پشاور آرمی پبلک سکول حملہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس منظر،حقائق،نتائج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عرصہ دراز سے سوچ رہا تھا کہ اس معاملے پر جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں،ان کے بارے میں تحریر لکھوں ،لیکن موقعہ نہیں مل رہا تھا،تو سوچا آج اس معاملے پر کچھ لکھا جائے۔ تو سب سے پہلے اس واقعے کے پس منظر کے حوالے سے کچھ عرض کرتا ہوں۔ نو گیارہ کے مبارک حملوں کے بعد جب پاکستان کی فوج نے امریکہ کی پرائی جنگ کو اپنے گلے میں ڈالا،اور اپنے ہی محب وطن پاکستانیوں پر امریکہ کے کہنے پر بمباریاں شروع کیں،تو اس میں لاتعداد عورتیں اور بچے شہید ہوئے،اسی طرح لال مسجد و جامعہ حفصہؓ میں نہتے طلباء و طالبات کو صرف قتل ہی نہیں کیا گیا،بلکہ فاسفورس بموں کے استعمال سے،ان کے جسموں کو جلا کر،اپنی انسان دوستی کا ثبوت دیا،اسی طرح باجوڑ ڈمہ ڈولا میں حفظ کے مدرسے پر بمباری کر کہ،سو سے زائد بچوں کو شہید کیا۔ اور ایسے بیسوں مظالم قبائل کی سرزمین پر ڈھائے گئے۔ اسی طرح بلوچستان خروٹ آباد کا مشہور واقعہ جس کی مکمل فوٹیج میڈیا پر موجود ہے،کہ کیسے مجاہدین اور ان کی عورتوں کو باندھ کر چیک پوسٹ کے سامنے ڈالا گیا،اور میڈیا کو بلا کر بتایا کہ یہ لوگ چیک پوسٹ پر حملہ کرنے آئے تھے،اور انہوں نے اپنے جسموں سے بارودی جیکٹیں باندھ رکھی تھیں،تو ہم نے انہیں گھیر لیا ہے،حالانکہ حقیقت یہ تھی کی پہلے گرفتار کیا،اور پھر ہاتھ اور پاوں باندھ کر،انہیں چیک پوسٹ کے سامنے ٖڈالا،اور پھر دنیا کے سامنے بندھے ہوئے لوگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کہ بتایا ،کہ ہم کتنے ہوشیار اور بہادر ہیں،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ،جب انہوں نے بارودی جیکٹیں پہن رکھی تھی تو بلاسٹ کیوں نہیں کیں،اور تمہیں اتنے مزے سے گھیر کر فائرنگ بھی کرنے دی،تو جھوٹ اور بہتان بازی کے تو یہ ادارے ویسے بھی امام ہیں،تو انہوں نے میڈیا کے سامنے اپنی سفاکیت کا کھل کر مظاہرہ کیا،حتیٰ کے عورت کے پیٹھ میں چھ ماں کے حمل کو بھی اسی کے ساتھ ختم کردیا گیا،تاکہ کوئی مجاہد جنم تک نہ لے سکے۔ اسی طرح بیسویوں لوگوں کو پکڑ پکڑ کے امریکہ کے حوالے کیا گیا،جن میں عورتیں اور چھ ماہ تک کےبچے تک امریکہ کو ماں سمیت بیچا گیا،جس کا اقرار مشرف نے خود اپنی کتاب میں کیا،لیکن ہم لوگوں کا حافظہ کیونکہ کمزور ہے،اس لئے جلد بھول جاتے ہیں،اور یہ تو وہ ہے جو کہیں کتاب میں لکھنے کی وجہ سے سامنے آ گیا ورنہ نجانے کتنی عورتیں اور بچے ابھی تک خفیہ سیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ اب جب یہ سب کچھ ہوگا،تو آپ کو کیا لگتا ہے،کہ ان کے لواحقین آپ کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالیں گے؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب آتے ہیں پشاور سکول حملے کے پس منظر کی جانب سب سے پہلی مقصدی بات کو اچھی طرح سمجھیں،سمجھیں ،سمجھیں تین بات اس لئے کہا کہ لوگ مقصدی بات کو سمجھتے نہیں ہیں،اور بے تکے قسم کے الزامات لگاتے ہیں،جو کہ حقیقی مقصد کو نہ سمجھنے کی وجہ سے سامنے آتے ہیں۔ تو یہ حملہ بنیادی جس مقصد کے لئے کیا گیا تھا،تو مقصد ان پشاور سکول کےبالغ لڑکوں کو قتل کرنا نہیں تھا،بلکہ اس نیت سےمجاہدین کے اس گروپ کو تشکیل دیا گیا،تاکہ وہ وہاں سکول میں داخل ہو کر بچوں کو یرغمال بنا کر،فوج سے اپنے ان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر سکیں،جس میں وہ عورتیں اور بچےشامل ہیں،جو عرصہ دراز سے فوج اور ایجنسیوں کے عقوبت خانوں میں بند ہیں۔ اور ایسے عقوبت خانے جہاں عورتوں کی عزتوں کو تار تار کیا جاتا ہے،یہ خبیث تو اس حد تک چلے گئے ہیں،کہ جب کسی سے تفتیش کرنے سے عاجز آجاتے ہیں،پھر اس کی گھر کی عورتوں کو اٹھا کر لے آتے ہیں،اور ان کو کہتے ہیں،کہ ہمارے سوالوں کا جواب دو ورنہ ہم تمہارے سامنے تمہاری عورتوں کو بے آبرو کریں گے،اور اسی طرح کے اور ہتھکنڈے استعمال کیئے جاتے ہیں،جن کو قلم لکھنے سے قاصر ہی نہیں، بلکہ ذہن میں لانا بھی انتہائی اذیت ناک ہے۔ مزید پڑھنے سے پہلے تھوڑی دیر کے لئے آپ اپنے آپ کواس جگہ رکھ کر سوچیں،کہ آپ کے اگر آپ کی بیوی اور بچے،کئی سالوں سے فوج اور ایجنسیوں کے عقوبت خانوں میں بند ہوں ،اور وہاں کیا کیا ہوتا ہے،اسےدو منٹ کے لئے ٹھنڈے دماغ سے سوچیں اور پھر بتائیں آپ ان کو چھڑوانے کے لئے کس حد تک جائیں گے۔ یہ مجاہدین ویسے ہی اس اقدام کو اختیار کرنے پر مجبور نہیں ہوئے ،بلکہ ہر طرح سے کوشش کی کہ کسی طریقے سے اپنی قیدی عورتوں کی بازیابی کروائی جا سکے۔ اسی مقصد کے لئے ماضی میں اگر آپ کو یاد ہو تو،جی ایچ کیو پر حملہ کیا،اس حملے کا بنیادی مقصد یہی تھا،لیکن جب اس سے بھی معاملہ حل نہ ہوا،تو انتہائی صورت میں اس حد تک پہنچے۔ اور اس صورت میں بھی وہی صورت اختیار کی جس کی شریعت اجازت دیتی ہے،یعنی بامر مجبوری اگر مطالبات پورے نہ کیئے گئے،توپھر صرف بالغ لڑکوں کو نشانہ بنایا جائے،ورنہ اگر نابالغوں کو بھی نشانہ بنانا ہوتا ،تو وہ بھی نشانہ بنائے جاتےاور کوئی بھی چھوٹا بچہ انہیں کمروں سے نکل کر باہر نہ آتا ،لیکن ان کو نشانہ نہیں بنایا گیا،جس کا ثبوت خود میڈیا پر اس وقت سامنے آیا ،جب حملہ شروع ہوتے وقت فرحان نامی لڑکا باہر نکلا ،اور اسنے خود بتایا ،کہ طالبان جب آئے تو وہ زور زور سے آوازیں لگا رہے تھے،کہ بچے محفوظ کمروں میں چلے جاو،کہ کہیں کراس فائرنگ میں گولی نہ لگ جائے۔اب یہ بات کیسے میڈیا پر آ گئی،تو اسکی وجہ ،حملہ ہونے کے فوراًبعد شروع میں جو تھوڑا سا صرف لائیو کوریج چل رہی تھی،اس کے ہونے کی وجہ سے ایک دفعہ میڈیا پرا ٓئی اس کے بعد اس کو دوبارہ نشر نہیں کیا گیا،اور صرف خلاف باتوں کو سامنے لایا تاکہ اصل حقیقت چھپ جائے۔ تو بامر مجبوری مطالبات پورے نہ ہونے پر صرف بالغ لڑکوں کو ہی قتل کرنے کی اجازت دی گئی تھی،اور جو چھوٹے بچے بیچ میں قتل ہوئے ہیں،وہ فوج کی کراس فائرنگ میں مارے گئے،اور اس کی ذمہ دار بھی فوج ہی ہے کہ ،اس نے کوئی بات نہیں کی،کہ آخر ان بچوں کو کیوں یرغمال بنایا گیاہے،کیا مطالبات ہیں، لیکن فوج نے کچھ بھی بات نہیں کی،بس ڈائریکٹ آکر جنگ شروع کر دی،حالانکہ پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی ایسا معاملہ ہوتا ہے،تو حتی الامکان آخری حد تک مغویوں کی بازیابی کے لئے بات چیت سے مسئلے کو حل کیا جاتا ہے،لیکن یہاں جو ہوا،وہ سب کے سامنے ہے۔ تو طالبان کا مقصد قیدیوں کی بازیابی تھی،اور یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ،بلکہ اس سے پہلے بھی فوج کے کیڈٹ کالج رزمک کے لڑکےجو تحریک طالبان پاکستان نے ۲۰۰۸ میں بھی وزیرستان میں پکڑے تھے،جن میں بڑے بڑے فوجیوں کے بچے شامل تھے، تو ان لڑکوں کو بھی اس لئے اغواء کیا گیا،کہ فوج وزیرستان کے آپریشن سے باز آجائے،جب اس معاملے پر بات طے ہوگئی،تو ان لڑکوں کو رہا کر دیا گیا۔ تو اس بات کو اچھی طرح سمجھیں کہ بنیادی مقصد بالغ لڑکوں کو مارنا نہیں بلکہ قیدیوں کی بازیابی تھی۔ صرف بالغ لڑکوں کو ہی نشانہ بنایا گیا اورنابالغ بچوں کو مارنا تحریک طالبان پاکستان کا نہ ہی ہدف تھا نہ ہی مارا ہے،ورنہ بات مولانا فضل اللہ حفظہ اللہ والی ہی ہے،کہ اگر ہمیں قیامت کے دن اللہ پاک کے سامنے کھڑے ہونے اور جوابدہی کا خوف نہ ہوتا ،تو تم لوگ دیکھ لیتے کہ قتل کس طرح کیئے جاتے۔ اگر بالغ اور نابالغ سب کو ہی مارنا مقصد ہوتا ،تو طالبان کو اتنے ساتھی بھجوانے کی کیا ضرورت تھی،اسی سکول کی بس میں بھی بم لگا کر،اسےاڑا سکتے تھے،کیاضرورت تھی،اتنی محنت کرنے کی،اتنے ساتھی بھیجنے کی،اور اتنی بڑی ترتیب بنانے کی۔ اس لئے اس بات کو سمجھیں کہ نابالغ بچوں کو نہ ہی طالبان نے مارا ہے،اور نہ ہی انہیں مارنے کا ارادہ تھا،اور بالغ لڑکوں کو بھی ٹارگٹ کرنے کی بھی تب ہی اجازت دی گئی تھی،جب یہ پتا چل جائے کہ ،حکومت ہمارے قیدی عورتوں اور بچوں کوچھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ تو ایک طرف ہمارے چھ ماہ کے بچے بھی قتل کرنے اور بیچنے سے دریغ نہیں کرتے ہو،اور دوسری طرف ہم نے بالغ لڑکوں کو نشانہ بنایا ،تو اس پر اتنا ڈھنڈورا پیٹنا کیا معنیٰ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب آتے ہیں کہ ان بالغ لڑکوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کاروائی کو انجام دینے کا مقصد ،یہی تھا کہ قیدی بچوں اور عورتوں کی رہائی کی صورت بنائی جا سکے۔ اور گروپ کو ہدایت دی گئی تھی،کہ اگر فوج مطالبات نہ مانے تو پھر فوجیوں کے بالغ لڑکوں کو ہی نشانہ بنایا جائے،کیونکہ اس سکول سے فارغ ہونے والے اسی فیصد سے زائد بچے آگے فوج میں ہی جاتے ہیں،اور اسی نیت سے ان سکولوں میں داخلہ بھی لیتے ہیں،اور اس فوج کا حکم کیوں کہ مرتد کا ہے،اس کے بالغ بچوں میں سے جو بھی فوج کی نیت سے اس سکول میں داخلہ لے گا،وہ بھی حربی ہی شمار کیا جائے گا،بالغ لڑکوں کو قتل کرنے پر اگر کسی کو یہ اشکال ہے،کہ انہوں نے ابھی کچھ بھی تو نہیں کیا تھا،توپھر کیوں مارا ،تو پھر ان سے چھوٹا سا سوال ہے،کہ ہمارے ٹریننگ کیمپس پر جو بمباریاں کی جاتی ہیں،تو وہ سب ٹریننگ کرنے کے لئے آنے والے بھی تو نئے ہوتے ہیں،انہوں نے کون سے پاکستان کے خلاف ایٹم بم چلا لیئے ہوتے ہیں،جو ان کو مار کر فوج خوشیاں منا رہی ہوتی ہے۔ ہمارے باجوڑ ڈمہ ڈولا کے مدرسے میں حفظ کے بچوں کا کیا جرم تھا،لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے بچے بچیوں کا کیا جرم تھا،اس معاملے پر تو کوئی بھی گلے پھاڑ پھاڑ کر نہیں بولتا۔ تو اصول پھر ایک رکھو ہاں اگر کسی کو یہ اعتراض ہے،کہ ہر بچہ تو فوج میں جانے کی نیت سے اس سکول میں نہیں جاتا ،تو اس معاملے میں طالبان مجبور اور غیر مجبور کو الگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے کہ کس کے دل میں کیا نیت ہے،ہاں قیامت کے دن ان کا معاملہ الگ الگ ہوگا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے ۔۔ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نیند میں کچھ اضطراب کا شکار ہوئے ، بیدار ہونے پر ہم نے سوال کیا کہ آج نیند میں آپ کی جو حالت تھی عموماًتوویسی حالت نہیں ہو تی ؟آپ ﷺ نے فرمایا ۔۔تعجب کی بات ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللّٰہ پر چڑھائی کی نیت سے نکلیں گے۔۔۔۔ان کا مقصد ایک قریشی آدمی کو مغلوب کرنا ہوگا، جو بیت اللّٰہ میں پناہ لے چکا ہو گا ، یہاں تک کہ جب یہ مقام بیداء پر پہنچیں گے ،تو انہیں زمین میں دھنسا دیاجائے گا ۔ ہم نے استفسار کیا ،اے اللّٰہ کے رسول !راستہ توبہت سے (غیر متعلقہ )لوگوں کو بھی اکھٹا کر دیتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ‘‘ ہاں ، ان میں سے ایسے لوگ بھی ہو نگے ،جوجا نتے بوجھتے بیت اللّٰہ پر چڑھائی کریں گے جبکہ بعض مجبور اور بعض مسافر بھی ہونگے ، یہ سب اکھٹے ہلاک ہونگے البتہ قیامت والے دن انہیں اپنی اپنی نیتوں کے مطابق اٹھایاجائےگا۔’’(رواہ مسلم و احمد ) امام نوویؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:‘‘اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ ،جو شخص کسی گروہ( میں شامل ہوکر محض ان) کی تعداد میں اضافہ کا باعث بنتا ہے،تو دنیا کی ظاہری سزاؤں میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جاتا ہے جو اس پورے گروہ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔’’ (شرح النووی علی مسلم ۱۸۔۷) حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:‘‘جو شخص کسی گروہ(میں شامل ہوکر ان)کی تعداد بڑھائے گا، وہ انہی میں سے ہے اور جو کسی گروہ کے عمل پر راضی رہے وہ ان کے عمل میں شریک ہے’’۔(ابویعلٰی) بیت اللہ شریف پر چڑھائی کرنے والے لشکر کو زمین میں دھنسا دیئے جانے والی حدیث سےامام ابنِ تیمیہؒ استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ‘‘پس اللّٰہ تعالیٰ نے اس پورے لشکر کو تباہ کر ڈالا جو اسکی حرمتوں کو پامال کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور قدرت رکھنے کے باوجود بھی اللّٰہ تعالیٰ نے ان میں سے مجبور اور غیر مجبور میں تمیز نہیں کی ، البتہ قیامت والے دن ان میں ہر ایک کو اپنی اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا ( پس جب اللّٰہ تعالیٰ نے قدرت رکھنے کے باوجود ان میں تمیز نہیں کی ) تو اللّٰہ کے مجاہد بندوں پر کیونکریہ واجب ہو سکتا ہے کہ مجبو رو غیر مجبور میں تمیز کریں حالانکہ وہ اس سے آگاہ بھی نہیں ؟بلکہ اگر کوئی شخص یہ بھی دعویٰ کرے کہ وہ اپنی رضا و اختیار سے نہیں آیا، بلکہ اسے نکلنے پر مجبور کیا گیا تب بھی محض یہ دعویٰ اس کے کام نہ آئے گا ۔ چنانچہ حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ سے مروی ہے کہ جب بدر کے دن مسلمانوں نے انہیں قید کر لیا تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا۔ کہ اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! مجھے تو زبردستی ساتھ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :ہم تمہارے ظاہر کے مطابق تم سے معاملہ کریں گے ( اور تمہارا ظاہر تو یہی ہے کہ تم لشکر کفار کا حصہ بن کر میدان میں آئے ہو ) جبکہ تمہارے باطن کو ہم اللّٰہ کے سپرد کرتے ہیں’’۔(مجموع الفتاویٰ ۵۳۷،۲۸) تو اس معاملے میں ان کے والدین کا بھی قصور ہے،کیا وہ نہیں جانتے کہ،طالبان کی حکومت اور فو ج کے ساتھ جنگ ہے،اور جنگ میں ان کے بچے بھی زد میں آ سکتے ہیں،تو انہیں پہلے سے چاہئے تھا،کہ اپنے بچوں کو ایسے سکولوں میں داخل نہ کروائیں،کیا دنیا میں اور کوئی سکول نہیں ہیں،جہاں معیاری تعلیم دی جاتی ہے، یہ تو عقل بھی تسلیم کرتی ہے،کہ جب کوئی علاقہ جنگ زدہ ہو جاتا ہے،تو لوگ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں،اور اپنے بیوی اور بچوں کو لے کر دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں،کہ کہیں اس کا خاندان غلطی سے زد میں نہ آ جائے،تو اب جن کو خود شوق ہے،آرمی کے سکولوں میں بچے داخل کروانے کا،تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جن کو یہ اعتراض ہے کہ طالبان نے بنو قریظہ کے واقعے سے جو استدلال کیا ہے،کہ جس میں یہودیوں کے سات سو لوگوں کو قتل کیا گیا،جس میں بالغ لڑکے بھی شمار کیئے گئے تھے،کہ جن کے زیر ناف بال اگ آئے تھے،ان کو بھی نبی کریمﷺ کی موجودگی میں صحابہ کرامؓ نے قتل کیا۔ تو بعضوں کو یہ اشکال ہے،کہ یہ استدلال باطل ہے،تو ان سے عرض ہے کہ طالبان نے اس واقعے کو اپنی دلائل میں بطور تائید کے ذکر کیا تھا،نہ کہ بطورِ اصول کے، یعنی اس حملے کے لئے جن شریعت کے اصول کے تحت ،جواز کا درجہ حاصل ہیں،وہ وہی اس فوج کے ارتداد ،اور ان کی اولاد میں سے حربی ہونے کی نیت سے داخلہ لینا ہے۔ اور بنو قریظہ کے واقعے کو بطورِ تائید اس سوال کے جواب میں لایا گیا تھا،کہ سوال یہ تھا کہ بالغ لڑکوں کو کیوں قتل کیا گیا،کیا تاریخ اسلام میں اس کا کوئی ثبوت موجود ہے،تو جواب میں کہا گیا،کہ بالغ لڑکے تو بنو قریظہ کے بھی قتل کیئے گئے تھے،اگر چہ معاہدہ ان کے بڑوں نے توڑا تھا۔ تو جس مقصد کے لئے بنو قریظہ کا واقعہ نقل کیا گیا،اس کو سمجھیں،کہ بالغ لڑکوں کو مارنے کی مثال تاریخ اسلام میں کہاں ہے،یہ اس کا جواب ہے،اس لئے جن باتوں کو بطور اصول ذکر کیا ہے،اس کو تو ذکر نہیں کرتے،اور ڈنڈی مارتے ہوئے،بطورِتائید والی بات کو پکڑ کر اعتراض کرتے ہیں۔ شریعت کفار کی عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کرتی ہے،لیکن جب یہی عورتیں اور بچے جنگ میں حصہ لیں ،مدد کریں،مشورہ دیں،تو ان کے قتل کی اجازت ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعض لوگوں کا یہ اعتراض بھی ہے،کہ اس حملے کی علماء اور افغان طالبان اور القاعدہ نے بھی مذمت کی تھی،تو جواب میں عرض ہے،کہ یہ مذمت بھی میڈیا کو دیکھ کر کی گئی تھی، حالانکہ اللہ پاک کا حکم ہے، کہ جب کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لے کر آیا کرے،تو خوب تحقیق کر لیا کرو، تو ان حضرات نے ہمارا موقف آنے سے پہلے ہی، سنے بغیر ہی اپنی رائے قائم کی،لیکن جب ہمارا موقف اور ہمارا مقصد سامنے آ گیا،اور ہم نے اپنے ہدف کی وضاحت کر دی،اور شرعی دلائل بھی پیش کر دیئے،تو پھر کسی نے نہ تو اس کی تردید کی،اور نہ ہی ان دلائل کے کوئی جواب لا سکا۔ ورنہ ہمارے دلائل آج بھی موجود ہیں،اگر ان کا جواب لا سکیں،تو تحریک طالبان پاکستان ،آج بھی اس معاملے پر بحث کرنے کو تیار ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب آتے ہیں نتائج کی جانب اس کاروائی کے ماقبل بھی کئی دفعہ طالبان ترجمان کی جانب سے بیان جاری کیا جا چکا ہے،کہ عوام الناس اپنے گھروں اوردفاتر کو فوجی اور ایجنسیوں کی تنصیبات سے دور رکھیں،اب یہ فوج اور یہ ادارے بھی جانتے ہیں،کہ جب تک ہمارے ادارے عوام کی آبادیوں میں موجود ہیں،ہم نسبتاً محفوظ ہیں،لیکن جوں ہی ہم نے الگ ہونے کی کوشش کی تو پھر طالبان کے کسی بڑے حملے کا نشانہ بن سکتے ہیں،یہی وجہ ہے،کہ طالبان کی جانب سے اکثر عام تباہی کی کاروائیاں،عوام کے نقصان کے پیشِ نظر ترک کر دی جاتی ہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے،کہ ہر کاروائی کی خبر کے ساتھ میڈیا مسجد ،عورت اور بچوں کا نام بطورِ مصالحہ کے لگانے کواپنا پیدائشی حق سمجھتی ہے،کہ اگر فجر کے ٹائم بھی کہیں حملہ ہو جائے تو اس کی خبر میں سکول کے بچے اور عورتیں ماری جاتی ہیں،حالانکہ تھوڑی سی عقل رکھنے والا بھی سوچ سکتا ہے،کہ فجر کے ٹائم کون سا سکول لگتا ہے،کہ بچے وہاں جاتے ہوئے زد میں آ گیا،یا کون سی عورت اتنا صبح تھانے کے سامنے سے گزر کر جاتی ہے،جو نشانہ بن گئی،حالانکہ پورا تھانہ زمین بوس ہو جاتا ہے،اور پولیس والے دو مرتے ہیں،لیکن چار بچے اور پانچ عورتیں ضرور ماری جانے کی خبر لگی ہوتی ہے،اور بلاسٹ کی شدت سے دور کہیں،کسی مسجد کا شیشہ بھی ٹوٹ جائے تو،مسجد کو شدید نقصان کا جملہ بطورِ تڑکا ضرور لگایا جاتا ہے۔ بہرحال اپنے بچوں کو بھی امریکہ کے غلاموں کی غلامی میں دینے کی بجائے،اللہ کی غلامی میں دیں،طالبان نے کسی کو منع نہیں کیا،کہ سکول نہ جائیں،لیکن اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی دیں،کہ انہیں اپنا مقصد بھی معلوم ہو،اور جہاں تک بچیوں کی تعلیم کی بات ہے،وہ پردہ میں رہتے ہوئے،تعلیم حاصل کریں،ہم تعلیم کے خلاف نہیں ہیں،بلکہ تعلیم کے ساتھ جو خرافات اور بے پردگی،اور مخلوط نظام،اور بے حیائی دی جا رہی ہے،اس کے خلاف ہیں،جیسے کمپیوٹر اچھے استعمال کی چیز ہے،لیکن اسی کو اگر ہم بے حیائی کے کاموں میں استعمال کریں گے،تو پھر ہم اس کے مخالف ہیں۔ آج آپ دیکھ لیں کہ جس تعلیم کے نام پر روشن خیالی کی دعوت دی جاتی ہے،اس کے نتائج آپ کے سامنے ہے،کہ بچیاں گھروں سے بھاگ کر شادیاں رچا رہی ہیں،چھوٹے بچوں اور بچیوں سے جنسی تعلقات کی ہر روز نئے نئے قصے سامنے آتے ہیں،تو یہ اسی تعلیمی نظام کی خرابیوں سے جنم لے رہی ہیں،آپ تعلیم ضرور دیں،لیکن اپنا اسلامی نظریہ تو خراب نہ کریں،اپنی بچیوں کو بے پردہ تو نہ نکالیں۔ تو ہم گڑ کے ساتھ جو زہر ملا کر دیا جا رہا ہے،اس کے خلاف ہیں۔ آیئے مل کر اس ملک میں اسلامی نفاذ کی محنت کریں ،کہ جس کے لئے اس ملک کو بنایا گیاتھا،اور اس ملک کو امریکہ کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں لاتے ہوئے اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے کوشش کریں۔