مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمہ اللہ (جامعہ علوم الاسلامیہ نیو ٹاون کراچی )، جنہوں نے نائن الیون کے بعدافغانستان پر امریکی حملے کے بعد اپنے نام کے لیٹرپیڈپر ایک فتوی جاری فرمایا جو کہ ملک کے تمام اخبارات میں جلی حروف کے ساتھ شائع ہوا اور جس کودلیل کے طور پر عالمِ عرب کے

 علماءِ حق نے اپنے فتاویٰ میں نقل کیا اس فتویٰ کے الفاظ یہ ہیں۔

امریکہ نے امارت اسلامی افغانستان پر حملہ کر دیا ہے اب مسلمانوں کیلئے شرعی احکامات مندرجہ ذیل ہیں۔

۱ ۔ تمام مسلمانوں پر جہاد فرض ہو گیا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں صرف افغانستان کے آس پاس کے مسلمان

امارتِ اسلامی افغانستان کا دفاع نہیں کرسکتے ہیں اور یہودیوں اورامریکہ کا اصل ہدف امارتِ اسلامی افغانستان کو ختم کرنا ہے دارالاسلام کی حفاظت اس صورت میں تمام مسلمانوں کا شرعی فریضہ ہے۔۔

۲۔جو مسلمان چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو اور کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے سے وابستہ ہو وہ اگر اس صلیبی جنگ میں افغانستان کے،مسلمانوں یا امارتِ اسلامی افغانستان کی اسلامی حکو مت کے خلاف استعمال ہوگا وہ مسلمان نہیں رہے گا۔۔

۳۔اللّٰہ تعالی کے احکام کے خلاف کوئی بھی مسلمان حکمران اگر حکم دیں اور اپنے ماتحت لوگوں کو اسلامی حکومت ختم کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہے ،تو ماتحت لوگوں کیلئے اس طرح کے غیر شرعی احکام مانناجائز نہیں ہے، بلکہ ان احکام کی خلاف ورزی ضروری ہوگی ۔۔

۴۔اسلامی ممالک کے جتنے حکمران اس صلیبی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں اور اپنی زمین ،وسائل اور معلومات ان کو فراہم کررہے ہیں، وہ مسلمانوں پر حکمرانی کے حق سے محروم ہو چکے ہیں، تمام مسلمانوں کو  چاہئے کہ  ان حکمرانوں کو اقتدار سے محروم کر دیں، چاہےاسکے لئے جو بھی طریقہ استعمال کیاجائے ۔۔

۵۔افغانستان کے مسلمان مجاہدین کے ساتھ جانی ومالی اور ہر قسم کی ممکن مدد مسلمانوں پر فرض ہے، لہذا جو مسلمان وہاں جا کر ان کےشانہ بشانہ لڑ سکتے ہیں وہ وہاں جا کر شرکت کر لیں اور جو مسلمان مالی تعاون کرسکتے ہیں وہ مالی تعاون فرمائیں اللّٰہ تعالی مصیبت کی اس گھڑی میں مسلمانوں کاحامی و ناصر ہو۔

اس فتویٰ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کرکے دوسرے مسلمانوں تک پہنچائیں ۔

فقط و سلام

مفتی نظام الدین شامزئی

(مہر و دستخط )