تترّس کی صورتیں اور اس کے احکام :
 
فقہاء کی اصطلاح میں تترس کہتے ہیں : کہ کفارمجاہدین کے حملوں سے بچنے کے لیئے  ایسے انسانوں کو اپنی ڈھال بنالیں جو معصوم الدم ہوں ؛
 اور اس مسئلہ کی دو صورتیں اور حالتیں ہیں:

پہلی حالت :
 کفار اپنی عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنائیں ؛
   
 اس مسئلہ کی دو صورتیں ہیں :
 
پہلی صورت :
وہ انہیں اس وقت ڈھال بنائیں جب گھمسان کی جنگ ہورہی ہو اور مسلمانوں کو ان سے جانی نقصان کا خوف  ہو ؛ تو اس صورت میں تمام فقہاء رحمہم اللہ کا اتفاق ہے کہ ان سے قتال جائز ہے اگرچہ اس میں عورتوں اور بچوں کا قتل بھی ہوجائے ؛ لیکن جہاں تک ممکن ہو ان عورتوں اور بچوں کے قتل سے بچا جائے گا ؛

اسکی دلیل نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جب آپ سے مشرکین کے گھروں پر شب خون مارنے کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس صورت میں انکی عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچے گا تو آپ نے فرمایا  :
(ھُم مِنھُم ) وہ انہی میں سے ہے   (رواہ البخاری)  
دوسری صورت :
کفار  اپنی عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنائیں لیکن وہ گھمسان کی جنگ نہ ہو اور نہ ہی مسلمانوں کو ان سے جانی نقصان کا خطرہ ہو تو اس صورت میں علماء رحمہم اللہ کا اختلاف ہے ؛ اور اس میں سے راجح بات یہ ہی معلوم ہوتی ہے    -واللہ اعلم - کہ اس صورت میں بھی ان سے قتال جائز ہے ؛ لیکن ساتھ میں اس بات کا بھی خیال کیا جائے کہ جہاں تک ممکن ہو ان عورتوں اور بچوں کے قتل سے بچا جائے ؛  کیونکہ یہاں اقامت جہاد فی سبیل اللہ کو ترجیح دیں گے ؛ اور اسکی ایک  وجہ یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ کفار سے قتال کے وقت ان پر حملہ کرنے کے لیئے جنگ کے شدید ہونے کا انتظار نہیں کرتے تھے ؛ اور اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے ہے کہ اگر اس تترس کی وجہ سے دشمن کو چھوڑ دیں گے تو اس سے انکو مظبوط ہونے اور دوبارہ سے اپنی صفوں کو ترتیب دینے کا موقع ملے گا اور انہیں باہر سے مدد پہنچ جائے گی ؛  

دوسری حالت :
    کفار  مسلمان قیدیوں کو ڈھال بنائیں ؛    

اس مسئلہ کی بھی دو صورتیں ہیں :
 
پہلی صورت :

انہیں اس وقت ڈھال بنائیں جب گھمسان کی جنگ ہو ؛ اور وہ مسلمانوں پر حملہ آور ہو اور مسلمانوں کو ان سے جانی نقصان کا اندیشہ ہو ؛ تو اس صورت میں تمام فقہاء رحمہم اللہ کا اتفاق ہے کہ ان سے قتال جائز ہے لیکن ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ جس قدر ممکن ہو ان مسلمانوں کو نقصان پہنچانے سے بچا جائے ؛ کیونکہ اگر اس صورت میں قتال ترک کردیں گے اور ان پر حملہ نہیں کریں گے تو اس سے مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچیں گا تو اس لیئے دونقصانات میں ہلکے اور کم نقصان کو اختیار کیا جائے گا تاکہ اس کے ذریعہ بڑے نقصان کو ختم کیا جا سکے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر اس صورت میں قتال نہیں کریں گے تو اس سے تعطیل جہادیعنی عمل جہاد چھوڑنا    لازم آئے گا ۔
 
دوسری صورت :

کفار انہیں اس حال میں ڈھال بنائیں کہ جب جنگ شدید نہ ہو اور نہ ہی مسلمانوں انکی طرف سے جانی  نقصان کا خوف ہو تو اس صورت میں علماء رحمہم اللہ کا اختلاف ہے ؛ اور راجح بات یہ ہی معلوم ہوتی ہے – واللہ اعلم – کہ اس وقت میں  ان سے قتال صرف اس صورت میں ہی جائز ہے کہ جب شدید ضرورت ہو وہ بھی ان شروط کے ساتھ جنہیں علماء نے ذکر کیا ہے ،

وہ شروط درج ذیل ہیں :  

1 – کفار تک پہنچنا ان ڈھال بنائے ہوئے مسلمانوں پر حملہ کیئے بغیر ممکن نہ ہو ؛

2-  ان ڈھال بنائے ہوئے مسلمانوں کو جہاں تک ممکن ہو مارنے سے بچا جائے ؛

3-  حملہ کرنے والے کی نیت کفار کو مارنا ہو ؛  

4- یہ بات یقینی ہو یا کم از کم گمان غالب ہو کہ  اس حملہ سے جو مصلحت ( فائدہ ) مقصود ہے وہ حاصل ہوجائے گا  ؛  

5- جو مصلحت اس حملہ سے مقصود ہے اسکا فوری حاصل ہونا ضروری ہو یعنی وہ معاملہ اس بات کا متحمل نہ ہو کہ اس حملہ میں تاخیر کی جائے ؛  

اور اگر یہ حملہ کسی ایسے ہتھیار سے ہو جس سے قتل عام ہوتا ہو  جیسا کہ بم  وغیرہ تو اس کے جواز کے لیئے شرط یہ ہے کہ یہ اس صورت میں جائز ہے کہ جب دشمن تک  پہنچنا  یا اسکی شوکت اور طاقت کو توڑنا  اس کے بغیر ممکن نہ ہو ؛  
اور وہ دلیل جو ان تمام شروط پر مشتمل ہے ؛ وہ اللہ تعالی ٰ کا یہ فرمان ہے :  
   ( فاتقوا الله ما استطعتم ) التغابن : 16        تم اللہ سے ڈر جاؤ جتنی تم استطاعت رکھتے ہو ؛
 
پس تمام مجاہدین  فی سبیل اللہ پر واجب ہے کہ وہ اللہ سے ڈریں اور اس مسئلہ میں بھت احتیاط سے کام لیں ؛ اور اپنی پوری کوشش  کریں اور اس بات پر شدید حرص رکھیں کہ ان کے ہاتھوں کسی مسلمان کا خون نہ بہے ؛ اور( اگر اس کے بغیر چارہ نہ ہو ) تو  جس قدر ممکن ہو اس کو کم سے کم کریں ؛ اور اس سے بچیں ؛ کیونکہ یہ مسئلہ ایک ضرورت ہے تو اس لیئے بقدر ضرورت ہی اسے اختیار کیا جائے اور ضرورت سے تجاوز نہ کیا جائے ۔