امام قرطبی ؒ  فرماتے ہیں

‘‘جب  دشمن مسلمانوں کے کسی علاقے پر قبضہ کر لے یا ان کے علاقے میں داخل ہو جائے تو اس علاقے کے تمام باشندوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ ہلکے ہوں یا بوجھل،بوڑھے ہوں یا جوان،اپنی استطاعت کے مطابق میدان میں نکل آئیں،جس کا والد ہے وہ اپنے والد کی اجازت کے بغیر نکلے اور جس کا والد نہیں وہ بھی نکلے۔کوئی فرد بھی پیچھے نہ رہے،خواہ وہ لڑنے کی طاقت رکھتا ہو یامحض مجاہدین کی تعداد میں اضافے کا باعث بنے۔پھر اگر اس علاقے کے باشندے دشمن کا مقابلہ کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں تو ان کے قرب وجوار والوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اس علاقے کے جتنے  افراد کا مطالبہ کریں اتنے افراد ان کی مدد کے لئے نکل آئیں۔۔۔یہاں تک کہ انہیں یقین ہو جائے کہ انہیں دشمن سے مقابلے اور اپنے دفاع کرنے کی طاقت میسر ہوگئی ہے۔اسی طرح ہر وہ شخص جسے ان مسلمانوں کی کمزوری کا علم ہو جائے اور وہ جانتا ہو کہ ان تک پہنچنا اور ان کی مدد کرنا اس کے لئے ممکن ہے،تو اپ پر بھی لازم ہے کہ ان کی طرف نکلے۔۔۔کیونکہ مسلمان تو اپنے دشمن کے خلاف ایک جسم کی طرح ہوتے ہیں۔(تفسیر القرطبی:۸۔۱۵۲)