اگر افغانی فوج سے لڑنا واجب ہے تو پاکستانی فوج سے لڑنا حرام کیوں۔۔۔؟

نیز انہی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے  بتائیے کہ افغانستان میں امریکہ کا ساتھ دینے والی افغانی فوج اور پاکستان میں امریکہ کا ساتھ دینے والی پاکستانی فوج میں خالصتاً شرعی نکتہء نظر سے کیا فرق ہے؟۔۔۔جبکہ دونوں  کے جرائم بھی ایک سے ہیں اور دونوں اسی آقاکی خدمت میں مصروف ہیں ،جس نے اس خطے میں ظلم و فساد کا بازار گرم کر رکھا ہے! وہ کونسا شرعی اصول ہے جو افغان فوجی سے قتال کو مباح اور پاکستانی فوجی سے قتال کو حرام قرار دیتا ہے؟ ہم تو

 قرآن وحدیث سے یہی سمجھے ہیں کہ شریعت حقائق پر حکم لگاتی ہے۔۔۔محض ناموں، رنگوں یا خود ساختہ جغرافیائی حد بندیوں پر شرعی احکامات تبدیل نہیں ہوتے،نہ کسی افغانی فوجی سے لڑنا اس لئے واجب ہے کہ وہ ‘‘افغانی’’ ہے۔۔۔بلکہ کسی امریکی سے بھی صرف اس لئے لڑنا فرض نہیں کہ وہ ‘‘امریکی’’ ہے۔یہ جہاد تو شریعت میں بیان کردہ ایک خاص وصف کی بنیاد پر کیا جاتا ہے،جس فرد یا گروہ میں بھی وصف پایا جائےگا،اس کے خلاف قتال فرض ہو جائے گا۔اور اس مقام پر جس وصف کو بیان کرنا مقصود ہے،وہ ہے امریکیوں کا‘‘عدوِّ صائل ’’(حملہ آور دشمن) ہونا اورپاکستانی و افغانی ،دونوں افواج کا اس عدوِّ صائل کا ساتھ دینا۔پس جب ان دونوں افواج کا جرم ایک ہے،تو ان دونوں کا شرعی حکم بھی ایک ہی ہوگا۔

(اقتباس از کتاب شمشیرِ بے نیام صفحہ ۱۱۷۔مصنف شیخ ابو یحییٰ اللیبی شہیدؒ)

...............

 

شمشیر بے نیام۔۔۔۔ پاکستان کے نظام کا مکمل جائزہ اور اس کے خلاف جہاد کرنے کی شرعی دلیل پر سب سے مفصل اور جامع کتاب۔۔

 

 

PDF  Download Link(5.1 MB)

 

https://archive.org/details/Shamsheer_Baynayam_batilnizam_kay_khilaf_qital