شیخ الحدیث مولانا نور الہدٰی صاحب فرماتے ہیں:

‘‘میں پوری بصیرت کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان ایک غیرا سلامی مملکت ہے اور اس کا آئین بھی غیر اسلامی ہے،بلکہ شریعت کے ساتھ کئی اساسی اور خطرناک تناقضات پر مبنی ہے۔۔سرزمینِ پاکستان جسکو قریباً

چونسٹھ سال ہوچکے ہیں ،لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے عوض حاصل کیا گیا تھا کہ اسے اسلام کا قلعہ بنایا جائے گا،لیکن آج نہ صرف اسلام اور نظامِ خلافت کے قیام اور نفاذِ شریعت سے محروم ہے ،بلکہ دینِ اسلام اور نفاذِشریعت کے خلاف بر سرِ پیکار ہے۔آج پوری ریاستِ پاکستان،مجاہدینِ اسلام کے خلاف طاغوت ِاکبر امریکہ کی فرنٹ لائن اتحادی ہے۔وہ چیز جس کو آج اسلامی تشخص کا نام دیا جا رہا ہے،سوائے مکروفریب کے اور کچھ نہیں۔وہ ریاست جس کو واحد اسلامی ریاست کہا جاتا ہے،ان ہی بنیادوں  پر قائم ہے ،

جو مغربی تصورِ ریاست کی فراہم کردہ ہیں،اور اس کا دستور

 خود اسلام سے متصادم اور نفاذِ شریعت کی راہ میں حائل ہے’’۔

(کیا ہمارا آئین اسلامی ہے؟صفحہ ۱۲۔۱۳)