جمہوریت کے ذریعے قیامت تک اسلامی نظام نہیں آسکتا۔

جامعۃالرشید اور الرشید ٹرسٹ کے بانی مفتی رشید احمد لدھیانویؒ فرماتے ہیں۔

‘‘اسلام میں مغربی جمہوریت کا کوئی تصور نہیں،اس میں متعدد گروہوں کا وجود( حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف) ضروری ہے،جبکہ قرآن ،اس تصور کی نفی کرتا ہے،یہ غیر ضروری نظام، یورپ سے درآمد ہواہے،جس میں سروں کو گنا تو جاتا ہے تولا نہیں جاتا۔اس میں مرد وعورت ،پیروجواں،عامی وعامل بلکہ دانا و نادان ،سب ایک ہی بھاؤ میں تلتے ہیں۔جس امیدوار کے پلے ووٹ زیادہ پڑ جائیں،وہ کامیاب قرار پاتا ہے،اور دوسرا سراسر ناکام۔مثلاً کسی آبادی کے پچاس علماء،عقلاء اور دانشوروں نے بالاتفاق ایک شخص کو ووٹ دیئے،مگر ان کے بالمقابل علاقے کےبھنگیوں،چرسیوں اور بے دین اوباش لوگوں نے اس کے مخالف امیدوار کو ووٹ دیئے،جن کی تعداد اکاون(۵۱)ہوگئی،تو یہ امیدوار کامیاب ،اور پورے علاقے کے سیاہ وسفید کا مالک بن گیا۔

یہ تمام برگ وبار مغربی جمہوریت کے ‘‘شجرہ خبیثہ’’ کے پیداوار ہے،اسلام میں اس کافرانہ نظام کی کوئی گنجائش موجود نہیں،نہ ہی اس طریقے سے قیامت تک اسلامی نظام نہیں آسکتا ہے۔

(احسن الفتاوٰی۔جلد ۶ صفحہ ۲۴ تا ۲۶)

موجودہ حالات میں محمد مرسی کے ساتھ مصر میں کیا ہوا،یہ اہل بصیرت کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔