کفار کے ممالک کو نشانہ بنانے کے بارے میں کچھ شبہات کا ازالہ

 

کافر کا حکم اصلی

 

اس مسئلہ کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کافر کا اصل حکم [حربی] کا ہے۔۔۔ {{{ حربی یعنی وہ شخص جو اسلام سے حالت جنگ میں ہو}}} سوائے اس کے کہ وہ ان تین حالتوں [ذمی، معاہد، مستامن] میں سے ایک حالت میں ہو۔۔۔ ذمی کہتے ہیں درالاسلام میں جزیہ دے کر رہے والے کافر کو، معاہد کہتے ہیں دارلاسلام سے معاہدہ کرنے والے کافر کو اور مستامن کہتے ہیں دارالاسلام میں سے کسی مسلمان کی طرف سے امان دیے جانے والے کافر کو۔۔۔ ان تین صورتوں کے علاوہ کسی بھی کافر کا خون مباح ہے۔

 

امام ابن القیم رحمۃ اللہ یوں بیان فرماتے ہیں:

’’ثم کان الکفار معہ بعد الأمر بالجھاد ثلاثة أقسام أھل صلح وھدنة وأھل حرب وأھل ذمة ‘‘

’’پھر جہاد کے واجب ہونے کے بعد کفار کی تین قسمیں ہوگئیں(جن کو امان ملی)صلح ومعاہدہ والے ، جنگ کرنے والے اور ذمّی لوگ‘‘۔

(زادالمعاد۱۵۹ /۳ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

لیکن اس کے علاوہ کسی کافر کا بچہ ہونا، عورت ہونا، بزرگ ہونا، معذور ہونا، مزدور ہونا اس کے قتل سے روکتا ہے یعنی ان کا اصل حکم یہ ہے کہ انہیں قتل نہیں کرنا لیکن جب درج ذیل سات صورتوں میں سے ایک صورت ہو تو پھر ان کا قتل شریعت نے جائز کیا ہے۔

 

#پہلی_صورت

 

1۔ کافر وں کے ساتھ گڈمڈ ہوجانا

 

«<دلیل:: »>

 

((قَالَ سُئِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّرَارِیِّ مِنْ الْمُشْرِکِینَ یُبَیَّتُونَ فَیُصِیبُونَ مِنْ نِسَائِھِمْ وَذَرَارِیِّھِمْ فَقَالَ ھُمْ مِنْھُمْ))

’’انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کی اولادوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جب رات کے وقت اُن(مشرکوں)پر حملہ کرتے ہیں تو ان کی عورتیں اور بچے بھی نشانہ بن جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ھمْ مِنْھُمْ))’’وہ انہی میں سے ہیں‘‘۔

(صحیح مسلم،ج۹،ص۱۷۷رقم الحدیث:۳۲۸۱)

 

#دوسری_صورت

 

2۔ کفار کے عورتوں ،بوڑھوں اور بچوں کا مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح شریک ہونا

 

«<دلیل:: »>

 

((قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی غَزْوَةٍ فَرَأَی النَّاسَ مُجْتَمِعِینَ عَلَی شَیْئ ٍ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ انْظُرْ عَلَامَ اجْتَمَعَ ھَؤُلَائ ِ فَجَاءَ فَقَالَ عَلَی امْرَأَةٍ قَتِیلٍ فَقَالَ مَا کَانَتْ ھَذِہِ لِتُقَاتِلَ قَالَ وَعَلَی الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ قُلْ لِخَالِدٍ لَا یَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِیفًا))

’’اُنہوں نے کہاکہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں(شریک)تھے،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کوکسی چیز پر اکٹھے ہوتے دیکھاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا دیکھو یہ لوگ کس چیز پر اکٹھے ہوئے ہیں۔تو وہ آدمی (واپس)آیا اورکہا،کہ ایک مقتول عورت پر،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ،یہ تو لڑنے کی اہل نہ تھی ۔(راوی)کہتے ہیں کہ اس لشکر کے ہر اول دستے پر خالد بن ولید مامور تھے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کوبھیجا اور فرمایا کہ:’’خالد سے کہو کہ کسی عورت کو قتل کرے اور نہ کسی مزدورکو‘‘۔

(سنن ابی داود،ج۷،ص۲۷۴،رقم الحدیث:۲۲۹۵)

 

علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ :

’’فان مفھومہ أنھا لو قاتلت لقتلت‘‘

’’اس حدیث کامفہوم یہ ہے کہ اگر وہ لڑائی کرے تو قتل کیے جائیں گے‘‘۔

( الفتح۶/۱۴۸)

 

#تیسری_صورت

 

3۔ جب دشمن پر عام تباہی مسلط کرنا مقصود ہو

 

«<دلیل:: »>

 

’’حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے انہیں ’’اُبنیٰ‘‘(یایبنیٰ) نامی سرزمین کی طرف بھیجا اور فرمایا :’’صبح وہاں جاؤ،پھر اس (بستی )کو جلاڈالو‘‘۔

(مسند احمد،ج۴۴ص۲۵۶،رقم الحدیث:۲۰۷۸۶۔سنن ابن ماجة،ج۸ص۳۶۸،رقم الحدیث:۲۸۳۳)

 

#چوتھی_صورت

 

4۔ جب کفار پر سنگ باری کرنا مقصود ہو

 

«<دلیل:: »>

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں پر منجنیق نصب کی اور اُن پر اس سے سنگ باری کی۔

’’أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَصَبَ الْمَنْجَنِیقَ عَلَی أَھْلِ الطَّائِفِ ‘‘

’’رسو ل اللہ ﷺنے اہل طائف کے خلاف منجنیق استعمال کی‘‘۔

(سنن الترمذی،ج۹،ص۴۲۸،رقم الحدیث:۲۶۸۶)

 

#پانچویں_صورت

 

5۔ جب کفار اپنی عورتوں اور بچوں کوہی ڈھال بنالیں

 

«<دلیل:: »>

 

 ((قَالَ سُئِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّرَارِیِّ مِنْ الْمُشْرِکِینَ یُبَیَّتُونَ فَیُصِیبُونَ مِنْ نِسَائِھِمْ وَذَرَارِیِّھِمْ فَقَالَ ھُمْ مِنْھُمْ))

’’انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کی اولادوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جب رات کے وقت اُن(مشرکوں)پر حملہ کرتے ہیں تو ان کی عورتیں اور بچے بھی نشانہ بن جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ھمْ مِنْھُمْ))’’وہ انہی میں سے ہیں‘‘۔

(صحیح مسلم،ج۹،ص۱۷۷رقم الحدیث:۳۲۸۱)

 

#چھٹی_صورت

 

6۔ کفار کی طرف سے عہد شکنی کی صورت میں

 

«<دلیل:: »>

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی قریظہ کے یہودیوں کے ہر بالغ کو قتل کیا اور عہدشکنی کرنے اورنہ کرنے والے کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔

 

تشریح:

 

امام ابن حزم نے حدیث:

((عرضت یوم قریظة علی رسول اللّٰہ ﷺفکان من أنبت قتل))

’’جس روز قریظہ کورسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا توجو بالغ تھا اسے قتل کریاگیا‘‘۔

کی تعلیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 

’’ فھذا عموم من النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ لم یستبق منھم عسیفا،ولا تاجرا، ولافلاحا،ولا شیخا کبیرا، وھذا اجماع صحیح ‘‘۔

’’یہ نبی ﷺکا’’ عمومی فعل‘‘ تھا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن میں سے نہ کسی مزدور کوچھوڑا،نہ تاجر کو،نہ کسان کو اورنہ کسی بوڑھے شیخ کو۔ اس کام کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے پر اجماع ہے‘‘۔

(المحلی لابن حزم،ج۷،ص۲۹۹)

 

#ساتویں_صورت

 

7۔ جب’’معاملہ بالمثل‘‘( بدلے کی سزا دینا)مقصود ہو

 

«<دلیل:: »>

 

﴿فَمَنِ اعْتَدَیٰ عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَیٰ عَلَیْکُم﴾

’’جو تم پر زیادتی کرے سو تم بھی اس پر اسی قدر زیادتی کرو جس قدر اس نے تم پر زیادتی کی ہو‘‘۔

(البقرة:۱۴۹)

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 کفار کے ملکوں کی حیثیت

 

شریعت میں بلاشبہ پوری دنیا کے ملک مسلمانوں کے لیے یاتو دارالحرب کا درجہ رکھتے ہیں یا پھر بامعاہدہ(حلیف)ہونے کا۔ لہٰذا تمام کافر ملک تو اصل میں جنگجو ملک(دارالحرب)ہیں اسی لیے ان کے خلاف ہر طرح کی لڑائی لڑنا جائز ہے ۔

 

جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگجو ملکوں کے قافلوں کو روکتے جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے قافلوں کو روکا اور کافر ملکوں کی عوام کو ضرورت پڑنے پر ضمانت کے طور پر (گروی)رکھ لیتے۔ جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف کی طرف سے اپنے صحابہ کو قیدی بنائے جانے پر اس کے حلیف قبیلے بنوعقیل کے ایک آدمی کو قیدی بنالیا تھا۔

 

پس کفار کے موجود ممالک مسلمانوں سے حالت جنگ میں ہیں اور وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں بذات خود حصہ دار ہے اور یہ لوگ مسلمانوں پر کھلی جنگ مسلط کرتے ہیں تو مسلمانوں کو شریعت میں اجازت ہے کہ وہ بھی بدلہ میں ان پر کھلی جنگ مسلط کریں۔

 

امام السرخسی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

’’(قَالَ):وَسَأَلْتہ عَنْ الرَّجُلِ یَأْسِرُ الرَّجُلَ مِنْ أھْلِ الْعَدُوِّ ھَلْ یَقْتُلُہُ أَوْ یَأْتِی بِہِ الْاِمَامَ۔ قَال:أَیُّ ذَلِکَ فَعَلَ فَحَسَنٌ ؛ لِأَنَّ بِالْاَسْرِ مَا تَسْقُطُ الْاِبَاحَة مِنْ دَمِہِ حَتَّی یُبَاحَ لِلْاِمَامِ أَنْ یَقْتُلَہُ فَکَذَلِکَ یُبَاحُ لِمَنْ أَسَرَہُ کَمَا قَبْلُ أَخْذُہُ وَلَمَّا قُتِلَ أُمَیَّةُ بْنُ خَلَفٍ بَعْدَ مَا أُسِرَ یَوْمَ بَدْرٍ لَمْ یُنْکِرْ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی مَنْ قَتَلَہُ ، وَاِنْ أُتِیَ بِہِ الْاِمَامُ فَہُوَ أَقْرَبُ الَی تَعْظِیمِ حُرْمَۃِ الْاِمَامِ ، وَالْأَوَّلُ أَقْرَبُ الَی اظْھَارِ الشِّدَّةِ عَلَی الْمُشْرِکِینَ،وَکَسْرِ شَوْکَتِھِمْ فَیَنْبَغِی أَنْ یَخْتَارَ مِنْ ذَلِکَ مَا یَعْلَمُہُ أَنْفَعَ وَأَفْضَلَ لِلْمُسْلِمِینَ ‘‘

’’اور جب میں نے (امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ سے )پوچھا ایک شخص کے بارے میں جو دشمن میں سے کسی کو پکڑتا ہے تو وہ اس کو قتل کرے یا اس کو امام کے پاس لائے تو امام ابو حنیفہ نے جواب دیا ’’دونوں میں سے جو بھی کرے وہ اچھا(صحیح )ہے ۔کیونکہ قیدی بنانے کی صورت میں کوئی چیز اس کے خون کے مباح ہونے کو ختم نہیں کرتی ،تو امام اس کو قتل کرسکتا ہے ۔پس یہ قیدی بنانے والے کے لئے بھی جائز ہے جیساکہ قیدی بنانے سے پہلے (اس کا قتل جائز)تھا ۔اور جب امیہ بن خلف بدر کے روز قیدی بنانے کے بعد قتل کیا گیا تو رسول ﷺنے قتل کرنے والے (حضرت بلال رضی اللہ عنہ)پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور اگر وہ اس کو امام کے پاس لے جائیں تو یہ امام کے مقام کے احترام کے زیادہ قریب ہے جبکہ جو پہلی بات ہے (یعنی اسے قتل کردینا)یہ مشرکین پر شدت کے اظہار اور ان کی طاقت توڑنے کے زیادہ نزدیک ہے ۔تو اسے چاہیے دونوں میں سے جو چیز مسلمانوں کے لئے زیادہ سود مند ہو اسے اختیار کرے‘‘۔

(المبسوط،ج۱۲،ص۳۳۷)

 

مشہور مصری عالم دین اوراخوان المسلمین کے مرشد عام شیخ عبدالقادر عودہ شہیدرحمۃ اللہ ’’حربی ‘‘کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’دار الحرب کے باشندوں کی دو قسمیں ہیں :(۱)حربی (۲) مسلمان ………حربی دار الحرب کے وہ باشندے ہیں جو اسلام پر ایمان نہ رکھتے ہوں اور حربیوں کا حکم یہ ہے کہ ان کو اسلام کی جانب سے کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے اور اگر ان کے اور دار الاسلام کے درمیان کوئی معاہدہ یا صلح نہ ہو تو ان کا جان و مال مباح ہے ،کیونکہ جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ اسلام میں (مال و جان کے )تحفظ کی دو صورتیں ہیں ،قبول اسلام اور امان‘‘۔

(اسلام کا فوجداری قانون،جلد اول صفحہ ۳۷۱۔اسلامک پبلشر)

کفر کا وصف ہی ایک انسان کو’’حربی‘‘بنادیتاہے

 

 احادیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ یہ’’ایما ن‘‘ہی ہے جو اہلِ ایمان کے جا ن ومال کو تحفظ دیتا ہے اور یہی چیز ہے جو تفریق کرتی ہے ان اہل ِ ایمان کو اور ان کی حرمت کو کافروں سے اور’’کفر‘‘کا وصف ہونا ہی وہ چیز ہے جو ایک انسان کو’’کافر ‘‘بنادیتاہے اور حلال کردیتا ہے اس کی جان ومال کو اور ان کی حرمت کو اٹھادیتا ہے۔

 

امام شافعی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

 

’’بأن اللّٰہ تبارک وتعالی حرم دم المؤمن ومالہ الا بواحدة ألزمہ ایاھا وأباح دم الکافر ومالہ الا بأن یؤدی الجزیة أو یستأمن الی مدة‘‘

’’اللہ تبارک وتعالیٰ نے مومن کا خون اور مال حرام کیا ہے سوائے ایک الزام کہ جووہ اپنے اوپر لے(یعنی مرتد ہوجائے)اور کافر کا خون اور مال مباح رکھا ہے سوائے اس کے کہ وہ جزیہ اداکرے یا اس کو ایک مدت کے لئے امان مل جائے‘‘۔

(الآم،ج۱،ص۳۰۱)

 

امام شافعی رحمۃ اللہ ہی کفار پر شب خون مارنے کے دوران بچوں اور عورتوں کے نشانہ بن جانے کے حوالے سے فرماتے ہیں:

((ومعنی قولہ ’’منھم‘‘انھم یجمعون خصلتین ان لیس لھم حکم الایمان الذی یمنع بہ الدم ولا حکم دار الایمان الذی یمنع بہ الغارة علی الدار‘‘

’’اور اللہ کے رسول ﷺ کا یہ کہنا ہے کہ(ھم منھم ))’’یہ انہی میں سے ہیں‘‘کا مطلب یہ ہے کہ ان میں دو خصوصیا ت ہیں،ایک یہ کہ ان پر’’ایمان ‘‘کا حکم نہیں ہے (یعنی مسلمان نہیں ہیں)جس سے ان کا خون حرام ہوجائے،نہ تو ان پر دارالاسلام میں رہنے کا حکم لگتا ہے جس سے ان کے گھروں پر حملہ کرنے کی ممانعت ہو‘‘۔

(الرسالة:۲۹۹)

 

فقہاء کرام نے متفقہ طور پر یہ شرعی اصول بیان فرمایا ہے کہ:

’’لِأَنَّ دَمَ الْکَافِرِ لَا یَتَقَوَّمُ الَّا بِالْأَمَانِ‘‘

’’کافر کے خون کی کوئی حیثیت نہیں مگر یہ کہ جب اس کو امان مل جائے‘‘۔

(رد المختار،ج۱۵،ص۴۴۵۔بدائع الصنائع،ج۱۵،ص۲۸۴۔ الدر المختار،ج۴،ص۸۰۳)

 

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ رماتے ہیں:

’’وان کان کافرا حربیا فان محاربتہ أباحت قتلہ وأخذ مالہ واسترقاق امرأتہ‘‘

’’اور اگر کافر جنگجو ہو تو بلاشبہ اس کے جنگجو ہونے نے ہی اس کے قتل ، اس کے مال لینے اور اس کی عورت کو لونڈی بنانا مباح کردیا‘‘۔

(مجموع الفتاوی لابن تیمیة،ج۳۲۔ص۳۴۳)

 

امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

’’لان الاصل اباحة دم الکافر وعدم الامان‘‘

’’اصل یہ ہے کہ کافر کا خون مباح ہے جبکہ اس کے پاس امان نہ ہو‘‘۔

(الشرح الکبیر،ج۱۰،ص۵۶۰)

 

امام ابن ِ نحاس رحمۃ اللہ ایک کافر کے حربی ہونے کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ المغنی کے مصنف امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ نے فرمایا:

’’مَنْ ضَلَّ الطَّرِیقَ مِنْھُمْ،أَوْ حَمَلَتْہُ الرِّیحُ الَیْنَا،فَھُوَ لِمَنْ أَخَذَہُ فِی احْدَی الرِّوَایَتَیْنِ ؛ لِأَنَّہُ مَتَاعٌ أَخَذَہُ أَحَدُ الْمُسْلِمِینَ بِغَیْرِ قُوَّةِ مُسْلِمٍ،فَکَانَ لَہُ،کَالْحَطَبِ،وَالرِّوَایَةُ الثَّانِیَة ، یَکُونُ فَیْئًا‘‘

’’جوکافر بھی اپناراستہ کھو بیٹھے یا ہوا اسے ہماری طرف لے آئے (کشتیوں کی صورت میں)تو یہ کافر(اوراس کا مال )اُس مسلمان کا ہے جس کے ہاتھ میں وہ آجائے دو روایتوں میں سے ایک کے مطابق،اور دوسری روایت یہ ہے کہ وہ مالِ فے ہے‘‘۔

(مشارع الاشواق،ج۲،ص۱۰۵۴۔المغنی،ج۲۱،ص۱۸،رقم:۷۴۹۱)

 

امام ابن ِ نحاس رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ المغنی کے مصنف امام احمد﷫کا یہ قول بھی نقل کرتے ہیں:

’’وَسُئِلَ عَنْ مَرْکَبٍ بَعَثَ بِہِ مَلِکُ الرُّومِ،فِیہِ رِجَالُہُ،فَطَرَحَتْہُ الرِّیحُ الَی طَرْطُوسَ،فَخَرَجَ الَیْہِ أَھْلُ طَرْطُوس،فَقَتَلُوا الرِّجَالَ،وَأَخَذُوا الْأَمْوَالَ؟ فَقَال:ھَذَا فَیْئ ٌ الْمُسْلِمِینَ ، مِمَّا أَفَاء ُ اللَّہُ عَلَیْھِمْ ۔ ‘‘

’’امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ سے پوچھا گیا(کافروں کے) ایک بحری جہاز کے بارے میں جس کو روم کے بادشاہ نے روانہ کیا جس میں لوگ تھے۔ پھر ہو ا نے اسے ’’طرطوس‘‘کی طرف پہنچا دیا،تو اہل ِ طرسوس نکلے اور ان لوگوں کو قتل کردیا اور ان کے مالوں کو لوٹ لیا،تو انہوں نے کہا :’’یہ مسلمانوں کے لئے مالِ فے ہے۔جس کو اللہ نے انہیں عطا کیا‘‘

(مشارع الاشواق،ج۲،ص۱۰۵۴۔المغنی،ج۱۲،ص۸۲ ،رقم:۷۵۵۲)

 

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ سے مزید سوال کیا گیا:

’’وَعَنْ الْقَوْمِ یَضِلُّونَ عَنْ الطَّرِیقِ،فَیَدْخُلُونَ الْقَرْیَةَ مِنْ قُرَی الْمُسْلِمِینَ ، فَیَأْخُذُونَھُمْ ؟فَقَالَ یَکُونُونَ لِاَھْلِ الْقَرْیَةِ کُلِّھِمْ ، یَتَقَاسَمُونَھُمْ۔ ‘‘

’’اور ان سے پوچھا گیا(کافروں میں سے) ان لوگوں کے بارے میں جو اپنا راستہ کھوبیٹھیں پھر ایک بستی میں جاپہنچے جو کہ مسلمانوں کی بستیوں میں سے ہواور کوئی مسلمان انہیں گرفت میں لے لے؟تو انہوں نے جواب دیا :’’تو یہ بھی اس بستی کے لوگوں کا اجتماعی مال ہے اور وہ اس کو آپس میں تقسیم کرلیں‘‘۔

(مشارع الاشواق،ج۲،ص۱۰۵۴۔المغنی،ج۱۲،ص۸۲ ،رقم:۷۵۵۲)