اگر محض سنتوں کے تارک ممتنع گروہ کے خلاف قتال جائز ہے،تو پوری شریعت کے نفاذ میں حائل فوج کا حکم کیا ہوگا؟

‘‘الظھیریۃ،الولوالجیۃ اور التجنیس(نامی کتبِ فقہ) میں مذکور ہے کہ اگر کسی بستی کے لوگ ترکِ وتر پر اتفاق کرلیں تو امام ان کی سرزنش کرے گا اور انہیں قید رکھے گا۔اسی طرح اگر سنتوں کی ادائیگی سے انکار کر دیں تو آئمہ بخاریٰ کا کہنا ہے کہ امام ان کے خلاف اس طرح قتال کرے گا جیسے ترکِ فرائض پر قتال کرتا ہے،کیونکہ حضرت عبد اللّٰہ بن مبارکؒ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:اگر کسی علاقے کے باشندے سنتِ مسواک کا انکارکریں،تو ہم ان کے خلاف بھی اسی طرح لڑیں گے،جیسے مرتدین کے خلاف لڑتے ہیں۔’’(البحر الرائق:۴۔۱۹۲)