اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

(اگر یہ اللّٰہ کے نازل کردہ قانون سے منہ موڑتے ہیں تو) کیا پھر یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں، اور یقین رکھنے والوں کے لئےاللّٰہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اورکون ہے۔(المائدۃ۔۵۰)

حافظ ابن کثیر ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

یہاں اللّٰہ تعالیٰ اس شخص پرگرفت کرتے ہیں ۔جو اللّٰہ کے ان محکم احکامات سے روگردانی اختیار کرے جو خیر  پر مشتمل اور ہر شر سے روکنےوالے ہیں ،پھر اِن احکامات الٰہیہ کو چھوڑکر،اُن آراء وخواہشات اور اصطلاحات کی پیروی کرنے لگیں،جنہیں انسانوں نے وضع کیا ہو اور جن کی پشت پر کوئی شرعی دلیل بھی نہ ہو ۔ یہ شخص بالکل دور جاہلیت کے، اُن لوگوں کی مانند ہےجو اپنی آراء و خواہشات پر مبنی گمراہیوں اور جہالتوں کی روشنی میں فیصلے کرتے تھے یا ان تاتاریوں کی مانندجو اپنے بادشاہ چنگیز خان کی وضع کردہ کتاب (یاسق) کو فیصلہ کن مانتے ہیں۔ یہ کتاب مختلف شریعتوں سے اخذ کردہ احکامات کا مجموعہ ہے،کچھ احکام یہودیت سےماخوذ ہیں کچھ نصرانیت اور کچھ اسلام سے اوربہت سے احکامات اس کے ذاتی نظریات اور خواہشات کے نمائندہ ہیں، یہ مجموعہ اس کی اولاد کے نزدیک ایک ایسی لائقِ تقلید شریعت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے،جسے کتاب اللّٰہ اور سنت رسول ﷺ پر بھی ترجیح دیتے ہیں (پس ان میں سے جو شخص بھی ایساکرے وہ کافر ہے اور اس قتال کرنا واجب ہے یہاں تک کہ وہ اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی طرف لوٹ آئے اور ہر چھوٹے بڑے معاملے میں انہی کوحاکم جانے ۔( البدایہ و والنھایہ۔ ۳ /۱۳۹)