ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے ۔۔

ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نیند میں کچھ اضطراب کا شکار ہوئے ، بیدار ہونے پر ہم نے سوال کیا کہ آج نیند میں آپ کی جو حالت تھی عموماًتوویسی حالت نہیں ہو تی ؟آپ ﷺ نے فرمایا ۔۔تعجب کی بات ہے کہ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللّٰہ پر چڑھائی کی نیت سے نکلیں گے۔۔۔۔ان کا مقصد ایک قریشی آدمی کو مغلوب کرنا ہوگا، جو بیت اللّٰہ میں پناہ لے چکا ہو گا ، یہاں تک کہ جب یہ مقام بیداء پر پہنچیں گے ،تو انہیں زمین میں دھنسا دیاجائے گا ۔ ہم نے استفسار کیا ،اے اللّٰہ کے رسول !راستہ توبہت سے (غیر متعلقہ )لوگوں کو بھی اکھٹا کر دیتا ہے ؟ آپ نے فرمایا :

‘‘ ہاں ، ان میں سے ایسے لوگ بھی ہو نگے ،جوجا نتے بوجھتے بیت اللّٰہ پر چڑھائی کریں گے جبکہ بعض مجبور اور بعض مسافر بھی ہونگے ، یہ سب اکھٹے ہلاک ہونگے البتہ قیامت والے دن انہیں اپنی اپنی نیتوں کے مطابق اٹھایاجائےگا۔’’(رواہ مسلم و احمد )

  

امام نوویؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:‘‘اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ ،جو شخص کسی گروہ( میں شامل ہوکر محض ان) کی تعداد میں اضافہ کا باعث بنتا ہے،تو دنیا کی ظاہری سزاؤں میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جاتا ہے جو اس پورے گروہ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔’’ (شرح النووی علی مسلم ۱۸۔۷)

 

حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:‘‘جو شخص کسی گروہ(میں شامل ہوکر ان)کی تعداد بڑھائے گا، وہ انہی میں سے ہے اور جو کسی گروہ کے عمل پر راضی رہے وہ ان کے عمل میں شریک ہے’’۔(ابویعلٰی)

بیت اللہ شریف پر چڑھائی کرنے والے لشکر کو زمین میں دھنسا دیئے جانے والی حدیث سےامام ابنِ تیمیہؒ استدلال کرتے ہوئے  فرماتے ہیں۔

‘‘پس اللّٰہ تعالیٰ نے اس پورے لشکر کو تباہ کر ڈالا جو اسکی حرمتوں کو پامال کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور قدرت رکھنے کے باوجود بھی اللّٰہ تعالیٰ نے ان میں سے مجبور اور غیر مجبور میں تمیز نہیں کی ، البتہ قیامت والے دن ان میں ہر ایک کو اپنی اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا ( پس جب اللّٰہ تعالیٰ نے قدرت رکھنے کے باوجود ان میں تمیز نہیں کی ) تو اللّٰہ کے مجاہد بندوں پر کیونکریہ واجب ہو سکتا ہے کہ مجبو رو غیر مجبور میں تمیز کریں حالانکہ وہ اس سے آگاہ بھی نہیں ؟بلکہ اگر کوئی شخص یہ بھی دعویٰ کرے کہ وہ اپنی رضا و اختیار سے نہیں آیا، بلکہ اسے نکلنے پر مجبور کیا گیا تب بھی محض یہ دعویٰ اس کے کام نہ آئے گا ۔

چنانچہ حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ سے مروی ہے کہ جب بدر کے دن مسلمانوں نے انہیں قید کر لیا تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا۔ کہ اے اللّٰہ کے رسول ﷺ! مجھے تو زبردستی ساتھ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :ہم تمہارے ظاہر کے مطابق تم سے معاملہ کریں گے ( اور تمہارا ظاہر تو یہی ہے کہ تم لشکر کفار کا حصہ بن کر میدان میں آئے ہو ) جبکہ تمہارے باطن کو ہم اللّٰہ کے سپرد کرتے ہیں’’۔

صرف یہی نہیں، بلکہ اگر لشکر کفار میں امت کے صالح ترین لوگ ( زبردستی ساتھ لائے گئے ) ہوں اور لشکر سے لڑنے کی اس کے سوا کوئی صورت نہ ہو کہ یہ صالحین بھی ساتھ بھی ہی قتل ہوں تو(جنگ نہیں روکی جائے گی بلکہ ) انہیں بھی ساتھ قتل کر دیا جائے گا ۔۔۔۔۔کیونکہ اس بات پر آئمہ کرام کا اتفاق ہے کہ اگر کفار کچھ مسلمانوں کو ڈھال بنالیں ،اور ان کفار کے خلاف قتال ترک کرنے کی صورت میں باقی مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ، تو ایسی صورت میں یہ جائز ہو گا کہ ہم کفار کو مارنے کی نیت سے تیر برسائیں ( اگرچہ یہ معلوم ہو کہ مسلمان بھی ان تیروں کا نشانہ بنیں گے ) ۔ بلکہ علماء کے ایک گروہ کے مطابق اگر لشکر کفار سے قتال ترک کرنے میں عام مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہ بھی ہو،تب بھی ڈھال بنائے گئے مسلمانوں پر تیر اندازی جائز ہوگی۔

(مجموع الفتاویٰ  ۵۳۷،۲۸)