پاکستان میں جہاد کرنے والے مجاہدین،کشمیر میں کیوں نہیں جا کر لڑتے؟

........................................

یہ ایک ایسا سوال ہے جو عرصہ دراز سے پاکستان میں جہاد کرنے والے مجاہدین پر کیا جا رہا ہے،اس کا تفصیلی جواب نیچے مثال پیش کر کہ درج کیا جا رہا ہے،لیکن اس سے پہلے ،اس امر کی طرف بھی آپ کی توجہ دلوا دوں کہ پاکستان میں جہاد کرنے والے مجاہدین کی قیادت میں سے اکثر کشمیر کے محاذوں پردادِ شجاعت لے چکے ہیں۔

لیکن آخر کیوں وہاں سے یہی کشمیر کا جہاد کرنے والے لوگ واپس ادھر آگئے،اس کا تفصیلی جواب بھی نیچے دی گئے مثال میں ہی موجود ہے۔

سمجھداروں کے لئے اشارہ ہی کافی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہیدالیاس کشمیری رحمہ اللہ

انڈین جیل توڑ کر فرار ہونے والے شہید الیاس کشمیری رحمہ اللہ کوئی معمولی شخص نہ تھے ۔ کشمیر اور افغان جہاد سے وابستہ ہزاروں مجاہدین کے نزدیک الیاس کشمیری رحمہ اللہ انتہائی سچے اور کھرے کرد ارکے مجاہد تھے، جنہوں نےسابق افغان جہاد میں روس کے خلاف ،ہنود کے خلاف جاری جہادِ کشمیر اور موجودہ طاغوت ِ اکبر کے خلاف جاری جہاد میں بے پایاں قربانیاں دیں ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں شہید الیاس کشمیری رحمہ اللہ پر۔

بیالیس (42) سالہ شہید الیاس کشمیری رحمہ اللہ کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقے کوٹلی سے تھا۔ آپ عسکری امور میں اپنے دور کے چوٹی کے استاد تھے اور گوریلا جنگ کے ماہر کمانڈر تھے ۔

روسی حملہ آوروں کے خلاف جہاد کے دوران ہی آپ رحمہ اللہ نے اپنی ایک آنکھ کا نذرانہ رب کے دربار میں پیش کیا ، لیکن مجال ہے جو اس مردِ مجاہد و متمنی شہادت کے پائے استقلال میں ذرا برابر بھی کبھی کمی آئی ہو یا آپ رحمہ اللہ کا حوصلہ پست ہوا ہو۔ آپ رحمہ اللہ ہر دم ، ہر پل شہادت کے متلاشی رہتے تھے۔

افغان جہاد میں روسی شکست کے بعد شہید الیاس کشمیری رحمہ اللہ جیسے سینکڑوں مجاہدین، جہاد اور شہادت کی تڑپ لئے کشمیر کے مظلوم عوام کو پنجہ ہنود سے آزاد کروانے کے لیے مقبوضہ وادی کشمیر کی طرف جوق در جوق رُخ کرنے لگے۔ شہید الیاس کشمیری رحمہ اللہ چونکہ اہم تربیت یافتہ کمانڈر تھے اور شائد اسی لیے سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے الیاس کشمیری رحمہ اللہ کو آزاد چھوڑنا مناسب نہ سمجھا اور آپ رحمہ اللہ کو کشمیریوں کی مدد کے لیے کہا۔ جہاد سے بے پناہ محبت کی بدولت آپ رحمہ اللہ نے اس جہادی تحریک میں شمولیت اختیار کرنے میں ذرا بر ابر بھی تردد سے کام نہ لیا ، 1991ء میں آپ رحمہ اللہ نے حرکت الجہادالاسلامی کے کشمیر سیٹ اپ میں شمولیت اختیار کرلی لیکن چند برسوں بعد اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ سے تنگ آ گئےاور اس گروپ سے الگ ہو گئے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر الیاس کشمیر ی رحمہ اللہ نے حرکت الجہاد الا سلامی کا 313بریگیڈ کی بنیاد رکھی جس نے چند ہی ماہ میں اس قدر جارحانہ کاروائیاں کیں کہ انڈین آرمی اس کے نام سے لرز اٹھتی تھی۔ اکثر کاروائیوں میں آپ رحمہ اللہ خود شہادت کی تمنا لئے شریک ہوتے تھے یہ آپکی وہ امتیازی شان تھی جس کی وجہ سے اپنے ساتھیوں میں آپ رحمہ اللہ نے ایک خاص مقام پیدا کر لیا تھا۔

ایک مرتبہ آپ رحمہ اللہ کو بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں آپ رحمہ اللہ کے ایک ساتھی نصر اﷲ منصور لنگڑیال فک اللہ اسرہ کے ہمراہ گرفتار کر لیا اور جیل میں ڈال دیا۔ آپ دو برس تک مختلف جیلوں میں قید و بند کی صعو بتیں برداشت کرتے رہے اور بالآخر ایک دن الیاس کشمیری رحمہ اللہ نصرتِ الہی کی بدولت جیل توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ جبکہ آپ رحمہ اللہ کا پرانا ساتھی نصر اﷲ منصور لنگڑیال فک اللہ اسرہ ابھی تک بھارتی جیل میں قید ہیں۔ بھارتی جیل سے فرار ہونے کے بعد الیاس کشمیری رحمہ اللہ ایک افسانوی کردار بن گئے۔ جہادِ کشمیر سے متعلق کئی رسالوں میں آپ کو ہیرو قرار دیا جانے لگا۔

1998میں بھارتی فوج نےبارڈر پر حملہ کرکےآزاد کشمیر کے نہتے شہریوں کو شہیدکرنا شروع کردیا تو الیاس کشمیری رحمہ اللہ نے بھارتیوں پر پشت سے حملہ کرنے کے لیے منصوبہ بنایا اور آپ نے متعدد مرتبہ یہ کام سرانجام دیا جس سے مکار ہندوؤں کو کافی گہرے زخم لگے اور اپنی حرکات سے باز آ گئے۔ فروری ء2000 کی ایک رات آزادکشمیر میں لنجوٹ کے مقام پر بھارتی فوج کے خصوصی کمانڈو گروپ بلیک کیٹ نے ایک پاکستانی گاؤں پر حملہ کر دیا۔ بھارتی کمانڈوز نے ساری رات اس گاؤں میں گزاری اگلی صبح تین لڑکیوں کے گلے کاٹے اور ان کے سر اپنے ساتھ لے گئے۔ دو لڑکیوں کو بھی اغوا کر کے لے گئے۔ 24 گھنٹے بعد ان لڑکیوں کے سر کاٹ کر پاکستانی فوجیوں کی جانب پھینک دئیے۔

اللہ کا یہ شیر الیاس کشمیری رحمہ اللہ بھارتی فوج کی اس گھٹیا حرکت کا سن کر زخمی شیر کی مانند ہو گیا، اور آپ رحمہ اللہ نے اس واقعے کا بدلہ لینے کا اعلان کر لیا ۔اگلے ہی دن 26 فروری کو الیاس کشمیری رحمہ اللہ نے نکیال سیکٹر میں بھارتی فوج کے خلاف گوریلا آپریشن کیا، 313 بریگیڈ کے 25سرفروشوں کے ساتھ سر پر کفن باندھ کر لائن آف کنٹرول پار کر کے بھارتی فوج کے ایک بنکر کا محاصرہ کر لیا۔ اور اس کے اندر گرنیڈ پھینکے۔ اپنے ایک ساتھی کی شہادت پر وہ ایک بھارتی فوجی کیپٹن کو زندہ حراست میں لینے میں کامیاب رہے جبکہ سات گائے کے پجاریوں کو واصل جہنم کرنے میں کامیاب رہے ۔بعد ازیں اُس بھارتی فوجی کیپٹن کا سر مقتولوں کے ورثاء کے سامنے کاٹا گیا۔ اس موقع پر آپ رحمہ اللہ کے ساتھیوں نے تصاویر بھی بنائیں جو آپ رحمہ اللہ کے ساتھیوں کے پاس اس واقعہ کی یادگار کے طور پر محفوظ ہیں، پھر یہ سر پاکستانی فوج کے حوالے کیا اور بعدازاں یہ سر اس وقت کے فوجی سربراہ پرویز مشرف کو پیش کیا گیا ۔پرویز مشرف نے بہادری کے اس لاجواب مظاہرے کو سراہتے ہوئے الیاس کشمیری رحمہ اللہ کو نقد ایک لاکھ روپے بطور انعام دیا۔ بھارتی فوجی آفیسر کا سر اپنے ہاتھ میں لیے آپ رحمہ اللہ کی تصاویر اس وقت کے بہت سے پاکستانی اخبارات میں شائع ہوئیں۔ الیاس کشمیری رحمہ اللہ یکایک کشمیری مجاہدین میں بہت اہمیت حاصل کر گئے۔آپ رحمہ اللہ کو ایک ہیرو کے طور پر جانا جانے لگا جنھوں نے غیر معمولی جرأت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے دلوں کو راحت عطا کی اور ان کا سر فخر سے بلند کر دیا تھا۔ لیکن یہ مردِ مومن دنیا کے تمغوں سے بے نیاز رب کا متلاشی ہی رہا ۔اس واقعہ کے بعد ہی جامعہ محمدیہ اسلام آباد کے مولانا ظہور احمد علوی رحمہ اللہ نے بھارتی فوجی افسران کے سر قلم کر نے کے حق میں فتویٰ دیا۔

جہادِ کشمیر کا یہ خودار مجاہد جلد ہی اپنے غداروں اور غیروں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا ۔ آپ رحمہ اللہ کی گوریلا کاروائیاں اس حد تک آگے جا چکی تھیں کہ آپ نے بھارتی فوج سے ایک اہم عسکری نوعیت کا مقام حاصل کر لیا تھا ۔ جس پر آپ رحمہ اللہ نے اپنا بیس کیمپ بنا رکھا تھا۔ آپ رحمہ اللہ کے زیرِ کنٹرول آزاد کشمیر کوٹلی میں بیس کیمپ دراصل ایک پہاڑی تھا جس کو مقامی زبان میں ریچھ پہاڑی کہا جاتا ہے، جب کہ مجاہدین اس کو باسکر پہاڑی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ پہاڑی انڈیا سے مقابلے کے دوران چھینی گئی تھی یہ عسکری نوعیت کی سب سے اہم پہاڑی تھی جس پر مجاہدین نے کمیونیکیشن سسٹم نصب کر رکھا تھا جس کی بدولت مقبوضہ وادی میں موجود مجاہدین آزاد کشمیر کے مجاہدین سے مکمل رابطے میں رہتے تھے۔ ناپاک فوج نے دوستی اور تعاون کے نام پر اس تنظیم کے داخلی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش شروع کی اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان دنوں اس وقت کا کور کمانڈر راولپنڈی جنرل محمود احمد اکثر و بیشتر کوٹلی میں قائم الیاس کشمیری رحمہ اللہ کے تربیتی کیمپ کا دورہ کرتا تھا اور وہ بھارتی فوج کے خلاف اس گروپ کی گوریلا کاروائیوں کی دل کھول کر(منافقانہ اندازمیں) تعریف کرتا نظر آتا تھا ۔ یہ الیاس کشمیری رحمہ اللہ کے زمانہِ عروج کے واقعات ہیں۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد الیاس کشمیری رحمہ اللہ کو فوج کے اصل عزائم کا اندازہ ہوا اور یہ ” دوستانہ“ ختم ہو گیا، اس کے ساتھ ہی آپ رحمہ اللہ کی آزمائش کے دن آئے بد قسمتی سے اس کی وجہ بھی ایک نام نہاد جہادی تنظیم بنی۔

کشمیری مجاہدین کی طرف سے قندھار ہائی جیکنگ کے بعد جب مولانا مسعود اظہر بھارتی قید سے رہا ہو کر پاکستان آئے اور انہوں نے آتے ہی جیش محمد کے نام سے اپنی جہادی تنظیم کے قیام کا اعلان کر دیا۔ کشمیر جہاد سے وابستہ بہت سے سرکردہ افراد اس نئی جہادی جماعت میں شامل ہو گئے۔ جنرل محمود چاہتا تھا کہ الیاس کشمیر ی رحمہ اللہ بھی جیش محمد میں شامل ہو جائیں، اور آپ رحمہ اللہ اپنا بیس کیمپ باسکر پہاڑی انڈیا کے حوالے کردیں، مولانا مسعود اظہر کو اپنا لیڈر و راہنما مان لیں اور ایجنسیوں کے ہاتھوں کھیلنے لگ جائیں جس کے لیے آپ رحمہ اللہ پر شدید دباؤ ڈالا جانے لگا۔ لیکن اس دور اندیش اللہ کے بندے نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کسی بھی دباؤ کی پرواہ نہ کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ناپاک فوج کے حکم سے جیش محمد کے جنگجوؤں نے الیاس کشمیری رحمہ اللہ کے کیمپ پر حملہ کیا، دوسری طرف بھارتی افواج نے ان کے بیس کیمپ پر شدید بمباری کی لیکن اللہ سبحانہوتعالٰی کے فضل و کرم سے آپ رحمہ اللہ محفوظ رہے آپ رحمہ اللہ کے کافی ساتھی اس معرکے میں شہید ہوئے اللہ سبحانہ وتعالٰی ان کی شہادت کو قبول فرمائے آمین۔ بعد ازاں وہ بیس کیمپ انڈیا کو تحفے میں پیش کر دیا گیا۔

تقریبا اس ہی وقت میں نائن الیون کا مبارک واقعہ ہوا۔اوراس کے بعد الیاس کشمیری رحمہ اللہ کوہیرو سے دہشت گرد بنا دیا گیا۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ آپ رحمہ اللہ کو گرفتار کرنے کیلئے پر تولنے لگی اور بالآخر پرویز مشرف نے آپ رحمہ اللہ کو دہشت گرد اور اس کے گروپ کو کا لعدم قرار دے دیا جس نے تقریباً دو سال پہلے آپ رحمہ اللہ کی اور آپ رحمہ اللہ کے گروپ کی تعریف کرتے ہوئے ایک لاکھ کا انعام دیا تھا۔آپ رحمہ اللہ کو دسمبر2003ءمیں پرویز مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا جھوٹا الزام لگا کر گرفتار کر لیا گیا ۔واضح رہے کہ مشرف حملے کے وقت الیاس کشمیری رحمہ اللہ نےکنڑول لائن عبور کر کے وادی میں داخل ہوئے تھے جہاں آپ رحمہ اللہ نے جموں کے علاقے ٹانڈہ میں حملہ کر کے کئی سینئر بھارتی فوجی عہدیداروں کو ہلاک کیا تھا۔پاکستان میں آئی ایس آئی کی جیل میں دوران قید آپ رحمہ اللہ پر بے انتہا تشدد کیا جاتا رہا۔ آپ رحمہ اللہ نے جرمِ بیگناہی کی سزا ایک سال کاٹی بالآخر فوجی اسٹیبلشمٹ آپ رحمہ اللہ کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کر سکی اور مجبوراً آپ رحمہ اللہ کو رہا کرنا پڑا۔ لیکن دوبارہ آپ رحمہ اللہ کو ۲۰۰۵ میں بغیر کوئی جرم بتائےبغیر گرفتار کر لیا گیا، اور بدترین تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنایا گیا جس پر سید صلاح الدین حزب المجاہدین کے سینئر رہنما یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ پاکستانی اور بھارتی جیلوں میں کوئی فرق نہیں، یہ لوگ ہم پر بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ ہم کشمیری ہیں۔ بالآخر ایک سال مزید قید رکھنے کے بعد آپ رحمہ اللہ کو کشمیرکے جہادی گروپس کے دباؤ پر دوبارہ رہا کرنا پڑا۔

پاکستانی فوج کے ہاتھوں گرفتاری اور تشدد نے الیاس کشمیر ی رحمہ اللہ کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا اور آپ رحمہ اللہ نے اپنے آپ کو کشمیری عسکریت پسندوں سے علیحدہ کر لیا اور چند عرصے کے لیے خاموش رہے۔

جولائی2007ءمیں لال مسجد کے آپریشن نے الیاس کشمیری کو مکمل طور پر تبدیل کر ڈالا اور آپ رحمہ اللہ اپنی خاموشی توڑنے پر مجبور ہو گئے۔ بہنوں کے دفاع میں ہر وقت جان کی بازی لگا دینے والے شیر نے جب اپنی ہی ناپاک فوج کے مظالم دیکھے اور ان کے ہاتھوں شہید کی جانے والی بہنوں کی خبریں سنی تو آپ رحمہ اللہ تڑپ کر رہ گئے۔ بہنوں کی نفادِ شریعت کی پکار نے آپ رحمہ اللہ کے دل و دماغ کی حالت بدل کر رکھی دی۔ آپ رحمہ اللہ نے ناپاک فوج کے حد سے بڑھتے مظالم دیکھ لینے اور اس فوج کا اصل چہرہ عیاں ہونے کے بعد لال مسجد کی مظلوم بہنوں کی شہادت کا انتقام لینے اور اللہ سبحانہ وتعالٰی کے کلمے کی سربلندی کے لیے شمالی وزیرستان ہجرت کی۔ دل میں شہادت کی تمنا لیے یہ مردِ مجاہد شمالی وزیرستان میں کئی برس انتہائی قابل جہادی استاد کے طورپر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ یہ علاقہ آپ رحمہ اللہ جیسے مخلص مجاہدین، آپ رحمہ اللہ کے دوستوں اور ہمدردوں سے بھرا ہوا تھا۔ انصار و مہاجرین کی اس عجیب و غریب بستی میں الیاس کشمیری رحمہ اللہ نے اپنے 313بریگیڈ کو دوبارہ منظم کیا اور طالبان کے ساتھ مل کر طاغوتِ اکبرامریکہ اور اس کے فرنٹ لائن اتحادیوں کے خلاف جہاد میں سرگرم ہوگئے ۔آپ رحمہ اللہ نے طالبان کے ساتھ مل کر غداران اُمت کو مٹانے کا فیصلہ کیا اور اسی کوشش میں سرگرداں بڑے گروپوں اور جہادی تنظیموں کی براہِ راست معاونت کی جس میں اسلحہ کی تربیت اور مالی امداد بھی شامل تھی۔ اس کے علاوہ آپ رحمہ اللہ نے بہت سے سابق پاکستانی فوجیوں اور امریکی جنگ میں حصہ لینے اور انکار کرنے والے فوجیوں جن کا کورٹ مارشل کیا گیا تھا ان کو فرض کی ادائیگی کے لیے آمادہ کیا۔ شمالی وزیرستان میں 313بریگیڈ کی افرادی قوت 3ہزار کے قریب تھی اس کے زیادہ تر مجاہدین کا تعلق پنجاب ، سندھ اور آزاد کشمیر سے تھا۔

 

الیاس کشمیری رحمہ اللہ کے چیدہ چیدہ کارناموں میں ہے کہ آپ رحمہ اللہ نے راولپنڈی میں میجر جنرل( ر) فیصل علوی کے قتل سمیت پاکستان کے مختلف عسکری علاقوں میں حملے کیے۔ میجر جنرل فیصل علوی کا تعلق بھی ایس ایس جی سے تھا اور اس خبیث نے 2004ءمیں شمالی وزیرستان میں ہونے والے پہلے فوجی آپریشن کی قیادت کی تھی ،اس امر کی اطلاعات بھی ہیں کہ شمالی وزیرستان کے مجاہدین (طالبان) کے مطالبے پر الیاس کشمیری رحمہ اللہ نے علوی کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔پاکستان اسٹیبلشمنٹ کے کفار کی صف میں شمولیت کے باعث الیاس کشمیری رحمہ اللہ نے ناپاک فوج کو اپنے نشانے پر رکھ لیا۔ پاکستان میں فوج،اور خفیہ اداروں کے دفاتر پر ہونے والے بڑے حملوں کے پیچھے آپ رحمہ اللہ ہی کا نام بتایا جاتا ہے ۔ آپ رحمہ اللہ نےعالمی جہادی تحریک قاعدۃالجہاد کے ایک مجموعے کے امیر کے حیثیت سے بھی کام کیا ۔الیاس کشمیری رحمہ اللہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد جانشین کے طور پر جن لوگوں کا نام لیا جا رہا تھا ان میں الیاس کشمیری رحمہ اللہ بھی شامل تھے اور آپ رحمہ اللہ نے شیخ اسامہ رحمہ اللہ کی شہادت کا بدلہ کراچی مہران بیس اور دیگر کئی بڑے حملوں کی صورت میں لے کر مومنوں کے سینوں کو سکینت بخشی ۔ بالآخر یہ مرد مجاہد جون ء۲۰۱۱ میں اپنی منزل پانے میں کامیاب ہوگیا اور اپنے رب سے کئے ہوئے وعدے کو ایفاء کرتے ہوئے جنتوں کی جانب محو سفر ہوا۔ اللہ سبحانہ وتعالٰی ان کی شہادت کو اپنے دربار میں شرفِ قبولیت بخشے۔(آمین)

یہ مجاہدین حقیقتاً اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہیں اور بلاامتیاز ہیں۔

 

الیاس کشمیری رحمہ اللہ کی کہانی بلا شک و شبہ افسانوی ضرور لگتی ہے ۔لیکن یہ جاننے کے بعد اس امر میں شبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ دراصل الیاس کشمیری رحمہ اللہ بھی دوسرے کئی مجاہدین کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی اسلام سے غداری کے باعث پاکستانی افواج کے لیے اللہ سبحانہ وتعالٰی کی پکڑ ثابت ہوئے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں کسی دور میں حریت پسند قرار دیا جاتا تھا ، اور پرویز مشرف جیسے اعلیٰ فوجی عہدے دار عزت و احترام دیا کرتے تھے اور ناگہانی صورت میں دشمن انڈیا انہیں اپنی پشت پر وار کرتے دیکھتا تھا۔ کسی بھی شخصیت کے اسلام سے دوستی اور دشمنی جانچنے کا آسان اور سادہ سا فارمولا ہے۔ آپ اس کا تعین امریکہ اور بھارت، و دیگر کفار کے نکتہ نظر سے کر سکتے ہیں۔ الیاس کشمیری رحمہ اللہ ان کی نظروں میں بہت بڑا دہشتگرد اور مطلوب ترین فرد تھے امریکا نے ان کے سر کی قیمت بیس لاکھ امریکی ڈالر لگا رکھی تھی ۔ ان شاء اللہ مسلم اُمت کی تاریخ میں آپ رحمہ اللہ کا نام سنہری

حرف میں لکھا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مثال کو پیش کرنے کا مقصد ایک اجمالی خاکہ پیش کرنا تھا،کہ وجوہات کیا تھیں ،کہ یہی قائدین کشمیر کے محاذ کو چھوڑکر،پاکستان کی اس مرتد فوج کے خلاف جہاد پر مجبور ہو گئے۔

کشمیر کا محاذ،ہماری موجودگی میں کیساگرم تھا،ساری دنیا جانتی ہے،اور آج کے موجودہ حالات بھی وہاں دیکھ لیں۔

ہم نے پہلے بھی کشمیر میں جہاد کیا ہے،اور آئندہ بھی ان شاء اللہ کریں گے،لیکن اس سے پہلے اس جہاد میں رخنہ ورکاوٹ ڈالنے والوں کو لگام ڈالیں گے،پھر کشمیر کی طرف متوجہ ہونگے،یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم کشمیر میں جہاد بھی کر رہے ہوں،اور ہماری پیٹھ میں خنجر گھوپنے کے لئے ،پاکستان کی مرتد فوج اور حکومت موجود ہو۔

اس لئے ہم پر اعتراض کرنے کی پہلے ہمارا ماضی بھی دیکھیں،اوراوپر دی گئی مثال میں وجوہات کو جاننے کے بعد انصاف سے بتائیں کہ ایسے حالات میں سمجھدار لوگ کیا کرتے ہیں۔

ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں ،ہم پھرسے کشمیر کے محاذوں کو گرما کر ،ہندوستان سےکشمیری بھائیوں اور بہنوں  کا انتقام لیتے ہوئے،کشمیر میں اسلام نظام نافذ کریں گے۔