بسم اللہ الرحمن الرحیم
پشاور کاروائی کے حوالے سے امیر تحریک طالبان پاکستان طالبِ حق فضل اللہ خراسانی حفظہ اللہ کا بیان

پہلی بات فوج اورموجودہ حالا ت کے حوالے سے یہ کہ ،ماضی میں فوج نے جو کچھ کیا اسے پاکستان کے مسلمان اچھی طرح جانتے ہیں،اور یہ سب کچھ قریب سے دیکھ بھی لیا ہے۔یہ بات آپ یاد رکھیں کہ پاکستانی حکومت کو ہر طریقے سے دعوت دے دی جاچکی ہے۔،نوح علیہ السلام جب بد دعا فرما رہے تھےکہ میں نے اپنی قوم کو ہر طریقے سے دعوت دی ایک طریقہ بھی میرے لئے کار آمد ثابت نہیں ہوا،تو لہذا اللہ تعالیٰ نے چھوٹے بڑے سب کو تباہ کر دیا۔تو میں بھی یہی کہتا ہوں کہ ختمِ نبوتﷺسے لے کر سپاہِ صحابہ ؓ تک،پھر نفاذِشریعت محمدیﷺ اورپھر تحریک طالبان پاکستان،اسی طریقے سے انفرادی اور اجتماعی اندازسے دعوت،سیلاب کےذریعے،زلزلے کے ذریعے،ہر طریقے سے اللہ نے دعوت دی ہے۔مگر یہ سیدھے نہیں ہوئے،یہ خفیہ ایجنسیاں،فوج اور یہ حکومت،سیدھی نہیں ہوئی۔مگر اللہ ان کو سیدھا کر دیں گے،نا آشنا عذابوں کے انتظار میں رہو۔
فوج سے میں یہ کہتا ہوں کہ تم لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہوکہ ہمارےاور تمہارے مابین جنگ ہے،اگر تم لوگ ہمارے جنگی قیدیوں کو مارو گے،تو ہم بھی تمہارے جنگی لوگوں کو ماریں گے۔تم لوگ طالبان کے چھوٹے سے لر کر بڑے تک ہر ایک پر حملے کرتے ہو،تو پھر یہ یاد رکھوکہ ہر عمل کا ردّعمل ہوتا ہے،لیکن ہم شریعت کے حدود کے اندررہ کر کام کرتے ہیں،اگر شریعت کی حدود ہمارے آگے نہ ہوتیں،اور قیامت کے دن اللہ پاک کے سامنے ہماری حاضری وجوابداری نہ ہوتی،تو تمہیں پتہ چل جاتا کہ قتل کس طرح کئے جاتے ہیں۔
تم لوگوں کو میں کہ کہنا چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کو اپنا کردار معلوم ہے کہ تم نے ہماری عورتوں کے ساتھ کیا،اور یہ جو ابھی موجودہ کردار شروع کیا ہے یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا ہو ا نہیں ہے۔ہم کیونکہ حالت جنگ میں ہیں اس لئے ایک دوسرے کے حالات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔اگر اللہ نے چاہا،اورہمیں موقعہ مل گیا،دن تو بدلتے رہتے ہیں،پاکستان کا نظام تباہ ہے،نہ اسے امریکہ بچا سکے گا،نہ یہ مرتد ،بےغیرت اور بزدل فوج بچا سکے گی،الاّ ماشاء اللہ ،اگر ان میں کچھ اچھے لوگ ہیں،تو اللہ ان کو ہدایت دےاور غلامی سے نکال دے،اور یاد رکھوجو تم نے کیا ہےوہ یقیناًتمہارے سامنے ہے۔کتنے ہی ہمارے قیدیوں کو جیلوں سے نکال کر ،انہیں تم نے بزدلی سے شہید کیا،اور کہا کہ مقابلے میں مارے گئے ہیں،صاف بات کیوں نہیں کرتے کہ مجرم تھے ،اس لئے ہم نے انہیں شہید کیا،یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم نے انہیں قتل کیا ہے،یہ کیا بات ہوئی کہ جنگ بھی کرتے ہو،کچھ کو قبول کرتے ہو ،اور بعض کو چھپاتے ہو۔ہم جو بھی بات کرتے ہیں دلیل کے ساتھ ثابت کرتے ہیں،اور دلیل بھی وہ جو اللہ تعالیٰ کے دربا ر میں قابلِ قبول ہو،اور یہی ہما  ری کوشش ہے کہ کسی چڑیا کی موت بھی بغیر جواز کے نہ ہو(یعنی ہماری چھوٹی سی چھوٹی کاروائی بھی بغیر شرعی دلیل کے نہ ہو)،انسان کی موت تو بہت بڑی بات ہے،اور مسلمان کی موت سے اللہ تعالیٰ ہمیں بچائے۔یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ کے نزدیک پوری دنیا کاختم کرنا آسان ہے،ایک مسلمان کے قتل سے۔یہ چھوٹی بات بات نہیں ہے،ہم خواہ مخواہ قتل کے شوقین نہیں ہیں،خون بہانے کے شوقین نہیں ہیں۔تم لوگ جو قیدیوں کو اتنی بے دردی سےٹارچر کر تے ہوپھرشہید کرتے ہو،پھر مختلف علاقوں،چوکوں میں ان کی لاشیں گراتے ہو،پانچ ،آٹھ،دس ،دس لاشیں ہفتے ،مہینے بعد جگہ جگہ گراتے ہو،جس پر دنیا بھی گواہ ہے اور کتنی ہی بار لوگوں نے اس کا اظہار بھی کیا ہے۔تو میں یہ کہوں گا کہ اس عمل کا پھر ردّعمل بھی ضرور ہوگا۔یہ جوپچھلے دنوں والا واقعہ ہے پشاور چھاونی والا،اگر یہ سکول آرمی پبلک سکول تھا،تو فوج والو!ہمارا تمہارا دوستانہ تونہیں ہے کہ ہم تمہارا لحاظ کریں،ہم کوشش کریں گےجہاں بھی اس طرح کی چھاونیاں ہوں،اس طرح کے مراکز جہاں بھی ہوں گے،جہاں پر ان فوجیوں کے بالغ۱۸سے بیس سال کے لڑکےپڑھتے ہوں،وہ انشاءاللہ ہمارا ٹارگٹ ہیں،چاہے یہ یا تم ہمیں کہیں بھی مل جاو،اور اگر میں تمہیں مل جاوں تو مجھے مارو لیکن نابالغ بچوں اور عورتوں کو کچھ مت کہو،کیونکہ یہ بے غیرتی کی علامت ہے،اخلاقی معیار سے گری ہوئی بات ہے۔
اورہم غیراخلاقی کام نہیں کریں گے،لیکن جنگ جاری رکھیں گے۔
ہم شہادتوں اور جیلوں سے ختم نہیں ہوں گے،نیت ہماری صرف اور صرف اللہ کی رضا ہےاور ہم نے اللہ کے دین پر غیرت کی ہے،انشاءاللہ ،اللہ بھی ہم پر غیرت کریں گے،ہمیں کبھی بھی رسوا نہیں کریں گے ،کبھی ضائع نہیں کریں گے ،یہ ہمارا عقیدہ ہے اور ہم اس پر مضبوطی سے قائم ہیں۔پشاور والی کاروائی کے لئے جو ہم نے ساتھیوں کو بھیجا تھا،تو ہدایات  یہ دی تھیں کہ آپ لوگ سکول کا محاصرہ کرلینا ہم میڈیا کی توجہ حاصل کر کے اپنے مطالبات ان کے سامنے رکھیں گے،جن میں سرِفہرست ہماری ان عورتوں کی بازیابی ہے جن کو گرفتار کر کے قید میں ان کی عزتوں کو تم نے پامال کیا،انہیں ٹارچر کرتے اور مارتے ہو،اور بہت سوں کو تم نے نظر بند کیا ہوا ہے ،یہ سب باتیں تم بھی، اور ہم بھی جانتے ہیں۔ہم مخلوق کے آگے فریاد نہیں کرتے ،صرف اور صرف اللہ کے سامنے فریاد کرتے ہیں۔
ہمارا صرف ایک اللہ مددگار ہے اور باقی ہم کسی سے کسی بھی قسم کی کوئی توقع نہیں رکھتے ہیں،ہم کسی پر اللہ کے علاوہ بھروسہ نہیں کرتے۔
ہمارا صرف اور صرف  وہی ایک رب العالمین ہے،کہ جس کے دین پر ہم نے غیرت کی ہے،اور اس کے دین کی خاطر  ایک عقیدے اور نظریے کو لےکر میدان میں  نکلےہیں،ہماری حفاظت ہمارا رب کرے  گا،چاہے امریکہ آجائے،نیٹو آجائے،روس آجائےاور تم ساتھ آجاواور ساری دنیا بھی ساتھ مل کر آجائےتو بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ہمارے رب نے جو فیصلہ کیا ہے ،اس کو نہ تم بدل سکتے ہو اورنہ تمہارا دادا (امریکہ)بدل سکتا ہے۔انشاءاللہ
اس بات کو خوب سمجھ لو،یہ چھاونی تھی،صرف سکول نہیں تھا،اس کے ارد گرد ہر طرف فوج تھی،اگر صرف سکول ہی تھا تو اس میں کرنل اور بریگیڈئر کیا کر رہے تھے،ہم نے اپنے ساتھیوں کو کہا تھا کہ اس جگہ کو محاصرہ کرلو،تاکہ اس کے ذریعے مطالبات کو منوا لیں۔لیکن فوج بیچ میں آگئی،بہت سے بچوں کو فوج نے مار ڈالا ،ہمارے ایسے جنتی (متقی )ساتھی تھے،ان کی رگوں میں بھی خون تھا،پانی نہیں تھا،وہ نوجوان اللہ کی رضا کے لئے آگ کے دریا میں کودے تھے،انہوں نے باقاعدہ ہر بچے سے پوچھا کہ فوجی کا بچہ کونسا ہے،پھر اچھی طرح دیکھاکہ بالغ ہے یا نہیں،تمہارے ڈاکٹر میڈیا پر کہہ رہے تھے کہ طالبان نے بہت حوصلے اور آرام سے کام کیا ہے ،طالبان گھبرائے ہوئے نہیں تھے ،اگر ہمارا مقصد سارے بچوں کو مارنا ہوتا  تو باقی بچوں کو ہم سے فوج نےنہیں بچایا،ان کو ہم سےصرف قیامت کے خوف
اور قبر کے خوف نے بچایاہے،(ان میں بالغ بچوں کو)ہم نے اسلئے نشانہ بنایا کہ کل کو فوجی بننے سے پہلے ان کا کام تمام کر دیا جائے،باقی جو ابھی چھوٹے ہیں انہیں( بالغ ہونے کے بعد )پھر دیکھا جائے گا۔
بالغ بچوں کومارنے کا مقصدتم لوگوں کو درد پہنچانا تھا ،تاکہ جب ایک فوجی کی بیوی روئے ،تو اس فوجی کو احساس ہو کہ اس نے کتنی ماوں کو رلایا ہے۔تم لوگوں نے ہمارے چھوٹے چھوٹے ،دودو ،تین تین سال تک کے بچوں کو جیل میں ڈالا،جو کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں،ساری دنیا جانتی ہے لیکن میں حیران اس بات پر ہوں کہ آج ان بے غیرت ،بزدل اور مرتد فوجی افسروں کے ۱۸ ،۲۰ سال کے بالغ بچوں پر کیوں اتنا واویلا مچایاجا رہا ہے،حالانکہ ادھر کیمپوں سے ہمارے ہزار سے اوپر لڑکے اور لڑکیاں غائب ہیں،لال مسجد وجامعہ حفصہ ؓ     کو دیکھیں،ہر رات جیٹ طیاروں کی بمباری اور توپ خانے کو دیکھیں،لیکن ان سب پر توکوئی واویلا نہیں ہوتا ،واویلا ہے تو صرف فوج کے بچوں کے نشانہ بنانے پر۔اس بات پر تو کوئی واویلا نہیں کہ مساجد  شہید ہوگئیں،قرآن کے ہزاروں نسخوں کو شہید کیا گیا،مدارس شہید ہوگئے،داڑھی کے تقدس کو پامال کیا گیا،منبر ومحراب کو شہید کیا گیا،لیکن اس پر کوئی واویلا نہیں۔اگر دیکھا جائے تو ہندو فوج نے بھی کبھی اپنے مندر کو نشانہ نہیں بنایا ہو گا ،نہ اپنی مذہبی کتاب پر گولی چلائی ہوگی،اپنے مقدسات کو مسمار نہ کیا ہوگا،آج تک انگریز نے اپنے گرجے کو نہیں گرایا ہوگا،اپنے پوپ کو نہیں مارا ہوگا،مگر اس بے غیرت ومرتد فوج نے مسجد ،قرآن پر حملہ کیا،اپنے مقدسات کو بھی گرایا۔جو مذہبی لوگ ہیں ،جنہوں نے اس کا نکاح پڑھوایا،اس طبقہِ علماء پر بھی اس نے حملہ کیا،ان کو بھی معاف نہیں کیا،تو یہ ہندو ،انگریزوں اور سکھوں سے بھی زیادہ بے غیرت ،یہ خود کو مسلمان کہنے والے انسانی ،حیوانی بے غیرت ہیں۔
میڈیا والوں کو میں کہوں گا ،تم لوگ تو مزدوری کرتے ہو،اپنے بچوں کے لئے روزی کماتے ہو،آپ لوگوں کوچاہئے کہ فریق نہ بنو،انصاف سے کام کرو،اگر بالفرض ان حالات میں اسلام کی خدمت کی تو تم لوگوں کا جہاد ہے،لیکن ابھی جو عمل تم لوگوں نے شروع کیا ہے،تو یقیناً جنگ آپ لوگوں نے اپنے سر لے لی ہے،ان سب لوگوں کو ہمارے خلاف تم کرتے ہو،میری اس بات سے تمہارا بھی ذہن کھل جائے گا اور ہمارا بھی تمہارے متعلق ذہن کھل چکا ہے۔انشاءاللہ
میں آپ لوگوں کو ایک آسان نسخہ بتاتا ہوں،ہمارا دعویٰ ہے کہ جمہوریت کفر ہے ،جو اس نظام کے تحفظ کےلئے کام کرتے ہیں وہ کفر ہے،یہ کو ئی چھوٹی بات نہیں ہے،یہ کفر اور اسلام کی بات ہے،پھر تم میڈیا والے
 نواز شریف،اور فوج کولاو،درباری ملا وں اور سرکاری مفتیوں کو لے آو ،مولانا صوفی محمد جو کہ جیل میں ہے،اللہ ان کو دین کی خدمت کی خاطر رہائی عطا فرمائے،ان سب کو اُن کے پاس بٹھائیں،اگر یہ جمہوریت اسلام ثابت ہوئی تو میں ان کے سارے مطالبات ماننے کو تیار ہوں،لیکن اگر یہ جمہوریت کفر ثابت ہوئی،تو یہ لوگ ہماری بات مان لیں،آپ میڈیا والے بھی ان پر زور دیں۔
آخر میں ،میں حکومت خبر دار کرتا ہوں کہ اگر عورتوں کی گرفتاریوں اور نظربندیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا،اور قیدیوں پر تشدد اور قتلِ عام کا سلسلہ بند نہ ہوا ،تو ایسے سخت ردِعمل کے انتظار میں رہو،کہ پشاور تم سے بھول جائے گا،اور جو برادر تنظیمیں اس بات میں شک میں ہیں کہ فوجیوں کے بالغ بچوں کومارنا کیسا ہے،تو میرا اُن سب کو چیلنج ہے کہ آپ لوگ اپنے اپنے نمائندوں کو ہمارے پاس بجھوا دوکہ اس معاملے پر بحث کریں،اورتمام فدائی بھائیوں سے کہتے ہیں کہ جو اس طرح کے ٹارگٹس کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور فی الحال ہم سے رابطے میں نہیں ہیں ،وہ رابطے میں آئیں۔
ولسلام

نوٹ:پشاور حملے کے حوالے سےاس بیان کو اور  نیچے دیئے گئےشرعی دلائل کو شائع کرنے کا مقصد اس حملے کے شرعی جواز کے حوالے سے عوام الناس کو آگاہ کر کے حجت تام کرنا  ہے،باقی ہدایت دینا اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے ،لہذااگر کوئی پھر بھی ضد اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کرے تو اسے اپنے عمل پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور انصاف سے کام لینا چاہئے۔

        

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پشاور پبلک اسکول کا حملہ شرعی تناظر میں

کفرواسلام کے درمیان چودہ سالوں سے جاری لڑائی جس کو صدر بش نے صلیبی جنگوں کا ایک سلسلہ قرار دیا تھا،الحمد للہ عالمی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے،آج پوری دنیا میں کفار اور ان کی غلام مرتد افواج گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو چکی ہیں اور اپنی شکست کا خود اعتراف کر رہے ہیں۔

دینِ اسلام میں ’’عقیدۃ الولاءوالبراء‘‘ایمان کی بنیادی چیزوں میں سےایک ہے ،کوئی بھی شخص جو اسلام میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ کلمے کے ضمن میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ کافروں اور اللہ کے دشمنوں سے برائت و بیزاری کرے گا ااور صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی دوستی کا تعلق رکھے گا،چنانچہ اگر کوئی شخص’’عقیدۃ الولاءوالبراء‘‘پر یقین نہ رکھتا ہو تو شریعتِ اسلامیہ کی نظر میں باتفاقِ فقہائے امت وہ مسلمان تصور نہیں کیا جائے گا،اسی سلسلے میں اللہ عزوجل کا ارشاد مبارک ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾(مائدۃ:۵۱)

’’اے ایمان والوں یہود و نصاراکو اپنا دوست نہ بناؤ،یہ بعض ،بعض کے دوست ہیں اور جس نےان سے دوستی کی وہ انہیں میں سے ہے،بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتے‘‘

اور فرمایا:
وَ لَوۡ کَانُوۡا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مَا اتَّخَذُوۡہُمۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنَّ کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۱﴾ (مائدۃ:۸۱)

’’اگر وہ اللہ ، اس کے رسول اور جوان پرنازل ہوا ہے(یعنی قرآن) پر ایمان رکھتے تو کافروں کو اپنا دوست نہ بناتے‘‘

اور سورہ نساء میں ایسے لوگوں کو منافق کہا گیاہے اور ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنانے کا کہا ہے:
بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمَۨا ﴿۱۳۸﴾ۙ الَّذِیۡنَ یَتَّخِذُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾ؕ

’’منافقین کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنائیں،ان لوگوں کو جو کافروں کا ساتھ دیتے ہیں مسلمانوں کو چھوڑ کر‘‘

ایک اور آیت میں ایسے ہی لوگوں کی جو کفار کا ساتھ دیتے ہیں، ایمان کی نفی کی گئی ہے،اللہ عزوجل کا ارشادمبارک ہے:
لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ (اٰلِ عمران)

’’مومن لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو اپنا یارومددگار نہ بنائیں اورجوایسا کرےگا تواس کا اللہ جل جلالہ سے کوئی تعلق نہیں‘‘

اور حضرت حذیفہ ؓسے سورت ِ مائدہ کی اس آیت : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ………….. کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ؓنے فرمایا :
لیتق احدکم ان یکون یہودیا او نصرانیا وھو لا یعلم ثم تلا ھذہ الآية

’’تم میں سے ہر ایک اس بات سے ڈرے کہ وہ یہودی یا نصرانی بن بن چکا ہواور اس کو پتہ بھی نہ ہو ،پھر آ پ ؓنے اس آیت کو پڑھا‘‘

ان آیتوں کی تفسیر میں امتِ اسلام کے تمام معتمد مفسرین نے لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں اور کافروں کے درمیان لڑائی چھڑ جائے اور کوئی مسلمان جا کر کافروں کی صف میں مسلمانوں کے خلاف شامل ہوجائے تو اس عمل کی وجہ سےوہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے۔

آج عالمی جہاد میں ایک طرف توواضح کافر یعنی امریکا اور اس کے اتحادی ہیں، جن میں پاکستانی فوج ان کا فرنٹ لائن اتحادی ہے ،تو دوسری طرف امتِ مسلمہ کے غیور مجاہدین ان کے مقابلے میں انتہائی کم وسائل لیکن بلندحوصلے کے ساتھ لڑرہے ہیں،ایک طرف کفری جمہوری نظام اور اس کے آلۂ کار ہیں تو دوسری طرف اسلامی نظام اور اس کے جانباز ہیں او ر یہ تقسیم پوری دنیا پرواضح بھی ہے تو پھر اس طرح کی واضح صورت ہونے کے باوجود پاکستانی حکمرانوں اور فوج کا کافروں کا اتحادی بننا یا کسی اور نام نہاد مسلمان کا ان کا اتحادی بننا اور دہشتگردی کے نام پر مجاہدین اور ان کے بیوی بچوں کو قتل کرنا،انہیں بمباری کا نشانہ بنانا، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاکستانی حکمران اور اس کے سیکورٹی ادارے مکمل طور پرمسلمانوں کے خلاف کفارکےساتھی اور ان کے مددگار ہیں۔

اسی طرح پاکستان کے جمہوری کفری نظام کے خاتمے اور نفاذِ شریعت کے مطالبے کی پاداش میں لال مسجد کے ڈیڑھ ہزار طلبہ و طالبات کو فاسفورس بموں اور ہیلی کاپٹر شیلنگ سے بے دردی سے شہید کرنا اور پھر ان کی لاشوں کو تیزاب پھینک کر مسخ کرنا پاکستانی حکمرانوں اور اس کے سیکورٹی اداروں کی طرف سے اللہ تعالی کے دین سے دشمنی و ارتداد کا ایک عملی اقدام ہے۔فقہاء نے لکھا ہے :
(قاتل المصلی لصلوٰتہ لا یکون الا کافرا)

’’کسی نمازی کونمازی ہونے کی وجہ سےقتل کرنا کفر ہے ‘‘

اسی لیے کسی مجاہد کو اس لیے قتل کرنا کہ وہ مجاہد ہے یہ بھی کفر ہے۔

لہذا پاکستانی حکمران ہوں یا ان کے سیکوٹی ادارے یا اس جنگ میں امریکیوں کی صف میں شامل اور کوئی نام نہاد مسلمان ،یہ سب ظاہراً ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور سب کے سب مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں ،ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ ان میں سے کس کا دل اس جنگ میں مجاہدین کے خلاف لڑائی پر راضی ہے اور کس کا نہیں اورکون مجاہدین کا دفاع کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کون ان کے خلاف ہے، جب کہ فقہی اصول یہ ہے کہ’’ جب استقراء تمام افراد کاممکن نہ ہو تو کلی کے تمام افراد پر یکساں حکم لگتا ہے ‘‘یعنی جب یہ تعیین کرنا ممکن نہ ہو کہ فلاں فوجی کا عقیدہ ایسا ہے اور فلاں کا ایسا ،تو پھر ان کی مجموعی جماعت پرظاہر کے لحاظ سےیکساں حکم لگے گا۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ جب حضرت ابنِ عباس جنگِ بدر میں گرفتار ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میں مسلمانوں کے خلاف لڑائی کے لیے نہیں نکلا تھا،بلکہ مشرکینِ مکہ کے خوف کی وجہ سے ان کے لشکر میں شامل ہواتھااور میرا ارادہ مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونےکا تھا نہ کہ لڑائی کا،تورسول اللہ نے ان سے فرمایا:
((أما ظاھرک فعلینا وأما سریرتک فالی اللہ … … … … … …))

یعنی آپ کا ظاہر کافروں کے ساتھ جنگ میں نکلنے کا ہےاور ہماری مخالفت میں ہے، اس لیے ہم باقی کافر قیدیوں کے ساتھ جو معاملہ کریں گے وہ ہی آپ کے ساتھ بھی کریں گے ،کیوں کہ ہم ظاہر کے مکلف ہیں اور آپ کے باطن کی بات اللہ تعالی کے حوالے ہے جو آپ سے اس کے مطابق حساب لیں گے۔

علامہ ابنِ تیمیہ رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں :
(لو رأیتمونی فی صف الکفاروعلی رأسی مصحف فاقتلونی)

’’اگر تم مجھے کافروں کی صف میں مسلمانوں کے خلاف ایسی حالت میں بھی دیکھو کہ میرے سر پر قرآن مجید ہو تو تب بھی مجھے قتل کر دینا۔‘‘

ان دلائل کو دیکھتے ہوئے تمام پاکستانی حکمران اور فوج اور اس کے سیکورٹی ادارے واضح طو پر مرتد ہیں،ان سے قتال کرنا تمام امتِ مسلمہ اور خاص طور پر پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں پر فرض ہے۔اور جوشخص بھی اس جنگ میں امریکہ یا پاکستانی مرتد افواج کا ساتھ دے تووہ اسلام اور امتِ مسلمہ کا بدترین خائن ہےاور شرعاً واجب القتل ہے ،روایت میں آتا ہے:
عن عامر بن سعد بن أبى وقاص، عن أبيه أن سعد بن معاذ حكم على بنى قريظة أن يقتل منهم كل من جرت عليه المواسى، فقال النبى (صلى الله عليه وسلم) : (حكمت فيهم بحكم الله)

’’………..کہ سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ نے بنی قریظہ کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ ان میں سے ہر وہ فرد قتل کیا جائے جس کے زیر ناف بال نکل چکے ہوں،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے سعد!) آپ نے اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا۔‘‘

ان خائن و مرتد لوگوں کے رشتہ داروں اور ان کے بیوی بچوں پر لازم ہے کہ ان سے قطع تعلق کرکے جدائی اختیار کرلیں ،ان کی بیویوں کے نکاح فسخ ہو چکے ہیں ،لہذا ان کے لئے ان مرتدین کے ساتھ رہنا جائز نہیں۔ جبکہ پاکستانی فوج اور حکمرانوں کےوہ بچے اور عورتیں جو بالغ ہوں اور معاصر عالمی جنگ میں کسی بھی طریقے سے مرتدین کا ساتھ دیتے ہوں ،واجب القتل ہیں،

آرمی پبلک اسکول پر طالبان کا حملہ بھی اسی فریضے کو انجام دینے کی ایک کڑی ہے ،کیونکہ مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوئی:

• اس اسکول میں۹۰ فیصد بچے پاکستانی مرتد فوج اور حکمرانوں کے پڑھتے ہیں۔

• سکینڈری او ر ہائیر سکینڈری سیکشنز جن کو ٹارگٹ کیا گیا ہے ،میں پڑھنے والے اکثر لڑکوں کی عمریں ۱۵ تا ۲۰ سال ہیں۔

• اس اسکول میں طلبہ کو اسلام او رمجاہدین کے خلاف تیار کیا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر ان کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔

•اس اسکول میں زیر تعلیم کسی بالغ لڑکے نے آرمی کے اسکول میں پڑھنے کے علاوہ اپنے فوجی باپ یا بھائیوں کے عمل سے کسی قسم کی برأت کا اظہار نہیں کیا تھا۔

• حملے کے وقت ایک پروگرام بھی جاری تھا،جس میں اطلاع کے مطابق۷۰۰سے زائد اعلیٰ فوجی افسران کے بیٹے شریک تھے،عین حملے کے وقت ایک آرمی کرنل کا وہاں پرلیکچر دیتے ہوئے ماراجانا بھی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہاں طلبہ کو معاصر عالمی جہاد اور مجاہدین کے خلاف تیار کیا جاتا ہے۔

لہذا شرعی تناظر میں ان کا قتل بالکل درست ہے اور اس حملے میں حصہ لینے والے تمام فدائی شہید ہیں
نحسبھم کذلک واللہ حسیبھم۔

اس کاروائی میں طالبان مجاہدین کے ہاتھوں بالغ لڑکوں کے علاوہ دس ایس ایس جی کمانڈوز اور کئی اہلکار بھی مردار ہوکر جہنم واصل ہوئے،جبکہ دجالی میڈیا اور پاکستانی مرتد فوج کا یہ پروپیگنڈا پھیلانا کہ اس میں تمام چھوٹے بچےاور طالب علم مارے گئے،مسلمانوں کو دھوکہ دینے والی بات ہے،کیوں کہ قتل ہونے والے تمام لڑکے بالغ تھے۔اسلام میں نابالغ بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کا قتل جبکہ ان کا جنگ میں کوئی کردار نہ ہو،ناجائز اورحرام ہے،لیکن بالغ لڑکوں کا قتل جب کہ وہ کفر کا ساتھ دینے والے اور ان کا حصہ ہوں، بالکل جائز ہے اور اس پر قاتل مجاہد کو عند اللہ انشاء اللہ اجر و ثواب ملے گا ۔ پشاور آرمی پبلک اسکول میں طالبان کا ہدف بالغ لڑکے تھے اورانہیں عالمی معاصر جہاد اور خاص کر پاکستانی جہاد کے خلاف اور دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔

ان لڑکوں اور ان کے والدین کا ’’آرمی پبلک اسکول ‘‘ کا انتخاب کرنا بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ سب اس جنگ میں کفار اور مرتدین کی صف میں کھڑے ہیں،البتہ پھر بھی اگر عوام میں سے کوئی اس اسکول میں تھا اور جہل کی وجہ سے اس کو اس تمام صورتِ حال کا علم نہیں تھا اور وہ مجاہدین کے خلاف بھی نہیں تھا تو ہم ان مرتدین کے ادارے میں ان کے درمیان اس بات کے مکلف نہیں کہ اس شخص کی چھان بین کریں اور اس کو حملے میں بچائیں،کیوں کہ ہم ظاہر کے مکلف ہیں :جیسے کہ حضرت عباس ؓکے ذکر کردہ واقعہ سے معلوم ہوا،یہ ان کے والدین کی غلطی ہے کہ کفر اور اسلام کی اس واضح تصادم کو دیکھتے ہوئے،اور مجاہدین کے بار بار اس بات کا اعلان کرنے کے باوجود کہ عام لوگ پاکستان کے مرتد حکمرانوں اور پاکستانی سیکوٹی اداروں سے منسلک اداروں سے دور رہیں ،پھربھی اپنےلڑکوں کو ایسے اسکولز میں داخل کراتے ہیں،جن پر ان مرتدین کے واضح لیبل لگے ہوئے ہیں۔

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہاسے روایت ہے:
((وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: عَبَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ، فَقَالَ: «الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ»، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ، قَالَ: «نَعَمْ، فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ وَابْنُ السَّبِيلِ، يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا، وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى، يَبْعَثُهُمُ اللهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ)) (رواہ مسلم واحمد)

’’ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نیند میں کچھ اضطرب کاشکار ہوئے،نیندسے بےدار ہونے پر ہم نے سوال کیا کہ آج نیند میں آپ کی جو حالت تھی عموما تو ویسی حالت نہیں ہوتی؟ آپ ﷺ نے فرمایا:تعجب کی بات ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ پر چڑھائی کی نیت سے نکلیں گے، ان کا مقصد ایک قریشی آدمی کو مغلوب کرنا ہوگا جو کہ بیت اللہ میں پناہ لیا ہوگا،یہاں تک کہ جب یہ مقامِ بیداء میں پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ہم نے استفسار کیا کہ اے اللہ کے رسول !راستے میں تو بہت سے (غیر متعلقہ)لوگ بھی ہوتے ہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا:ہاں،ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو جانتے بوجھتے بیت اللہ پر چڑھائی کریں گے،جبکہ بعض مجبور اور بعض مسافر بھی ہوں گے،یہ سب اکھٹے ہلاک کر دئے جائیں گے،البتہ قیامت کے روز انہیں الگ الگ اٹھایا جائے گا،اللہ تعالی ہر ایک کو اس کی نیت کے مطابق اٹھائیں گے۔‘‘

امام نووی رحمہ اللّٰہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
((وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنَ الْفِقْهِ التَّبَاعُدُ مِنْ أَهْلِ الظُّلْمِ وَالتَّحْذِيرُ مِنْ مُجَالَسَتِهِمْ وَمُجَالَسَةِ الْبُغَاةِ وَنَحْوِهِمْ مِنَ الْمُبْطِلِينَ لِئَلَّا يَنَالَهُ مَا يُعَاقَبُونَ بِهِ وَفِيهِ أَنَّ مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ جَرَى عَلَيْهِ حُكْمُهُمْ فِي ظاهر عقوبات الدنيا))

’’اس حدیث سے کئی فقہی احکامات معلوم ہوتے ہیں کہ ظالموں کی قربت سے بچنا چاہیے اور ظالموں ،باغیوں اور ایسے ہی دیگر اہلِ باطل کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے پرہیز کرنا چاہیےتاکہ ان پر نازل ہونے والی سزا سے بچاجاسکے۔اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جو شخص کسی گروہ میں شامل ہوکر محض ان کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتا ہے تو دنیا کی ظاہری سزاؤں میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جاتا ہے۔‘‘

امام قرطبی رحمہ اللّٰہ سورۂ مائدہ :آیت ۵۱ کی تشریح میں فرماتے ہیں:
(ومن یتولھم منکم) ای یعضدھم علی المسلمین (فانہ منھم)بین تعالی ان حکمہ کحکمھم

’’(اور تم میں سے جو کوئی بھی انہیں اپنا دوست بنائے)یعنی مسلمانوں کے مقابلے میں ان کی مدد کرے (تو وہ انہی میں سے ہے)یعنی اس کا اور ان (یہودونصارا)کا شرعی حکم ایک سا ہے۔‘‘

اور امام طبری رحمہ اللّٰہفرماتے ہیں:
(فانھ منھم)فھو من اھل دینھم وملتھم
(وہ انہی یہود و نصارا کے دین و ملت پر ہیں۔)

اور امام مظہری حنفی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
یعنی کافر منافق
( وہ انہی کی طرح کافر و منافق ہے ۔)

اور امام ابوبکر جصاص حنفی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
فھو اخبار بانہ کافرمثلھم بموالاتہ ایاھم
(یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جو مسلمان کفار کا ساتھ دے وہ انہی کی طرح کافر ہوجاتا ہے۔)

علامہ حسین احمد مدنی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’قتلِ مسلم کی تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی مسلمان کافروں کے ساتھ ہوکر ان کی فتح و نصرت کے لیے مسلمانوں سے لڑے یا لڑائی میں ان کی اعانت کرے اور جب مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جنگ ہورہی ہو تو وہ غیر مسلموں کا ساتھ دے،یہ صورت اس جرم کے کفر و عدوان کی انتہائی صورت ہے اور ایمان کی موت اور اسلام کے نابود ہوجانے کی ایک ایسی اشد حالت ہے جس سے زیادہ کفرو کافری کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا،دنیا کے وہ سارے گناہ،ساری معصیتیں،ساری ناپاکیاں،ہر طرح و ہر قسم کی نافرمانیاں جو ایک مسلمان اس دنیا میں کرسکتا ہے یا ان کا وقوع دیہان میں آسکتاہے،سب اس کے آگے ہیچ ہیں،جو مسلمان اس کا مرتکب ہو وہ قطعا کافر ہے اور بدترین قسم کا کافر ہے۔اس کی حالت کو قتلِ مسلم کی پہلی صورت پر قیاس کرنادرست نہ ہوگا،اس میں صرف قتلِ مسلم ہی کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ اسلام کے خلاف دشمنانِ حق کی اعانت و نصرت بھی کی ہے اور یہ بااتفاق اور بالاجماع کفرِ صریح اور قطعی طور پر مخرج من الملۃ ہے۔جب شریعت ایسی حالت میں غیر مسلموں کے ساتھ کسی طرح کا علاقہ ٔ محبت رکھنا بھی جائز نہیں رکھتی تو پھر صریح اعانت فی الحرب(جنگ میں مدد)اور حمل السلاح علی المسلم(مسلمان پر ہتھیار اٹھانے )کے بعد کیوں کرایمان و اسلام باقی رہ سکتا ہے۔‘‘ (معارفِ مدنی :۵۰۱)

پس واضح رہے کہ شرعی دلائل کی روشنی میں پاکستانی حکمران و فوج اور اس کے تمام سیکورٹی ادارے بشمول پولیس و رینجرز فقہاء کرام کے اس بات پر اتفاق و اجماع ہونے کی وجہ سے کہ کوئی مسلمان اگر جنگ میں مسلمانوں کے خلاف کفار کا ساتھ دے تو وہ بالاتفاق مرتد ہے اور جوکوئی بھی ان مرتدین کی صف میں اور ان کے خاص اداروں کے ساتھ منسلک ہو مباح الدم ہے۔
واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم

ہشام خراسانی
۲۷ صفر ۱۴۳۶ ھ