اللّٰہ رب العزت اپنی کتاب میں فرماتے ہیں۔

تیرے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک ہر گز مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ

باہمی اختلافات میں تجھے فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ، پھر جو فیصلہ بھی تو کرے اس پر اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔(النساء ۶۵)

علامہ ابو بکر جصاص ؒ فرماتے ہیں

یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے کسی بھی حکم کو رد کردے وہ اسلام سے خارج ہو جاتاہے ،،،،،،،خواہ اس بنیاد پر رد کر دے کہ اسے خود اس حکم ( کے درست ہونے )میں شک  ہو، (یا پھر شک نہ ہو) لیکن پھربھی اس حکم کو ماننے اور س کے آگے سر جھکانے سےانکاری ہو۔ اسی وجہ صحابہ کرامؓ کے اس موقف کی صحت ثابت ہو تی ہے جو انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکاری لوگوں کے خلاف اختیار کیا اور ان پر ارتداد کا حکم لگاتے ہوئے انہیں قتل کیا اور لونڈی و غلام بنانا جائز ٹھرایا ،،،،،،کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے یہ حکم فرما دیا ہے کہ جو شخص ( اپنےتمام معاملات میں ) حکم دینےاور فیصلہ کرنے کاحق نبی اکرم ﷺ (کی شریعت ) کےحوالے نہیں کرتا،وہ اہل ایمان سےنہیں۔(احکام القران للجصاص ۳۔۱۸۱)