بسم اللہ الرحمن الرحیم

خوارج کون؟؟؟؟؟

علمی خیانت ،تحریف دین اور مسلمانوں کے ساتھ غداری اس فوج کو وراثت میں ملی ہے ،اسلام اور مسلمانوںکو پینسٹھ سال سے اسلام کے نام پر دھوکہ دینے والے غدار نے ابھی دینِ اسلام میں اپنے اصلی امام یہود ونصاریٰ کی طرح تحریف دین اورتحریف قرآن وحدیث بھی شروع کر دی ہے، لیکن ممکن ہے ان کےعلم میں یہ بات نہ ہو کہ اس دین وقرآن کےتحفظ کی ذمہ داری ،خود اللہ جل جلا لہ نے لی ہے ،کل طالبان کو ہندوکہنے والے جب اپنے دعوےکو ثابت نہ کرسکے تو انہوں نے پروپیگنڈے کا رخ تبدیل کرکے احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں تحریفات کرنا شروع کیں اور قطع برید کرکے طالبان اور مجاہدین کو خوارج ثابت کرنے کی مذموم کو شش کی، لیکن الحمدللہ اب اہل علم اور مسلمان عوام ، طالبان کو جانتے ہیں کہ طالبان کا عقیدہ کیا ہے اور ان کا مقصد ومنشور کیا ہے آئیے ذرا ان کی  تحریفات کا جائزہ لیتے ہیں فیصلہ آپ خود کریں ۔

اس پوسٹر میں ایک خیانت تو یہ کی گئی ہے کہ ہر ایک وصف کو الگ الگ فٹ کیا  گیاہے، یعنی حدیث کا ایک ٹکڑا لیا ہے اور اس کے لئے ایک تصویر لگا کر اس پر فٹ کی ہے، مثال کے طور پر( کث اللحیہ) یعنی گھنی داڑھی والے، تو اس کے لئے مولانا فضل اللہ کی تصویر لی ہے ، تحریک کےشہید امیر حکیم اللہ محسودؒ کی تصویر نہیں  دی ،چو نکہ ان کی داڑھی تو گھنی نہیں تھی، اسلئے انہوں نے پوری تحریک میں ایسا آدمی ڈھونڈا،جس کی داڑھی گھنی ہو اور اسےپیش کیا۔

 

 اسی طرح(احداث الاسنان) کے لفظ کے لئےجوتصویر دی ہے، اس میں ایک بالغ لڑکا ہے جس نے فدائی جیکٹ پہنی ہوئی ہے ،لیکن ان لوگوں کی تصویروں کو نہیں دیا ہے، جو بوڑھے ہیں اور ان کے خلاف لڑتے ہیں ۔

اب ہم آتے ہیں ان کی ان تحریفا ت اور احادیث مبارکہ کو غلط جگہوں پر فٹ کرنے کی طر ف اور غلط مفہومات بیان کرنے کی طرف ۔

 

احداث الاسنا ن : وہ کم سن لڑکے ہوں گے (بخاری حدیث۶۹۳۰)

 یہاں پر جہاد میں کسی کم سن لڑکے کو دیکھ کر یہ کہنا کہ یہ خارجی ہے، تو معاذؓ اورمعوذؓ کے بارے میں آپ کیا کہوگے ،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیاکہوگے جب کہ وہ صرف پندرہ سال کی عمر میں جنگ خندق کو حاضرہوئے،اور اصحاب کہف کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

انہم فتیة

 کہ وہ نوجوان تھے۔ فتیة ،فتیٰ کی جمع ہے اور فتیٰ عربی زبان میں اس شخص کو کہاجاتا ہے جس کی عمر پندرہ سے پچیس سال کے درمیان ہو۔ طالبان کے ساتھ شرکت کے لئے  عمر کی کوئی قید نہیں،طالبان میں نوجوان سے لے کر ادھیڑ عمر بزرگ تک تمام لوگ شامل ہیں۔لیکن اگر دیکھا جائے تو ہم پر اعتراض کرنے والی یہ فوج یہ نہیں دیکھتی کہ،فوج میں بھرتی کے لئےعمر کی شرط ۱۸سال سے لے کر ۲۲ سال تک ہے۔

 

سفہاءالاحلام :

 وہ بے وقوف لوگ ہوں گے( بخاری باب الطیب للجمعة)

سفہاءالاحلام ( بے وقوف اوربے عقل ) لوگ کون ہیں ؟ کیاوہ لوگ سفہاءالاحلام نہیں ہیں، جنہوں نے امریکہ کو پاکستان میں جگہ دے کر پاکستانی خود مختاری کو داو پر لگایا ،جنہوں نے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کیا اور امریکہ کواسلام کے خِلاف اڈے فراہم کئے اور پھراس میں بھی نقصان اٹھایا۔ اسی طرح حقیقت  میں تو وہ لوگ بے وقوف ہیں جو کفار سے منافقین کی طرح ملتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف منصوبے بناتے ہیں ،طالبان کو کم علم اور کم فہم کی رَٹ لگانے والے والوں کا اپنا یہ حال ہے کہ سورة اخلاص تک نہیں پڑھ سکتے ،جیسے شیطان ملک ،مسلمانوں کی نام نہاد  نمائندگی کرنے والاپورے ملک کا صدر، زرداری، امریکہ جاکر وہاں کی حسین لڑکی سے ملتے ہوئے کہتاہے کہ مجھے تو اب پتہ چلا کہ تم اتنی حسین ہو،اور پھر جب وہ مصافحہ تصویر کا مطالبہ کرتی ہے تو یہ کہتاہے کہ اگر آپ چاہیں تومیں گلے لگانے کے لئے بھی تیار ہوں، ان میں کوئی حیاءنہیں ،یہ بے وقوف یہاں تک نہیں سوچتے ہیں ،کہ میں یہاں پر ایک نمائندے کی حیثیت سے آیا ہوں،مجھے دیکھ کریہ اورغیر مسلم کیا کہیں کہ کیا مسلمان ،اس طرح کے ہوتے ہیں۔جس طرح یہ مرتد فوج اور حکمران ہمیں بے وقوف کہتے ہیں،اسی طرح ان کے پہلوں نے بھی صحابہ کرامؓ کے بارے میں کہا تھا

    انومن کما آمن السفہاء۔( البقرة ۔۱۳) 

،کیا ہم ایمان لائے ان بے وقوفوں کی طرح ( یعنی جنہوں نے اسلام کے نام پر سب کچھ داو پر لگا یا)

تواللہ تعالیٰ نے فرمایا

  الاانہم ہم السفہاءولکن لایعلمون۔( البقرة ۔۱۳) 

۔ خبردار یہ (کفار)لوگ بے وقوف ہیں لیکن یہ نہیں جانتے ۔

اولئک الذین اشترو الضلالة بالھدیٰ فما ربحت تجارتھم وماکانوا مھتدین۔(البقرۃ۔۱۶)

 ترجمہ :یہ بے وقوف و ہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت (گمراہی ) کولیاتوان کی تجارت نے کوئی نفع نہیں دیااور نہ وہ ہدایت پانے والے ہیں ۔

اسی طرح بے عقل وہ لوگ ہیں جو جمہوریت کے علمبردار ہیں جو اکثریت پر مبنی نظام ہے جس کے بارے میں خود اللہ جل جلالہ فرماتے ہیں

 بل اکثرہم لایعقلون۔ ولکن اکثر الناس لایعلمون ۔

 

یدعون الیٰ کتاب اللّٰہ ولیسوا منہ فی شیء:

وہ کتاب اللہ کی طرف دعوت دیں گےلیکن اس کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہوگا ۔ ( ابوداود ۔۴۷۶۵)

یعنی وہ اسلامی نظام کے نعرے بلند کریں گے، لیکن ان کانظام اسلامی نہیں ہوگا ،لیکن آپ لوگ یہ کیوں نہیں دیکھتےکہ اس کی واضح مثال اسلامی جمہوریہ پاکستان اور آئین پاکستان ہے آپ پاکستان کو اسلامی ملک کہتے ہیں ،لیکن وہ کسی بھی صورت اسلامی ملک نہیں ہے بلکہ وہ ایک جمہوری کفری ملک ہے ، اور آپ نے ۱۹۷۳ ءکے آئین میں لکھاہے کہ کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں بنے گا، لیکن مذہبی آزادی کے حامل اور ہر کفر والحاد کا مجوزاس قانون کا قرآن وسنت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔صرف ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں،نیٹو سپلائی کے بارے میں قرآن وسنت کہتی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کفار کا ساتھ نہ دو،لیکن کیونکہ  آئین وپارلیمنٹ نے اس کی اجازت دی ہے اس لئے پاکستان میں ان کو آئینی تحفظ حاصل ہے ،تو کہاں گئی یہ شِک کہ کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنایا جائے گا۔

یقولون من خیر قول البریہ :

 وہ بظاہر بہت اچھی اچھی باتیں کریں گے(بخاری حدیث۔۶۹۳۰ )

یہاں بھی آپ خود کو دیکھیں کہ بظاہر اس سے اچھی بات کونسی ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اورپاکستان ایک مسلمان ملک ہے جب کہ اس کا قانون کفری اور بے دین قانو ن ہے ،ووٹ لینے کے اوقات میں توآپ لوگ بہت اچھے اچھے نعرے لگاتے ہیں ،لیکن حقیقت کے ساتھ آپ کا کوئی واسطہ نہیں ہے،اس پر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام گواہ ہیں اور ووٹ کے ایام قریب ہوتے ہی سمجھدار عوام کہتے ہیں کہ اب پھر ان کے نعرے اور اچھی اچھی باتیں شروع ہوجائیں گی ۔ اسی طرح پاکستانی فوج کا شریعت کے مطالبہ کرنے والوں کے خلاف لڑنے میں مرنے کو شہادت کے مبارک لفظ سے نوازنا بھی تو بظاہر ایک اچھی بات ہے،لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو کفار کے کہنے پر مسلمانوں کے خلاف لڑنے والے کو قرآن وسنت انہی کا ساتھی کہتا ہے ۔

 

یسیئون الفعل :

وہ برے کام کریں گے ( ابوداود ۔۴۷۶۵)

اچھے نعروں کے ساتھ برے کام کرنا، ماشاءاللہ آپ ہی لوگوں کا کام ہے

پاکستان کے کفری جمہوری نظام کااسلامی نظام ہونے کا دعویٰ اور اسلامی فوج ہونے کا دعویٰ بھی آپ کرتے ہو ،اور پھر اسلامی نظام کے مطالبے کرنے والوں کو قتل کرنا بھی آپ کا شیوہ ہے ، آپ نے جو لال مسجد وجامعہ حفصہؓ والوں کو شریعت کا مطالبہ کرنے پر شہید کیا،تو کیا،قرآن وسنت، اہل علم اور پاکستانی عوام  آپ کے اس فعل کو  اچھا سمجھتے ہیں ؟اور اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جیسے خوشنمانعرے کے ساتھ پاکستان میں قحبہ خانوں کا وجود ، سنیماوں کی موجودگی اور فوج کے لئے اس کی خصوصی رعایت اور،اسی طرح،اس نام نہاد،اسلامی فوج   کا،ایمان،تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کا شعار لئے ہوئے صلیبی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہونا بھی آپ کے برے کاموں میں سے ہیں ،اس کے علاوہ قبائل ،ملاکنڈ اور وزیرستان میں

بے گناہ مسلمانوں کو شہید کرنا بھی ماشاءاللہ آپ کے اچھے افعال ہیں جس پر تم فخر کرتے ہو۔

 

یتعمقون ویتشددون فی العبادة :

وہ عبادت میں تشدد اور تعمق کریں گے( مصنف عبدالرزاق)

کیاہماری اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کو یہ لوگ تعمق اور تشدد کہتے ہیں، ہم تو فقط اسلامی نظام کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں اورکفار کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف فرنٹ لائن اتحاد کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں ،یہاں اس معاملے میں تھوڑا سا غورکرنے کی ضرورت ہے،مثلاً                  تعمق کا مطلب تو یہ ہے کہ یہ فوج عبادت بھی کرتی ہے ،لیکن اس میں تشدد نہیں اور ہم تشدد چاہتے ہیں یعنی فوج کا  اسلامی نظام کو قائم نہ کرنا ان کے نزدیک عبادت ہے لیکن اس میں تشدد نہیں ہے اور ہم جواسلامی نظام کےقیام کا مطالبہ کرتےہیں ،یہ ان  کے نزدیک ، ہم تشدد کرتے ہیں ،ان کا مسلمانوں کے خلاف کفر کے ساتھ اتحاد کرنا، ان کی عبادت ہے اور ہم اس دوستی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہم اس عبادت میں تشدد کرتے ہیں۔

 

یحقر احدکم صلاتہ الیٰ صلاتہم :

یعنی آپ میں سےہر ایک ان کی نماز کے مقابلے میں اپنا نماز حقیر دیکھے گا ( بخاری باب الطیب للجمعة)

یعنی وہ لمبی لمبی نمازیں پڑھیں گے ،لیکن اس بات کوہم پر فٹ کرنا بھی صحیح نہیں ہے،چونکہ ہمارے مجاہدین سب قبائلی ہیں ، اگر چہ علماءحضرات ترغیب بھی دیتے ہیں ،لیکن اب تک ان لوگوں کی نمازیں اور عبادات بہت کمزور ہیں اور وہ بہت مختصر اور جلدی جلدی نماز پڑھتے ہیں لہذا یہ وصف تو کسی بھی صور ت ان پر فٹ نہیں ہو سکتا ۔

 

یحقر احدکم قرائتہ الیٰ قراءتہم :

 ان کی قرآت کو سن کر آپ اپنی قرآت کو حقیر سمجھوگے (مسلم)

یعنی ان کی قرآت قرآن بہت عجیب ہوگی،یہاں بھی وہی اوپر والی بات ہے،کہ ہمارے مجاہدین چونکہ اکثر قبائلی ہیں، اوریہاں مدارس  کی بھی کمی ہے ،اس لئے یہاں کے اکثر علماء نیچے بڑے شہروں میں تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں، اسلئے پہاڑوں میں رہنے والے ان بیچاروں کی قرآت میں تجوید کی غلطیاں ہوتی ہیں، جس کو علماءاب نکالنے کے لئے کوشاں ہیں ،اوریہ صرف یہاں قبائل میں نہیں ہے آپ پاکستان میں جہاں بھی دوردراز پہاڑی علاقوں،سندھ یا بلوچستان کے ریگستانی علاقوں میں چلے جائیں ،وہاں کے سادہ لوح مسلمانوں کی نمازیں اور تلاوت ایسی ہی ہوتی ہیں۔

لیکن ہم لوگ بڑے بڑے مدارس  سے فارغ التحصیل ، علم میں پختہ،متقی علماء سے  جہاد کے مسائل اورکاروائیوں کو شرعی حکم اور طریقہ معلوم کر کے اس کے بعداس پر عمل کرتے ہیں ۔

 

طوبیٰ لمن قتلہم :

خوارج کے بارے میں تو ہے کہ ان لوگوں کو مبارک ہو جو ان کو قتل کریں یعنی وہ خوش قسمت لوگ ہوں گے(مسنداحمد) ،

ماشاءاللہ طالبان کو خوارج کہہ کر آپ نے امریکیوں کو خوش قسمتی اور دنیا وآخرت میں کامیابی کی سند دے دی ،اسلئےکہ ہمارے مشران کو کس نے قتل کیا ،بیت اللہ محسود شہید رحمہ اللہ امریکی ڈرون میں شہید ہوئے ،قاری حسین شہید رحمہ اللہ امریکی ڈرون حملے میں شہید ہوئے ،قاری طاہر جان شہید رحمہ اللہ امریکی ڈرون حملے میں شہید ہوئے ،شیخ اسامہ بن لادن ،شیخ ابویحییٰ اور شیخ محمود عطیة اللہ شہید رحمہما اللہ سب امریکی ڈرون حملے میں شہید ہوئے اب اگر ہم خوارج ہوتے تو چاہئے ،تویہ تھا کہ ہمیں مارنے والے کوئی خوش قسمت ،مسلمان ہوتے نہ کہ آپ کا آقا امریکہ اور نیٹو اتحادی ۔

 

وقتلوہ :

 اسی طر ح خوارج کے بارے میں ہیں کہ جس کو وہ قتل کرے وہ بھی خوش نصیب ہوگا(مسند احمد)

 ہم نے اور ہمارے فدائیوں نے بحمداللہ سینکڑوں امریکیوں کو واصل جہنم کیا ہے ،لہذا ہم پر اس بات کو فٹ کر کے،تو آپ نے تو ان امریکیوں کوجنت کا ٹکٹ دے دیا۔ صرف تحریک طالبان کے وہ فدائی جنہوں نے امریکیوں اور نیٹو کے قافلوں پر فدائی حملے کیئے ہے، سوسے ان کی تعداد زیادہ ہے ،اوراگر ہمارے ہاتھ سے قتل ہونے والے آپ کی نظر میں نیک بخت ہیں، تو پھر تو سی آئی اے کے وہ ایجنٹ بھی آپ کے نزدیک بہت نیک بخت ہونگے جوخوست میں ڈاکٹرابودجانہ شہید رحمہ اللہ کے  فدائی حملے میں مردارہوئے ۔

 

یقتلون اہل الاسلام ویدعون اہل الاوثان :

 وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑیں گے(بخاری)

 آپ بہتر جانتے ہیں کہ کن لوگوں نے قبائلی مسلمانوں کے قتل عام کا بازار گرم کیا،

 کن لوگوں نے اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کو شہید کیا کن لوگوں نے تورابوراسے آئے مجاہدین کو شہید کیا،انڈیا کے ساتھ معاہدہ کرکے ان بت پرستوں کو چھوڑا ،انڈیا کے ساتھ تو تجارتی تعلقات بنارہےہیں ،امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تو اتحاد کرتے ہوئے ان کے حکم پر مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ماشاءاللہ اپنی  ہی زبان سے اپنی بارے میں گواہی دی۔

جبکہ دوسری طرف الحمدللہ ہم بیک وقت دونو ں کے خلاف لڑرہے ہیں، ایک طرف امریکہ اور دوسری طرف اس کی اتحادی   پاکستانی فوج پر ہمارے فدائین اور مجاہدین حملے کرتے ہیں ، باوجود اس کے تحریک طالبان کے پاس اسباب کی کمی ہے،پھر بھی ہم نے افغانستان میں سینکڑوں امریکیوں کو مارنے کے ساتھ ساتھ دودفعہ ہم نے امریکہ پر بڑا حملہ کیا،ایک ڈاکٹر ابودجانہ  شہیدؒ کا خوست میں سی آئی اے کے بڑے بڑے افسروں کو ختم کرنا،اور دوسراحملہ فیصل شہزاد فک اللہ اسرہ کی ٹائم اسکوئر نیویارک میں دھماکے کی کامیاب کوشش ،جو تکنیکی وجوہات کی وجہ سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکی۔ اگرفوج نے کچھ کیا ہے سوائے مسلمانوں کے قتل اور لال مسجد کے فتح کرنے کے تو دکھا دیں۔

 

 

کث اللحیة :

گھنی داڑھی والا(بخاری)

اس الزام میں تو انتہائی خیانت سے کام لیا گیاہے، یہاں پرتو فوج کی طرف سےیہ معنی ٰ کیا گیا ہے کہ (گھنی داڑھی رکھیں گے) ۔ نعوذ باللہ اتنی تحریف کہ اسم فاعل کا معنی مستقبل کے صیغے سے کرنا ،حالانکہ کوئی ادنی ٰ سابھی عربی لغت کو جاننے والا،تو کبھی بھی اس لفظ کا وہ یہ معنی ٰ نہیں کرے گا ،کیونکہ اس عبارت کاعربی لغت میں معنیٰ ہے( گھنی داڑھی والا ) نہ کہ (گھنی داڑھی رکھیں گے)۔دوسری خیانت یہاں پر یہ کی گئی ہے کہ یہ نشانی  تو ایک خاص شخص کی علامات  میں سے ایک علامت ہے، نہ یہ کہ یہ خارجیوں کے علامات میں سے ہیں، بلکہ یہ  نشانی ،ذی الخویصرہ  کی  علامت تھی ، یہ وہ شخص  تھا،جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تقسیم غنیمت کے معاملے میں اعتراض کیا تھا ،اور اگر داڑھی کا گھنا ہو نا خارجی ہونے کی دلیل ہے تو پھر آپ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہیں گے روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی گھنی تھی ،تو نعوذ باللہ کیا آپ کا نبیﷺ پر بھی یہ اعتراض ہے تیسری جو خیانت یہاں پر کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے لئے جو تصویر لائی گئی ہے وہ امیر محترم مولانا فضل اللہ صاحب کی تصویر ہے، تو پھر شہید امیر محترم حکیم اللہ مسعودؒ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے،انہیں بھی تو آپ خوارج میں شامل کرتے تھے،لیکن ان کی داڑھی تو گھنی تو نہیں تھی۔

  اگر یہ آپ کے نزدیک خوارج کی علامت ہے تو پھر تبلیغی بھائیوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے نعوذ باللہ ،کیا آپ ان کو بھی خوارج کہیں گے ۔

 

 

مشمر الازار :

 اونچی تہہ بند باندھنے والا (بخاری)

 یہاں پر بھی علمی خیانت کی گئی ہے کیونکہ یہاں پر بھی معنیٰ اس طرح اوپر والی مثال کیطرح کیا گیاہے،یہاں بھی  وہی اوپر والی عربی لغت والی بات ہے، کہ یہ معنی کیا گیا ہے کہ (اونچی تہہ بند باندھیں گے )، دوسری بات یہ کہ، یہ بھی عام خوارج کی علامت نہیں ہے، بلکہ یہ تو اس شخص کی علامت ہے جس کا ذکر پہلے ہوا ہے۔

 اونچی تہہ بند باندھنے کا (یعنی شلوار ٹخنوں سے اونچی رکھنے کا)توخود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امر فرمایا ہے اور ان ٹخنوں کو جہنم میں قرار دیا ہے،جس کے نیچے تہہ بند ہو ،اسکے علاوہ ہمارے تبلیغی بھائی بھی تو اونچی ازار باندھتے ہیں تو کیا آپ ان کو خوارج کہیں گے ؟

 

 

اب ہم آتے ہیں خوارج کے اصل علامات کی طرف جن کی وجہ سے کوئی خارجی بنتا ہو،وہ یہ ہے

۱۔امام عادل کے خلاف خروج کرنا، یعنی خوارج وہ لوگ ہوتے ہیں جو امام عادل پر خروج کریں ہدایہ کی مشہور شرح عنایہ میں ہیں

 الخوارج ہم قوم من المسلمین خرجوا عن طاعة الامام العادل یستحلون قتل العادل ومالہ ۔

ترجمہ : خوارج مسلمانوں میں سے ایک قوم ہے جو عادل امام کی طاعت سے نکلتے ہیں اور عادل امام کا قتل اورمال جائز سمجھتے ہیں ۔(عنایة جزء۳ص ۶۰۱)

اب آپ  خودفیصلہ کریں،کہ اگر ہمارا اما م عادل ہے تو پھر ہم بھی خوارج ہوں گے ،لیکن اگر امام فاسق وفاجر ،ظالم اور مسلمانوں کے خلاف امریکی اور نیٹو اتحاد کا حصہ ہے تو پھر کہاں سے ہم خوارج بن گئے ۔

 

۲۔خوارج کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ وہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں جب کہ الحمدللہ ہما را یہ عقیدہ نہیں ہے ہم گناہگا ر مسلمانوں کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ان کی تکفیر نہیں کرتے ،چاہے وہ زانی ہو یا ڈاکو ہو یا چور ہو وغیر ہ ، ہاں البتہ ان گناہوں پر جن کو شریعت نے علامات کفر شمار کیا ہے ،ان پرہم تکفیر کرتے ہیں اور یہ اہل السنت والجماعت کا عقیدہ ہے جس کی تفصیل امام العصر محمد انور شاہ کشمیر ی رحمہ اللہ کی کتاب اکفار الملحدین میں موجود ہے ۔

 

۳۔خوارج کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ بعض صحابہ ؓ                                            کی تکفیر کرتے ہیں یعنی بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کو کا فر قرار دیتے ہیں، جبکہ طالبان الحمد للہ صحابہؓ کی ناموس پر اپنے آپ کو قربان کرتے ہیں اور تمام صحابہؓ  کو معیار حق قرار دیتے ہیں جیسا کہ امام ابن عابدین مصری رحمہ اللہ اور امام ابن نجیم حنفی رحمہ اللہ خوارج کے عقائد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں

ویکفرون اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم

خوارج نبیﷺ کے صحابہؓ کو کافر کہتے ہیں۔(بحرالرائق جزئ۵ ص ۱۵۱)

 

۴۔خوارج کی ایک خاص بڑی علامت سیماہم التحلیق۔بخاری(۲۶۵۷ )

یعنی خوارج کی علامت سر مونڈوانا ہے، جبکہ طالبان کے تو بڑے بڑے بال ہوتے ہیں،لیکن اگر ان فوجیوں کے بال دیکھے جائیں تو ،سرکے بالائی حصے کو چھوڑ کر باقی تینوں اطراف (یعنی دونوں کانوں اور گدّی کی طرف)سے بال کیسے ہوتے ہیں ،یہ تو سب جانتے ہیں۔

۵۔ خوارج کی ایک بنیادی علامت یہ ہے کہ وہ کچھ غیر اسلامی قوانین بناکر ،پھر ان کا تلوار کے ذریعے دفاع کرتے ہیں اور ماضی میں یہ فتویٰ علامہ ابن تیمیہ ؒ نے تاتا ریوں کے خلاف دیاتھا، جب انہوں نے ایسے قوانین ایجاد کئے تھے جو اسلام میں سے نہیں تھے اورتلوار کے ذریعے ان کا دفاع کرتے تھے۔یہ فتویٰ البدایہ والنہایہ میں موجود ہے ۔کیا یہ بات حکومت ِپاکستان پر فٹ نہیں ہوتی،کہ اپنے قانون کو اسلامی کہہ کر جو بھی ان کی رٹ کو چیلنج کرتا ہے ان کے ساتھ تلوار سے نمٹتے ہیں اور اس بات کا تجربہ ہر پاکستانی کو حاصل ہے ۔

۶۔ خوارج کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ سنت پر اپنی رائے سے اعتراض کرتے ہیں ،یعنی اپنی رائے اور قانو ن کو سنت پر مقدّم سمجھتے ہیں، کیایہ بات بھی  پاکستانی حکومت  پر صادق نہیں آتی ،کہ صرف سنت پر توکیا، بلکہ قرآن کے بارے میں ایسا کرتے ہیں جیسا کہ حدود آرڈیننس اورسپریم کورٹ میں اس کو چیلنج کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہے۔

 جرت عادتہم باعتراض السنن بارائہم۔فتح الباری جلد ۶ص ۲۱۰

اسی طرح شریعت بل پر پارلیمنٹ میں بحث کرنابھی اس بات کی کھلی دلیل ہے ، اور جمہوریت ،جس کا تمام دارومدار ہی رائے اور عقل انسانی پر ہے اس کا خاص طور پر مصداق ہے ۔

۷۔ اکثر خوارج رجم سے انکا ر کرتے ہیں ابن حجر رحمہ اللہ فتح البای میں فرماتے ہیں

 فانکر الرجم طائفة من الخوارج ۔ فتح الباری باب رجم الحبلیٰ من الزنا اذا احصنت جزء۹۱ ص۷۵۲۔

او ر خوارج کے ایک گروہ نے رجم سے انکار کیا ۔ یہاں پاکستانی حکومت صرف رجم سے نہیں بلکہ تمام حدود سے انکا ر کرتی ہے اور طالبان کے خلاف جنگ کی ایک بنیادی وجہ بھی یہ لوگ انہی حدود کے نفاذ کرنے کو بیان کرتے ہیں او ر اس کو طالبانی اسلام کہہ کر یکسر رد کرتے ہیں، جبکہ طالبان کی تو حکومت کے خلاف جنگ ،اس بات پر ہے کہ وہ اسلامی احکامات نافذ نہیں کرتے ۔ طالبان تو رجم وحدود سمیت تمام احکامات کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لہذا ان کفار و مرتدین کے جھوٹے پروپیگنڈوں سے اپنے آپ کو بچائیں ،اور ہماری طرف کا موقف بھی معلوم کیا کریں،صرف ایک طرف کی با ت سن کر فیصلہ کرنا عقل مندی نہیں۔

ہمیں یہ پاکستان کی مرتد فوج اور حکومت کبھی امریکہ،کبھی انڈیا،کبھی اسرائیل کا ایجنٹ کہتی ہے،حالانکہ دوستیاں خود ان سے لگاتی ہے ،ان سے پیسے لے کر اس سے ہمارے خلاف جنگ بھی کرتی ہے اور اپنی تجوریاں بھی بھرتی ہے،جبکہ آپ لوگ یہ سب کچھ کھلی آنکھوں سے دیکھتے اور پڑھتے بھی ہو،لیکن پھر بھی انصاف نہیں کرتے۔ہمیں ان جھوٹے پروپیگنڈوں کی کوئی پرواہ نہیں، ہمارے بارے میں اللہ پاک نے قرآن میں صاف فرما دیا ہے،کہ

ولایخافون لومۃ لائم۔(المائدۃ۔۵۴)

اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے

ان اعتراضات کے جوابات دینے کا مقصد ،آپ لوگوں تک حق کو پہنچانا ہے،باقی ہدایت دینا تو اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے۔یہ کفارو مرتدین ،ہمارے خلاف طرح طرح کے  جھوٹے پروپیگنڈے کرتے رہتے ہیں،لیکن ہمیں کسی کی پرواہ کئے بغیر، اپنا یہ جہاد جاری رکھیں گے ،آج کے حالات آپ خود دیکھیں کہ فتح الحمدللہ ہمیں ہی ہو رہی ہے،داعش کے للکارنے کے باوجود امریکہ عراق میں اپنے فوجیوں کو اتارنے سے ڈر رہا ہے،ادھر امریکہ سمیت پورا نیٹو، افغانستان سے کیسے سرجھکا کر بھاگ رہا ہے،ان کے نیٹو کا لیفٹیننٹ جنرل کالسن جیکبسن کہہ رہا ہے کہ ‘‘شورش کو میدانِ جنگ میں نہیں ہرایا  جاسکتا،بلکہ اس کا مقابلہ مفاہمت کے ساتھ کرنا پڑے گا’’،پوری دنیا میں مجاہدین پھر سے مضبوط ہوتے جا رہے ہیں،اور یہ کفارو مرتدین ،ان کے خوف سے کانپ رہے ہیں، اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب طالبان اسلام آباد پارلیمنٹ  ہاوس پر اسلامی جھنڈا لہرائیں گے۔پاکستان بنتے وقت ان ساٹھ ہزار شہداء ،جنہوں  نےاسلامی ملک کا خواب دیکھا تھا ،ان کے خوابوں کو پورا کرتے ہوئے ،اس ملک میں اسلامی نظام قائم کر کے حقیقی معنوں میں اس ملک کو اسلامی بنائیں گے۔ان شاءاللہ