ دو ہفتوں میں طالبان کا خاتمہ کر دوں گا،تو آج جو طالبان نظر آرہے ہیں،کیا یہ دوبارہ سے زندہ ہو گئے ہیں،

اس لئے آپریشن پر خوشیاں منانے والے،یہ سوچ لیں،کہ طالبان کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے،تم لوگ اپنی فکر کرو،کیونکہ اب تو امریکہ نے بھی ،بھیک دینے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ گوریلا جنگ ہے،اس کا نتیجہ ایک دن میں نہیں نکلتا،ابھی  آپریشن کوڈھائی سال مشکل سے پورا ہوا ہے،اور تم لوگ بغلیں بجا رہے ہو،جیسے آج سے پندرہ سال پہلے ،تمہارا آقا،امریکا بجایا کرتا تھا،لیکن آج حالات دیکھ لو،ساری دنیا کے سامنے ہیں۔

وہ وقت دور نہیں جب اس ملک میں ان شاء اللہ اسلامی نظام نافذ ہوگا،اور یہ فوج  اور حکومت،کفار کی غلامی چھوڑ کر،اللہ کی رٹ کو مانے گی،یا اسی طرح قتل ہو کر ختم ہوگی۔

اور یاد رکھیں،پاکستانی عوام ،ہمارے مسلمان بھائی ہیں،اور ہم ان کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں،لیکن ہماری یہ جنگ پاکستان کے اس طاغوتی جمہوری نظام اور اس کی محافظ سیکورٹی اداروں کے خلاف ہے،آج بھی یہ  سیکورٹی ادارے،کفار کی غلامی چھوڑ کر ،ملک میں اسلامی نظام نافذ کر دیں،یہ ہمارے بھائی ہیں۔

 

مقداد خراسانی#

 

ایک دن ہم بھی ہونگے مستحقِ دادِوفا

آج کوئی ہم سے برہم ہے،تو برہم ہی سہی