

شریعتِ اسلامیة کی روشنی میں
انٹیلی جنس اور فوج کے افراد
و افسروں کا ’’حُکم‘‘
جمع و ترتیب:
فارس آل شویل الزھرانی(اَبُوْجَنْدَلْ الْاَزْدِی)
(اللہ انہیں طاغوت کی جیل سے رہائی عطاء فرمائے۔آمین)
حقوقِ طبع تمام مسلمانوں کے لیے محفوظ ہیں!!
٭ اس کتاب کا حق ہے اس کا مطالعہ کیجیے!!
٭ دوسروں کو مطالعہ کے لیے دیجیے!!
٭ انٹر نیٹ پر دوستوں کو ای میل کیجیے!!
٭ اپنے قریبی فوجیوں،پولیس اور تھانوں میں پہنچائیے!!
٭ اس کے کاپی پرنٹ لیکر تقسیم کیجیے!!
٭ بیرون ممالک اردو جاننے والوں کو پہنچائیے!!
٭ ان طریقوں پر عمل پیرا ہوکے کتاب کو بڑے پیمانے پر پھیلایا جاسکتا ہے۔
٭ اسکی قیمت ہے………
اگر آپ حق کو سمجھ گئے ہیں تو اپنی ذمہ داری کو ادا کیجیے اور طاغوت کے خلاف
توحید وخلافت کے قیام کے لیے خروج کیجیے!!
اللہ ہم سب کا حامی ناصر ہو
(وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلیٰ اَمْرِہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُوْنَ)
اور اللہ اپنے امر میں غالب ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے
فہرست
|
٭ |
مقدمہ |
3 |
|
٭ |
مسلمان ممالک کی افواج کی حقیقت |
18 |
|
٭ |
کتاب و سنت واجماعِ اہل علم میں ان کا حکم |
32 |
|
٭ |
مسائل اور اہم تنبیہات |
52 |
|
٭ |
انٹیلی جنس والوں کا گھروں پر دھاوا بولنا |
52 |
|
٭ |
مسئلہ ’’موانع کی وضاحت‘‘ |
61 |
|
٭ |
وہ اعتراضات وشبہات جو پھیلائے جاتے ہیں اور ان کا رد |
64 |
|
مجاہدین کے لیے وصیتیں |
||
|
٭ |
مجرد خوبصورت افکار اور حقیقتِ واقعہ میں فرق کریں |
89 |
|
٭ |
مرتدین کے ساتھ قتال کا حکم اصل کفار کے ساتھ قتال سے بھی شدید تر ہے |
97 |
|
٭ |
مسلمان مجاہد خود کو تسلیم نہ کرے اور ’’خفیہ رہنے کی دعوت‘‘ |
106 |
|
٭ |
خلاصہ و خاتمہ البحث |
113 |
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡتُ وَھُوَ حَسۡبِی وَنِعۡمَ الۡوَکِیۡل
مقدمہ
((اِنَّ الْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَ نَسْتَعْیْنُہ،وَ نَسْتَغْفِرُہ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُورِ اَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّئَاتِ أَعْمَالِنَا ۔ مَنْ یَھْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِّلَّ لَہُ وَ مَنْ یُّضْلِلُ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ ۔ وَ أَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ حْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ ۔ قَالَ تَعَالٰی :
﴿یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لاَ تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴾(آل عمران)﴿یٰآَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً وَ اتَّقُوا اﷲَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ وَ الْاَرْحَامَ اِنَّ اﷲَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا﴾ (النِّساء)وَقَالَ تَعَالٰی:﴿ یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ وَ قُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْدًا ،یُّصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَ مَنْ یُّطِعِ اﷲَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا﴾(الاحزاب)اما بعد.
فَاِنَّ اَصۡدَقَ الحَدِیثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَخَیَۡر الھَدۡیِ ھَدۡیُ مُحَمَّدٍ(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ) وَ شَرَّالْا ُٔمُوْرِ مُحْدَثَاتُھَا وَکُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَکُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ
اللَّھُمَّ رَبِّ جِبۡرَائِیۡلَ وَمِیۡکَائِیۡلَ وَاِسۡرَافِیۡلَ فَاطِرَ السَّمٰوٰاتِ وَالۡاَرۡضِ عَالِمُ الۡغَیۡبِ وَالشَّھَاَدةِ، اَنۡتَ تَحۡکُمُ بَیَنَ عِبَادُکَ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ۔اِھۡدِنَا لِمَا اخۡتَلفَ فِیۡہِ مِنَ الۡحَقِّ بِاِذۡنِکَ، اِنَّکَ لَتَھۡدِی مَنۡ تَشَاءُ اِلَی صِرَاطِ مُّسۡتَقِیۡمِ۔
ماہِ رمضان کی اس صبح کو میں جزیرہ عربیہ میں طاغوت حکمرانوں ،ان کی فوجوں،انٹیلی جنس ، پولیس اوردیگر اداروں کے ساتھ نوجوان مجاہدین کے کشیدہ حالات کے متعلق سوچنے لگا تو میں نے دیکھاکہ مسئلہ ہرمنہجِ توحید وحق کے حامل صاحبِ بصیرت کے لیے واضح ہے۔لیکن بہت سے لوگوں کے ہاں اصل مسئلہ ’’کم عقلوں ‘‘ کاہے۔
جیسے کہ صاحبِ کتاب(اعمال تخرج صاحبھامن الملة)صفحہ6-7پر لکھتے ہیں’’لیکن جس چیز نے اس مٹی کو مزید بنجر بنایا،رسوائی کی خلیج کو وسیع کیا اور انحراف کو اور زیادہ کیا وہ شدید ترین ارجائی حملہ ہے جو ہر طرف پھیل گیا ہے۔پھر اس حملہ میں طاغوتی نظاموں کی تمام طاقتیں مرجئہ کے ہمراہ ہیں اور وہ انہیں ہر طرح کی مادی و معنوی امداد فراہم کرتے ہیں۔کیونکہ طواغیت خود اس خبیث دعوت سے بدرجہ اولیٰ مستفید ہو رہے ہیں اور ان کے لیے یہی کافی ہے کہ ایمان کے منافی تمام اعمال کے باوجود یہ دعوت ان کے قبیح نظام کو شرعی لبادہ اوڑھا رہی ہے۔ اس دعوت کا مطمع نظر یہ ہے طواغیت اور ان کے نظام کی اتباع کی جائے اور کسی معاملہ میں ان کی حکم عدولی نہ کی جائے‘‘۔
یہ شدید ترین ارجائی حملہ جس نے لوگوں کے سامنے ایمان کی یہ تصویر کشی کی ہے کہ ایمان کے لیے صرف ’’تصدیق‘‘ کافی ہے یا یہ کہ جس کا وقار دل میں ہو،چاہے عمل اس کی تصدیق نہ کرے۔ان(مُرْجِئَة) میں سب سے اچھی حالت اس کی ہے جس نے ’’زبان کے اقرار‘‘ کی شرط عائد کردی اور جس نے اس کے ساتھ عمل کا اضافہ کیا بھی ہے تو اسے کمال ایمان کا زینہ قرار دیا۔پس عمل کا موجود ہونا یا نہ ہونا ایمان کے اثبات و نفی پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ تمام لوگ ان کے نزدیک مومن ہیں اور اہلِ جنت میں سے ہیں چاہے وہ کوئی بھی طاعات و ایمان کے عمل نہ بجا لائیں یا وہ کس قدر ہی ملت سے خارج کر دینے والے اعمال کے مرتکب کیوں نہ ہوں۔
’’پاکستان میں یہ کام جمعیتِ اہلِ حدیث اور جماعت الدعوۃ ،سعودی و پاکستانی طاغوتوں کے لیے بطریقِ احسن سرانجام دے رہی ہیں۔تحریر وتقریر کے ساتھ جہاں بھی انہیں موقع ملے وہ اپنے خبث ِ باطن کا اظہار کر کے انٹیلی جنس والوں اور طواغیت سے داد وصول کرتے ہیں۔ان جماعتوں کے افراد صحیح عقیدہ کے حامل نوجوانوں کو خارجی اور دہشت گرد کہتے نہیں تھکتے اور ملکی وسعودی طاغوتوں کو ’’یوم الوطنی‘‘کے دن مبارکبادی پیغام بھیجتے ہیں تاکہ طاغوت راضی ہوجائے اور ہم پہ ریالوں کی بارش ہوتی رہے۔پاکستان کے مدارس میں بیٹھے ’’علماء‘‘ کو یہی بات حق بات کہنے میں آڑھے آتی ہے کہ اگر وہ حق کہہ دیں تو طاغوت سے ان کی روزی بند ہوجائے گی‘‘۔
ابھی تک بہت سی جماعتیں اور یونیورسٹیاں یہی سبق پڑھا رہی ہیں کہ ایمان صرف ’’تصدیقِ جازم‘‘سے عبارت ہے۔پس جس نے بھی تصدیقِ جازم کر دی وہ مومن ہے اور اہل ِ جنت میں سے ہے چاہے وہ بالکل اعمال و طاعات کو نہ بجالائے اور اس کا ظاہر کس قدر ہی دین کے احکام و قیود سے خارج کیوں نہ ہو۔
بہت سے لوگوں میں یہ خبیث وگمراہ مذہب رائج ہوگیا اور نفوسِ امارہ کو یہ منہج بہت پسند آیا۔کیونکہ اس سے ان کی خواہشوں، کمزوریوں اور سستی وترک عمل کو راہ مل گئی اور انہیں شریعت کے اندر رخصتیں ، عذر اور قیود سے چھٹکارہ مل گیا۔اس دعوت کے ساتھ ایسے لوگوں کو شرعی بہانے اور حیلے مل گئے کہ جن کے ساتھ شریعت کی پابندیوں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔
لیکن برائی نے ترکِ عمل پر ہی اکتفاءنہیں کیا بلکہ اس کے سبب اختلاطِ انساب اور حقوق و واجبات کا ضیاع بھی وجود میں آگیا۔آج کتنی ہی نوجوان مسلم موحّدۃ لڑکیاں کسی کافر و مرتد سے نکاح کرتی ہیں اور پھر ان سے اس چھتری تلے انکی اولاد پیدا ہوتی ہے کہ عمل ایمان کا حصہ اور ایمان کے صحیح ہونے کی شرط نہیں ہے۔اس لیے ایسے کسی خبیث مرتد سے نکاح کرنے میں اوراس کی ولایت میں رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
میں بھائی عزیز العمری کے ساتھ جدہ شہر میں پیش آنے والے واقعہ سے بہت حیران ہوا جب اس کا سامنا طاغوت کے دم چھلوں سے ہوا اور اس نے لڑائی کی جس میں وہ قتل و زخمی ہوئے جنہوں نے ہونا تھا پھر اس کے بعد وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور مجھے خبر ملی ہے کہ وہ اب بھی آزاد ہے۔لیکن مجھے لکیر کے فقیر لوگوں پر حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنا سارا غصہ اس مظلوم بھائی کے اوپر نکالا اور آل سعود کے نجس طاغوتوں کے متعلق ایک کلمہ بھی نہ کہا۔
لیکن یہ طوفان کیسے تھمے گا جب کہ اب تو یہ جنگ افق کی بلندیوں کو چھونے لگی ہے اور ہر روزنوجوانوں کے لیے خطرہ بڑھ رہا ہے کیونکہ نایف اور اس کے امریکی باپ مجاہدین و علمائے صادقین کو انفرادی جیلوں میں قتل کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔لیکن کیا انہیں علم نہیں کہ نوجوان مجاہدین مسلح ہوچکے ہیں اور آپس میں وصیتیں کر چکے ہیں اور یہ دعوت ان کے درمیان پھیل گئی ہے۔یہ رہا ریاض کا وہ مسئلہ جو میری بیان کردہ اس حقیقت کو اور واضح کر رہا ہے۔
حرکة الاسلامیہ للاصلاح نے اپنے بیان نمبر341 میں کہا………
میڈیا کے ذرائع نے پچھلی شام کوریاض شہر کے محلہ حی الشفاء میں ہونے والے اس معرکہ کی خبر نشر کی جو سعودی سکیورٹی فورسز اور پچاس کے قریب جہادی اشخاص کے درمیان ہوا۔جس میں سکیورٹی فورسز کے آٹھ افرادزخمی ہوئے اور ایک مجاہد بھائی گرفتار ہوا جبکہ باقی تمام بھاگنے اور چھپنے میں کامیاب ہوگئے۔لیکن یہ حادثہ جیسے وقوع پذیر ہوا اور حکومت نے اس کو کیسے لیا اور کیسے نایف نے تحریک کے اعلان کے بعد اس کے تفصیلی جائزہ کی دعوت دی،اسکی تفصیل کچھ یوں ہے………
یہ حادثہ16نومبر کی صبح کو پیش آیا جب سکیورٹی فورسز کو ایک جگہ اجتماع کی خبر ملی تو انہوں نے فوراً اس جگہ کا محاصرہ کر لیا۔لیکن وہ دیکھ کے حیران ہوئے ایک بڑی تعداد نے اسلحہ اٹھا رکھا ہے اور مجاہد بھائیوں نے اس دوران سکیورٹی فورسز کے ایک فرد کو یرغمال بنالیا اور باقی فورسز سے کہا کہ وہ وہاں سے ہٹ جائیں۔ جس پر واقعۃً سکیورٹی فورسز ہٹ گئیں اور اور بھائی امن کے ساتھ وہاں سے نکل گئے اور اس کے بعد یرغمالی کو چھوڑ دیا گیا۔لیکن جب یرغمالی کو چھوڑا گیا تو سکیورٹی فورسز دوبارہ آگئیں اور انہوں نے بھاگنے والوں کو پکڑنے کی کوشش کی جس پر شدید معرکہ بر پا ہوا جس میں آٹھ سکیورٹی فورسز کے دم چھلے شدید زخمی ہوئے جبکہ مجاہد بھائیوں میں سے ایک زخمی جو بھاگ نہ سکا گرفتار ہوگیا۔اس کے بعد فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی اور تاحال معلوم نہیں ہوا کہ کوئی گرفتار ہوا ہو۔ جب کہ حرکۃ کو یہ اطلاع مل گئی کہ فوج کے دو زخمی چل بسے اور ایک خطرے کی حالت میں ہے۔
یہ حادثہ یونہی پیش نہیں آیا بلکہ سکیورٹی کے ادارے اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جہادی گروہ میں گرفتاری کے مقابل اسلحہ کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے اور یہ کہ اس قسم کے حادثے اس سے قبل جدۃ، مکہ اور مملکت کے دوسرے شہروں میں بھی پیش آچکے ہیں۔ان واقعات میں انٹیلی جنس کے افراد پر جو انہیں گرفتار کرنے کے لیے آئے تھے فائرنگ کی گئی اور مطلوب لوگ بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔اسی طرح انٹیلی جنس کے افراد سے انتقام کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں جو جہادی شخصیات کو ٹارچر کرنے میں ملوث تھے۔اب یہ رجحان زور پکڑنے لگا ہے کہ جب کوئی فوجی کسی سے شناختی کارڈ مانگے یا تفتیش کرے تو اس پر بندوق تان لی جاتی ہے لیکن اسلحہ کی نمائش و تجارت کا یہ رجحان معاشرے کے دین داراور جہادیوں کے علاوہ تمام طبقا ت میں پایا جاتا ہے۔معاشرے کے اندر یہ تبدیلی ہماری رائے میں ذیل کے عوامل کے باعث رونما ہوئی ہے۔
(۱)……حکومت کا اپنے موافق شرعی حکم تلاش کرناجبکہ لوگ اس سے قبل اس کی اطاعت کرتے تھے اور امن امان کسی کو بھی اہل ِ مناصب کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور نہ کرتا تھا۔اس دائرہ ٔ شریعت کے ٹوٹنے کا سبب یہ ہے کہ جمہور عوام یہ سمجھنے لگے ہیں کہ علماء محض سرکاری ملازم ہیں اور سیاسی معاملات میں ان کے موقف حکومت کے املا کردہ ہوتے ہیں۔
(۲)……شرعی دینی حکم سے صرف نظر کرتے ہوئے بحثیت ِ عمومی حکومتی نظام کی ہیبت لوگوں کے اذہان میں نہیں رہی۔اس کی دلیل یہ ہے کہ اس قسم کے جرائم بہت خطرناک حد تک پھیل گئے ہیں یہاں تک کہ بعض مجرمین عام علاقوں میں امن کے افراد کو مارنے پر فخر کرتے ہیں اور اس قسم کے کئی واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ہمیں یہ معلومات بھی ملی ہیں کہ جمہور عوام کی نظر میں سکیورٹی فورسز کے افراد کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی اور ان کے اوپر اسلحہ تان لینا معمولی کام سمجھا جاتا ہے۔
(۳)……یہ بات سامنے آئی ہے کہ سعودی نظام حکومت میں جہادی اشخاص کی پکڑ دھکڑ نظامِ امن کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ امریکہ کے حکم کی تنفیذ میں کی جاتی ہے۔اس لیے جہادی نوجوانوں میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا مطلب ہے اپنے آپ کو امریکی ’’ارادے ‘‘کے حوالے کرنا۔امریکہ کے خلاف بغض عام ہونے کے سبب اور اس کے خلاف لڑائی کرنے کی عوامی رغبت کے سبب جہادی نوجوانوں میں یہ رغبت آئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو حوالے کرنے سے انکار کر دیں۔
(۴)……بعض شیوخ کے طرف سے صادر ہونے والے فتاویٰ کو جہادی خفیہ طریقہ سے پھیلا رہے ہیں کہ جس کے باعث وہ اپنے آپ کو حوالے کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان فتاویٰ میں اہم ترین فتویٰ وہ ہے جو شیخ حمود بن عقلا الشعیبی رحمہ اللہ سے منسوب ہے۔اسی طرح جہادی نوجوانوں اور القاعدہ کے ساتھ ہمدردیاں رکھنے والوں میں یہ باتیں چل رہی ہیں کہ القاعدہ نے اپنے آپ کو فوج کے حوالے نہ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔لیکن اس کے باوجود سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف کسی بھی قسم کا ایکشن نہیں لیا اور کہا جاتا ہے کہ فوج میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بن لادن کی طرف جھکاؤرکھتے ہیں۔
(۵)……القاعدہ کے منصوبوں کی معلومات کے باعث عام لوگوں اور مجاہدین میں خصوصاً یہ شعور پایا جاتا ہے کہ علاقہ کا سارا نظام تباہ ہوجائے گا اور یہ کہ موجودہ نظام تباہی و بربادی کی طرف لے جارہا ہے۔اس لیے عوام میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اس گندے نظام کو کوئی حق نہیں کہ ایسے نوجوانوں کو جیلوں کے اندھیروں میں گم کردے۔
چور دروازوں کے پیچھے وزرا کی سیاست……
حکومت تباہی کی طرف جارہی ہے اور شرعی لبادے کی تلاش میں ہے لیکن وزیرِ داخلہ ابھی تک تمام صورتِ حال سے آنکھیں چر ارہا ہے۔نوجوانوں کی جرات اور حکومت کے خلاف لڑائی کے باوجودوزارتِ داخلہ آج بھی وہی سیاست کھیل رہی جو آج سے دس سال قبل اس کا وطیرہ تھا۔سیاسی امن کی کوششوں کے لیے وزارت ابھی تک اصلاح کے طلبگار جہادی نوجوانوں کو بنیادی ہدف سمجھتی ہے۔امیر نایف کی اس سوچ کے سبب ادارۃ الامن کے بہت سے لوگوں میں پریشانی پائی جاتی ہے اور انہیں اس بات کا احساس ہونے لگا ہے کہ وہ امریکہ کی خدمت میں اور اپنی ہی قوم کے خلاف کھڑے ہیں۔یا اس کے اندر مصلحت کے ایسے اسباب ہیں کہ سکیورٹی فورسز کے لوگ اپنی زندگی کے خاتمہ پر خوف زدہ ہیں کیونکہ ان کا سامنا ایسے نوجوانوں سے ہے جن کے نزدیک موت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔اسی طرح فوج کے اندر یہ احساس اجاگر ہورہا ہے کہ وہ اس نظام کی خدمت میں پہلے والا جوش نہیں دکھاتے۔کیونکہ وہ نظام کے متعلق جانتے ہیں کہ اسے کس قسم کے خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔
امیر نایف خود ٹیلیفون پر بات کرتا ہے!!
امیر نایف آدھی رات کے وقت ٹیلی فون پر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتا ہے ۔وزارتِ داخلہ خودسے تو کوئی بات بھی نشر نہیں کرنا چاہتی بلکہ اس کے تمام ملازمین کو یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ کوئی بھی معلومات نشر نہ کریں لیکن اس کے باوجود حرکۃ کو بہت ساری معلومات وزارت سے ہی حاصل ہوئیں(والحمد للہ)۔حیران کن امر یہ ہے کہ نایف کہتا ہے اب کوئی گرفتاریاں اور کوئی واقعات رونما نہیں ہورہے اور اگر ہوتے تو وزارت ضرور ان کا اعلان کردیتی۔لیکن نایف یہ بھول گیا کہ وہ خود حرکۃ کے رد میں بیان جاری کر رہا ہے۔یہ بات بھی معروف ہے کہ وزارت اس وقت تک کوئی بیان صادر نہیں کرتی جب تک دوسری طرف سے کوئی بیان سامنے نہ آئے۔1414ہجری میں ازمہ بریدہ جیسے بڑے واقعہ میں بھی وزارت کی اسے نشر کرنے کی کوئی نیت نہ تھی لیکن آدھی رات کے وقت mbcچینل نے اس سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے اس سے پوچھا کہ کیا یہ خبر جھوٹی ہے۔
’’اسی طرح پاکستان میں وزارتِ داخلہ کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مجاہدین چاہے آئی ایس آئی کو حمزہ کیمپ میں ضرب لگائیں،چاہے تربیلا ڈیم میں جامعہ حفصہ میں آپریشن کرنے والی SSGکی یونٹ کو ضرب لگائیں،یا ائیر فورس کے افراد کو ضرب لگائیں جو قبائلی علاقوں میں معصوم مسلمانوں پر بمباریاں کرتے ہیں………اس سب کچھ کو بیرونی ہاتھوں، ملک دشمن عناصر اور بیرونی انٹیلی جنس موساد، را اور سی آئی اے کے کھاتے ڈال دیا جاتا ہے۔ تاکہ عوام یہ بالکل نہ جان سکیں کہ اس کا اصل محرک کیا ہے اور معاشرے کے اندر لوگ انہیں کس نظر سے دیکھتے ہیں‘‘۔
اس لیے میں یہ مختصر بحث پیش کر رہا ہوں تاکہ نوجوان علمائے سلف کے درمیان متفقہ، اس مفسد دشمن کا سامنا کرنے میں بالکل تردد نہ کریں۔اس بحث کے پیش کرنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اس موضوع پر لکھنے والے لوگوں کی کمی ہے ۔ اس کا سبب سکیورٹی، سیاسی یا وہ فکری اسباب ہیں جو آل سعود کے مشایخ نے پھیلا رکھے ہیں یا پھر وہ بیمار تربیت ہے جس پر کہ ہم پروان چڑھے ہیں۔
یہاں تک کہ اس فتنہ میں لوگوں کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ کوئی آدمی پوچھے جانے پر ہر نظام کے متعلق بات کر ے گا مگر آل سعود کے متلعق کچھ نہیں کہے گا۔ وہ ہر فوج کا حکم بتائے گا مگر آلِ سعود کے فوجیوں کے بارے میں کچھ نہ کہے گا۔ مثلاً آپ کسی سے پوچھیں کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کیا حکم ہے وہ پوری سہولت کے ساتھ کہے گا کہ کافر ہیں۔پھر آپ اس سے پرویز مشرف کے بارے میں پوچھیں تو وہ پوری تندہی سے جواب دے گا کہ وہ کافر ہے۔ لیکن جب اسے آل سعود کی انٹیلی جنس کے متعلق پوچھا جائے جو وہی کام سر انجام دے رہی ہیں تو وہ ہزار بار ’’نہ‘‘ کہ دے گا۔اس کا سبب صرف یہ ہے کہ نوجوان ’’توحیدِ خالص‘‘سے بہت دور ہیں اور ’’سعودی اسلام‘‘کے پیروکار ہیں جسے ’’مزعومہ سلفیت‘‘ کے نام پر پھیلایا جارہا ہے۔
صاحبِ مقالہ (بین منھجین) ابو قتادہ الفلسطینی (فک اللہ اسرہ)کہتے ہیں میرے ساتھ بعض ’’زیرک ودانا ‘‘لوگوں نے بحث کرتے ہوئے پوچھا ’’وہ سلفی مزعوم‘‘جس کا آپ نے اپنے مقالہ میں ذکر کیا ہے،کیا کوئی سلفی مزعوم اور دوسرا غیر مزعوم بھی ہے اور کیاسلفیت کوئی حقیقت بھی رکھتی ہے؟۔
یہ سوال اپنا ہدف حاصل کرنے میں صاحبِ سوال کے مکر ومراد کی طرف دلالت کرتا ہے اور آپ پر وہ مسکراہٹ واضح کرتا ہے جو اس کے چہرے پر ظاہر ہوئی۔اس قسم کے سوال آپ کو مجبور کرتے ہیں کہ آپ ان عمومی اشیاء کو چھوڑ دیں جو نہ کسی کے ٹیڑھ پن کو دور کریں اور نہ ہی کسی بیمار کو شفادیں۔ لیکن اس بھائی نے مجھے اس وہم میں مبتلا کردیا کہ یہ سوال لوگوں کے درمیان گردش کرے گا بلکہ بعد میں حقیقتاً ایسا ہی ہوا۔اس لیے مجھ پر لازم تھا کہ بغیر چھپائے صراحت کے ساتھ اس کا جواب دوں ۔
میں اللہ کا شکر گزار ہوں جس کی توفیق سے مجھے ’’الانصار‘‘ کا مجلہ میسر آگیا جو کم ہی میرا کوئی مقالہ رد کرتا ہے خصوصا ایسے مقالہ جات جو اس ’’کارڈ‘‘ کو پھاڑ دیتے ہیں۔یہ عام محاورہ بھی ہے کہ(ان صاحب الحق لا یبقیٰ لہ صاحب) حق والے کا کوئی ساتھی نہیں ہوتا۔
قبل اس کے کہ میں مزعومہ سلفیت کا پردہ چاک کروں مجھ پر واجب ہے کہ میں سلفیت کی تعریف بھی بیان کروں جو اس کی حقیقت ایسے بیان کرے کہ اس میں کچھ بھی چھپایا نہ جائے۔ سلفیت ایک ’’شعار‘‘ہے اور باقی شعارات کی طرح یہ بھی فنی اقسام کی وضاحت کا محتاج ہے۔کیونکہ اس میں زندگی کے وہ عوامل بھی داخل ہوجاتے ہیں جو اس کی حقیقت کو بدنما بنا دیتے ہیں۔ اس لیے کہ اسلام کی عزت کے وقت اس کے اندر اہل نفاق و زندقہ اور اہلِ بدعت داخل ہوگئے تو اس سے اسلام کی صورت بالکل خراب نہیں ہوئی اور اسلام ایسا نام ہے جسے اللہ نے زمانوں سے اپنے بندوں کے لیے پسند کیا ہے۔تو پھر سلفیت کا نام تو محض ایک شعار ہے اور اس میں شک نہیں کہ بعض اوقات کچھ اقوام اپنے دنیاوی مقاصد کے حصول، اپنی خواہشوں کے پورا کرنے اور اپنے امراض کی شفا کے لیے اس کو اپنا لیتی ہیں۔پھر اس شعار کے ساتھ وہ ہر قبیح کام کرنے ،ہر رذیل کو اپنانے اور ہر معصیت کے ارتکاب کا حق حاصل کر لیتی ہیں۔
پھر اس شعار سے اور بھی ’’عظیم‘‘برکات حاصل ہوتی ہیں جن کے ساتھ گردنیں اڑائی جاتی ہیں……… اور وہ یہ فوجِ جرار ہے، سلفیت کے شعار کے پیروکار جو ہر وقت حق و باطل کے ساتھ اس کادفاع کرتے نظر آتے ہیں………’’فلاں کا عقیدہ صحیح ہے‘‘۔اس جتھے کے اصحاب نیک نیتوں والے ہیں،عقلوں سے خالی ہیں، ان کا عمل ہمیشہ سلفی مزعوم و غیر مزعوم کا دفاع کرنے میں ہوتا ہے۔کوئی بھی جو اس شعار پر تنقید کرتا نظر آئے اس کی راہ روکتے ہیں اور جو اس پر راضی نہیں اس پر الزامات کی بوچھاڑ کردیتے ہیں۔یہ مشہور الزامات ہیں ………’’یہ آدمی علماء کا احترام نہیں کرتا!………یہ آدمی غلوکرتا ہے!………یہ آدمی سلفی نہیں ہے‘‘۔ ان الزامات کی سیاہ فہرست بہت طویل ہے جنہیں انہوں نے شیطان کے کلام سے اخذ کیا ہے(عیاذا باللہ)۔
ہمارے زمانے میں ان الزامات سے بچنے والے لوگوں کی تعداد بہت قلیل ہے اور وہ وہی ہیں جنہوں نے اپنی عقلوں کو تقلید کی رسی کے ساتھ باندھ لیا ہے اوراصحابِ بخششِ وسیع کے ساتھ منسلک ہوگئے ہیں۔ بعض نوجوان ان شنیع الزامات کو دیکھ کے بہت حیران ہوتے ہیں لیکن مسلمان قاری کے لیے کچھ ایسی باتیں ذکر کرنا کافی ہے تاکہ اسے اندرونی حقیقت کا اندازہ ہو۔
وہ ملک جہاں لوگ ’’سلفیت‘‘کے شعار کو استعمال کرنے میں ماہر ہوگئے ہیں اور انہوں نے اپنے ’’کفر‘‘ کو اس شعار کے ساتھ ڈھانپ رکھا ہے . وہ ملک ہے’’سعودیہ‘‘اور اس ملک کے کافر ہونے پر وہی شک کرے گا جس کی بصیرت و عقل کو اللہ نے اندھا کردیا ہو۔یہ ملک اس شعار کو بلند کر کے اپنا دفاع کرتا ہے اور جاہل انسانوں کے سامنے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیتا ہے۔
میں آپ کے سامنے ان کے بعض اوصاف اور نام ذکر کرتا ہوں………
(۱) یورپ کے ایک دارالحکومت برطانیہ میں ایک جمعیت ہے جسکا نام ہے’’جمعیۃ احیاء کتاب و سنت‘‘………یہ اپنے زعم ودعویٰ میں ایک سلفی جمعیت ہے اور اس کے اکثر افراد عجمی ہیں اور اس کی قیادت کے اکثر لوگ سعودی یونیورسٹیوں سے ’’فارغ‘‘التحصیل ہیں۔یہ جماعت ایسے کسی شخص کو اپنا دوست و حبیب نہیں بناسکتی جو دنیا کی اکلوتی مملکتِ توحید پر جرح کرے۔تمام گناہ بخشے جاسکتے ہیں لیکن سعودیہ کی محبت کے مقابلہ میں کوئی بات قبول نہیں۔ ہاں یہ سلفی ہیں لیکن ان کی سلفیت ہے(سلفیت+ تنخواہ)۔اس قسم کی جمعیتیں عالم اسلام میں بہت زیادہ تعداد میں پھیلی ہوئی ہیں۔خصوصاً عجمی ممالک میں جیسے ’’جمعیتِ اہلحدیث پاکستان‘‘اور اس کی متعدد شاخیں………یہ حقیقت میں جمعیتِ اہل حدیث ہی ہے لیکن اہلِ’’حدیثِ موضوع‘‘ نہ کہ ’’حدیثِ صحیح‘‘۔
(۲) سعودیہ میں لیبیا سے آئی ایک مہاجر قوم ہے اور وہ ایک مزعوم سلفی ڈاکٹر ربیع المدخلی کے شاگرد ہیں۔یہ قوم آل سعود کی آلِ سعود سے بھی زیادہ وفادار ہے یہاں تک ان کی قبیح وفاداری اس حد تک پہنچ جاتی کہ وہ پولیس کو جاکر بعض نوجوانوں کے متعلق خبر دیتے ہیں جو سعودیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے یا یہ کہ انہوں نے ’’امام‘‘کی طرف سے صادر ہونے والے ’’اقامہ‘‘کے بغیر اقامت اختیار کی ہو۔پس ان کی مخبری پہ ان نوجوانوں کو پکڑ کے باہر پھینک دیا گیا ۔ہاں یہ بھی سلفی ہی ہیں اور خدمت بھی سلفیوں کی ہی کر رہے ہیں اور ان کا نام ہے(سلفیہ+خدمت گذاری)۔
اس کے بعد شیخ نے کتاب ’’الکواشف الجلیہ‘‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ اس طرح کی تصویریں جُعْبَہ (تھیلا)میں بہت زیادہ ہیں جو ہم سے مطالبہ کرتی ہیں کہ حقیقی تصویر کا رخ سامنے لیکر آئیں۔
تفصیل اس باب کی یہ ہے کہ جیسے کہ شیخ ابوقتادۃنے اپنے مقالہ بعنوان بین منھجین میں مقالہ نمبر نو میں ذکرکیا کہ ایک موحد نوجوان یعنی شیخ ابو محمد عاصم المقدسی حفظہ اللہ نے ایک کتاب لکھی جس کا نام انہوں نے(الکواشف الجلیہ فی کفر دولة السعودیة) رکھا۔یہ کتاب انہوں نے1410ہجری میں لکھی جب کہ ان کی عمر اس وقت تقریباً32 سال تھی(واللہ اعلم)۔بعض مجاہد بھائیوں کی کوششوں سے یہ کتاب ارضِ جزیرہ میں داخل ہوگئی اور لوگوں میں پھیل گئی۔بعض ذہین ساتھیوں نے اس کتاب کو کسی اہلِ علم شیخ کو بطورِ ہدیہ پیش کرنے کی ٹھان لی تاکہ اگر ان کے کوئی ملاحظات ہیں تو اس سے وہ بھی مستفید ہوجائیں گے۔وہ بھائی کہتے ہیں کہ میں شیخ کی مجلس میں داخل ہوا اور شیخ کو یہ کتاب ہدیہ کی تو اس کا عنوان دیکھتے ہی شیخ سیخ پا ہوگئے اور لعن طعن کرنے لگے اور سخت غصہ ہوگئے اور پھر ٹیلیفون کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھے کہ میں ابھی وزارتِ داخلہ سے رابطہ کرتا ہوں اور وزیر کو خبر کرتا ہوں کہ اس کتاب کا خاتمہ کرے۔لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے شیخ کو ٹھنڈا کیا۔جس پر شیخ اپنی جگہ پر آبیٹھے اور کہنے لگے جو کوئی تم میں سے اس کتاب کے لکھنے والے کو جانتا ہے اسے خبر دیدے کہ میں اس پر کافر ہونے کا حکم لگاتا ہوں اور اسے کہہ دیں کہ اس کتاب کو تالیف کر کے تو اللہ العظیم کے ساتھ کفر کا مرتکب ٹہرا ہے۔لوگوں کے سر چکرا گئے لیکن اس دوران ایک حوصلہ مند نوجوان نے ہمت کی اور شیخ کو کہا اور دنیا کو بھی اپنے سوال کے ذریعے خبر دی’’اے شیخ کیا آپ نے کتاب پڑھی بھی ہے؟‘‘ شیخ نے کہا نہیں اور نہ ہی میں اسے پڑھنا چاہتا ہوں اور حکایت تمام ہوئی۔ہاں یہ سلفیت ہے لیکن اس سلفیت نے ایمان کے اندر ایک نئی شرط کا اضافہ کیا ہے اور وہ یہ کہ ہر سلفی پر بھی ایمان لایا جائے چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔چاہے ایسا سلفی آل سعود میں سے ہی کیوں نہ ہو کیونکہ آل سعود صحیح عقیدہ والے ہیں!!!۔
یہ وہ فکری و اعتقادی مصائب ہیں جن کے درمیان داخلی و خارجی دشمن کے مقابل تفرق کے اس دور میں اسلام کے لیے کام کرنے والی جماعتیں رہ رہی ہیں!!!
’’مصیبت یہ ہے کہ خارجی دشمن کے ساتھ پوری قوت و حماس کے ساتھ جہاد کیا جائے جبکہ داخلی دشمن چاہے اس کا کفر کس قدر شدید کیوں نہ ہو اس کے خلاف جہاد کرنا جائز نہیں بلکہ اس کے خلاف جہاد کے بارے سوچنا ہی دشمنی اور جرم ہے۔پس وہ اس کے لیے تیار نہیں کہ ایک شامی شامی کے خلاف اور مصری ، مصری کے خلاف، ایک فلسطینی فلسطینی کے خلاف اور ایک سعودی سعودی کے خلاف قتال کرے چاہے ان کے ان ناموں کا ہم کس قدر ہی انکار کریں اور چاہے ان کا کفر یہود ونصاریٰ سے بھی بڑھ کر ہو اور ملکوں اور باشندوں پر ان کا شر یہود و نصاریٰ کے شر سے بھی زیادہ ہو؟!۔
یہ بہت بڑی مشکل ہے جو عقیدۂ توحید کو مس کرتی ہے۔اس کا حل کیا جانا ضروری ہے تاکہ امت اپنی نیند سے بیدار ہو اور حقوق حقیقی اہل افراد کے حوالے ہوں!!
یہ بھی حقیقت ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں دین کے لیے کام کرنے والے لوگوں کی اکثریت نے اس دین کی طبیعت وحقیقت کو نہیں سمجھا باجود اس کے کہ وہ بیداری و واجبات کی ادائیگی میں لگے ہیں۔
سلفیت حقیقت میں کیا ہے………
تاریخ کے دائرے سلفیت دو جہتوں میں واضح ہوتی ہے!
(۱)………تحرک ِ زندگانی کے مطلوب حکم کے لیے کتاب و سنت کے ساتھ تعامل میں یہ ایک علمی منہج ہے جس میں صرف ان دو بنیادوں پر ہی اعتماد کیا جاتا ہے اوران دونوں کے علاوہ جو کچھ ہو اسے رد کیا جاتا ہے۔
(۲)یہ ایک تحریک و سلوک ہے اس منہج کی تطبیق کے راستے میں۔
سلفیت دراصل اس منہج کا نام ہے جس پر پہلے ادوار میں اصحاب رسول اللہ ’’علم و عمل ‘‘کے ساتھ گامزن تھے۔یہ ہے اصل سلفیت اور ایسا ہی اسے ہونا چاہیے۔اللہ کی رحمت کے ساتھ اس علمی و عملی منہج کے لیے ایسے لوگ کھڑے ہوئے جنہوں نے اس کے ساتھ تعامل ہر طرح کے حالات میں قائم رکھا یہاں تک وہ خود منہج کی تصویرِ مجسم بن گئے۔تب ان کی شخصیت کے ساتھ اس منہج کانام لگ گیا اور سلف ہونے کے باعث منہج کے نام کا اطلاق ان پر(قدراً وزماناً )کیا گیا۔
اسی طرح تابعین نے اصحابِ رسول اللہ کے ساتھ تعامل کیا کہ وہ (منہج+سلف) ہیں اور ان کے بعد والوں نے ان کے ساتھ ایسے ہی تعامل کیا۔لیکن جب دوسری اور تیسری صدی ہجری میں بدعات کا فروغ ہوا ،خاص طور پر اہل کلام کی بدعت جن کا مطمع نظر یہ تھا کہ کتاب اللہ اور سنت کے ساتھ تعامل کے لیے ایک نئی بدعت ایجاد کی جائے۔تو اہل السنۃ پھر متحرک ہوئے تاکہ اس منہج کو اس کے غیر سے علیحدہ کیا جائے اور اسی طرح سلفی منہج کے اصحاب کا دوسرے منہج کے اصحاب سے ممتاز ہونا ایک اور خصوصیت کا حامل تھا۔وہ یہ کہ بعض اہلِ علم منہج کے معاملہ میں معروف سمجھے گئے اور انہیں کی طرف دوسروں کے رد کے لیے رجوع کیا جانے لگا۔
امام الکرخی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب(الفصول فی الفصول عن الا ئمة الاثنی عشر الفحول) میں لکھا کہ یہ ائمہ ہیں مالک رحمہ اللہ ، شافعی رحمہ اللہ، سفیان ثوری رحمہ اللہ ،ابن مبارک رحمہ اللہ، لیث بن سعد رحمہ اللہ، اسحق بن راہویہ،احمدبن حنبل، سفیان بن عیینہ،الاوزاعی، محمد بن اسماعیل البخاری، ابوزرعہ اور اور ابو حاتم الرازیان(درء تعارض العقل والنقل لا بن تیمیہ :مجموع فتاویٰ95-98/2)۔
صرف یہی علماء ہی نہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے ہیں جن کی طرف اس منہج کی توضیح کے مسئلہ میں رجوع کیا جاتا ہے۔اس کے بعد ہم ذیل میں خلاصۂ نتائج پیش کرتے ہیں۔
(۱) ہر شعار کی طرح جس میں نقد وجرح ہو………سلفیت میں بھی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ حقائق کے ساتھ تعامل برتا جائے نہ کہ شعارات کے ساتھ جبکہ شعار کی اہمیت و ضرورت اپنی جگہ ہے۔
(۲)سلفیت علمی و عملی منہج ہے جس کے ائمہ اصحاب رسول اللہ ہیں اور جو ان کے علاوہ وہ ان کے تابع ہیں پس حق تقویم ورشد صرف صحابہ کی طرف ہی لوٹتا ہے۔
(۳)ہمیں چاہیے کہ غلطیوں اور انحراف کا ادراک کریں ………کہ بعض لوگوں نے سلفیت کوکسی شخص کے ساتھ خاص کرلیا ہے جسکا فتنہ میں مبتلا ہوجانا بعید نہیں۔کچھ نے اسے ایک تنظیم و جماعت سمجھ لیا ہے اور ان میں سب سے زیادہ گمراہ وہ ہے جس نے سلفیت کو افراد کے تعلق کی بنیاد بنا لیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ سلفی ہے کیونکہ یہ فلاں جہت سے معروف ہے یا یہ کہ فلاں کا شاگرد ہے۔کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ سلفی نہیں ہے کیونکہ اس کے نزدیک غیر معروف ہے۔یا اس نے اپنی گرد ن اس جہت کے حوالے نہیں کی تاکہ وہ اسے جانور کی طرح ہانکتے پھریں۔اسی طرح ہمیں چاہیے کہ ہم اس بندے کے انحراف و غلطی کا بھی ادرارک کریں جس نے سلفیت کو ایک علیحدہ فقہی مذہب بنالیا ہے اور اسی پر دوستی ودشمنی لگا تا ہے۔
کَتَبَہٌ لِلْمُجَاھِدِیْن
أبوجندل الازدی
فارس آل شویل الزھرانی
1423/9/12ھجری
مسلمان ممالک کی افواج وانٹیلی جنس کی حقیقت
اس سے قبل کہ ہم ان کے متعلق کوئی بات کریں ضروری ہے کہ پہلے ان کے حال کو اچھی طرح جان لیا جائے کہ یہ لوگ کیوں اور کس کی راہ میں یہ ساری قربانیاں دے رہے ہیں.
میں نے ان ملکوں کی افواج کے وصف کے متعلق مطالعہ کیاہے جنہوں نے دھوکہ دہی اور بہتان کے ساتھ اپنے ملکوں کے نام کے ساتھ ’’اسلامی‘‘ کا لیبل لگایا ہوا ہے۔مجھے اس ضمن میں لکھی گئی ایک بحث بہت بھلی معلوم ہوئی چنانچہ میں اس کی عبارات یہاں نقل کرنا مناسب سمجھوں گا۔
صاحبِ کتاب(مسائل ھامة فی بیان حال جیوش الامہ)صفحہ28پر لکھتے ہیں قبل اس کے کہ ہم طاغوت حاکموں اور ان کی افواج کا شرعی حکم بیان کریں سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم ان کا حال بیان کریں اور ان کے وہ مقاصد بیان کریں جن کے حصول کے لیے یہ ادارے قائم کیے گئے ہیں۔
صلیبی استعمار مسلمان ممالک سے اس وقت نہیں نکلا جب تک اس نے ان ممالک کے اندر ایسے حکام اور نظام نہیں بنالیے جن پر وہ راضی ہو اور جوعلاقے میں اس کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوں۔اس لیے کوئی بھی حاکم جو بعد میں آئے اس پر لازم ہے کہ امریکہ و مغرب اس سے راضی ہو۔پس اگر اس کو اپنے بڑوں کی موافقت و رضا مل گئی تو گویا اس نے کرسی تک پہنچنے کا مشکل ترین مرحلہ طے کرلیا ہے۔اس کے بعد اسے قوم کی مادی، سیاسی اور میڈیائی حمایت حاصل ہوجاتی ہے۔
مثال کے طور پر اردن میں بادشاہ حسین کے بعد اس کے ولی عہد بھائی کو بادشاہ بننا تھا اور لوگ بھی تیس سال تک اسے ولی عہد ہی کہتے رہے لیکن جب حسین کا بیٹا عبد اللہ موجودہ حاکم امریکیوں، یہودیوں اور مغربی صلیبیوں کے مفادات کے حصول کے لیے زیادہ موزوں تھا تو اسے منتخب کر لیا گیا اور ولی عہد کو کلیۃً دائرہ حکومت سے نکال باہر کیا گیا۔یہ بات جاننی چاہیے کہ پہلے کو دستور کے مطابق بھی ولی عہد نہیں بنایا جاسکتا تھا کیونکہ اس کی ماں انگریز ہے۔لیکن جب ایسے دستور امریکی و صہیونی مفادات کی راہ میں رکاوٹ ہوں تو انہیں اتنی ہی آسانی کے ساتھ بدلا جاسکتا ہے۔
جب دوسرے کو امریکیوں اور صہیونیوں کی خواہش کا پتہ چلا تو ا س نے فوراً سرِ تسلیم خم کردیا اور اس پر کوئی بھی اعتراض نہ کیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عالمی سیاست کا کھیل کس کے ہاتھ میں ہے۔اس لیے ان ممالک میں کسی بھی حاکم پران استعماری طاقتوں کی رضامندی کا حصول لازمی ہے۔پھر اس کے بعد اگر پوری اردنی قوم بھی کہہ دے کہ ہم تجھے حاکم نہیں مانتے تو وہ ایک لمحہ بھر بھی اپنے عسکری آلہ کیساتھ ان کو فنا کرنے میں ترد دنہیں کرے گا جو اس نے اسی قسم کے حالات کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
حکمران بننے کی شرائط………
امریکہ اور مغربی صلیبی ممالک کی کسی بھی حاکم کے لیے رضا مندی کچھ شرائط کے ساتھ ہے!
(۱)یہ کہ حاکم انہیں عہدوپیمان دے کہ وہ پورے عزم و جزم کے ساتھ ایسے کسی بھی اسلامی عمل کے خلاف کھڑا ہوگا جس کا ہدف امت کی بیداری ہو یا اسلام کا احیا ہو اور یہ کہ وہ ہر قسم کے طریقہ کے ساتھ مقہور اقوام کے درمیان حائل ہوجائے گا اور انہیں اس ہدف کو حاصل کرنے سے روکے گا۔
(۲)………یہ کہ وہ علاقہ میں استعمار کی مصلحتوں کے حصول کی ضمانت دے گا اور ان کی حمایت و پہریداری کرے گا، چاہے ایسا اسے کسی بھی نا مناسب عنوان کے تحت مقہور قوم کے خلاف کرنا پڑے۔مثلاً فنڈ ریزنگ کمپنیاں،مہارتوں اورطاقت کی ضرورت، پٹرول کی تلاش جیسے عنوانات جن کے ذریعہ علاقہ میں استعمار کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔
(۳)………یہ کہ وہ اسرائیل کی حکومت کااور غاصب قابض صہیونیوں کے ساتھ امن کی ضرورت کا اعتراف کرے………وہ امن جو ایسے حقوق دیتا ہے جیسے ہڈیا ں گوشت کے بغیر ہوں اور وہ بھی جو ہم سے غصب کی گئی ہوں۔اسی لیے ہم تمام عرب حکمرانوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ صہیونیوں کے ساتھ امن کو اسٹریٹیجک ضرورت خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا دوسرا راستہ نہیں ۔چاہے جتنا بھی اسرائیل قتل و قتال کرے اور فلسطینی بھائیوں کی نسل کشی کرے ہمیں امن ہی چاہیے۔
یہ اسٹریٹیجک ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے تختوں پر براجمان نہیں رہ سکتے اور اپنی شخصی و ذاتی مصلحتوں کو حاصل نہیں کرسکتے جب تک وہ اس ’’ضرورت‘‘کی موافقت نہ کریں۔یہ حکمران اگر واقعۃ امن کے خواہش مند ہوتے تو سب سے پہلے وہ اپنی قوم کے ساتھ امن قائم کرتے اور اپنی ظالمانہ جیلوں سے آزاد امت کے نوجوانوں کو نکال دیتے، وہ جیل جن میں ہزاروں کی تعدا د میں نوجوان اندھیروں میں گم ہیں۔
(۴)یہ کہ وہ جمہوریت کی راہ پر چلیں گے………یعنی دینِ مغرب پر تاکہ علاقے میں ان کی مصلحتوں کا دفاع کیا جاسکے۔لیکن جب بھی جمہوریت میں کوئی ایسا نقطہ آجائے جو اوپر مذکور تین نقاط کے خلاف ہو تو فوراً اس کوآمریت میں بدل دیا جائے گا اور اسے امت کے خلاف وحشت وظلم میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ایسا کرنے میں حاکم پر کوئی حرج نہ ہوگا۔جیسے کہ الجزائر، تیونس، مصر،ترکی اور دوسرے مسلم ممالک میں ہوا۔
یہ وہ اہم شروط ہیں جن پر کہ حاکم کی موافقت ضروری ہے تاکہ اس سے امریکہ اور مغربی ممالک راضی ہوجائیں اور اسکی تائید کریں………
خلافتِ عثمانیہ کے سقوط سے اب تک حکمران اسی منہج پر گامزن ہیں اور پوری تندہی سے ایسی حکومتیں اور ادارے تشکیل دینے میں مصروف ہیں جو اوپر مذکوران مصالح کا تحفظ کرسکیں۔سب سے اہم ادارہ جس کا اہتمام کیا گیا وہ ’’عسکری ادارہ‘‘ہے جس کے ذریعے وہ زمانوں سے پاک طنیت مومن گروہ کو ختم کررہے ہیں اور ایسی افواج تشکیل دیتے رہتے ہیں جس کے ذریعے وہ امت کے دشمنوں کے بنائے منصوبوں پر چل سکیں۔
وہ فوجیں جو صبح شام طاغوت حاکم کی امن و سلامتی کا پہرہ دیتی ہیں اور داخلی و خارجی ظالم سیاست کا تحفظ کرتی ہیں………وہ فوجیں جن کا طاغوت کی خدمت ،اسکی خواہشوں اور قوانین کے تحفظ کے علاوہ کوئی ہدف و مقصدنہیں۔ان فوجوں سے ہماری مراد فوج ، انٹیلی جنس ، پولیس اور وزرات ِ داخلہ کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ہیں۔اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ان فوجوں کا انتخاب بہت عجیب تعبیروں ، طریقوں اور شرائط کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
فوج میں بھرتی کے اصول………
٭ یہ کہ ایسا بندہ دیند دار نہ ہو اور اس پر دینداری اور اس پر التزام کی علامات نہ ہوں اور نہ ہی اس سے قبل اسکا کوئی مذہبی کردار ہو!۔بھرتی کے وقت ایجنسیوں کے ذریعے اس بات کی جانچ پڑتال کروائیں گے کہ وہ مذہبی تو نہیں چاہے دوسری طرف وہ دشمن کا جاسوس ہی کیوں نہ ہو۔
٭ یہ کہ ایسے افراد غیر اخلاقی اور ناروا کردار کے مالک ہوں اور انکی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو سوائے اس کے کہ کسی بھی طریقہ سے اپنی نفسانی خواہش کو پورا کیا جائے۔ان کی کوئی گفتگو نہ ہو مگر اس کا موضوع پیٹ، شرمگاہوں اور خواہشوں کے گرد گھومتا ہو۔
٭ یہ کہ ان عناصر کے اندر حاکم کے لیے مطلق وفاداری اوراندھی ا طاعت کا عنصر پایا جائے اور وہ احکام کی تنفیذ ہر حال میں کریں چاہے وہ کس قدر ظلم پر مبنی اور امت کی مصالح کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔وہ حکم کی تنفیذ کریں چاہے ایسا حکم پوری قوم کے قتل و ہلاکت کا باعث ہی کیوں نہ ہو………پس طاغوت کی مرضی ان کے نزدیک قوم و امت سے بھی قیمتی چیز ہے۔
٭ یہ کہ ان کے پاس اس قدر زیادہ وسعتِ ذہنی نہ ہو کہ وہ ان طاغوت اداروں کی حقیقت وغایت کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔پس جس قدر فوجی اپنے دین وعقیدہ سے ،عالمی سیاست سے اور امت کے خلاف بنائے جانے والے منصوبوں سے جاہل ہوگااتنا ہی وہ طاغوت کے قریب ہوگا اور اعلیٰ عہدوں کی طرف ترقی کے زینے چڑھے گا۔
٭ یہ کہ ان کا کسی بھی جماعت کے ساتھ تعلق نہ ہو جو طاغوت اور اس کے نظام کے ساتھ مکمل موافقت نہیں رکھتی۔
٭ ان کے اندر حمیت وغیرت نام کی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے یا یہ کہ ان کی طبیعت مہم جوقسم کی نہیں ہونی چاہیے جو کہیں کسی دن انہیں امت کی حرمتوں اور اسکے مقدسات کے دفاع پر مجبور نہ کردے۔تاکہ یہ بات ان کے غصہ اور عام سیاست سے خروج اور طاغوت کی نافرمانی کا سبب نہ بن جائے۔
کوئی بھی فوجی افسر جس کے خلاف اوپر مذکور باتوں سے کوئی بھی بات ثابت ہوجائے تو اس کی سرزنش و محاسبہ کیا جاتا ہے اور کئی مواقع پر اسے اپنی مخالفت کی کیفیت وکمیت کے مطابق جیل اور حتیٰ کے پھانسی تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس امر کی وضاحت کے لیے کسی و ضاحت و دلیل کی ضرورت نہیں۔
یہ وہ اہم ترین اصول و ضوابط ہیں جن کی بنیاد پر افواج میں افرادکو قبول ورد کیا جاتا ہے!!!
ان افواج کی عام صفات!!
اب جبکہ ہم نے افراد و افسروں کے انتخاب کا طریقہ جان لیا لہٰذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان ’’اعلیٰ منتخب شدہ‘‘افرادکی صفات بھی جان لیں جن کے ساتھ ایسی طاغوتی افوج تشکیل پاتی ہیں۔
یہ افواج اللہ کے نازل کردہ شریعت پر نہیں بلکہ کفر وطغیان کی شریعت پر حکم کرتی ہیں اور اس فوج میں کوئی بھی نماز روزہ اور حج کا التزام نہیں کرتا اور اگر کرتا بھی ہے تو وہ انفرادی طور پر اور ہوسکتا اس ’’عمل ‘‘کے باعث اسے فوج میں ’’انڈر واچ‘‘رکھ لیا جائے( کہ اس کے اندر مذہبی رجحان پایا جاتا ہے)۔
ان افواج میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے دین کو گالی دیتے اور اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور نبی علیہ السلام کی ذات پر طعن کرتے ہیں اور ان پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا۔اگر کوئی ان پر جراءت کر کے کچھ کہہ بھی دے یا طاغوت پر اعتراض کرے تو اسے سخت تعذیب اور جیل کی سلاخوں کا مزا چکھنا پڑتا ہے بلکہ بعض افواج میں تو یہی بات اس کے قتل و پھانسی دیے جانے کے لیے کافی ہے۔
اللہ جل جلالہ کے شعائر کا بالکل احترام نہیں کرتے ،نہ ہی اس کے وقار کا خیال کرتے ہیں بلکہ توہین و استہزاء کرتے ہیں اور کتنے ہی ممالک ہیں جن میں مساجد کو’’عجائب گھروں‘‘میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں غلیظ و گندے سیاح آتے جاتے ہیں۔یہ صفات مختلف افواج کے اندر موجود ہیں اور اس میں ساری افواج ایک جیسی نہیں بلکہ کبھی ایک صفت ایک میں تو دوسری کسی دوسری فوج میں پائی جاتی ہے۔پس ہر فوج دوسری سے کفر و طغیان میں ممیز ہے(ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)۔
مسجدِ اقصیٰ ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معراج گاہ پر مگر مچھ کے آنسوؤں کے ساتھ روتے ہیں اور اسی وقت میں معمولی اسباب پر اللہ کے گھروں مساجد کی حرمتوں کو پامال کرتے ہیں۔اس معاملہ میں بالکل کوئی عار نہیں کھاتے کہ اپنے نجس و پلید جوتوں کے ساتھ مسجدوں میں داخل ہوں۔
مثال کے طور پر شامی افواج نے’’حماہ‘‘شہر کے اندر 100 سے زاید مسجدوں کو ڈھا دیا جبکہ ان میں سے بعض عہدِ بنو امیہ کی تاریخی مساجد بھی تھیں۔ اس آپریشن میں انہوں نے اپنے عسکری گروہ کے ساتھ ایسا ذبح خانہ قائم کیا جس میں ایک رات میں 20,000 مسلمان عورتوں اور بچوں سمیت قتل کردیے گئے۔ ان کا کوئی گناہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے۔
’’اسی طرح پاکستان جیسے ملک میں دارلحکومت اسلام آباد میں گیارہ مساجد مسمار کردی گئیں اور شہر کی سب سے مشہور لال مسجد پر آہن وبارود کی بارش کردی گئی۔اس قبیح و غلیظ آپریشن میں ایشیا میں خواتین کی سب سے بڑی درسگاہ جامعہ حفصہ پر جہازوں سے بم گرائے گئے اور اسے امت کی 900 عفت ماٰب بیٹیوں کے قتل کے ساتھ فتح کیا۔پھر اندھے عوام و حکمران جو انڈیا میں بابری مسجد کے انہدام پر تو اعتراض اور مظاہرے کرتے نہیں تھکتے لیکن اپنے ہی ملک میں اس وحشت ناک ظلم پر چپ سادھ لیتے ہیں‘‘۔
ان افواج کے اندر اصلی کفار جیسے کہ عیسائی وغیرہ، اصلی سے بھی بدتر کافر مرتدین، زندیق وملحدین اور بہت سے فاسق و مجرم لوگ موجود ہیں۔وہ اس فوج میں کسی فاسق و مومن میں فرق نہیں کرتے بلکہ طاغوت کی اطاعت میں سب کے سب برابر ہیں بلکہ کافر مجرم ان کی نظر میں مومن پر مقدم ہے اور ان کے درمیان موازنہ کا کوئی داعیہ نہیں۔ جیسے کہ پاکستانی فوج میں بھی جو مذہبی رجحان رکھنے والا افسر ہو اسکی ترقی اور اعلیٰ عہدوں کی طرف چڑھائی ناممکن ہوجاتی ہے کیونکہ وہ طاغوت کو چھوڑکر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف میلا ن رکھتا ہے۔
یہاں ایک مضحکہ خیز لطیفہ ذکر کرنا مناسب ہوگا ۔ پاکستانی فوج جو کچھ عرصہ قبل اپنے ہر کیمپ کے باہر ایمان۔ تقویٰ۔ جہاد فی سبیل اللہ کا نعرہ لکھتی تھی اور کہا جاتا تھا کہ یہ ان ’’سر‘‘فروشوں کا شعار ہے۔ لیکن اب جبکہ وہ اس شعار پر بے حد شرمندہ ہیں انہوں نے ہر کیمپ سے یہ لفظ مٹا دیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ایمان تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کا شعار رکھنے والی فوج نے اب ہندو اور عیسائی چوڑے بھی فوج میں بھرتی کر لیے ہیں۔ یعنی اب ان ہندوؤں کا شعار ایمان تقویٰ جہاد فی سبیل اللہ ہوگیا اور وہ اللہ کی راہ میں لڑیں گے(عیاذاً باللہ)۔
ان میں ’’دوستی دشمنی‘‘ کا عقیدہ یعنی عقیدۃ الولاء والبرآء اسی قدر ہوتا ہے کہ جس سے طاغوت دشمنی لگائے اسے دشمنی اور جس سے وہ دوستی لگائے وہ دوست بن جائے گا۔پھر وہ اسی پر قتال کرتے ہیں اور اسی پر دوستیاں لگاتے ہیں۔ اگر طاغوت انہیں حکم دے تو اسکی اطاعت کرتے ہیں اگرچہ اس کا حکم کفراور اللہ کی معصیت ہی کیوں نہ ہو اور اگر انہیں منع کرے تو باز آجاتے ہیں چاہے ایسا منع کیا گیا امر اللہ کی اطاعت و عبادت میں شامل ہو۔اس کی واضح مثال سابقہ مشرف نامی امریکی پپّی کی ہے کہ جب وہ طاغوت کی کرسی پربیٹھا تو اس نے اپنی فوج کو جیسا بھی امریکی حکم دیا اسے من و عن تسلیم کر لیا گیا چاہے وہ دین و عقیدہ سے ہی دستبرداری کا حامل امر کیوں نہ ہو۔
اسی طرح ان فوجوں کو جب بھی اللہ کے نیک بندوں کو پکڑنے اور انہیں قتل کرنے کا حکم دیا جائے تو فوراً اس کی اطاعت کرتے ہیں۔کیونکہ طاغوت صاحبِ امر و نہی ہے اور اس کی اطاعت واجب ہے جبکہ اس بات کو جاننے کی کوئی ضرورت نہیں کہ آیا گرفتار ، قتل یا جیل میں ڈالے جانے والے افراد شرعاً اس کے مستحق ہیں۔ان کے زعما طاغوتِ اکبر سے داد وصول کرنے کے لیے خود بڑے تکبر سے اعلان کرتے ہیں کہ ’’ہم نے اتنے پکڑ کرد یے ہیں‘‘اور’’ہم نان نیٹو اتحادی ‘‘ہیں۔
ان افواج کے فوجی طاغوت کے نظام اور اسکی حفاظت کے لیے چیر پھاڑ کرنے والے وحشی درندوں کی طرح ہیں جبکہ امت کے بیرونی دشمنوں کے خلاف بزدلی ،ذلت و رسوائی کے جذبات لیے وہ موم کی طرح نرم ہیں۔کمزور و مقہور اقوام کے خلاف شیر اور جنگ میں امت کے دشمنوں کے خلاف شتر مرغ۔اپنی ہی مسلمان ملت کی بیٹیوں کی عزتیں لوٹنے والے جابر وظالم، ہوس پرست درندے اورجب دشمن سے سامنا ہو تو90,000کی تعداد میں ہتھیار ڈال دینے والے۔
کہاں ہیں یہ افواج امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے………
کہاں ہیں یہ افواج قبلہ اول فلسطین کی آزادی کے لیے………
جبکہ یہودی ہر روز فلسطین میں ہمارے بیٹوں اور عفت ماٰب بیٹیوں اور ہمارے اہل کے خلاف مذبحہ خانے قائم کرتے ہیں………عزتوں کی پامالی کرتے ہیں……… مقدسات کی توہین کرتے ہیں اور مسجدِ اقصیٰ میں اپنے پلید ونجس وجود کیساتھ داخل ہوتے ہیں………اسکی حرمت کو پامال کرتے ہیں………وہاں پھر جو ان کے جی میں آتا ہے کرتے ہیں………شیطان نے یہودی پروٹوکولز میں جو کچھ انکو املا کروایا ہے اس پر ببانگِ دہل عمل کرتے ہیں………یہ سب کچھ کرنے میں ان تمام افواج کو وہ اپنے ادنیٰ ترین حساب میں بھی نہیں لاتے!!!۔
ان دہشت گرد فوجوں کو کیا جواب ملتا ہے………وہ محصور ہیں، جس کا ہمیں شدید دکھ اور افسوس ہے لیکن ہم جنگ نہیں چاہتے بلکہ عقل مندوں والی راہ اختیار کرتے ہیں اور وہ ہے ’’امن‘‘۔جی ہاں امن غاصب صہیونیوں کے خلاف کیونکہ یہ اسٹراٹیجک اختیار ہے جس کی کوئی دوسری راہ نہیں۔مسئلہ فلسطین کا حل قوت و جنگ کے ذریعہ ممکن نہیں۔اس طرح کے بزدلانہ ذلیل اور رسوائیت پسند بیانات ہیں جو امت کو سننے کے لیے ملتے ہیں۔
بلکہ بعض ممالک جیسے مصر،اردن وغیرہ کی افواج نے حقوق کے اہل کو ان کے حقوق لوٹانے سے قبل اور صہیونی مجرموں کو خونرریزی و ظلم کی سزا دینے سے قبل ہی اسرائیلی ریاست کے ساتھ ڈپلومیٹک سفارتی تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔
لیکن جب معاملہ ایسا ہی ہے تو ہم پوچھتے ہیں………
کس کے لیے یہ لشکرِ جرار تیار کیے گئے ہیں………؟؟
کس کے لیے یہ تباہ کن اسلحہ خریدا اور تیار کیا جاتا ہے………؟؟
امت کی دولت خرچ کر کے ان متعفن قوتوں کو کس کے لیے فعال بنایا جاتا ہے………؟؟
ان افواجِ جرار کو کس دشمن کو دہشت زدہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے………؟؟
ان سوالوں کاجواب………
ہر عقل وفہم والے کے لیے واضح ہے………!!!
یہ افواج ہر گز امت کے دشمنوں کے لیے نہیں تیار کی گئی بلکہ یہ اقوام کو ذلیل ومقہور رکھنے کے لیے بنائی گئی ہیں……… تاکہ ہر اس تحریک کا خاتمہ کیا جاسکے جوطاغوت کے امر وسیاست کے خلاف کھڑی ہو۔کیونکہ ایسی کوئی بھی تحریک غلیظ طاغوت کی نافرمان ہے اور اسے حق ہے کہ وہ جیسے چاہے اسے اپنی اطاعت، عبادت ،سیاست اور طریقے سے نکلنے کی سزا دے۔کوئی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرے تو اس کے خلاف حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کی چھتری تلے آپریشن،کوئی مہاجرین کوپناہ دے تو اس کے خلاف ڈرون حملے،کوئی شریعت کے نفاذ کے لیے گھر چھوڑے تو اس کے گھر والوں کو اٹھا کے قتل کردینا اور اس کے گھر کی عورتوں کی عزتوں کی پامالی کرنااورکوئی مجاہدین کی نصرت کرے تو اس پر ٹینک لے کر چڑھ دوڑنا او جاہل فوجیوں کو بریفنگ دینا کہ یہ مجاہد نہیں بلکہ دشمن ایجنسیوں کے ایجنٹ ہیں۔
ہم حق سے زیادہ دور نہیں جاتے کہ یہ کہیں کہ عرب ممالک کی افواج اسرائیل کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہیں………لیکن وہ چوبیس گھنٹے تنخواہ دار کتوں کی طرح اسرائیل کی سرحدوں کو ہر طرح کے حملہ سے محفوظ رکھتی ہیں کہ کوئی بھی فدائی جو آزاد مجاہدین کی طرف سے آئے وہ اسرائیل میں داخل نہ ہو سکے۔
ان افواج کو ہلاکت و بربادی ہو کہ اگر کوئی مجاہد ان کے درمیان سے گذر کر صہیونیوں کی حکومت میں گھس جائے تو تمام خائن قوتیں کتوں کی طرح بھونکنا شروع کردیتی ہیں اور اس قوت کو دھمکیاں دینا شروع کردیتی ہیں جس نے اس قسم کے دہشت گردانہ اعمال کو سر انجام دیا ہے۔ اس عمل کے ذریعے وہ صہیونیوں کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ہم اب بھی آپ کے وفادار اور آپ کی سلطنت کا پہرہ دینے والے کتے ہیں۔
یہ تو وہ معاملہ ہے جوفلسطین کے ساتھ خاص ہے۔ لیکن امت کے مسائل جیسے افغانستان، عراق،بوسنیا، کشمیر،چیچنیا، فلپائن وغیرہ کے معاملہ میں اگر ان افواج کا رسوائیت پسند کردار دیکھا جائے تو اس سے زیادہ مختلف نہیں جو اوپر بیان ہوا ہے۔ان مسلم علاقوں میں جو وحشت کا بازار گرم ہے قریب وبعید میں اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں بلکہ بہت سے مواقع پر جہاں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہو یہ افواج طاغوت کافروں کی صفوں میں امت کے خلاف کھڑی ہوجاتی ہیں۔نہ صرف کھڑی ہوتی ہیں بلکہ کافروں کو ہر طرح کا تعاون فراہم کرتی ہیں۔انہیں اپنی سرزمین فراہم کرتی ہیں کہ اس میں اڈے بنالیں،اپنی عسکری مشینری لے آئیں۔جیسے سعودی عرب، پاکستان، قطر، مصر اور عراق وافغانستان وغیرہ میں موجود امریکی اڈے اس بات پر کافی شاہد ہیں۔پھر اسی پر بس نہیں بلکہ خود ان کے شانہ بشانہ مقہو ومجبور نہتی امت کے خلاف قتال کرتی ہیں۔اس کی دلیل ایک لاکھ سے زائد کی تعدا د میں سعودی عرب ، پاکستان، قطر اور کویت کے ہوائی عسکری اڈوں سے کیے جانے والے وہ شدید ترین ہوائی بمبار حملے ہیں جن میں امت کے لاکھوں افراد کو بچوں ، عورتوں اور مردوں سمیت قتل کردیا گیا۔
یہ ساری باتیں ہمیں اس بات پر یقین دلاتی ہیں کہ یہ افواج ملتِ اسلام کی خدمت کے لیے ہر گز نہیں بنائی گئیں اور نہ ہی ان کا مقصد مجبور وکمزور امت کا دفاع ہے۔نہ ان کا مقصد رسالت کے پیغام کو پھیلانے جیسا کوئی عظیم ہدف ہے۔انکا مقصد تو جیسے ذکر کیا گیا کہ صرف اور صرف طاغوت اور اسکے نظام کا، یہودیوں کے مفادات کا اور علاقے میں مغرب کے اہداف کا تحفظ ہے۔
انٹیلی جنس ایجنسیوں کا مکروہ کردار………
اس سارے معاملے میں جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار ایک اور ذلالت و کمینگی کا اضافہ ہے۔ ان ایجنسیوں کا مقصد صرف نیک لوگوں، حق کے داعیوں اور اللہ کے دین کی نصرت کے لیے جانیں قربان کرنے والے مجاہدین کاقتل وخاتمہ ہے۔ پس کفر کے یہ دم چھلے ہر وقت انہیں ڈھونڈنے، گرفتار کرنے،جیل میں ڈالنے ،اورتعذیب دینے میں مصروف رہتے ہیں۔ اے محترم قاری تم میں سے ہر ایک کے پاس ان کے ظلم کا ایک قصہ موجود ہے۔
یہاں ہم(بین منھجین)کے مقالہ نمبر57سے اس کی چند مثالیں نقل کرتے ہیں………موجودہ دنیا میں اور خصوصاً مرتد ممالک میں جیل صرف ’’قید‘‘سے ہی عبارت نہیں ہے بلکہ ان میں انسان کو ایسے پنجروں میں رکھا جاتا ہے جہاں اسے انسانی زندگی کے تمام معاملات سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ پس وہ اپنے گھر والوں اور اپنے کسی بھی عمل سے محروم کردیا جاتا ہے۔بلکہ مرتدین کی جیلیں تو ایسی ہیں جن میں انسانیت کے احترام کا کوئی وسیلہ نہیں۔ہم ہر وقت ان جیلوں میں کیے جانے والے ظلم کو یاد رکھتے ہیں تاکہ ہمارے دل ان کے خلاف بغض و عداوت سے بھرے رہیں اور انہیں معاف کرنے کا شائبہ بھی ہمارے قریب نہ پھٹکے۔جب کوئی مسلمان ان پر غلبہ پالے تو ان کے متعلق سب سے کمتر حکم وہ ہے جو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنے حلفاء بنی قریظہ کے متعلق دیا تھا۔کہ ان کے لڑنے کے قابل سب افراد قتل کر دیے جائیں،ہر بالغ جو بلوغت کو پہنچ گیا ہے اسے قتل کردیا جائے، ان کی عورتوں کو لونڈیاں بنالیا جائے اور ان کے اموال غنیمت کر لیے جائیں۔یہی سات آسمانوں کے اوپر اللہ کا حکم ہے………کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس معاملہ میں اسلامی قیادات کی یاداشت قابلِ افسوس حد تک کمزور ہے اور ان کا سلوک اس معرکہ میں ہمارے اور مرتدین کے ساتھ تکلیف دہ ہے!!!
تیونس میں جب کسی آدمی کو اسلام کے ساتھ نسبت رکھنے کے سبب جیل میں ڈالا جاتا ہے اور اس پر اتنا الزام لگ جانا ہی کافی ہے کہ یہ مسجد میں نماز پڑھتا ہے، یا یہ کہ اس کی داڑھی بڑھی ہوئی ہے تو اسے گرفتار کر کے ایسا عذاب دیا جاتا ہے جس کی کیفیت و کمیت اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔اس کے بعد اسے جیل میں پھینک دیا جاتا ہے۔یہاں تک تو معاملہ کا تصور کیا جانا ممکن ہے لیکن کیا اس کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے جو اسکے خاندان کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے!!۔ دوسری طرف اس کے خاندان پر باہر سے ظلم شروع ہوجاتا ہے۔
جیسے کہ وزیرِ داخلہ تیونس نے بیان دیا(سنتابع الاسلامیین وسنحاصرھم حتیٰ تضطر نساؤھم الی الاکل بأجسادھن)ہم اسلام پسندوں کا پیچھا کریں گے اور ان کا ایسے محاصرہ کریں گے کہ ان کی عورتیں اپنے جسموں کی کمائی کھانے پر مجبور ہوجائیں گی۔بالفرض اگر کوئی بہن جس کا خاوند ’’اخونجیہ‘‘ جیسے کہ وہ نام دیتے ہیں ، کی تہمت کے ساتھ جیل میں ہو اور وہ بجلی پانی کا بل جمع کروانے کے لیے آئے تو اس سے سوال کیا جائے کہ یہ مال تو کہاں سے لائی ہے۔ہاں انہیں راحت نہیں حاصل ہوتی یہاں تک کہ زندگی کی تکلیفوں سے تنگ آکر وہ بہن اپنا جسم بیچ دے۔پس کیا یہ وہ جیل ہیں جس کے لیے جودت سعید اور خالص جلبی ہم سے چاہتے کہ ہم ان کی طرف بھاگ کر جائیں اور جیل کو مدرسہ بنالیں جہاں بھائیوں کو دین کی فہم سکھائی جائے اور نئے آنے والوں کو دعوت الی اللہ کی طرف خوش آمدید کہا جائے۔پھر اس کے بعد یہ بھی ایک گناہ سمجھا جاتا ہے کہ جب مسلمان ایسے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں.یہ وہ عقل مندی ہے جس کی طرف ہمیں دعوت دی جاتی ہے!!
اردن کی جیل کی صورتِ حال جہاں انٹیلی جنس والے مسلمان قیدی کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ ایک بھائی کے کپڑے اتار دیے اسے زمین پر گرادیا اور پھر انٹیلی جنس کا ایک افسر کھڑا ہوا………لیکن یہاں ایک تنبیہ لازمی ہے ان میں اگر چہ سارے انٹیلی جنس والے نہ ہو ں تب بھی اغلب اکثریت نے بیت اللہ کا حج کیا ہوا ہوتاہے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کو ’’الحاج‘‘کے لقب سے ہی بلاتے ہیں۔ان کی اکثریت نمازیں پڑھتی ہے بلکہ کئی ’’کلیۃ الشریعہ‘‘کے پڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔پس جب اس بھائی کو زمین پر گرادیا گیا تو ایک افسر’’الحاج فلاں‘‘ کھڑا ہوا اور اس نے اپنی شرمگاہ سے کپڑا ہٹایا اور اپنے ذکر کو پکڑ اس بھائی کی داڑھی میں پھیرتے ہوئے کہنے لگا’’دعنا یا شیخنا نتبرک منک‘‘اے شیخ ذرا اجازت دیں کہ ہم آپ سے تبرک حاصل کرلیں۔یہ ہے وہ حقیقتِ واقعہ جو اپنی تکالیف وآلام کے ساتھ ہمیں زخمی کرتی ہے۔اے قوم کیا یہ جیل ہے………کہ جس کی طرف ہم بھاگتے جائیں اور ہمیں وصیت کی جاتی ہے کہ اسے مدرسہ بنالیں۔
کیا ہم شام کی حالت بیان کریں اور اس کے بعثی و نصیری حکمرانوں کی حالت بیان کریں اور وہاں مسلمان بہنوں کے کرب والم کو بیان کریں۔یا پھر جیلوں میں نوجوانوں کی حالت بیان کریں جہاں کسی بھائی کو باندھ کے قبر نما کمروں میں پھینک دیا جاتاہے جن کی اونچائی انسانی جسم سے زیادہ نہیں ہوتی، ایک دو دن کے لیے نہیں بلکہ سالوں کے لیے۔ اگر کوئی اس کی تفصیل جاننا چاہتا ہے تو ہمارے مقالہ(جواز قتل الذریة والنسوان درئا لھتک الاعراض وقتل الاخوان)میں اس کی تفصیل پڑھ لے۔
کیا آپ نے کبھی ڈاکٹر محمد المسعری کو سنا ہے جودفاعِ حقوقِ شرعیہ نامی تنظیم کا سیکریٹری اطلاعات ہے کہ اس نے جزیرۃ العربیۃ کے جیل میں کیا تکالیف دیکھیں اور کیا سنا؟میں کہتا ہوں جو کچھ مجاہدین کے ساتھ بیتی ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو مسعری نے دیکھی اور سنی ہے اور ہمیں سب پر افسوس ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ مجاہدین کے لیے کوئی رونے والا نہیں ہے اور اللہ ہی مدد گار ہے۔
کیا آپ نے جمال عبدالناصر کی جیلوں میں قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان پڑھی کہ کیسے بعض قیدی پاگل ہوگئے!!
کیا آپ نے صدام حسین بعثی کی جیلوں میں ظلم و عدوان کے فنون کا پتہ لگایا ہے کہ وہ اپنے مخالف کے ساتھ کیسا سلوک کرتا تھا۔
’’کیا کسی کو معلوم ہے کہ پاکستانی جیلوں میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کتوں نے مجاہدین کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ ایک مجاہد بھائی سے معلومات کے حصول کے لیے اسے پنجرہ میں بند کرکے اسکی بیوی کی عصمت دری کی تاکہ وہ مجبور ہوجائے۔ ایک دوسرے بھائی کے شہر سے جب وہ ہاتھ نہ آیا تو اس کی بہن کو اٹھاکے لے گئے۔کیا میں بھول جاؤں جب ایک شہید رحمہ اللہ نے جب وہ جیل سے رہا ہوا مجھے بتایا کہ ایک کال کوٹھری میں ایک عرب بھائی قید تھا اور ا س کے سامنے والے پنجرے میں اس کے بیوی بچوں کو قید کیا گیا تھا۔ اذیت کے وہ تما م حربے آئی ایس آئی اور دیگر ملکی’’مسلمان‘‘انٹیلی جنس ایجنسیاں استعمال کرتی ہیں جو اوپر ذکر کیے گئے۔جبکہ ان کی جیلوں میں خود امریکی آکر تفتیش کرتے ہیں اور ان کے سامنے مجاہد بھائیوں کو اذیت دیتے ہیں۔پھر کئی دفعہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی مجاہد کو اذیت دلوانے کے لیے کسی ’’شیعہ‘‘ افسر کے حوالے کردیا جاتا ہے جو اسے مکمل بے رحمی سے عذاب دیکر مسلمانوں کے لیے اپنے کینہ غضب کا اظہار کرتا ہے‘‘۔
وہ شخص جو یہ سب کچھ جانتا ہے یا اس کا کچھ حصہ جانتا ہے پھر وہ اللہ کے دین کے احیاء میں یہ منہج اپناتا ہے کہ نوجوان اپنے اختیار کے ساتھ جیلوں میں چلے جائیں اورپھر وہ انہیں چھڑوانے کے مطالبہ کا تجربہ کرے گا، ایسا شخص اس بات کے زیادہ قابل ہے کہ اسے مجرم اور دین کے دشمنوں کی صفوں میں شمار کیا جائے نہ کہ اس قابل ہے کہ اسے نوجوانوں کے لیے مفکر بناکے پیش کیا جائے۔ اللہ کی قسم ہم عجائبات کے زمانے میں رہ رہے ہیں۔
کتاب و سنت اور اجماع سے ایسے لوگوں کا حکم
جب آپ نے ان لوگوں کی حقیقت کو بہت اختصار کے ساتھ جان لیا ہے تو ہم اسی قدر اختصار کے ساتھ ان کا حکم پیش کرتے ہیں۔جب شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ سے تاتاری لشکر کے متعلق حکم کا پوچھا گیا ؟ تو انہوں نے اس کا جواب یوں دیا………
یہ قوم جس کے متعلق سوال کیا گیا ہے مختلف اقوام پر مشتمل ہے جن میں کافر عیسائی،مشرکین اور اسلام کی طرف ’’نسبت‘‘رکھنے والی اقوام شامل ہیں اور یہ ا س لشکر کے جمہور سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب ان سے کہا جائے وہ شہادتین کا اقرار کرتے ہیں، رسول کی عظمت کا اقرار کرتے ہیں اور ان میں نمازی لوگ بہت کم ہیں اور رمضان کے روزے ان کے ہاں نمازوں سے زیادہ ہیں اور مسلمان ان کے ہاں دوسروں سے بہتر ہیں اور نیک لوگوں کی ان کے ہاں بڑی قدر ہے۔ان کے ہاں بعض اسلام پایا جاتا ہے لیکن وہ اس میں مختلف درجوں پر ہیں۔لیکن ان کے عامۃ الناس جس پر ہیں اور جس عقیدہ پر وہ قتال کرتے ہیں وہ اکثر یا بعض اسلام کو شامل ہے۔پس وہ اسلام کو واجب کرتے ہیں لیکن اس کے ترک پر قتال نہیں کرتے بلکہ جو کوئی مغلوں (تاتاریوں)کی سلطنت پر قتال کرے تو اس کی تعظیم کرتے ہیں چاہے وہ کافر ، اللہ اور اسکے رسول کا دشمن ہی کیو ں نہ ہو۔اسی طرح جو کوئی مغلوں کی سلطنت کے خلاف کرے اس سے قتال کرتے ہیں اگرچہ وہ مسلمانوں کا بہترین فرد ہی کیوں نہ ہو۔
وہ کفار کے خلاف جہاد نہیں کرتے اور نہ ہی ان پر جزیہ لاگو کرتے ہیں، نہ ہی اپنی فوج میں کسی کو منع کرتے ہیں کہ وہ جس کی مرضی چاہے عبادت کرے۔ان کے کردار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسلمان ان کے نزدیک عادل یا نیک آدمی کی مانند ہے اور کافر ان کے ہاں بمنزلتِ مسلمان فاسق کے ہے۔
اسی طرح ان کے عام افراد مسلمانوں کے خون و اموال کو حرام نہیں جانتے جب تک کہ انہیں بادشاہ منع نہ کردے۔ یعنی وہ ان اموال کے ترک کا التزام نہیں کرتے لیکن جب انہیں منع کیا جائے تو صرف سلطان کی اطاعت کرتے ہیں نہ کہ دین کی۔ان کے عام لوگ واجبات کی ادائیگی کا التزام بھی نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے درمیان اللہ کے حکم کا التزام کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے درمیان ایسی وضع سے حکومت کرتے ہیں جو کبھی اسلام کے موافق ہوتی ہے اور کبھی اس کے مخالف۔
اس قسم کے لوگوں کے خلاف قتال واجب ہے اور جو کوئی بھی دین کی معرفت رکھتا ہے اور ان کی حقیقت کو جانتا ہے اس میں شک نہیں کرسکتا پس یہ مقام جس پر وہ ہیں اسلام کے ساتھ اکٹھے نہیں ہوسکتے۔
صاحبِ کتاب(مسائل ھامة فی بیان حال جیوش الامہ)صفحہ9پر لکھتے ہیں کہ جو کوئی شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی ذکر کردہ تاتاریوں کی ان صفات کا امتِ مسلمہ کی موجودہ افواج کے ساتھ موازنہ کرتا ہے تو وہ دیکھے گا کہ تاتاریوں کے لشکر میں بہت سی اعلیٰ صفات بھی تھی جو کہ عرب وعجم کے لشکروں میں موجود نہیں ہیں۔پس تاتاریوں کے لشکر میں رسول کی عظمت کا اعتراف موجود تھا اور مسلمان ان کے ہاں دوسروں سے بہتر سمجھے جاتے تھے اور نیک لوگوں کی ان کے ہاں قدر تھی۔جبکہ موجودہ دور کی عرب افواج میں ان صفات کا خلاف ہی پایا جاتا ہے۔
اگر میں کہوں کہ سب کی حالت ایسی ہی ہے تو یہ ظلم ہے لیکن جو ہم نے کہا اس کی تصدیق کرنے کے لیے آپ کسی بھی ملک ،جس نے اپنے نام کے ساتھ’’اسلامی‘‘ کا سابقہ لگا رکھا ہے اس میں کسی مسلمان ملک کے پاسپورٹ کے ساتھ داخل ہوں جس سے یہ پتہ چلے کہ آپ مسلمان ہیں اور مسلمان علاقے سے آئے ہیں۔ پھر آپ اسی ملک میں ایک امریکی پاسپورٹ کے ساتھ داخل ہوتے ایک عام کافر شخص کو دیکھیں………جس قدرعزت واحترام اسے دیا جائے گا جبکہ وہ آپ کے دین کا بھی معترف نہیں، اس وقت آپ کو ہماری بات کی صداقت کا اندازہ ہوجائے گا کہ کس قدر کسی مسلمان کا احترام ان طاغوت کے دم چھلوں کے ہاں ہے۔
اسی طرح آپ ان ممالک میں طاغوتی جیلوں پر نظر ڈالیں تو آپ کو کوئی بھی کافر نہ ملے گا جو اپنے کفر و شرک کے باعث قید کیا گیا ہو بلکہ اس کے برعکس سینکڑوں مجاہد و علماو مصلحین ملیں گے جن سے جیلیں بھر گئی ہیں اور ان کے ساتھ کس قدر برا معاملہ کیا جاتا ہے۔
لیکن تاتاریوں کی اوپر ذکر کردہ صفات کے ساتھ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ قتال کرنا بااجماع المسلمین واجب ہے اور یہ مقام جس پر کہ وہ ہیں اسلام کے ساتھ اکٹھے نہیں ہوسکتے۔
یہ حکم ہر اس شخص کے ساتھ منسلک ہے جو ان صفات کا حامل ہو اور ان جیسے افعال کا مرتکب ہو۔اسی طرح یہ افواج بھی اس حکم میں مِن باب اولیٰ شامل ہیں کیونکہ ان کے اندر ایسی صفات پائی جاتی ہیں جو تاتاریوں کے اندر پائی جانے والی صفات سے بھی بدترین ہیں۔
شیخ الاسلام کہتے ہیں کہ ’’جس نے کسی شخص کے ساتھ اس صورت پر اتحاد کیا کہ جسے وہ دوست بنائے تویہ بھی اسے دوست بنائے اور اس کے ساتھ دشمنی کرے جس کے ساتھ یہ دشمنی کرے تو وہ تاتاریوں کے جیسا ہے جو شیطان کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ایسا شخص مجاہدین فی سبیل اللہ میں سے نہیں ہے اور نہ مسلمانوں کی فوج سے اس کا کوئی تعلق ہے ۔نہ ہی ایسے شخص کو مسلمانوں کے لشکر میں شمار کیا جانا چاہیے بلکہ وہ شیطان کے لشکروں میں سے ہے(مجموع الفتاویٰ ابن تیمیہ20/28)
میں کہتا ہوں صرفِ نظر اس بات کے کہ کون شرعاً دوستی لگانے کا مستحق ہے ، موجودہ دور میں یہی حالت امت کے لشکروں کی نہیں ہے کہ جس سے طاغوت دوستی لگاتا اور جس سے دشمنی لگاتا ہے اسی سے دوستی ودشمنی رکھی جاتی ہے۔
امت کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا ہے اور اس کے مقدسات کی توہین کی جاتی ہے، بچوں، عورتوں کاقتل کیا جاتا ہے، اللہ اور اسکے رسول کو گالی دی جاتی ہے لیکن یہ سب کچھ ان افواج اور طاغوت حکومتوں کے موقف میں کسی تبدیلی کا باعث نہیں بنتا۔لیکن جناب طاغوت کی شان میں کسی کے منہ سے ایک ذرہ سی عبارت بھی صادر ہو جائے تو تمام افواج و ادارے حرکت میں آجاتے ہیں اور اس سے بغض و دشمنی کا علان کردیتے ہیں اور اپنے سفیروں کو اس ملک سے واپس بلا لیتے ہیں اور شاید فوجیں حرکت میں آجائیں اور قتال کے لیے تیار ہوجائیں۔
اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں جو ہر گھنٹے دیکھنے کو ملتی ہیں ۔لیکن اس کی ایک مثال ہم بیان کرتے ہیں۔جو کچھ ہمارے بھائیوں کے ساتھ فلسطین میں ہورہا ہے جس طرح ان کا خون بہایا جارہا ہے اور جس طرح مقدسات اور خصوصاً مسجدِ اقصیٰ کی توہین ہورہی ہے تو یہ سارے اقدامات ’’حقوقِ انسانی‘‘کے لیے ہیں اور یہ حکومتِ مصر کو مجبور نہیں کرتے کہ صہیونیوں کی مملکت سے اپنا سفیر واپس بلالے۔
لیکن اگر صہیونیوں کی سلطنت غلطی کر جائے اور میڈیا میں کہہ دے کہ’’ حسنی مبارک گدھا ہے کچھ نہیں سمجھتا‘‘ تو یہ اس بات کے لیے کافی ہے کہ اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا جائے اور سفارتی تعلقات منقطع کر لیے جائیں۔پھر اس وقت تک حالات معمول پر نہ آئیں گے جب تک صہیونی اپنے میڈیا میں اور باقاعدہ سرکاری طور پر اس کی معذرت نہ کریں۔یہ سب کچھ ایک کلمہ کے لیے کیا گیا جو طاغوتِ مصر کی شان میں کہا گیا۔لیکن اس کے برعکس پوری قوم قتل ہوجائے تو یہ ایسا مسئلہ جس میں’’نظر‘‘ہے۔پس آپ سوچیں کہ کس بنیاد پر ان ملکوں میں امن قائم ہوتا اور جنگ کا اعلان ہوتا ہے۔
اس لیے جب یہ افواج اپنے آپ کو طاغوت کی ایسی عبادت کے لیے راضی کر لیتی ہیں تو ایسے وقت میں اسلامی افواج کی صفوں سے خارج ہوجاتی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتی ہوں بلکہ وہ کفر کی افواج میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور شیطان کی راہ میں جہاد کرتی ہیں جیسے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا۔
شیخ ابو محمدعاصم المقدسی اپنی مفید کتاب(الرسالة الثلاثینیة فی التحذیر من الغلو فی التکفیر)صفحہ127-130 پر لکھتے ہیں………تنبیہ!قاعدہ یہ ہے کہ ’’بلا شک طاغوت کی افواج اور اسکے انصار کی اصل کفرہے‘‘ ۔قاعدہ ہمارے ہاں یہ ہے کہ ’’اصل‘‘ ان میں کفر ہے یہاں تک کہ اس کا خلاف ہم پر ظاہر ہو کیونکہ یہ حکم نص و ظاہری دلالت پر قائم ہے نہ کہ فقط ’’دار‘‘کے ساتھ منسلک ہے۔پس ظاہر بات طاغوت کی فوجوں،اسکی پولیس،انٹیلی جنس اور امنی قوتوں میں یہ ہے کہ وہ اولیاء الشرک اور اس کے اہل مشرکین ہیں۔
٭ یہی افواج قانونِ وضعی کفری پر پہرہ دینے والی آنکھ ہیں جو اپنی قوت و شوکت کے ساتھ اسکی حفاظت کرتی اور اسے نافذ کرتی ہیں۔
٭ وہی طاغوتوں کے عرش کی وہ کیلیں(اوتاد)ہیں جو اسے قائم رکھے ہوئے ہیں جن کے ذریعے طاغوت اسلام کی شریعت اور اس کے التزام کی راہ روکے ہوئے ہے۔
٭ وہی تو ہیں جو ہر اس شخص کی جان کے درپے ہیں جو طاغوت کی عبادت کا انکار کرتے ہوئے نکلے تاکہ اللہ کی شریعت کی تحکیم و نصرت ہو!!
یہ ہے در اصل ان افواج کا اصل کام اور ان کا منصب و عمل جو دو اسباب کے ساتھ واضح کفر ہے………
(۱)شرک کی نصرت(شرکی وکفری قوانین کی موافقت کرکے)
(۲)موحدین کے خلاف اہل شرک کی نصرت و دوستی۔
جب کہ ان کے دستوری کفریہ قوانین خود اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ ان تمام اداروں کا کام ’’قانون کا تحفظ ، اسکی تنفیذ اور اس کے اہل سے دوستی رکھنا ہے‘‘۔وہ نصوص جو اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ یہ اسباب کفرِ بواح کے ہیں اور ان کی تفصیل ہم نے دوسری جگہ ذکر کی ہے جبکہ یہاں ہم صرف اس اصل کی طرف تنبیہ کرنا چاہتے ہیں۔
اللہ نے کفر کے انصار واولیاء کے معاملہ میں ہمارے لیے ’’اصلِ مُحکم‘‘قائم کی ہے۔اللہ فرماتے ہیں(اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡایُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ الطَّاغُوتِ)وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ طاغوت کی راہ میں قتال کرتے ہیں۔اللہ فرماتے ﴿وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ﴾اور جو کوئی تم میں سے ان کے ساتھ دوستی لگائے گا وہ انہیں میں سے ہوگا۔پس اصل ہر اس شخص میں ’’کفر‘‘ہے جس نے کفار سے دوستی لگائی،ان کی نصرت کی ،طاغوت کی راہ میں قتال کیا یا دل وزبان سے ان کی نصرت کا اظہارکیا۔ایسے تمام لوگ ان میں سے ہیں جنہوں نے کفر کیا۔
اسی لیے نبی علیہ السلام کا تعامل اسی اصل پر تھا ،محارب کفار کے ساتھ،ان کے انصار، ان کے مددگاروں اور اتحادیوں کے ساتھ جو مسلمانوں کے خلاف انکی مدد کرتے تھے۔مثال کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاملہ کفار جیسا تھا جب وہ غزوہ بد ر کے دن مشرک قیدیوں کے ساتھ پائے گئے۔
اسی طرح اس کی مثال (مسلم ۔کتاب النذور1008المختصر) میں بھی ملاحظہ کریں۔جیسے کہ حدیثِ عمران بن حصین میں بنی عقیل کے ایک آدمی کے قصہ میں ہے۔ جب اس آدمی کو مسلمانوں نے اس کے اتحادیوں(بنو ثقیف)کی زیادتی کے باعث گرفتار کر لیا۔ اور اسے نبی علیہ السلام نے نہیں رہا کیا باوجود اس کے دعویٰ کے کہ وہ مسلمان ہے بلکہ اس کے ساتھ کفار والا معاملہ کیا۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اونٹ کو غنیمت قرار دیا اور اسے دو مسلمانوں کے بدلے رہا کیا۔اس کے بعد آپ کے پاکباز صحابہ کی سیرت بھی اسی منہج پر تھی ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کی شریعت سے خروج کرتا تھا۔
ان کی سیرت پر نظر دوڑاؤکہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں مسیلمہ کذاب کے انصار و مرتدین کے ساتھ اور طلیحہ الاسدی کے انصار کے ساتھ ایک ہی جیسا معاملہ کیا۔ انہوں نے ان سب کو کافر قرار دیا اور سب کا راستہ ان کے متعلق ایک تھا اور کسی صحابی نے اس میں ان کی مخالفت نہیں کی۔اسی لیے علماء محققین نے محاربین اور انکے انصار کے خون و مال کو حلال ٹہرانے کا قول وارد کیا اور نصرت کرنے والے کا حکم بھی بلا واسطہ محاربت کرنے والے جیسا رکھا( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو المغنی لابن قدامہ297/8)۔
المغنی ۔کتاب الجہاد میں ہے………فصل’’ جو قید ہوجائے اور پھر دعویٰ کرے کہ وہ مسلمان ہے تو اس کا قول بغیر دلیل کے قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ وہ ایسے امر کا دعویٰ کر رہا جس کا ظاہر اس کے خلاف ہے‘‘!!۔اس میں انہوں نے سہل بن بیضاء کا غزوہ بدر میں قصہ ذکر کیا ہے(المغنی261/8)۔
پس آپ غورو تأمل کریں کہ کیسے انہوں نے اس اصل کو اس شخص پر لاگو کیا جس نے اپنے آپ کو کفار کی صفوں کی طرف رکھا یہاں تک کہ وہ انہیں میں گرفتار ہوگیا۔اس کی اصل کفر ہے جبکہ اس کے خلاف اسکا دعویٰ قبول نہیں کیا گیایہاں تک کہ اس کے خلاف دلیل قائم ہوجیسا کہ قصہ عباس رضی اللہ عنہ میں ہے۔
اس لیے اصل ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو ان اداروں اور عہدوں سے نسبت و تعلق رکھتا ہے جن کی حقیقت شرک اور اہلِ شرک کی نصرت ہے تو ایسے ہر فرد پر ہم کفر کا حکم لگاتے ہیں اور اس پر کفر کے ظاہری اسباب کی موجودگی کے ساتھ کفر کے حکم کا معاملہ کرتے ہیں جب تک اس کا خلاف نہ ثابت ہو ،جو موانع تکفیر میں سے ہوایسے شخص کے حق میں جو اسلام سے نسبت رکھتا ہے۔اس صورت میں پھر ہم اسے مستثنیٰ رکھیں گے۔
یہ بات ہم نے پہلے واضح کردی ہے کہ محاربین کے حق میں ’’موانع کی تبیین‘‘ کا قاعدہ لاگو کرنا واجب نہیں ہے کیونکہ وہ ممتنع و محارب ہیں۔لیکن اگر ان کے بعض کے حق میں کوئی مانع ظاہر ہوجائے تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ جب تک ایسی کوئی بات ظاہر نہ ہو تو اصل ان میں ’’کفر‘‘ہے جبکہ ان کا باطنی معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور ہمارے لیے اس میں کوئی راستہ نہیں ہے۔ہمیں صرف ظاہر کے اخذ کا حکم دیا گیا ہے اور یہ حکم نہیں دیا گیا کہ ہم لوگوں کے دلوں اور پیٹوں کو چیر کر دیکھیں۔کیونکہ ان عہدوں کی اصلِ ظاہر وہ ہے جو ہم نے جان لی اور اسی کے مطابق ہم ان کے ساتھ معاملہ کریں گے جب تک اسکا خلاف ظاہر نہ ہو۔
اس کے علاوہ جو وظائف وعہدے ہیں جن کی حقیقت وطبیعت شر ک اور اہلِ شرک کی مدد نہیں تو ان کے متعلق ہم یہ بالکل نہیں کہتے کہ مثلاً ڈاکٹر کافر ہیں یہاں تک کہ اس کا خلاف ہم پر ظاہر ہو۔نہ ہی ہم یہ کہتے ہیں کہ مدرس، اساتذہ کافر ہیں اور نہ ہی ہم یہ کہتے ہیں کہ کافر مملکت کے تمام اہل عہدہ و مناصب سب کافر ہیں۔ہر گز نہیں بلکہ ان عہدوں و وظائف کے متعلق تفصیل آئے گی اور نہ ہی تمام عہدوں کا کام شرک اور اہلِ شرک کی نصرت ہے۔ہاں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایسے عہدوں پر متمکن بعض لوگ اہلِ شرک اور شرک کے انصار میں سے ہوتے ہیں لیکن یہ اس عہدہ و وظیفہ کے ساتھ خاص نہیں ہوتا۔جیسے کہ بعض اوقات شرک و اہلِ شرک کے ایسے انصار بھی ہوتے ہیں جو اہلِ عہدہ و وظائف نہیں ہوتے۔
خلاصہ………!
یہ شرعی حکم اس وقت لگا یا جائے گا جب کسی وظیفہ و عمل کی حقیقت اسباب کفر میں سے کسی ظاہری سبب پر ہو،جیسے کہ شرک اور اس کے اہل کی نصرت کرنا یا دستوری وضعی قوانین کے مطابق قانون سازی کرنا اور اس جیسے دوسرے صریح و ظاہری کفر وغیرہ تو پھر ہمارے نزدیک کوئی حرج نہیں یعنی ایسے اہلِ وظیفہ کے ظاہر پر حکم لگایا جائے اور ان کا باطن اللہ کے سپرد کیا جائے گا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ طائفة مُمْتَنِعَة(جو شریعتِ اسلام کے ظاہری شرائع کے التزام سے انکاری ہو)کے متعلق کہتے ہیں’’ہر وہ گروہ جو شریعت اسلام کے کسی بھی ظاہری متواتر امر سے انکاری ہے اس کے خلاف جہادباتفاقِ علماء واجب ہے یہاں تک کہ دین سارا اللہ کا ہوجائے‘‘۔
(عَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ نُعَالِجُ فِيهَا عَمَلًا شَدِيدًا، وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا، قَالَ: «هَلْ يُسْكِرُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاجْتَنِبُوهُ» قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ، قَالَ: «فَإِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فَقَاتِلُوهُمْ»)دیلم الحمیری سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔میں نے کہا اے اللہ کے رسول ہم ایک ایسی زمین پر ہیں جوسخت کوشی کی حامل ہے اور ہم وہاں جو کی ایسی شراب بناتے ہیں جس سے ہم اپنے کام کاج میں طاقت حاصل کرتے ہیں اور اپنے علاقے کی سردی کا توڑ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کیا وہ نشہ دیتی ہے میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو میں نے عرض کی لوگ اسے چھوڑتے نہیں ہیں آپ نے فرمایا انہیں قتل کردو(یعنی ان سے قتال کرو)۔
شیخ کہتے ہیں کوئی بھی گروہ جو اسلام کی طرف نسبت رکھتا ہو اور اسلام کی بعض ظاہری متواتر شرائع سے انکاری ہو تو اس کے خلاف مسلمانوں کے اتفاق سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ دین سارا اللہ کے لیے ہوجائے۔جیسے کہ ابو بکررضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے منکرینِ زکوۃ سے قتال کیا۔پس کتاب و سنت و اجماع سے ثابت ہوا کہ کوئی بھی گروہ جو شریعتِ اسلام سے خارج ہوا چاہے وہ کلمہ پڑھنے والا ہو اس سے قتال کیا جائے گا۔
پس کوئی بھی گروہ جو بعض فرض نمازوں کا انکاری ہو،یا روزے اور حج کا انکاری ہو یا خون، اموال،شراب وجوا کی حرمت کے التزام سے انکاری ہو یا محارم سے نکاح کی حرمت سے انکاری ہو یا جہاد کے التزام اور کافروں پر جزیہ کا انکاری یا اس کے علاوہ کسی بھی واجب و محرمات کا انکاری کہ جس کے انکار کا کوئی عذر نہ ہو. تو ایسے ممتنع گروہ کے خلاف قتال کیا جائے گا چاہے وہ زبان سے ان چیزوں کا اقرار ہی کیوں نہ کرتا ہو اور اس میں مجھے علماء کا کوئی اختلاف معلوم نہیں۔
صاحبِ کتاب(مسائل ھامة فی بیان حال جیوش الامہ)صفحہ9پر لکھتے ہیں کہ ’’طائفۂ ممتنعہ کے خلاف قتال دلائلِ کتاب و سنت اور اجماعِ علمائے امت کے ساتھ واجب ہے جبکہ وہ دین کے ظاہری واجبات میں سے کسی واجب کو ادا کرنے سے انکاری ہو تو پھر اللہ اور اسکے رسول سے جنگ کرنے والی ان افواج کے خلاف قتال بالاولیٰ واجب ہے۔یہ افواج جو کسی بھی واجب و دین کے ارکان کا التزام نہیں کرتیں اور اس کے ساتھ اس کے اندر کفر کی دوسری خصلتیں بھی موجود ہیں جن کا سابقہ صفحات پر ذکر ہوا.تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ ایسے گروہ کے ساتھ قتال ’’اوجب‘‘ہے۔
اگر کہیں موجودہ افواج میں کوئی التزام مل بھی جاتا ہے تو وہ انفرادی ہے نہ کے پورے ادارے کا التزام جس کا حکم ہر بڑے چھوٹے کو ماننا ہوتا ہے۔ان انفرادی التزمات کے بارے میں موجودہ افواج کے مواقف مختلف ہیں۔بعض ایسی ہیں کہ جن میں نماز پڑھنا تہمت خیال کیا جاتا ہے اور اسکی سزا میں جیل یا نوکری سے برطرف بھی کیا جاسکتا ہے۔یا پھر وہ ’’انڈر واچ‘‘ہوگا اور اسے دہشت گردوں میں شمار کیا جائے۔ بعض افواج میں نماز پڑھنا اخلاقِ حمیدہ میں شمار کیا جاتاہے لیکن وہ سب کو حکم نہیں دیتے کہ جس کا جی چاہے پڑھے اور جس کا چاہے نہ پڑھے۔جیسے کہ پاکستانی ، یمنی، سوڈانی اور بعض خلیجی ممالک کی افواج کا حال ہے۔بعض افواج ایسی ہیں کہ جن میں حکم بھی دیا جاتا ہے اور اسے فرض بھی کیا جاتا ہے جیسے کہ سعودی فوج(مجھے’’ابو جندل فک اللہ اسرہ کو‘‘ ایسی ہی خبر ملی ہے)۔
مرتد گروہ اوردین سے نکل جانے والے مرتدین کے خلاف قتال، اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے خلاف جنگ کرنے والے گروہ سے قتال باغیوں کے خلاف قتال سے زیادہ اوجب ہے۔کیونکہ باغی تو چند فرائض وواجبات کو ادا کرنے سے انکاری ہیں(اور مرتد تو دین سے ہی نکل گیا ہے)لہٰذا ان کے خلاف جہاد اصلی کافر سے بھی زیادہ واجب ہے جیسا کہ اس کی تفصیل آئندہ صفحات پر آئے گی۔
ابن حجررحمہ اللہ العسقلانی کہتے’’جب سلطان سے کفرِ صریح واقع ہوجائے تو اس وقت اس کی اطاعت جائز نہیں رہتی بلکہ اس کے خلاف جہاد واجب ہوجاتا ہے اس پر جو اس کی قدرت رکھتا ہو(فتح الباری7/13)۔
النووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قاضی عیاض نے کہا’’علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ امامت کسی کافر کے لیے منعقد نہیں ہوسکتی اور اگر اس پر کفر واضح ہوگیا تو اسے معزول کیا جائے گا اسی طرح جب وہ نماز کا قیام اور اسکی طرف دعوت کو ترک کردے(تب بھی اسے معزول کیا جائے گا)۔(شرح صحیح مسلم229/12)۔
انٹیلی جنس والوں کا حکم………
صاحبِ کتاب (اعمال تخرج صاحبھا من الملة)صفحہ 114پر کہتے ہیں یہ بات جان لے کہ جو آدمی مسلمانوں کے پوشیدہ امور کی جاسوسی کرتا ہے اور ان کے خاص احوال کی کھوج میں لگا رہتا ہے خصوصاً مجاہدین کی خبروں کی اور پھر ان خبروں کو ان کے دشمن کافر مجرموں کو پہنچاتا ہے چاہے وہ اصلی کافر ہوں یا مرتد کافر ہوں……تو ایسا شخص انہی کے جیسا کافر ہے اور ان کے ساتھ بہت بڑی دوستی لگانے والا ہے جو اسے دائرہ اسلام سے خارج کردیتی ہے………وہ ہر حال میں بالضرورقتل کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ ،يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ﴾اور لوگوں میں سے وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ و آخرت پر لیکن وہ مومن نہیں ہیں۔ دھوکہ دیتے ہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور وہ نہیں دھوکہ دیتے مگر اپنے آپ کواور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔ان کا دھوکہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے اپنا اسلام ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ مومن ہیں پھر وہ طاغوت و کافر مجرموں کی مصلحتوں کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلا تَجَسَّسُوا وَلا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾اے ایمان والو بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بے شک کچھ گمان گناہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو اور نہ ہی کوئی دوسرے کی غیبت کرے۔
جاسوسی کی باعتبارمحرک دو اقسا م ہیں………
خاص قسم………جس کامحرک فضول اور دوسروں کے عیوب کی تلاش ہوتا ہے تاکہ جاسوس اپنی خاص وعام مجالس میں ان معلومات سے لطف اندوز ہو۔دوسروں سے بحث مباحثہ کرے اور دوسرے کے رازوں کو افشاں کرکے فخر محسوس کرے کہ اس کے پاس اپنے دعویٰ کی سچائی کی دلیل ہے ۔اسی لیے اللہ عزوجل نے جاسوسی سے منع کرنے کے بعد غیبت کا ذکر کیا۔کیونکہ تجسس کا حتمی نتیجہ غیبت ہے۔پس ہر وہ شخص جو تجسس کرتا ہے اس سے لازمی طور پر دوسروں کی غیبت واقع ہوتی ہے۔
عام قسم………جس میں محرک یہ ہوتا ہے کہ معلومات جمع کر کے اس کی رپورٹ ظالم طواغیت اور کافر مشرکوں کو دی جائے ۔ یہ عین مولاۃ یعنی کافروں سے دوستیاں لگانا ہے او یہ باعتبار جرم جاسوسی کی بدترین قسم ہے اور یہ ایسا کفرِ اکبر ہے جو انسان کو ملت سے خارج کردیتا ہے۔
آیت میں وارد نہی دونوں اقسام کو شامل ہے بلکہ عام کی نہی بالاولیٰ ہے بنسبت خاص کے لہذا اس سے بچنا چاہیے۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا«وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا،وَلَا تَبَاغَضُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا»نہ تجسس کرو، نہ تحسس کرو(کسی کی خبروں کی ٹوہ میں رہنا)نہ آپس میں بغض رکھو بلکہ بھائی بن کے رہو۔
نبی علیہ السلام نے فرمایا
«مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ كُسِيَ ثَوْبًا بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ، وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
جس نے کسی مسلمان کو بیچ کر کھایا تو اللہ قیامت کے دن اسے ویسا ہی جہنم میں کھلائیں گے اور جس نے کسی مسلمان کو بیچ کر پہنا تو اللہ عزوجل اسے جہنم کے کپڑے پہنائیں گے۔جس کسی نے مسلمان کے ساتھ ریاکاری کی اور سنایا تو قیامت کے دن اللہ اس کے ساتھ ویسا ہی کریں گے(اسے روایت کیا ابو داؤد نے)۔
اس میں اس بندے کے لیے تنبیہ و تحذیر ہے جومسلمان موحدین کے متعلق چند ٹکوں کی خاطررپورٹیں لکھتے ہیں تاکہ اسے ظالم طاغوت کو پہنچا سکیں اور ان پر حملہ کریں،ان کی جگہوں پر اور انکی حرکات پر نظر رکھیں ۔ہر وہ تقریریا رپورٹ جو وہ طاغوت کو لکھ کر دیتے ہیں اس کے عوض طاغوت ان کی طرف روٹی پھینکتا ہے اور ایسے کمزور لوگ ہمارے ممالک میں کس قدر ہیں جنہوں نے اپنا دین وآخرت دنیا کے تھوڑے فائدے کے عوض بیچ دیا ہے۔
نبی علیہ السلام نے فرمایا
«وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ منه صب في أذنيه الآنك»
جو کسی قوم کی خبریں سنتا پھرے اور وہ اس سے بھاگتے ہوں ،ایسے شخص کے کان میں’’انک‘‘ڈالی جائے گی(اسے امام بخاری نے الادب المفرد میں روایت کیا) ۔ الانک سفید رنگ کی ایک دھات ہے جو پگھل جاتی ہے۔
یہ تو اس بندے کے بارے میں ہے جو بے مقصد و فضول باتیں سنتا رہتا ہے لیکن جو خاص جاسوسی کرنے کے لیے سنتا ہو تاکہ اس سے مسلمانوں کے دشمنوں کافروں اور مشرکوں کے مفادات حاصل کیے جاسکیں اس کیا حکم ہوگا؟۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
«يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ، وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ، لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِهِمْ يَتَّبِعُ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَتَّبِعِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ فِي بَيْتِهِ»
اے وہ گروہ جو اپنی زبانوں سے ایمان لایا ہے اور ایمان ابھی تک ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور نہ ہی ان کے خفیہ امور کو تلاش کرو اسلیے کہ جو ایسا کرے گا اللہ اسکے عیبوں کی خبرلے گا اور جس کے عیبوں کی اللہ خبر گیری کرے اسے اس کے گھر میں رسوا کرے گا(رواہ ابوداؤد)۔
پس مسلمانوں کے عیبوں یا خفیہ امور کی جاسوسی کرنا اور پھر مسلمانوں کے دشمن مشرک مجرموں کے لیے ایسا کرنا………ایسا وہی شخص کرسکتا ہے جو پرلے درجے کا مکار منافق دھوکہ باز ہو۔
نبی علیہ السلام نے فرمایا
«مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ، أُرَاهُ قَالَ: بَعَثَ اللَّهُ مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ رَمَى مُسْلِمًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ بِهِ، حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ»
جس نے کسی مسلمان کی کسی منافق سے حفاظت کی اللہ اس کے لیے قیامت کے دن ایک فرشتہ بھیجیں گے جو اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جس نے کسی مسلمان پر عیب لگانے کے لیے کوئی الزام لگایا تو اللہ قیامت کے دن اسے جہنم کے پل پر روک دیں گے یہاں تک کہ وہ سامنے لائے جو اس نے کہا(اسے ابوداؤد نے روایت کیا)۔
یہ اس کے بارے میں ہے جو مسلمان کو ذلیل کرنا چاہتا ہے………تو پھر اس کا کیا حکم ہوگا جو مسلمان پر اس لیے الزام لگاتا ہے تاکہ اسے قتل یاظالم طاغوت کی جیل میں ڈالا جائے۔
سلمہ بن اکوع سے مروی ہے
«أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ المُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُ، ثُمَّ انْفَتَلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«اطْلُبُوهُ، وَاقْتُلُوهُ» . قَالَ فَسَبَقَتھُم الیہ فَقَتَلَهُ، وَاَخَذتُ سَلَبَهُ فَنَفَّلَنِی اِیَّاہُ »
کہ نبی علیہ السلام کے پاس سفر کے دوران مشرکین کا ایک جاسوس پکڑ کے لایا گیا تو آپ اپنے صحابہ کے پاس بیٹھ گئے پھر آپ نے فرمایا اسے پکڑو اور قتل کردو۔سلمہ بن الاکوع کہتے ہیں کہ میں نے دوڑ کرسب سے پہلے اسے قتل کردیا اور اس کا سامان لے لیا تو وہ نبی علیہ السلام نے مجھے بطور غنیمت عنایت فرمادیا(متفق علیہ)۔
فتح مکہ کے دن نبی علیہ السلام نے اس جاسوس عورت کے قتل کا حکم دیدیا بغیر توبہ کروائے جو حاطب رضی اللہ عنہ کا خط لیکر گئی تھی جیسے کہ حدیث میں ہے جسے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے«لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ،إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ»جب فتح مکہ کا دن آیا تو نبی علیہ السلام نے چار آدمیوں اور دو عورتوں کے علاوہ سب کو امن دے دیدیا(اسے نسائی نے روایت کیا)۔
ان دو عورتوں میں سے ایک وہ تھی جو خط لیکر گئی تھی اور اسکا نام ’’سارۃ‘‘تھا!!
امام سحنون کہتے ہیں ’’جب کوئی مسلمان اہل حر ب کے ساتھ پیغام رسانی کرے اسے قتل کیا جائے اور توبہ نہ کروائی جائے گی اور اس کا مال اسکے وارثوں کا ہے‘‘۔
’’المستخرجہ‘‘میں ابن القاسم جاسوس کے متعلق کہتے ہیں قتل کیا جائے گا اور اسکی کوئی توبہ نہیں وہ حکم میں زندیق کی طرح ہے(اقضیة الرسول لمحمد بن فرج صفحہ191)۔
ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ اور امام احمد کے بعض اصحاب جاسوس کے قتل کی طرف گئے ہیں(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ109/28)۔
میں کہتا ہوں کہ اس کا قتل کفرو ارتداد پر ہوگا اور کسی اور چیز پر نہیں(واللہ تعالیٰ اعلم)
مجاہدین کے ساتھ مذاق کرنا………
اللہ عزوجل نے غزوۂ تبوک میں مجاہدین صحابہ کے ساتھ مذاق کرنے والوں کو کافر قرار دیا!
حدثني يونس قال، أخبرنا ابن وهب قال، حدثني هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم،
ابن عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک آدمی نے غزوہ تبوک کی مجلس میں یوں کہا
عن عبد الله بن عمر قال: قال رجل في غزوة تبوك في مجلس:ما رأينا مثل قرائنا هؤلاء، أرغبَ بطونًا، ولا أكذبَ ألسنًا، ولا أﺟﺒﻦ عند اللقاء! فقال رجل في المجلس: كذبتَ، ولكنك منافق! لأخبرن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم ونزل القرآن.
ہم نے اپنے ساتھیوں جیسے لوگ نہیں دیکھے۔یعنی اصحابِ محمدصلی اللہ علیہ وسلم ۔ کھانے پینے پر حریص،جھوٹی زبانوں والے اور لڑائی کے وقت بزدل ،تو مجلس میں موجود ایک آدمی نے کہا تو نے جھوٹ کہا ہے بلکہ تو منافق ہے میں ضرور اللہ کے نبی علیہ السلام کو اس کی خبر دوں گا ۔پس جب آپ کو خبرملی تو اس پر قرآن نازل ہوا۔
عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
فأنا رأيته متعلقًا بحَقَب ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم تَنْكُبه الحجارة، وهو يقول: "يا رسول الله، إنما كنا نخوض ونلعب! "، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ
میں نے اس شخص کو نبی علیہ السلام کی اوٹنی کی رکابوں کے ساتھ لٹکے ہوئے دیکھا اور پتھر اسے زخمی کررہے تھے اور وہ کہہ رہا تھا اے اللہ کے رسول علیہ السلام ہم تو صرف مذاق کررہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ اوراسکی آیات اور اسکے رسول کے ساتھ تم مذاق کرتے ہو۔اب بہانے نہ بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوچکے۔
قتادہ رحمہ اللہ سے ایک روایت میں یوں مروی ہے کہ انہوں نے کہا
حدثنا بشر قال، حدثنا يزيد قال، حدثنا سعيد،عن قتادة قوله:(وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ)، الآية، قال: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير في غزوته إلى تبوك، وبين يديه ناس من المنافقين فقالوا:"يرجو هذا الرجل أن يفتح قصور الشأم وحصونها! هيهات هيهات"فأطلع الله نبيه صلى الله عليه وسلم على ذلك، فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم:"احبسوا عليَّ الرَّكْب!فأتاهم فقال: قلتم كذا، قلتم كذا.قالوا:"يا نبي الله، إنما كنا نخوض ونلعب"، فأنزل الله تبارك وتعالى فیھا ماسمعتم۔.
کیا یہ آدمی امید رکھتا ہے کہ وہ شام کے قلعے اور محل فتح کر لے گا جبکہ ایسا ممکن ہی نہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دے دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس ان لوگوں کو پکڑ کے لاؤ۔جب وہ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے ایسے اور ایسے کہا ہے وہ کہنے لگے اے اللہ کے نبی ہم تو کھیل و مذاق کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں جو تم نے سنی ہیں۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے اس قول میں( إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً)اگر ہم تم سے ایک گروہ کو معاف کریں تو دوسرے کو ضرور سزا دیں گے۔یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جس کو ان میں سے معاف کیا گیا وہ ایک آدمی ہے۔جیسے کہ ابنِ اسحاق کہتے:قال الام الطبری:حدثنا به ابن حميد قال،حدثنا سلمة، عن ابن إسحاق قال:كان الذي عُفِي عنه، فيما بلغني مَخْشِيّ بن حُمَيِّر الأشجعي،حليف بني سلمة،وذلك أنه أنكر منهم بعض ما سمع.)وہ شخص جسے ان میں سے معاف کیا گیا جو مجھے خبر پہنچی ہے کہ اس کا نام مخشن بن حمیر الاشجعی تھا جو بنو سلمہ کا حلیف تھا کیونکہ اس نے جو کچھ سنا اس کا انکار کیا تھا۔
مُعَمّر سے مروی ہے وہ کہتے ہیں(حدثنا محمد بن عبد الأعلى قال، حدثنا محمد بن ثور، عن معمر قال، قال بعضهم: كان رجل منهم لم يمالئهم في الحديث، يسير مجانبًا لهم،فنزلت:( إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً)، فسُمِّي "طائفةً"وهو واحدٌ.)
ان میں سے بعض نے کہا کہ ایک آدمی ان کی بات کی طرف مائل نہ تھا بلکہ وہ ان سے ہٹ گیا تو یہ آیت نازل ہوئی اور اسے طائفہ کہا گیا جب کہ وہ اکیلا ہی تھا۔(جامع البیان للطبری172-174/6)
قرطبی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں( قِيلَ:كَانُوا ثَلَاثَةَ نَفَرٍ، هَزِئَ اثْنَانِ وَضَحِكَ وَاحِدٌ،؛ فَالْمَعْفُوُّ عَنْهُ هُوَ الَّذِي ضَحِكَ وَلَمْ يَتَكَلَّمْ)یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تین آدمی تھے جن میں دو نے مذاق کیا جبکہ تیسرا صرف ہنسا اور اس نے کوئی بات نہیں کہی۔خلیفہ بن خیاط اپنی تاریخ میں کہتے ہیں کہ اسکا نام ’’مخاشن بن حمیر‘‘تھا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مسلمان تھا لیکن اس نے منافقین کی بات سنی اور ہنس دیا اور ان پر انکار نہ کیا اور وہ کہا کرتا تھا
(حدثني يعقوب بن إبراهيم قال، حدثنا ابن علية قال، أخبرنا أيوب، عن عكرمة في قوله: (وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ) ، إلى قوله: (بأنهم كانوا مجرمين) ، قال: فكان رجل ممن إن شاء الله عفا عنه يقول:"اللهم إني أسمع آية أنا أعْنَى بها، تقشعرُّ منها الجلود، وتَجِبُ منها القلوب،اللهم فاجعل وفاتي قتلا في سبيلك، لا يقول أحدٌ: أنا غسَّلت، أنا كفَّنت، أنا دفنت"، قال: فأصيب يوم اليمامة،)
اے اللہ میں ایک آیت سنتا ہوں جس میں مجھے معاف کیا گیاجس سے جلد کانپ اٹھتی ہے اور دل دہل جاتا ہے اے اللہ میری وفات اپنی راہ میں قتل ہونا بنادے اور کوئی یہ نہ کہے کہ مجھے غسل دیا جائے ،مجھے کفن دیا جائے،مجھے دفن کیا جائے۔ پس وہ یمامہ کے دن قتل ہوگیا۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں………اللہ تعالیٰ کا فرمان﴿قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾اس میں حکم دیا گیا کہ انہیں کہا جائے کہ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہو۔جو یہ کہتا ہے کہ انہوں نے کفر کا ارتکاب اپنی زبانوں کے ساتھ کیا جب اس سے پہلے کفر ان کے دل میں تھا۔یہ قول صحیح نہیں کیونکہ زبان کے ساتھ ایمان اور دل میں کفر بھی ہو تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے کیونکہ وہ اس مسئلہ میں ابھی تک کافر ہی ہیں۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ تم نے کفر کو ظاہر کیا بعد اس کے کہ تم ایمان کا اظہار کرچکے۔یہ اظہار انہوں نے اپنے ’’خواص‘‘(یعنی اہلِ مجلس)کے ساتھ کیا اور ان کے ساتھ وہ اب بھی ایسے ہی ہیں۔جب انہوں نے نفاق کا مظاہرہ اور استہزاء کیا اور پھر ڈرے کے کوئی سورت نازل ہوجائے جو ان کے دلوں کے نفاق کو ظاہر کردے، تو وہ اپنے ایمان کے بعد کافر ہوگئے اور الفاظ اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ وہ ابھی تک منافق ہی ہیں۔(یعنی وہ منافقین تھے اور اپنے اسلام کا اظہار کرتے تھے جنہیں مسلمان ہی سمجھا جاتاتھا لیکن اس آیت کے نزول کے بعد وہ واضح کافر ہوگئے)۔(مجموع الفتاویٰ 272/7)
شیخ الاسلام ’’الصارم‘‘میں کہتے ہیں کہ یہ نص ہے اس بارے میں کہ اللہ،اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کرنا کفر ہے۔پس ثابت ہوا کہ یہ صفات جس کسی میں پائی گئیں وہ منافق ہے چاہے وہ پہلے سے منافق تھا یا اس قول کے ساتھ منافق بن گیا۔
میں کہتاہوں جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان مذاق کرنے والوں کو کافر کہا ہے تو پھر وہ جو مجاہدین کو گرفتار کرتا ہے………انہیں جیلوں میں ڈالتا ہے.ان کی تفتیش کرتا ہے………انہیں تعذیب دیتا………اور انہیں طرح طرح کے عذاب دیتا ہے………جگائے رکھتا ہے،بھوک سے مارتا ہے………ضرب لگاتا ہے اور ان کی حرمتوں کو پامال کرتا ہے…………اور انہیں طرح طرح کی تعذیب دیتا ہے جس کے ذکرمیں کئی کتب لکھ دی گئی ہیں………
کیا یہ سب کفر نہیں ہے؟؟………کیا یہ سب کفر نہیں ہے؟؟
اللہ کی قسم یقینا ًیہ کفر ہے اور ہم کسی کی بھی پرواہ نہیں کرتے چاہے وہ کوئی ہو………
آلِ سعود کے مفتی حرکت میں آجائیں ، فتووں اور باطل کے ساتھ ان کا دفاع کرلیں………
کتنا ہی کٹھ پتلی جہادی تنظیموں کے وطن پرست دم چھلے مجاہدین کو خوارج کہہ لیں………
بے شک اللہ کی مدد آرہی ہے………اور اللہ ہی مدد گار ہے………
ہم اللہ کی طرف ’’سعودی اسلام سے اور ’’طاغوتوں کے خود ساختہ اسلام‘‘سے برأت کا اظہار کرتے ہیں………اور ان شاء اللہ مستقبل اسلام کے حامل سچے لوگوں کاہے اور یقیناً یہ سب نظام تباہ وبرباد ہوجائیں گے (ان شاء اللہ)۔
اہم مسائل و تنبیہات!!
مسئلہ نمبر (۱)
انٹیلی جنس والوں کی طرف سے گھروں پر دھاوے بولنا!!
ہمار ا یہ مسئلہ فقہ اسلامی میں’’مفسد دشمن‘‘کے عنوان سے ہے اور اس مسئلہ پرسلفِ امت کے اہلِ علم کا اجماع ہے۔یہاں تک کہ اگر گھر وں پردھاوا بولنے والا مسلمانوں کا اعلیٰ ترین فردہی کیوں نہ ہو اس کے قتل میں بالکل ذرہ بھر بھی تردد نہیں کرنا چاہیے۔
شیخ عبد اللہ عزام رحمہ اللہ اپنے رسالہ(الدفاع عن اراضی المسلمین)صفحہ 6پر کہتے ہیں’’ہر وہ دین جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے وہ پانچ ضروریات فطرت کی حفاظت کے لیے آیا ہے اور وہ ہیں………
(۱)حفاظتِ دین (۲)حفاظتِ نفس
(۳)حفاظتِ عزت (۴)حفاظتِ عقل
(۵)حفاظتِ مال
اس لیے ان ضروریات کی حفاظت لازمی ہے چاہے وہ کسی بھی طریقہ سے ہو اسی لیے اسلام نے یہاں ’’مفسد دشمن‘‘یعنی ’’الصائل‘‘سے دفاع کو مشروع کیا ہے(جامع الاحکام150/8)۔
’’الصائل‘‘وہ ایسا دشمن ہے جو دوسرے پر جبرو قہر کے ساتھ حملہ آور ہو اسکی جان، مال یا عزت پر………اسے ’’عدو الصائل‘‘ کہا جاتا ہے جسے ہم نے مفسددشمن سے تعبیر کیا ہے۔
مفسد دشمن چاہے مسلمان ہو اور عزت پرحملہ آور ہو تو اس سے دفاع کرنا باتفاقِ فقہاء واجب ہے چاہے۔اسی لیے فقہاء نے یہ نص وارد کی ہے کہ مسلمان عورت کو جب اسے اپنی عزت پر خوف ہو یہ بالکل جائز نہیں کہ اپنے آپ کو حوالے کردے چاہے وہ قتل ہوجائے۔
اسی طرح وہ مفسد دشمن جو مال وجان کے درپے ہو اس سے دفاع کرناجمہور علماء کے نزدیک واجب ہے اور راجح رائے کے ساتھ مالکی و شافعی مذہب متفق ہیں کہ چاہے اس میں ایسا حملہ آور قتل ہوجائے۔
جیسا کہ حدیثِ صحیح میں ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا
«مَنْ قَاتَلَ دُونَ مَالِهِ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ،»
جو اپنے مال کی حفاظت کرتا مارا گیا وہ شہید ہے، جو اپنے خون کی حفاظت کرتا مارا گیا وہ شہید ہے جو اپنے دین کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے اہل وعیال کی حفاظت کرتا مارا گیا وہ شہید ہے۔
(یہ حدیث صحیح ہے اسے احمد، ابو داؤد، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا، اس کے ساتھ ملاحظہ کریں حاشیہ ابن عابدین383/5الزیلعی110/6 مواہب الجلیل323/6،تحفۃ المحتاج124/4،الاقناع290/4،الروضۃ البہیۃ371/2اور البحر الذخار268/6)۔
اس حدیث کے بعد ابو بکر الجصاص رحمہ اللہ لکھتے ہیں (لا نعلم لہ خلاف)ہم اس میں کوئی اختلاف نہیں جانتے………کہ اگر کسی آدمی نے کسی دوسرے آدمی پر بغیر حق کے تلوار اٹھائی تاکہ اسے قتل کرے تو مسلمان کو چاہیے اسے قتل کردے(احکام القرآن للجصاص2402/1)۔
اس اِفساد کی حالت میں اگر مسلمان مفسد دشمن قتل ہوجائے تو جہنم میں ہے اور عادل مسلمان قتل ہوجائے تو وہ شہید ہے۔پس جب مسلمان مفسد دشمن کا یہ حکم ہے تو پھر جب کافر مسلمانوں کی زمین پر حملہ آور ہوں اور دین، عزت، نفس اور مال کو تباہ کرنا چاہیں کیا ایسی صورت میں مسلمانوں پر ایسے کافر مفسد دشمن اور کافر حکومت سے دفاع کرنا واجب نہیں؟؟۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں(فالعدو الصائل الذی یفسد الدنیا والدین لا شیئ اوجب بعد الایمان من دفعہ)وہ مفسد دشمن جو دین و دنیا کو تباہ کردیتا ہے ایمان لانے کے بعد کوئی چیز اس دشمن سے دفاع کرنے سے زیادہ واجب نہیں ہے(فتاویٰ الکبریٰ608/4)۔
نبی علیہ السلام نے تو گھر کے اندر سوراخوں سے جھانکنے والے کی آنکھ کو رائیگاں قرار دیا ہے اگر اس کی آنکھ گھر کا مالک ضائع کردے۔اور آپ انے اس شخص کے متعلق حکم دیا جو نمازی کے آگے سے زبردستی گذرنا چاہے کہ اسے ہٹائے اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے قتال کرے۔
یہ مسئلہ تو ہمارے مسئلے سے بہت ہی کم تر ہے تو پھر اس کا کیا حکم ہوگا جو مسلمانوں کے گھروں پر حملہ آور ہو اور ان کی حرمتوں کو پامال کرے، ان کے اہل و عیال کی توہین کرے،ان کی پردہ داری کو عیاں کرے اوربچے اپنے والدین کے کھو جانے پر روتے رہیں.کیا ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنا زیادہ واجب الاوجب نہیں ہے؟؟؟۔
جب پاکستان میں انٹیلی جنس والے گھروں پر دھاوے بولتے ہیں تو پولیس کی اور سول وردیوں میں بڑی تعداد لے کر آتے ہیں۔فوج کے بندر نما کمانڈوز کو ساتھ لیکر آتے اور گھر کے اندر ہر چیز کو تباہ کرتے ہیں گویا کے وہ ڈھاکہ کے بہادر اسے فتح کررہے ہیں۔ کس کس کا قصہ میں بیان کروں کہ ابھی بہت سے بھائی میدان ِ جہاد میں مشغول ہیں اگر ان کی سکیورٹی کا ڈر نہ ہوتا تو میں ان صفحات پر تفصیل ذکر کردیتا۔لیکن اے طاغوت کے کافر ایجنٹو ہم تمہارے ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں جب تلک تمہیں برباد نہ کردیں ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے یہاں تک کہ اللہ کی نصرت آجائے اور دین سربلند ہوجائے(ان شاء اللہ العزیز)۔
جریدۃ ’’الجزیرۃ‘‘ جو مکڑی کے جالے انٹر نیٹ پر نشر کیا جاتا ہے وہ شیخ حمود بن عقلاء الشعیبی رحمہ اللہ کے فتاویٰ کے متعلق لکھتا ہے………’’شعیبی رحمہ اللہ کے فتاویٰ بہت خطرناک ہیں جسے ان کے شاگرد و پیروکار نقل کرتے رہتے ہیں۔ جیسے کہ ان کا فتویٰ جس میں فوج و انٹیلی جنس کے افراد کے قتل کاجواز بیان کیا گیا ہے جو گھروں پر دھاوا بولتے ہیں اور کہا کہ یہ العدو الصائل یعنی مفسد دشمن سے دفاع کرنے کے باب میں سے ہے۔یہ فتویٰ شعیبی رحمہ اللہ نے اپنے بعض شاگردوں کو1415ہجری میں دیا جسے ان کے شاگرد پھیلاتے رہتے ہیں۔
شیخ عبد العزیز الجربوع(فک اللہ اسرہ) کہتے ہیں………
(۱)چرخہ کات کے بنا ہوا کپڑا پھاڑنے والے………اے ’’جریرۃ‘‘پہلے عرش کو ثابت کرو پھر مناقشہ کرو!
(۲)اصل میں اس کا فتویٰ اسلام نے دیا ہے اور شیخ نے ہی اس کا فتویٰ نہیں دیابلکہ اگر کوئی سوال کرنے والا سوال کرے اور کہے کہ اسلام کا کیا حکم ہے ایسے شخص کے بارے میں جو میرے گھر پر حملہ آور ہو اور میں اپنی پناہ گاہ میں، اپنے گھر میں اپنی عورتوں کے درمیان سویا ہوا ہوں اور اچانک گھر پر کوئی حملہ کرے، میری عزت پر حملہ کرے اور میری عورتوں کے پردہ کو عیاں کرے اور اس کی توہین کرے!!!
وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں لوگ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں (جیسے کہ پاکستان کو بھی اسلامی جمہوراکہا جاتا ہے)اور ایسے افعال کرتے ہیں جس کا ابوجہل بھی انکار کردے۔جب ابو جہل سے کہا گیا (لما ذا لا نتسور علی محمدا بیتہ فقال ابو جھل لا واللّٰہ لا افعل فتتحدث العرب عنی انی اورع بنات محمدصلی اللہ علیہ وسلم)ہم کیوں نہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے ارد گرد دیوار بنادیں تو ابو جہل نے کہا اللہ کی قسم نہیں عرب کہیں گے کہ میں نے محمد علیہ السلام کی بیٹیوں کو روک دیا ہے۔
جواب اس کا یہ ہے کہ ایسے شخص کے قتل کرنے میں کوئی شک نہیں ہے!!!
النووی رحمہ اللہ ،المجموع میں کہتے ہیں ’’ایسی حالت میں جو ہمارے اس مسئلہ سے بہت حقیر ہے‘‘ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی ایسی چیز کے سامنے نماز پڑھ رہا ہو جو اسے لوگوں سے بچائے اور اگر کوئی اس کے درمیان سے گزرنا چاہے تواسے ہٹاؤ اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے قتال کرو کیونکہ وہ شیطان ہے(اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا)۔
ہمارے اصحاب کہتے ہیں حدیثِ ابی سعید رضی اللہ عنہ کی بنا پر نماز پڑھنے والے کو سامنے سے گزرنے والے کوروکنا چاہیے۔
ابن عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بے شک نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو کسی کو سامنے سے گزرنے نہ دے اگر وہ انکار کرے تو اس کے ساتھ لڑے کیونکہ اس کے ساتھ شیطان ہے(اسے مسلم نے روایت کیا)۔
مفسد دشمن کو دور کرنا تو اس سے زیادہ آسان فہم ہے اور حسبِ حاجت اسے قتل بھی کیا جاسکتا ہے جب اس میں قوت کا استعمال ہو اگر وہ مر جائے تو اس میں کوئی ضمان نہیں جیسے کہ مفسد دشمن کا معاملہ ہے۔یہ حدیث میں نمازی کے سامنے گذرنے والے کے قتال کا جواز ہے تو تمہارا کیا خیال ہے اس کے بارے میں جو رات کے اندھیروں میں مسلمان مومنین کے گھروں پر دھاوا بولے۔
لیکن ’’رجال الحسبہ‘‘مستثنیٰ ہیں وہ جو طواغیت کے گھروں پر دھاوا بولتے ہیں جن کی کوئی حرمت نہیں اورنہ ہی ان کے گھروں کی کوئی حرمت ہے کیونکہ یہ گھر اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور ان کا حکم ’’حرابہ‘‘ کا ہے لیکن اس سے اس صورت کو متمیز کرنا چاہیے جب ایک طرف دھاوا بولے گئے گھر میں مفسد وفاجر ہو اور دوسری صورت میں جس کے گھر میں دھاوا بولا گیا وہ عالم، صالح، مومن ِعابد ہے۔
الشوکانی (نیل الاوطار)میں کہتے ہیں باب ’’مفسد دشمن سے دفاع کرنے میں چاہے وہ قتل ہوجائے‘‘اور جس پر حملہ کیا گیا وہ شہید مرے گا۔
ابو ہریرۃرضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ
جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي؟ قَالَ: «فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ» قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي؟ قَالَ: «قَاتِلْهُ» قَالَ:أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي؟ قَالَ: «فَأَنْتَ شَهِيدٌ»،قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: «هُوَ فِي النَّارِ»
ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی کہ اگر ایک آدمی آئے اور مجھ سے میرا مال چھیننا چا ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اسے اپنا مال نہ دے ۔اسنے عرض کی کہ اگر وہ مجھے قتل کرنا چاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ساتھ قتال کر۔اس نے عرض کی اگر وہ مجھے قتل کردے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو شہید ہے اس نے عرض کی کہ اگر میں اسے قتل کردوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آگ میں ہے (اسے مسلم اور احمد نے روایت کیا)۔
ایک روایت میں ہے کہ اے اللہ کے رسول علیہ السلام اگر وہ میرے مال پر حملہ کرے تو آپ نے فرمایا اسے اللہ کی یاد دلا کہنے لگا اگر وہ انکار کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی یاددلا کہنے لگا وہ پھر بھی انکار کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے قتال کر اگر تو قتل ہوگیا تو جنت میں اور اگر وہ ہوگیا تو آگ میں جائے گا۔
اس سے یہ فہم حاصل ہوتی ہے کہ اسے آسان سے آسان طریقہ کے ساتھ دفع کیا جائے گا!
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا(مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ)جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے(متفق علیہ)اور روایت میں ہے«مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ»جس کا مال بغیر حق کے چھینا جائے اور وہ اس پر قتال کرتے ہوئے مارا جائے تو وہ شہید ہے(اسے ابوداؤد، نسائی اور ترمذی نے روایت کیا اور اسے صحیح کہا)۔
سعید بن زید کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
«وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ،مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»
جو اپنے دین کی حفاظت پر مارا گیا وہ شہید ہے ،جواپنے خون کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے،جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے اہل وعیال کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے(اسے ابوداؤ اور ترمذی نے روایت کیا اور اسے صحیح کہا)۔
اس فقہی مسئلہ کا ذکر کرنے کے بعد جس پر یہ احادیث دلالت کرتی ہیں، الشوکانی کہتے ہیں’’جیسے کہ یہ احادیث دلالت کرتی ہیں کہ بغیر حق کے مال لینے والے سے قتال کیا جائے اسی طرح یہ احادیث دلالت کرتی ہیں کہ اس شخص سے بھی قتال کیا جائے جو خونِ ناحق بہانا چاہے اور دین و اہل میں فتنہ (آزمائش )کھڑاکرنا چاہے۔
ابن المنذر امام شافعی سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا’’جس کے مال، جان یا حرمت پر حملہ کیا جائے اس پر قتال فرض ہے اور اس کے لیے کوئی دیت ،کفارہ اور قصاص نہیں‘‘۔ابن المنذر کہتے ہیں’’ آدمی کو چاہیے کہ دفاع کرے جبکہ بغیر تفصیل جانے اس پر ظلم کیا جائے‘‘۔یہاں تک کہ انہوں نے کہااس باب کی احادیث دلالت کرتی ہیں کہ اپنے مال،جان اور اہل کے دفاع میں قتل ہونے والا شہید ہے اور اس پر حملہ کرنے والا اگر قتل ہوگیا تو وہ جہنمی ہے کیونکہ پہلا حق پر اور دوسرا باطل پر ہے۔
علمائے مسلمین اور اسلام کے نوجوانوں کو جاننا چاہیے ………کہ موجودہ جنگ………
جیسے کہ شیخ ابو مصعب السوری (فک اللہ اسرہ)نے اپنی مفید کتاب(مسئولیة اھل الیمن)صفحہ17میں کہاکہ مفسد دشمن محض کوئی باغی یا قاطعِ طریق یا کوئی محدود گروہ ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ نیا عالمی نظام ہے………
یہ غاصب یہودیوں کا بلاد الشام فلسطین اور اس کے ارد گرد حملہ ہے جس میں انکی کوشش یہ ہے کہ عالمِ عرب اور اس کے ارد گرد کے تمام علاقوں کواقتصادی،ثقافتی، معاشرتی اور عسکری پروگرام کے بہانے قبضے میں لے لیں………یہ حملہ امریکہ، برطانیہ، فرانس،اسکے اتحادی نیٹو کا روس کے ساتھ مل کر وسطِ ایشیا میں تمام اسلامی ممالک اور ان کے گڑھ میں ان کے مقدسات اور ان کے وسائل پر حملہ ہے………یہ مرتد حکومتوں اور اس کے اداروں،اسکی فوجوں، پولیس،انٹیلی جنس اور اس کے جلادوں اور اس کے کافر میڈیا کا حملہ ہے………
یہ حملہ ہے مسلمانوں پر ان کے دین پر ان کی جانوں پران کی حرمت و اموال پر………
کافروں کی دوست حکومتوں کے ذریعے جو ان کی نائب ہیں………
جو ہمارے اوپر کافر شریعتوں کے ساتھ حکومت کرتی ہیں………
یہ ان گمراہ منافقین کا حملہ ہے جو مفسد دشمن کے خلاف جہاد سے لوگوں کے ہاتھوں،دلوں اور عقلوں پر تالے لگا رہے ہیں اور وہ لوگ جو عدل کا حکم کرتے ہیں ان کے قتل کے فتوے دے رہے ہیں۔تو پھر کب مفسد دشمن کے خلاف جہاد فرضِ عین ہوگا اگر وہ موجودہ حالات میں نہیں ہے………جیسے کہ شاعر نے کہا………
ولیس یصح فی الاذھان شیئ
اذا احتاج النھار الی دلیل
ذہن کیسے کسی چیز کو صحیح سمجھے گا جب دن کی روشنی بھی دلیل کی محتاج ہو
ہم اللہ کی مدد سے اور پوری صراحت سے اس ایمان کے ساتھ اعلان کرتے ہیں………
آج ہر مسلمان پر جہاد فرضِ عین ہے………یہودیوں اور صلیبیوں کے خلاف تلوار و اسلحہ کیساتھ………وہ جہاں بھی ہمارے ممالک میں پائے جائیں سول ہوں یا عسکری،قابض ہویا اقتصادی،عیسائی مبلغ ہوں یا کفر کے داعی یافحاشی وگمراہی کے داعی ہوں۔
آج مرتد حکمرانوں،ان کے مددگاروں اور اپنے وجود اور مرکز کے ساتھ ان کا دفاع کرنے والوں کے ساتھ صلیبیوں اور یہودیوں کے ساتھ ………تلوار واسلحہ کے ساتھ………قتال وجہاد فرض عین ہے۔
اسی طرح منافقین کی باطل دلیلوں کا رد حق کی دلیلوں کتاب وسنت کے ساتھ،علماء ،دعاۃ ومجاہدین پر واجب ہے۔جیسے کہ اللہ نے فرمایا ﴿وَكَذلِكَ نُفَصِّلُ الْآياتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ﴾اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ مجرموں کا رستہ واضح ہوجائے۔
یہ تو مسلمانوں کے عام ممالک کے متعلق حکم ہے لیکن مسلمانوں کے مقدسات،جزیرۃ یمن،شام،بلادِ حرمین کا کیا حکم ہے جس کے متعلق نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں سے تمام مشرکین کو نکال دیا جائے اور یہ کہ وہاں دو دین اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ا س میں کوئی شک نہیں کہ یہ اس سے زیادہ واجب ومئوکد ہے۔
کیونکہ وہاں مسلمانوں کا قبلہ اور انکے نبی علیہ السلام کی مسجد ہے وہاں مسلمانوں کا بیت المال ہے اور وہ ہے پٹرول اور گیس اور وہ وسائل جس سے اللہ نے اہلِ اسلام کو نوازا ہے اور اسے اپنے گھر کے ارد گرد اور مسجدِ نبوی کے اطراف میں پھیلا دیا ہے۔
تو کیا نوجوان اپنی آنکھوں کے سامنے سے غبار ہٹائیں گے اور حرکت کریں گے اور اپنی عقلوں کو آزاد کریں گے ۔اس میں کوئی حرج نہیں کہ آج ہمارا ایک گروہ مر جائے تاکہ اس کے بعد امت زندہ ہوجائے………
﴿وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُوْنَ﴾
اور اللہ اپنے حکم میں غالب ہے لیکن اکثر لوگ بے خبر ہیں
”تبیین الموانع‘‘………
مسئلہ ’’تبیین الموانع‘‘اس فرد کے حق میں واجب ہے جس پر قدرت ہو ، ممتنع ومحارب پر واجب نہیں!
صاحبِ کتاب(الرسالة الثلاثینیة فی التحذیر من الغلو فی التکفیر)صفحہ66پر لکھتے ہیں کہ موانع کی وضاحت اس بندے کے بارے میں واجب ہے جس پر قدرت ہو لیکن ممتنع و محارب کے بارے میں کسی مانع کا تلاش کیا جانا واجب نہیں۔(مقدور علیہ یعنی وہ جس کو گرفتار یا قابوکیے جانے کی قدرت ہو اور اسکا محاسبہ کیا جاسکتا ہو جبکہ ممتنع وہ جو کسی شرعی عمل سے انکاری ہو اور اس پر قدرت نہ ہو)
امتناع دو معنوں پر ہے………
(۱)………شریعت پر کل یا جزئی عمل کرنے سے انکاری ہونا۔
(۲)………قدرت سے امتناع یہ کہ مسلمان اسے روکیں، گرفتار کریں یا محاسبہ کریں۔
ان دونوں اقسام میں کوئی تلازم نہیں کیونکہ بعض اوقات شریعت پر عمل سے انکاری ایسا ہوتا ہے کہ اس پر دارالاسلام میں قابو پایا جاسکتا ہے جیسے کہ زکوۃ کے منکرین اور وہ ایسا فرد ہے جو دار الاسلام میں ’’مقدور علیہ‘‘ہے۔
بعض اوقات یہ دونوں جمع بھی ہوجاتے ہیں کہ جس میں شریعت سے انکاری دارالکفرمیں، یا کسی طاقتور گروہ میں قانون،اختیار یا حکومت میں ہوتاہے جہاں مسلمانوں کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ اسے ہٹائیں اور اس پر اللہ کی حد کو نافذ کریں………اسی طرح ممتنع بعض اوقات ہاتھ کے ساتھ لڑنے والا اور بعض اوقات زبان کے ساتھ لڑنے والا ہوتا ہے(الصارم المسلول388)۔
جبکہ علماء نے اس پر نص وارد کی ہے کہ وہ ممتنع یا انکاری جس پر قدرت ہواس سے توبہ کروانا واجب نہیں تو من باب اولیٰ اس محارب سے بھی نہیں کروائی جائے گی جس نے مسلمانوں کے دیار پر حملہ کردیا ہو اور اس پر قبضہ کر لیا ہو اور حکومتی کرسیوں پر براجمان ہوگیا ہو۔
اسی طرح توبہ کروانے کے بھی دو معنیٰ ہیں………
(۱)………جس پر ارتداد کا حکم لگایا گیا ہے اس سے توبہ طلب کرنا۔
(۲)………ارتداد کا حکم لگانے سے پہلے شرائط و موانع کو دیکھنا………اس پر ہم تنبیہ کرنا چاہتے ہیں.وہ جو اسلام کی شریعت سے ممتنع ہے اور اللہ کے حکم کی طرف لوٹنے سے ممتنع ہے………جومسلمانوں کے ساتھ جنگ کرکے ان کی قدرت و حکم سے مُمتَنِع ہے………چاہے وہ کافر حکومت اور اس کے قوانین کے ساتھ ممتنع ہے………یا اسکی افواج واداروں کے ساتھ………اس کے اندر دونوں قسم کاامتناع(انکار)جمع ہوگیا ہے اس لیے اس کے ساتھ قتال سے قبل شروط وموانع کی تبیین واجب نہیں!!!۔
کیونکہ اس نے اپنا آپ مسلمانوں کے حوالے نہیں کیا اور نہ ہی ان کی شریعت وحکم کو تسلیم کرتا ہے ،ایسے حال کے حامل کے متعلق یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کے اوپر ’’حجت‘‘قائم نہیں ہوئی جیسے کہ بعض لوگ اس میں یہ بہانہ تراشتے ہیں۔جبکہ یہ لوگ ہمارے ساتھ دین میں قتال کررہے ہیں اور دیار اسلام پر اپنی قوت کے ساتھ قابض ہیں اوراسلام کی شریعت سے ممتنع ہیں اور انہوں نے کفر وطاغوت کی شریعت کو نافذ و فرض کررکھا ہے۔
محمد رحمہ اللہ بن حسن الشیبانی کہتے ہیں’’اگر اہل حرب میں سے کوئی قوم جسے اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو مسلمانوں پر چڑھائی کردے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ بغیر دعوت کے ان کے خلاف قتال کریں،انہیں قتل کریں،قید کریں اور ان کا مال غنیمت بنائیں تو یہ جائز ہے(السیر الکبیر)۔
عبارت میں موجود ’’مسلمانوں‘‘ کا لفظ السرخسی کی شرح میں ہے جسے انہوں نے ثابت کیا ہے۔اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر ایک مسلم دوسرے مسلمان پر تلوار سونت لے تو جس پر سونتی گئی ہے اس کے لیے تلوار سونتنا،اور اپنے دفاع کے لیے قتل کرنا حلال ہوگیا ہے۔ یہاں یہی بات اولیٰ ہے۔ لیکن اگر وہ اس موقع پر اسلام کی دعوت میں مشغول ہوجائیں تو پھر ہوسکتا ہے غلام بننا، قتل اور حرمتوں کی توہین واقع ہوجائے اس لیے یہاں دعوت واجب نہیں۔
ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں’’اس میں سے یہ ہے کہ مسلمان کفار کو قتال سے پہلے دعوت دیں۔اگر دعوت ان تک نہیں پہنچی تو اسلام کی دعوت دینا واجب ہے اور اگر پہنچی ہے تو مستحب ہے۔ لیکن یہ اس صورت میں جب مسلمان کفار پر حملہ آور ہوں۔جب کفار مسلمانوں کے دیار پر حملہ آور ہوں تو اس وقت بغیر دعوت کے قتال کیا جائے کیونکہ ایسے وقت میں وہ اپنے نفس اور اپنی حرمت کا دفاع کر رہے ہیں(احکام اھل الذمہ5/1 )۔
یہ فرق علماء کی جہاد اقدامی اورجہاددفاعی کی تقسیم سے ہے۔
اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی متعدد مواقع پر یہ فرق کیا ہے جیسے ’’مرتدِ مغلظ‘‘، جسکا ارتداد امتناع،جنگ،قتل وقتال کے ساتھ ہو تو یہ بغیر توبہ کے قتل کیا جائے گا اور ’’مرتد مجرد میں‘‘جو توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ قتل کیا جائے گا(فتاویٰ 59/20)۔
اسی طرح انہوں نے کہا کہ اگر مرتد دار الحرب کے ساتھ منسلک ہونے سے انکاری ہو یا یہ کہ مرتدین قوت والے ہوں اور شریعت سے انکاری ہوں، توایسے مرتدین کو بلا تردد قتل ہی کیا جائے گا(الصارم المسلول322)۔انہوں نے کہا’’ممتنع کو توبہ نہیں کروائی جائے گی بلکہ مقدور علیہ کو توبہ کروائی جائے گی(الصارم المسلول325-326)۔
شبہات جو پھیلا ئے جاتے ہیں!!
طاغوت کے فوجی بہت سے شبہات پھیلاتے رہتے ہیں اور ایسے شبہات بہت بودے اور مردود قسم کے ہوتے ہیں۔ان شبہات میں سب سے بڑا شبہہ یہ ہے کہ
(۱) حکومتِ سعودیہ کا کفر ’’کفر دون کفر ہے یعنی کفر سے چھوٹا کفر ہے۔ اس شبہ کی حقیقت جاننے کے لیے مفید کتاب(الکَوَاشِفُ الْجَلِیَّہ فِیْ کُفْرِ دَوْلَةُ السَّعُوْدِیَّة)کا مطالعہ کیجیے۔
(۲) یہ فوجی کلمہ گو ہیں لا الہ الا اللہ کہتے ہیں۔
(۳) یہ روزے رکھتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں۔
(۴) جس نے مسلمان کی تکفیر کی وہ کافر ہوگیا۔
(۵) وہ جہالت کے ساتھ معذور ہیں۔
(۶) وہ مجبور ہیں یعنی زیرِ اکراہ ہیں۔
(۷) وہ کمزور ہیں یعنی الاستضعاف۔
(۸) روزی کاکیا کریں کہا ں سے حاصل کریں گے!!!
(۹) مصلحت کے تحت ہی سب کچھ کیا جاتا ہے اور اس طرح کے دیگر شبہات ہیں جو پھیلائے جاتے ہیں۔یہاں ہم ان شبہات کو سمجھنے کے لیے شیخ ابومحمد عاصم المقدسی کی ایسے ہی ایک فرد سے ہوئی بحث کو نقل کرتے ہیں۔اس کے حاشیہ میں ہم تمام مراجع پیش نہیں کرسکے جب کہ وہ سارے موجود ہیں لیکن چند ایک کو ہم نے وارد کیا ہے۔
شیخ ابو محمد المقدسی اپنے رسالہ(حوار بین عساکر الشرک وعساکر التوحید)صفحہ1-3میں کہتے ہیں………
میں اسے جیل کے درمیانی رستوں میں ملا تو میں نے اپنا چہرا اس سے پھیر لیا اور اپنے کام کی طرف چلا گیا ۔پھر جب میں واپس لوٹا تو میں نے اسے اسی جگہ پایا۔جب میں اس کے قریب سے گذرا تو وہ کہنے لگا ………یہ کیا ہے کوئی سلام نہیں کوئی کلام نہیں؟؟
میں نے کہا اور کیا ہمارے درمیان ’’سلام‘‘یعنی امن وسلامتی ہے۔
وہ کہنے لگا طواغیت کے دم چھلے یہیں ہیں!
میں نے کہا نہیں………آپ باریک بینی سے بات کریں ہم تمہارے بارے میں نہیں کہتے کہ تم طواغیت ہو………تاکہ ہم واضح گفتگو کریں ………تم طواغیت کے معاون ہو، تم طواغیت کے فوجی ہو تم طواغیت کے انصار ہو۔
وہ کہنے لگا ………اے میرے شیخ اللہ کی قسم آپ میرے متعلق جو مرضی کریں میں آپ سے محبت کرتا ہوں………!!!
میں نے کہا کہ میں تجھ سے دھوکہ کروں گا اگر میں کہوں کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔ نہیں اللہ کی قسم نہیں میں تجھ سے محبت نہیں کرتا جب تک تو یہ لباس پہنے ہوئے ہے،جب تک تو وضعی قانون کے پہریداروں میں سے ہے……… لیکن اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں میں تیرے لیے خیر پسند کرتا ہوں………تیرے لیے ہدایت کی تمنا رکھتا ہوں۔
وہ کہنے لگا ………اے شیخ اللہ کی قسم میں نماز پڑھتاہوں، قرآن پڑھتاہوں اور کچھ دنوں بعد عمرہ کے لیے جارہا ہوں۔
میں نے کہا جہاں تک تیری نماز اور تیری تلاوتِ قرآن اور دوسری عبادات کا تعلق ہے تو یہ توحید کے بغیر قبول نہیں ہوتیں۔اللہ مشرکین کے اعمال،نماز اورروزوں کے متعلق فرماتے ہیں﴿وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا﴾ کتنے ہی ان کے اعمال ہماری طرف چڑھتے ہیں تو اسے اڑا ہوا بھوسہ بنا دیتے ہیں۔کیا جسم کو نجاست سے پاک نہیں کیا جاتا اور وضوء نماز کی صحت کے لیے شرط نہیں؟؟
کہنے لگا ………ہاں
میں نے کہا تو پھر اس سب سے قبل بڑی شرط ہے ’’توحید‘‘………نفس کی شرک سے طہارت۔اللہ تعالیٰ نماز،روزہ،حج اور عمرہ اس شرط کے بغیر قبول نہیں کرتے۔ اس لیے تو عمرہ کے لیے جائے گا شرک کو اٹھائے ہوئے اور واپسی پرزمزم، مسواک اور ٹوپیاں اٹھائے ہوئے اور ساتھ شرک لیے آئے گا۔کیونکہ حج، عمرہ وغیرہ نیکی کے ایسے اعمال ہیں جن سے بہت سے گناہ جھڑ جاتے ہیں سوائے شرک کے۔پس اس سے خلاصی حاصل کرنا ضروری ہے.نماز روزہ اور حج سے پہلے ہر اس چیز سے برأت جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے۔
وہ کہنے لگا اے شیخ ………شرک!! تم ہمیں دیکھتے ہو کیا ہم نے کبھی غیر اللہ کی عبادت کی یا کسی اور کے لیے ہم نے کبھی نماز پڑھی………شیخ تم پر حرام ہے کہ تم ہمیں مشرک کہو……… نبی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جس نے مسلمان کو کافر کہا وہ کافر ہوگیا!!!
میں نے کہا ہاں………ہوسکتا ہے کہ تو غیر اللہ کے لیے نماز نہیں پڑھتا اور نہ ہی اس کے لیے حج کرتا اور روزہ رکھتا ہے لیکن توشریعت، امر ونہی کو غیر اللہ سے حاصل کرتا ہے۔اسی لیے جب ہم تجھ سے لڑتے ہیں تیری اپنے آقاؤں کی اطاعت کے سبب تو تو کہتا ہے کہ ’’میں آڈر کی وجہ سے مجبور ہوں‘‘۔اللہ تعالیٰ فرماتے ﴿أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴾کیا متفرق رب بہتر ہیں یا اکیلا اللہ واحد و قہار۔پس تو اللہ کی شریعت کے مخالف وضعی قانون کی حمایت اور اسکا پہرہ دیتا ہے جبکہ اللہ نے تجھے اس سے کفر کرنے کا حکم دیا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾اور تحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرواور طاغوت سے اجتناب کرو۔جبکہ ’’طاغوت‘‘ کا لفظ عام ہے اور یہ اللہ کے علاوہ عبادت کیے جانے والے بتوں، شیطانوں ، جن وغیرہ کو شامل ہے چاہے وہ عبادت کسی بھی قسم کی ہو اور وہ اس عبادت پر راضی ہوں۔
وہ کہنے لگا………ہم اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتے!!
میں نے کہا شریعت سازی(قانون سازی)میں عبادت کرنا عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ِ کتاب کے متعلق فرماتے ہیں﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ﴾ انہوں نے اپنے علماء و راہبوں کو اللہ کے علاوہ رب بنالیا تھا۔یہ اس لیے تھا کہ انہوں نے ’’تشریع ‘‘(قانون سازی)میں ان کی اطاعت کی تھی۔اسی طرح اللہ سبحانہ نے تشریع کے ایک مسئلہ میں اور وہ تھا ذبح کرنا………جبکہ مشرکین یہ سمجھتے تھے کہ مردار اور ذبح کیے گئے جانور میں کوئی فرق نہیں تو اللہ نے فرمایا﴿وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ﴾اگر تم نے ان کی اطاعت کی تم مشرکوں سے ہوجاؤگے۔
وہ کہنے لگا ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ مردار ذبح کیے گئے کی طرح ہے!!
میں نے کہا ہاں ………تم یا تمہارے سردار ہی یہ کہتے ہیں﴿إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ﴾بے شک بیع (خرید وفروخت) سود کی مانند ہے اور اللہ نے بیع کو حلال اورسود کو حرام کردیا ہے۔اسی لیے تمہارے بڑے سود ایسا حلال کرتے ہیں جیسے کہ بیع وتجارت کو اور اس کے لیے سودی کمپنیاں اور ادارے قائم کرتے ہیں اور ایسے قانون بناتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں جیسے کہ تمہارے اقتصادی قوانین میں ہے۔
اور تیرا یہ کہنا (من کفر مسلما فقد کفر)جس نے کسی مسلمان کی تکفیر کی وہ کافر ہوگیا………تو یہ حدیث نہیں ہے بلکہ حدیث اس طرح ہے(إِذَا أَحَدُكُمْ قَالَ لِأَخِيهِ:يَا كَافِرُ،فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا)جس نے اپنے بھائی کو کہا اے کافر تو اگر وہ ایسا ہے ورنہ وہ کلمہ کہنے والے پر لوٹ جائے گا۔ دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔پہلے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کی تکفیر ممکن ہی نہیں اوریہ صحیح نہیں ہے ۔کیونکہ مسلمان جب کفریہ کلمہ بولے گا،اس کا ارتکاب کرے گا یا اعتقاد رکھے گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔اسی لیے اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے حفاظ قرآن صحابہ کے متعلق مذاق کیا تھا،فرمایا﴿لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ﴾اب بہانے نہ بناؤتم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے۔اسی طرح فقہ کی کتابوں میں تمہیں مستقل ابواب ملیں گے جن کا عنوان ہے (باب حکم المرتد)اور یہ اس مسلمان کے متعلق ہے جو اپنے اسلام کے بعد کفر اختیار کرتا ہے۔
جب کہ حدیثِ صحیح بیان کرتی ہے کہ اگر ایسے مسلمان کے اندر واقعۃً کفر موجود ہے تو اس کی تکفیر میں کوئی حرج نہیں۔حرج تو اس میں ہے کہ جب کسی ایسے مسلمان کی تکفیر کی جائے جس سے کفر و شرک واقع ہی نہ ہوا ہو۔ہم مسلمانوں کی تکفیر نہیں کرتے بلکہ ہم تو مشرکین کی تکفیر کرتے ہیں جو طاغوت کے بندے ہیں اس کے فوجی ہیں اور اس کے انصار ہیں جو وضعی کفری قانون کا پہرہ دیتے ہیں اور اس سے برأت کا اظہار نہیں کرتے اور شریعت وتوحیدکے انصار کو جیلوں میں ڈالتے ہیں اور ان سے جنگ کرتے ہیں۔
وہ کہنے لگا اے شیخ………اس کا مطلب تو یہ ہے جب ہم آپ سے دشمنی کرتے ہیں تو آپ انکار کریں کہ آپ کو کوئی بھی پولیس والا اور افسر نہ چھوئے یعنی ہم کیونکہ ہم ’’نجس ‘‘ہیں!!!
میں نے کہا اللہ فرماتے ہیں ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾بے شک مشرکین پلید ہیں۔پھر شرک کی نجاست سے بیت اللہ کی تطہیر اور اسکی حفاظت کے لیے فرمایا﴿فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا﴾ پس اس سال کے بعد وہ مسجدِ حرام کے قریب بھی نہ پھٹکنے پائیں۔مسلمان موحد تو اللہ کے ہاں بیت اللہ سے بھی زیادہ محترم ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ’’نجاست‘‘بھی معنوی ہے نہ کہ حقیقی نجاست مراد ہے۔خصوصاً ایسے مسلمان کے حق میں جو اسلام کا دعویدار ہے اور ایسی عبادات بجالاتا ہے جو طہارت کو لازم کرتی ہیں۔جبکہ تم لوگوں کے جسم توظاہراً شاید پاک و نظیف ہی ہوں گے لیکن تمہارے نفوس ایسے نہیں ہیں جب تک وہ شرک کی نجاست سے اٹے ہوئے اور اس سے برأت سے دور ہیں۔
ہم تمہارے (قید کے دوران)ہمیں چھونے کا انکار اس لیے نہیں کرتے کہ تمہارے ساتھ نجاست ہے اور طہارت نہیں۔تم تفتیش کے دوران ہمیں چھوتے ہو لیکن ہم اس کا انکار اس قدر کرتے ہیں جتنا ممکن ہوسکے۔کیونکہ تمہارے اکثر لوگ متکبر وگھمنڈی ہیں۔ہم نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم قیدیوں کو کیسے تیار کرتے ہو جیسے وہ کوئی چوپائے یا جانو ر ہوں لیکن ہم اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ہم دین میں ایسی ذلت قبول کریں۔ لیکن جو کچھ تم دیکھتے ہو اگر ہم اس سے بھی خاموش ہوجائیں تو تمہاری زبانیں ہمارے اوپر اس سے بھی لمبی ہوجائیں کیونکہ تم جھکنے والوں کو ڈنڈوں اور کوڑوں سے اور زیادہ مارتے ہو۔ہم ایک ایسی دعوت والے لوگ ہیں جن کو اللہ نے توحید کیساتھ عزت دی ہے اور ہم اسی کی وجہ سے جیل میں ڈالے گئے ہیں اور ہم انکار کرتے ہیں اس بات سے کہ ہمارے ساتھ ایسے لوگوں جیسا سلوک کیا جائے جنہوں نے اپنی کسی بہن کی حرمت کو پامال کیا ہو۔
وہ کہنے لگا لیکن تم لوگوں کا اسلوب بہت برا ہے جبکہ فلانی جماعت کے لوگوں کا اسلوب اتنا اچھا ہے وہ ہمارے ساتھ مصافحہ بھی کرتے ہیں اور مسکراتے بھی ہیں اسی لیے ہم ان سے ڈرتے ہیں کہ کوئی ان کے اسلوب سے متاثر ہوکر ان کا ہی نہ ہوجائے۔جبکہ تم لوگ اپنی دعوت کے اسلوب اور عدمِ سلام کے ساتھ متنفر کرتے ہو۔
میں نے کہا………جب میں تجھے توحید کی طرف بلاتا ہوں یا تیرے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہوں تو میرا ہدف یہ نہیں ہوتا کہ تجھے بھرتی کروں یا کسی تنظیم وحزب میں شامل کروں جیسا کہ دوسروں کا ہدف ہے۔میرا پہلا ہدف یہ ہوتا ہے کہ تجھے شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید کے نور کی طرف لے جاؤں اور جب میں تجھے دعوت دیتا ہوں تو اس لیے نہیں دیتا کہ تو کسی معین جماعت کا کارندہ بن جائے بلکہ میں تجھے طاغوت کے لشکر اور وضعی کفری قانون کو ترک کرنے کی دعوت دیتا ہوں تاکہ تو توحید و شریعتِ اسلام کا فوجی بن جائے۔ پھر اس اسلوب سے میرا ہدف یہ بھی ہوتا ہے کہ میں اس توحید کا اظہار کروں جو شرک اور اس کے اہل سے برأت کا تقاضہ کرتی ہے تاکہ اللہ مجھے اس ’’طائفۂ منصورہ‘‘میں شامل کرلے جو اللہ کے دین پر قائم رہے گاکہ ان کی مخالفت کرنے والا ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے گایہاں تک کہ قیامت قائم ہو۔ اس لیے میں تیرے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہوں، نہ تیرے ساتھ مصافحہ کرتا ہوں،نہ تجھے سلام کرتا ہوں اور نہ تیرے قانون کے ساتھ تیرا اعتراف کرتا ہوں بلکہ تیرے لیے یہ ظاہر کرتا ہوں کہ تو کفر وشرک پر ہے جب تک توقانونِ وضعی کا مدد گار ہے اور اللہ کی شریعت کو رسوا کررہا ہے۔میں تجھے دعوت دیتا ہوں کہ تو جس رستے پر ہے اسے چھوڑ دے،شرک اور مشرکین کی نصرت چھوڑ دے تاکہ تو آگ سے بچ جائے .وہ آگ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔میں تجھے اس کی طرح دعوت کبھی نہیں دوں گا جو تیرا کندھا تھپکے،مداہنت کا اظہار کرے، مصافحہ کرے،مسکراکے ملے اور تیرے باطل کو خوبصورت بنائے اور تجھے تیرے شرک پر قائم رکھے۔اس کے بعد تو کیا سمجھتا ہے کہ کون تیری اصلاح کا زیادہ حریص ہے۔
اے اس قانون و نظام کی پہریداری کرنے والے………!!اللہ کی قسم ہم تیرے لیے خیر پسند کرتے ہیں ہم ملک اور اسکی مصلحتوں پر سب سے زیادہ حریص ہیں بلکہ تیر ے حکمران کی مصلحت پر بھی جس کی تو اطاعت کرتا اور اپنی جان سے زیادہ اس کی پہرے داری کرتا ہے۔
کہنے لگا کیسے………؟!
میں نے کہا………میری، تیری اور اس ملک کی موجودہ حالت کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ریل گاڑی ہو جسے بادشاہ چلا رہا ہے اور اس کے ڈبے اس کا نظام اور وزراء ہیں۔یہ ریل گاڑی بڑی سبک رفتاری سے پٹڑی پر دوڑ رہی ہے اور یہ پٹڑی سیدھی جہنم کے گڑھے میں جاگرتی ہے۔میں اور میرے جیسے توحید کے داعی اس ریل گاڑی کے سامنے کھڑے ہیں اور اسے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اس گڑھے میں نہ گرجائے۔
ہم اسے روکتے ہیں………اور آواز لگاتے ہیں دور ہوجاؤ………
اللہ کے ساتھ قانون سازی مت کرو………اللہ کے ساتھ شرک سے بچو………
وضعی قانون(خود ساختہ)قانون چھوڑ دو………
سود کو حرام قرار دو………زناء سے اجتناب کرو………
دینِ حق کو اپنا لو………پھر تو اور تیرے جیسے اس طاغوتی قانون کے فوجی کیا کریں گے!!!
وہ (بد نصیب)کہنے لگا………ہم اس ریل گاڑی کو مزید ایندھن دیں گے تاکہ وہ تجھے اور تیرے جیسے دوسروں کو تیزی سے روندتی اور کچلتی ہوئی نکل جائے!!!
میں نے کہاں یہی تمہاری حقیقت ہے………تم اسے اور دھکا لگاؤ تاکہ وہ مجھے اور میری دعوت کو روند ڈالے اور تم میری تنبیہ کو پسِ پشت ڈال دو………اور پھر جہنم کے گہرے گڑھے میں جاگرو………اس لیے میں ملک اور اس کے باسیوں کی مصلحت کا زیادہ حریص ہوں،میں اپنی زندگی اور عمر اسی لیے کھپا رہا ہوں تاکہ تمہیں شرک و آگ سے بچاؤں………لیکن تم مجھے اور میرے جیسے داعیوں کو اس پر جیلوں میں ڈالتے ہو اور تعذیبیں دیتے ہو۔
اس کے بعد پھر تم جیل میں آکر مجھے لیکچر دیتے ہو کہ اللہ کی طرف دعوت کا اسلوب کیا ہو؟!………دعوت کے اسلوب وغیرہ جیسے فروعی امور میں بات کرنے سے پہلے ………اللہ کی طرف توبہ کرلے اور شرک اور اس کے خود ساختہ قانون (وضعی قانون)کی حفاظت سے باز آجا………اللہ سے ڈر کہ تو اس حال پر مرجائے جس پر کہ تو ہے………اگر تیرا حال یہی رہا تو تو کبھی فلاح نہ پائے گا!!
(شیخ مقدسی کا کلام ختم ہوا)
پہلا اعتراض………جہالت کا عذر!
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ فوجی اور انٹیلی جنس والے جاہل ہیں اور انہیں ا س بات کی ضرورت ہے کہ کوئی انہیں سمجھائے اور انہیں دعوت دے۔وہ نہیں جانتے کہ ان کے بڑے طاغوت ہیں اور ان کے خود ساختہ قوانین میں ان کی اطاعت کرنا شرک اور ان کی عبادت کرنا ہے۔اس لیے ان طواغیت کی مدد کرنا، اس نظام کا پہرہ دینا اور معاونت کرنا………وغیرہ وغیرہ ………کفر نہیں ہے!!!
اس اعتراض کے رد میں ہم کہتے ہیں………
ان فوجیوں وغیرہ کو دعوت دینا مستحب ہے اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں اور یہ بہتر کاموں میں سے ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے اورنیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
لیکن اللہ کی عبادت میں شرک کرنے والا ہر مشرک دعوت سے پہلے،اس کے دوران اور اسکے بعد………جب تک وہ توحید کا التزام نہیں کرتا اور طاغوت کا انکار نہیں کرتا………تو وہ مشرک ہی رہتا ہے۔جبکہ ان کو دعوت دینے کی اہمیت ان کے حکم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں کرتی اور نہ ہی انہیں موحدین بنادیتی ہے یا ان کا نام مشرکین سے خارج کردیتی ہے۔اللہ عزوجل فرماتے ہیں﴿وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ﴾اور اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے پھر اسے اس کی پناہ گاہ میں پہنچادویہ اس سبب کہ یہ ایسی قوم ہیں جو کچھ نہیں جانتی۔
اللہ عزوجل نے انہیں دعوت سننے سے قبل بھی مشرکین کا نام دیا اور ان کا یہی وصف بیان کیا کہ وہ نہیں جانتے یعنی جاہل ہیں۔اللہ کا آپ کو ان کی دعوت وتبلیغ کا حکم دینا،دعوت سے قبل،اس کے دوران اور بعد میں انہیں اس وصف سے ہر گز خارج نہیں کرتا جب تک کہ وہ شرک کے ساتھ چمٹے ہوئے اور توحید کو ترک کیے ہوئے ہیں۔
شرکِ اکبر جو ملتِ ابراہیم کے منافی ہے جس کا مطلب ہے ظاہری عبادات کو غیر اللہ کی طرف پھیر دینا………یہ ایساامر ہے جس کے مرتکب کو معذور نہیں سمجھا جاسکتا،جبکہ اللہ عزوجل نے اس کے اوپر کئی وجوہ سے حجت قائم کردی ہے۔جس کے دلائل درج ذیل ہیں۔
(۱)ظاہری کونی دلیلیں جو اللہ کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔کہ وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا،رزق دیا،صورتیں بنائیں، تدبیر کیااور وہی واحد اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور وہی اس لائق ہے کہ وہ قانون سازی کرے اور عقلاً وشرعاً بھی یہ جائز نہیں کہ عبادات کسی غیر کی طرف موڑدی جائیں۔اللہ فرماتے ہیں﴿أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ﴾خبردار مخلوق بھی اسکی حکم بھی اسی کا ہے۔
(۲) اللہ تعالیٰ کا آدم کی اولاد سے عہد لینا………جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَىٰ شَهِدْنَا أَن تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّن بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾جب تیرے رب نے آدم کی نسل سے ان کی تمام پشتوں تک عہد لیا اور اس پر انہیں گواہ بنایا ،کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو ان سب نے کہا بے شک آپ ہی ہمارے رب ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں،یہ کہ تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم تو اس بات کو نہ جانتے تھے۔یا یہ کہ تم کہو کہ ہم سے پہلے ہمارے آباء نے شرک کیاتھا اور ہم تو ان کی اولاد میں سے تھے کیا آپ ہمیں ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کرتے ہیں۔تو اللہ نے عہد لینے کے بعد واضح شرکِ ظاہر ومبین میں غفلت ،جہالت اور تقلیدِ آباء کے سبب ان کا کوئی عذر قبول نہیں کیا۔
(۳)وہ فطرت جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اسے بندوں کے دلوںمیں راسخ کیا ہے کہ وہی خالق، رازق ہے،وہی معبود ہے اور وہی شریعت ساز(قانون ساز ہے)۔جیسے کہ حدیث میں ہے جسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(کُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ) ہر پیدا ہونے والا فطرت پر ہی پیدا ہوتاہے لیکن اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بناتے ہیں اورصحیح مسلم کی روایت میں ہے(وَیُشۡرکَانِہِ)اور اسے مشرک بناتے ہیں۔
حدیث قدسی میں ہے جسے مسلم نے روایت کیا ہے(إِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ، وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ، وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ)میں نے اپنے بندوں کو دینِ حنیف پر پیدا کیا تو شیاطین انہیں اچک لے گئے اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھی۔
(۴)تمام انبیا علیہم السلام کو اسی مقصد کے لیے بھیجا گیا۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾تحقیق ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔اللہ فرماتے ہیں﴿رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول تاکہ لوگوں کے لیے اس کے بعد اللہ کے سامنے کوئی حجت (عذر)نہ رہ جائے۔پس جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا پیغام نہیں پہنچا وہ اپنے دوسرے سے سن لے،چاہے دوسروں کی شریعتیں کیسی ہی مختلف ہوں لیکن توحید کی تحقیق اور شرک کے اکھاڑنے میں سب ایک ہیں۔
اللہ نے فرمایا﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا﴾ ہم جب تک رسول نہ بھیج دیں عذاب نہیں دیتے۔اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور تمام انسانیت کے لیے رسول بھیجے اور اس سلسلہ کو جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کیا………آپ کے ذریعے راستہ صاف کردیا اور حجت قائم کردی اور آپ کے بعد کوئی رسول نہیں۔
(۵)اللہ نے کتابیں نازل کیں جو سبھی اسی کی طرف دعوت دیتی ہیں۔اس سلسلہ کو ایسی کتاب پر ختم کیا جسے پانی بھی مٹا نہیں سکتا،نہ ہی اس کی دعوت پرانی ہوتی ہے اور نہ ہی فنا ہونے والی ہے۔قیامت تک اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے اٹھا لیا ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں﴿وَأُوحِيَ إِلَيَّ هٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ﴾ اور مجھ پر یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں تمہیں اور جس کو بھی اس کی دعوت پہنچے ڈراؤں۔ پھر اللہ نے حجت و دلیل قائم کرتے ہوئے فرمایا﴿رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ یَتْلُو صُحُفاً مُّطَهَّرَةً﴾اللہ تعالیٰ کا ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھے ۔
پس جس کے پاس یہ قرآن مجید پہنچ گیا اس پر حجت قائم ہوگئی اور انذار ہوگیا خصوصا دین کے سب سے واضح باب میں جس کے لیے تمام رسول بھیجے گئے۔
اگر حجت و دلیل سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ ہر ایک کے پاس اسکی جگہ پر پہنچے اور پھر حجت قائم ہو تو یہ ایسا امر ہے جس کا اللہ نے مشرکین سے انکار کیا ہے۔اللہ فرماتے ہیں﴿فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ، كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ،فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ، بَلْ يُرِيدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ أَن يُؤْتَىٰ صُحُفًا مُّنَشَّرَةً﴾انہیں کیا ہے کہ اس نصیحت سے اعراض کرتے ہیں۔گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں۔جو شیر کے خوف سے بھاگے ہوئے ہوں۔بلکہ ان میں سے ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اسے نشر کیے ہوئے صحیفے دیے جائیں۔
سیرت نبوی سے بھی یہ بات معلوم ہے کہ نبی علیہ السلام منکر گروہوں کی طرف دعوت کے لیے ان کے بڑے رئیس کی طرف ہی بھیجتے تھے بجائے ہر ایک کی طرف بھیجنے کے اور اپنے قاصدوں یا امراء کو یہ حکم نہ دیتے تھے کہ وہ سب کے پاس فردا ًفردا ًجاکے ان پر حجت قائم کریں خصوصاً محاربین کے معاملہ میں۔اسی طرح علماء کے نزدیک اسلام کی دعوت کے پوری دنیا میں پھیل جانے کے بعد یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ اسے عہدِ ابتدائے اسلام کے ساتھ دیکھا جائے۔
یہ طاغوت اور ان کے انصار………قانون کے محافظ فوجی پہلے دور کے مشرکین کے ساتھ اس دعوت کے اعراض میں بالکل متفق نظر آتے ہیں جب وہ قرآن جو توحید کا متقاضی ہے ،اس سے اہمال برتتے ہیں اور حق کی بات سننے سے ایسے بھاگتے ہیں جیسے وحشی گدھے شیر سے بھاگتے ہیں۔پس وہ مشرک جاہل ہیں اور اس جہالت کو انہوں نے ا س دعوت سے کنارہ کشی کر کے کمایا ہے۔ان کے جہل کا سبب رسالت کے پیغام کا نہ پہنچنا ہر گز نہیں اور نہ ہی جنون،پاگل پن اور صغر سنی کی بنیاد پر وہ دعوت قبول کرنے سے مانع ہیں۔
اس کے ساتھ آپ ان محاربین کا اضافہ بھی کرلیں جو اسلام کی شریعت کے انکاری ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ ان پر حجت قائم کرنا واجب نہیں ہے۔اسی لیے علمائے کرام نے اس باب میں فرق کیا ہے کہ کس کے ساتھ قتال دفاعی اور کس کے ساتھ اقدامی قتال ہوگا؟
اس کے بعد وہ لوگ آتے ہیں جو اللہ کے دین اور اسکے اولیاء سے جنگ کرنے والے ان محاربین کی طرف سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اپنے باطل کو بلند کرسکیں۔وہ یہ زعم رکھتے ہیں کہ حجت ان کے اوپر قائم نہیں ہے!!یہ بات ایسی جہالت ہے جو اللہ کے اس قول کے ساتھ ٹکراتی ہے﴿قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ﴾فرمادیجیے کہ اللہ ہی کے لیے ہے حجتِ بالغہ۔
اسی لیے نبی علیہ السلام نے اس آدمی کو جواب دیا کہ جس نے اپنے والد کے متعلق پوچھا تھا «إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ فِي النَّارِ»میرا اور تیرا والد جہنم میں ہیں(رواہ مسلم)جبکہ یہ وہ لوگ تھے جن کے متعلق اللہ نے فرمایا﴿لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ﴾ تاکہ تو ڈرائے اس قوم کو جن کے آباء کو ڈرا یانہیں گیا پس وہ غافل ہیں۔یہ سب اس لیے ہے کہ اللہ نے توحید اور شرک سے خبرداری کے لیے اپنی حجت بالغہ قائم کردی ہے جیسے کہ اوپر ذکر ہوا۔
اس کے ساتھ وہ بھی آتے ہیں جو دین میں سوائے اس کے نام کے اور اس کے رستوں میں سوائے شکل کے کچھ نہیں جانتے……… ایسے لوگوں کے متعلق مطالبہ کیا جاتا ہے کہ باب شرک مبین اور توحید میں ان پر حجت قائم کی جائے………جبکہ توحید کی خاطر ہی رسولوں،کتابوں اور ساری متواتر دلیلوں کا سلسلہ جاری کیا گیا۔
اسی لیے اس مسئلہ میں بعض آیات کو ان کے غیر مناسب مقام پر رکھ کے شبہہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔جیسے اللہ نے فرمایا﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا﴾اور ہم عذاب نازل نہیں کرتے جب تک رسول نہ بھیجیں۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہر باب میں کوئی تکفیر نہیں ہوگی مگر حجت قائم کرنے کے بعد۔جب کہ آیت میں ان کے فاسد قول پر کوئی دلیل نہیں۔اللہ عزوجل نے ہر گز یہ نہیں کہا’’وما کنا مکفرین حتی نبعث رسولاً‘‘۔
بلکہ اللہ نے فرمایا﴿مُعَذِّبِينَ﴾ اور مقصود یہاں دنیاوی عذاب کا پہنچانا ہے۔جیسے کہ اللہ فرماتے ہیں﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَىٰ حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَسُولًا يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا﴾اور نہیں ہے تیرا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو جب تک ان میں رسول نہ بھیج دے جو ان میں ہماری آیات تلاوت کریں۔یا جیسے آخرت کا عذاب۔اللہ فرماتے ہیں﴿كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ قَالُوا بَلَی﴾جب بھی جہنم میں کوئی فوج (گروہ)ڈالی جائے گی تو داروغے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہ آیا تھا۔وہ کہیں گے(کیوں نہیں)ضرور آیا تھا۔
یہاں تکفیر مراد نہیں ہے خصوصاً شرک اکبر اور غیر اللہ کی عبادت میں. کیونکہ کافر یا تو منکرو معاند ہوتا ہے جیسے﴿الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ﴾ کہ جنہوں نے حق کو جان لیا اور پھر بھی اس کے ساتھ کفر کیا ،یا پھر وہ جاہل کافر ہوتا ہے یا گمراہ جیسے ﴿الضَّالِّينَ﴾ جنہیں ان کے علماء کے دھوکہ میں ڈال دیا۔
ہر کافر کا کفر علم و حق کے انکار کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ اکثر کفار جاہل و گمراہ ہوتے ہیں اور انہیں اپنے آباء ،رئیسوں اور سرداروںکی تقلید جہنم تک پہنچاتی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاید اچھا کام کررہے ہیں۔
جبکہ شرک اکبر کے صریح باب میں اللہ نے اپنی حجتِ بالغہ قائم کردی ہے………پس کسی جاہل کے لیے کوئی عذر نہیں کیونکہ اس کی جہالت دین سے اعراض برتنے اور اس اہم چیز کا علم حاصل نہ کرنے سے عبارت ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا۔ نہ کہ اس کی جہالت ایسی ہے کہ اس پر حجت قائم نہیں ہوئی۔
زید بن عمرو بن نفیل کے قصہ میں عبرت کے اسباق ہیں۔انہوں نے توحید کو قائم کیا جبکہ ان کے زمانے میں کوئی رسول مبعوث نہ ہوئے تھے۔یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کی بات ہے۔وہ اس قوم میں سے تھے جن کے متعلق اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا﴿لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أُنذِرَ آبَاؤُهُمْ فَهُمْ غَافِلُونَ﴾تاکہ آپ ایسی قوم کو ڈرادیں جس کے آباء کو نہیں ڈرایا گیا ،پس وہ غفلت میں ہیں۔لیکن اس کے باجود زید دینِ حنیف اور ملتِ ابراہیم علیہ السلام پر تھے۔وہ اپنی فطرت سے ہی توحید کی طرف راغب تھے۔اس لیے وہ اپنی قوم کے طواغیت سے برأت کا اظہار کرتے اور ان سے اجتناب کرتے تھے اور یہی ان کی نجات کے لیے کافی تھا۔نبی علیہ السلام نے خبر دی کہ وہ اکیلے ایک امت کی صورت میں اٹھائے جائیں گے۔نبی علیہ السلام نے انہیں دیکھا بھی تھا۔ایک روز ان کے پاس بتوں کے نام کا ذبح کیا ہوا گوشت بھیجا گیا تو انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا(انی لست اکل مما تذبحون علی انصابکم) میں اسے نہیں کھاؤں گا جو تم اپنے بتوں (کعبہ کے ارد گرد کھڑے کیے گئے پتھر)کے لیے ذبح کرتے ہو۔وہ قریش کے ذبیحہ پر عیب لگایا کرتے تھے اور کہتے (الشَّاةُ خَلَقَهَا اللَّهُ، وَأَنْزَلَ لَهَا مِنَ السَّمَاءِ المَاءَ، وَأَنْبَتَ لَهَا مِنَ الأَرْضِ، ثُمَّ تَذْبَحُونَهَا عَلَى غَيْرِ اسْمِ اللَّهِ، إِنْكَارًا لِذَلِكَ)بکری کو اللہ نے پیدا کیا اوراسکے لیے آسمان سے پانی برسایا،زمین سے نباتات اگائیں پھر تم اسے اللہ کا انکار کرتے ہوئے غیر اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہو۔(اسے بخاری نے روایت کیا)۔پس غور کرو کہ کیسے توحیدفطرت میں رکھ دی گئی ہے جب کہ شرک ایسی چیز ہے جسے لوگوں نے اختراع و انحراف سے حاصل کیا ہے۔
پس یہ ایک ایسا آدمی ہے جس کے پاس اس کے زمانے میں کوئی خاص نبی نہیں آیا اور اس کے باوجود اس نے توحید کو پہچانا اور نجات پاگیا اور شریعت کی تفاصیل و عبادات سے معذور کردیا گیا جو کہ رسالت کی حجت سے ہی معلوم ہوتی ہیں۔پس وہ کہا کرتے تھے جیسے کہ سیرت ابن اسحق میں ہے(اللھم لو اعلم احب الوجوہ الیک لعبدتک بہ ولکنی لا اعلمہ ثم یسجد علی الارض براحتہ)اے اللہ اگر میں تیری عبادت کا تجھے کوئی پسندیدہ طریقہ جانتا ہوتا تو میں اس کے ساتھ تیری عبادت کرتا لیکن میں اسے نہیں جانتا،پھر وہ اپنی ہتھیلیوںپر سجدہ کرتے۔وہ باقی تمام شرائع جیسے نماز روزہ وغیرہ سے معذور کردیے گئے جو رسول کے ذریعہ ہی معلوم ہوتی ہیں،جبکہ ان کے اہلِ زمانہ کو معذور نہیں سمجھا گیا۔
اس معنیٰ پر اچھی طرح غور کرو………(باب العذر بالجھل)علماء نے اس میں بہت عمیق کلام کیا ہے اور کوئی بھی اسے صحیح طرح اس وقت تک نہیں سمجھ سکتا جب تک اس کی دونوں جانب کو صحیح طرح نہ سمجھے۔لیکن جو اس میں سے صرف ایک نص لیکر اسی پر بڑے بڑے مسائل کی بنیاد رکھ دیتا ہے تو وہ حق و صواب سے بہت دور ہے۔
اس کے بعد یہ بات جان لے کہ موجودہ طواغیت اور ان کے انصار کا کفر اس حجت کا متحمل نہیں کہ انہیں رسالت کی حجت نہیں پہنچی۔آپ کو خاتم الرسل مبعوث کیا گیا ہے اور آپ کے بعد کوئی رسول نہیں اور اللہ کی کتاب جس کے اندر انذار کیا گیا ہے وہ محفوظ ہے جس کے اندر کسی جانب سے باطل نہیں داخل ہوسکتا۔آج بھی کتاب لوگوں کے پاس موجود ہے لیکن وہ دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں ،حق کی طلب اوراسکی اتباع سے اعراض کرتے ہیں۔پس ان کے کفر کا سبب کفرِ ’’اعراض‘‘ہے نہ کہ عدمِ ابلاغ حجتِ رسالت!!
پھر یہ بات بھی اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے علماءو راہبوں کو اللہ کے علاوہ رب بنالیا تھا وہ اس بات سے جاہل تھے کہ تشریع(قانون سازی)میں اطاعت کرنا شرک ہے جیسا کہ حدیث عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ میں ہے۔جب انہوں نے کہا (ماعبدوھم)انہوں نے کبھی بتوں کی عبادت نہ کی تھی۔ وہ نہ جانتے تھے کہ حلال و حرام کرنے اور شریعت بنانے میں اطاعت کرنا عبادت ہے اور پھر ان کا یہ عمل غیر اللہ کی طرف پھیر دیا گیا یعنی وہ اللہ کے علاوہ رب بنائے ہوئے ہیں اور اس میں جہل کا انہیں کوئی عذر نہ دیا گیا۔
کیونکہ یہ امر ہی فطرت کے منافی ہے ۔ وہ اللہ جس نے پیدا کیا ، رزق دیا اور تدبیر کی ،کیا اسکے علاوہ بھی کسی کے لیے جائز ہے کہ وہ شریعت سازی کرے اور حکم دے؟۔اللہ نے تمام انبیاء کواور اپنی کتب کو صرف اپنے لیے عبادت کو خاص کرنے کی خاطر مبعوث فرمایا تاکہ اسے حکم میں یکتا مانا جائے اور اس کے علاوہ کی عبادت سے اجتناب کیا جائے۔
پھر ہمارے زمانے میں یہ معاملہ تو بالکل واضح ہے۔اس افسر سے، اُس پولیس والے سے ۔انٹیلی جنس والے اور دوسرے سے پوچھیے………تمہارا دین کیا ہے؟؟………باوجود اس کے کہ اس کا دین اسلام ہے،اسکی کتاب قرآن ہے اور اسے وہ صبح شام تلاوت بھی کرتا ہے تاکہ اس پر حجت مضبوط ہوجائے، لیکن اس کے ساتھ ………وہ اسلام اور قرآن کو رسوا بھی کرتا ہے………ہروہ شخص جو اسلام وقرآن کی حکومت چاہتا ہے اور اسکی نصرت کرتا ہے………وہ اس پر حکم چلاتا ہے، اسے جیل میں ڈالتا ہے اور اس کی جاسوسی کرتا اور ہر اس شخص کے خلاف جنگ کرتا ہے جو توحید اور شرک سے برات و انکار کی دعوت دیتا ہے۔جب کہ اس سب کے بالمقابل وہ طاغوت کی شریعت اور اسکے وضعی قانون ودستور کی نصرت کرتا ہے، جس نے شریعت اسلام کو کالعدم قراردے رکھا ہے۔کیا کسی بھی اسلام کا دعویٰ کرنے والے پر اس امر کا اسلام کے منافی ہونا مخفی ہے؟؟………کیا یہ معاملہ اس قدر مشتبہ ہے کہ کہا جائے ’’کہ اس پر حجت قائم نہیں ہوئی؟!!۔
اللہ کی قسم یہ معاملہ تو ………چڑھے سورج کی طرح واضح ہے!!!
پس اس میں دو ہی فریق ہیں جن کا آپس میں جھگڑا ہے………شرک کی صف اور توحید کی صف………وضعی قانون کی صف ………اور شریعتِ مطہرہ کی صف۔ جب اس قوم نے اپنے ارادہ ٔمحض اور عقلی اختیار کے ساتھ آخرت کے بدلے طاغوت کی صف کو چن رکھا ہے………یا اسکی محبت میں یا دنیا کی زندگی ،تنخواہوں اور عہدوں کی محبت میں ۔یہ لوگ اسی طاغوت کی راہ میں قتال کرتے ہیں، اسی کی نصرت کرتے اورطاغوت سے اجتناب کرنے والے اہلِ توحید سے جنگ کرتے ہیں………﴿الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ﴾وہ لوگ جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں اور جو کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں قتال کرتے ہیں۔
اسی لیے یہ فوجی قیامت کے دن جب اہلِ توحید کی کامیابی اور اہلِ شرک کی شکست کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے﴿وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا﴾اے ہمارے پروردگار ہم نے اپنے بڑوں کی پیروی کی تو انہوں نے ہمیں گمراہی کے رستے پر ڈال دیا۔اے ہمارے رب انہیں دوہرا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر۔ پس اس آیت میں غور کرو﴿فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا﴾تو انہوں نے ہمیں گمراہی کے رستے ڈال دیا……… کیا وہ جہل کے سبب معذور کیے گئے؟؟
اللہ تعالیٰ بہت سے کفار کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں﴿يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں اور ایک جگہ فرمایا﴿يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُھۡتَدُوۡنَ﴾ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔اسی طرح ﴿وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلیٰ کُلِّ شَیۡئٍ﴾وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ہر کام درست ہے۔………لیکن یہ سب انہیں نفع نہیں دے سکا کیونکہ انہوں نے ایک ایسے ظاہر و واضح امر کی نفی کی جس پر اللہ نے اپنی حجتِ بالغہ قائم کی اور اس کے لیے تمام رسولوں کو مبعوث فرمایا۔لیکن اگر ان لوگوں کا حال کسی مشتبہ اور مختلف فیہ معاملہ میں ایسا ہوتا تو ان کا حال کچھ اور ہوتا!!!۔اس باب میں کلام بہت طویل ہے اور اہلِ علم نے اس میں فصول قائم کی ہیں۔پس جس کا اراداہ ہدایت ہے اس کے لیے اسی قدرمیں کفایت ہے!!
دوسرا اعتراض………اِکراہ،کمزوری اور رزق!!
بعض لوگ ان میں سے یہ کہتے ہیں کہ وہ اس کام پر مجبور ہیں کہ اگر وہ کام چھوڑدیں تو ان کے پاس اس کا کوئی نعم البدل نہیں………بعض کہتے کہ بہت سے فوجی ان طواغیت سے نفرت کرتے ہیں بلکہ بعض تو انہیں کافر بھی سمجھتے ہیں اور ان کے کفریہ قانون سے برات بھی کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں وہ طاغوت سے بغض بھی رکھتے ہیں لیکن رزق روزی اور تنخواہ ان کی مجبوری ہے جبکہ بعض کی ریٹائر منٹ میں چند سال ہی باقی رہ گئے ہیں!!!
مجبوری واکراہ کو بہانہ سمجھنے والے ان لوگوں سے ہم ایک سوال کریں گے؟………کیا وہ شخص اللہ کے دین میں مجبور و مکرہ سمجھا جائے گا جو………جو خود اس عہدہ کو اختیار کرے اور اس کے قاعدے قانون پر موافقت کرے………پھر دسیوں سال اس عمل میں گذارے کہ ہر صبح کام پر جائے اور ظہر کے وقت لوٹ آئے………اس پر وہ تنخواہیں،کپڑے اور ترقیاں و عہدے حاصل کرتا رہے؟؟؟
اکراہ کی دلیل یہ آیت ہے﴿مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کیا لیکن وہ شخص جو اکراہ کے تحت تھا اور اس کا دل ایمان پر مطمئن تھا۔علمائے اسلام نے اکراہ کے صحیح ہونے کی شروط ذکر کی ہیں جو ذیل ہیں………
(۱)………یہ کہ مکرِہ(مجبور کرنے والا)جس بات کی دھمکی دے رہا ہے اسے نافذ کرنے پر قدرت رکھتا ہو اور مکرَہ(مجبوری کیا جانے والا)اپنا دفاع کرنے سے اور فرار ہونے سے بھی عاجز ہو۔
(۲)………یہ کہ مجبور کیے جانے والے (مکرَہ) کا گمان ہو کہ اگر اس نے وہ کام نہ کیا تو جو دھمکی اسے دی جارہی ہے تو وہ نافذ ہوجائے گی۔
(۳)مکرَہ پر ایسی بات ظاہر نہ ہو جو اس کے غفلت برتنے پر دلالت کرے یعنی وہ ایسی زیادہ باتیں بنائے جس سے یہ بلا اس سے ٹل سکتی ہو۔
(۴) جب اسے کلمہ ٔ کفر کہنے کے لیے دھمکی دی جارہی ہو تو ایسی ہو کہ جس کی اسے طاقت نہ ہو مثلاًشدید تکلیف والے افعال ،اعضاء کا کاٹنا، آگ سے جلانا اور قتل وغیرہ۔(یہ اس سبب کہ جس کے باعث یہ آیت نازل ہوئی وہ عماررضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کوئی بات نہ کہی یہاں تک کہ ان کے والد کو قتل کردیا گیا اور ان کی پسلیاں توڑ دی گئیں اور اللہ کی راہ میں انہیں شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑا)۔
(۵)………کہ جو نہی اس سے یہ اکراہ زائل ہوجائے وہ فوراً اپنے اسلام کا اظہار کرے، پس اگر وہ اسلام کاا ظہار کرے تو اسلام پر باقی اور مسلمان ہے اور اگر کفر کا اظہار کرے اور اس کلمہ کے بولنے کے ساتھ ہی وہ کافر ہوجائے گا۔
یہاں ایک اہم بات کا لحاظ کرنا بھی ضروری ہے کہ ایسا شخص جس پر دلیل قائم ہوجائے کہ اس نے کلمۂ کفر کہا تھا جبکہ وہ جیل میں تھا اور دشمن کے دباؤ کے تحت تھا تو اس کے ارتداد کا حکم نہیں لگایا جائے گا لیکن جس پر یہ دلیل قائم ہوگئی کہ اس نے ایسا امن کی حالت میں کہا تو اس کے ارتداد کا حکم لگایا جائے گا۔اس کے ساتھ دوسری اہم تنبیہ یہ ہے کہ جب اکراہ اس بات پر ہو کہ کفر پر قائم رہنا اور اسی کو جاری رکھنا ہے. تو یہ کسی صورت بھی جائز نہیں اس لیے اہلِ علم نے اس میں اور اوپر مذکور اکراہ میں فرق کیا ہے(الرسالة الثلاثینیہ61.62)۔
وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں………کہ ہم طاغوت کو پسند نہیں کرتے بلکہ اسکی مذمت کرتے ہیں اور اللہ کی طرف اس سے برات کرتے ہیں………اور اس جیسے سابقہ شبہات وارد کرتے ہیں!!!
ہم انہیں کہیں گے کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا اہل زیغ وضلال کے ساتھ واضح فرق یہ ہے کہ ایمان اہل السنۃ کے نزدیک زبان کے ساتھ اقرار اور اعضاء کے ساتھ عمل کانام ہے اور اس سے مراد فقط دل کا اعتقاد نہیں ہے۔
پس طاغوت کے ساتھ کفر لازمی طور پر ظاہر وباطن میں ہونا چاہیے ۔اسی لیے ہمیں شریعت میں ظاہر پر حکم لگانے اور دلوں کے غیبی امور کی عدم تلاش کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا!!!
پس ایک منافق جو ہمارے لیے ایمان کو اور کفر بالطاغوت کو ظاہر کرے، شریعت کا التزام کرے لیکن باطن میں کفر اور شریعت سے بغض رکھتا ہو تو ہمیں ایسے شخص کے ظاہر کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے باطن کے ساتھ ہمیں کوئی دخل نہیں۔اسی لیے اسے مسلمانوں میں شمار کیا جاتا ہے،اس کا خون ، مال محفوظ رکھا جاتا اور اس کا حساب اللہ پر چھوڑا جاتا ہے جیسے کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ﴾ بے شک منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔
اسی طرح وہ شخص جو یہ زعم رکھتا ہے کہ وہ مومن ہے اور اس کے دل میں طاغوت کا انکار ہے………لیکن اس کا ظاہر اس کے عمل کو جھٹلاتا ہے………کہ وہ شرک کی افواج کا مددگار، ان کی تعداد میں اضافہ کا باعث اور ان کے قانون کی حفاظت کرنے والا ہے………جبکہ طاغوت کے انکار کا حکم اللہ نے دیا ہے………یہ اس سے دوستیاں لگاتا اور مسلمانوں کے خلاف اس کی مدد کرتا ہے………تو ہم اس کے ظاہر پر ہی حکم لگائیں گے کیونکہ حدیث کے مطابق ہمیں لوگوں کے دل چیر کر دیکھنے کا حکم نہیں دیا گیا۔
اسی لیے عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا،جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے(إِنَّ أُنَاسًا كَانُوا يُؤْخَذُونَ بِالوَحْيِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ الوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ، وَإِنَّمَا نَأْخُذُكُمُ الآنَ بِمَا ظَهَرَ لَنَا مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا خَيْرًا، أَمِنَّاهُ، وَقَرَّبْنَاهُ، وَلَيْسَ إِلَيْنَا مِنْ سَرِيرَتِهِ شَيْءٌ اللَّهُ يُحَاسِبُهُ فِي سَرِيرَتِهِ، وَمَنْ أَظْهَرَ لَنَا سُوءًا لَمْ نَأْمَنْهُ، وَلَمْ نُصَدِّقْهُ، وَإِنْ قَالَ: إِنَّ سَرِيرَتَهُ حَسَنَةٌ)کچھ لوگ جو عہدِ رسالت میں تعلیماتِ وحی پر کاربند تھے،تو جس کا ظاہر ہمارے لئے خیر ہوتا تو اسے ہم قریب کرتے اور اسکی تصدیق کرتے اور اسکے باطن کا ہمیں کوئی واسطہ نہ ہوتا اور اس کا باطن اللہ کے سپرد ہے اور جو کوئی ہمارے لیے اس کے خلاف ظاہر ہو تو ہم اس کی تصدیق نہیں کرتے چاہے وہ کہے کہ اس کا باطن اچھا ہے۔
اسی طرح صحیح بخاری میں اس جیش کی خبر بھی ہے جو کعبہ پر حملہ آور ہوگا تو اللہ اسکے شروع و آخر کے تمام لوگوں کو زمین میں دھنسا دیں گے جبکہ ان میں ایسے بھی ہوں گے جو مجبور وغیرہ نہ ہوں گے۔اس میں اس مسئلہ کی وضاحت ہے۔اس لیے جب ام المومنین ام حبیبۃ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ اسے سوال کیا کہ ان لوگوں کا کیا حکم ہوگا جو محض ان کی تعداد بڑھانے کے لیے نکلے جب کہ مومنوں کے ساتھ قتال کی انکی نیت نہ تھی تو آپ نے فرمایا(یُھۡلِکُوۡنَ مُھۡلِکًا وَاحِدًا و يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ)وہ آنِ واحد میں اکٹھے ہلاک کردیے جائیں گے اور روزِ قیامت اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے۔
اس کے متعلق شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ کہتے ہیں.جبکہ وہ تاتاری لشکری اور تاتاری دستور کی بات کرتے ہیں کہ ان میں نمازی بھی تھے جو یہ زعم رکھتے تھے کہ وہ مُکرَہ ہیں………’’اللہ تعالیٰ نے اس پورے لشکر کو ہلاکت کا وعدہ کیا جو اسکی حرمات پر حملہ آور ہو………اس کے اندر موجود مکرِہ و مکرَہ سمیت………جبکہ اللہ خود ان میں فرق کی قدرت رکھتے ہیں اور انہیں اپنی نیتوں پر اٹھائیں گے۔تو پھر مومنوں پر کیسے واجب ہے کہ وہ اس کا فرق کریں جسے وہ جانتے ہی نہیں‘‘۔
میں کہتا ہوں کہ ہمارے لیے یہ کیسے ممکن ہے جب کہ ہمارے اوپر تو صرف ظاہر کا حکم ہی دیکھنا ہے!!۔یہ صف اہلِ اسلام کے خلاف جنگ کرنے والوں کے ساتھ نکلی ہے تاکہ اہل ِ کفر کی جماعت زیادہ ہو ، شر اوربتوں کی مددہو تو جو دنیا میں ظاہراً ان کے ساتھ دوستی لگاتا ہے اس کا حکم انہیں کافروں کا حکم ہے اور آخرت کا حکم ہم نہیں لگا سکتے۔
اسی بات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ معاملہ دلالت کرتا جب وہ غزوہ بدر میں قید ہوکرآئے۔تو وہ یہ زعم رکھتے تھے کہ وہ مسلمان ہیں اور اکراہ کے ساتھ نکالے گئے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا(اَمَّا سَرِیۡرَتکَ فَاِلَی اللّٰہِ وَاَمَّا ظَاھِرکَ فَلَنَا)جہاں تک تیرا باطنی معاملہ ہے تو وہ اللہ کی طرف ہے اور جہاں تک تیرا ظاہری معاملہ ہے تو اس کے ہم مسئول ہیں(اسے امام احمد نے روایت کیا اور اس میں ایک روای کا نام معلوم نہیں ۔لیکن اصل قصہ صحیح بخاری میں موجود ہے) اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ دوسرے مشرکین کی طرح اپنے نفس کا فدیہ اداکریں اور ان کے ساتھ اس جیسا معاملہ کیا جو مشرکین کی صفوں کی زیادتی کے لیے نکلا تھا۔اس لیے یہی معاملہ ہم شرک کے مدد گار اور قانونِ وضعی کے فوجیوں کے ساتھ کریں گے۔
کیا ہمارے لیے وہ بھی ممکن نہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ممکن تھا جبکہ آپ سب سے زیادہ تقویٰ والے، سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والے اور لوگوں کی تکفیرمیں سب سے زیادہ محتاط تھے!!!۔جو کوئی بھی ان لوگوں کے حال کے بارے میں غور وخوض کرے گا ، وہ دیکھے گا کہ وہ کسی بھی حال میں مجبور نہیں ہیں۔بلکہ ان کے اعمال و عہدے ہی ہیں جن کے سبب وہ آپس میں فخر کرتے اور انہی کی بنیاد پر تنخواہیں اور ترقیاں حاصل کرتے ہیں۔پھر یہ کیسی اکراہ ہے کہ جس کا شکار فرد اجرت بھی لیتا ہے اور بیس بیس سالوں تک شرک کی مدد و نصرت کرتا رہتا ہے۔
اگر وہ کمزوری کے ساتھ معذور سمجھے جائیں………
تو ان سے پہلے ایک قوم بھی کمزوری کے باعث معذور سمجھی گئی اور وہ ایسے لوگ تھے جو مکہ میں تھے اور انہوں نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا لیکن مشرکین کی صفوں کو چھوڑ کر اہل ِ توحید کی صفوں کی طرف نہ آئے تھے۔ جب غزوہ بدر کا دن آیا تو مشرکوں نے انہیں پہلی صفوں کے ساتھ نکالا………تو غور کریں کہ وہ تو صرف ان کے ساتھ ایسے ہی نکل کھڑے ہوئے جبکہ وہ ان کے لشکر میں نہ داخل تھے اور نہ ہی رغبت رکھتے تھے، نہ اس پرتنخواہ لینے والے تھے جیسے کہ ان لوگوں کا حال ہے۔اس سب کے باجود اللہ عزوجل نے ان کے متعلق واضح قرآن نازل کیا جو بیان کرتا ہے کہ وہ معذور نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کمزور ہیں۔اللہ فرماتے ہیں﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ﴾بے شک وہ لوگ کہ جب فرشتوں نے ان کی روحوں کو قبض کیا اور پوچھا تم کن لوگوں میں تھے؟
یعنی تم کن لوگوں کی صف میں تھے………کیا توحید و شریعت کی صف میں تھے یا شرکی ،کفری ودستوری اور وضعی قانون کی صف میں تھے؟!۔جسکا صحیح و واضح جواب یہ تھا کہ وہ کہتے ’’کہ ہم مشرکین کی صف میں تھے‘‘ لیکن جب انہوں نے اس صف کی ہلاکت کا معائنہ کیا تو اس جواب کویہ گمان کرتے ہوئے عذر وکمزوری کی طرف موڑ دیا کہ یہ کفر و شرک سے برأت میں انہیں نجات دے گا۔
پس دیکھو کہ کیسے طاغوت سے برأت کی تگ ودو کر نے لگے جسکی صف میں داخلے کے پہلے لمحے کے ساتھ ہی وہ ہلاکت کا شکارہوگئے.کیونکہ انہوں نے اس اہم ترین پہلو سے اہمال برتا اور اسی امر نے انہیں ہلاکت میں مبتلا کردیا۔لیکن کیا یہ سب انہیں فائدہ دے سکا جب کہ وہ مشرکین کی صف میں مر گئے اور اس سے علیحدہ نہ ہوئے……… پس غور کرو کہ وہ فرشتوں کو کیا جواب دیتے ہیں………﴿فِيمَ كُنتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ﴾ کہ تم کہاں تھے ،وہ کہنے لگے ہم زمین میں بڑے کمزور تھے!!
یہی ان کی حجت رہی جسے انہوں نے کفر سے وراثت میں لیا﴿أَتَوَاصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ﴾کیا یہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے گئے ہیں،نہیں بلکہ یہ سب کے سب سرکش ہیں۔ جب بھی ہم انہیں توحیدکی طرف اور شرک سے برأت کی دعوت دیتے ہیں وہ ہمیشہ ہمیں ایسا ہی جواب دیتے ہیں۔اسی طرح جب ہم دین میں ان کا حکم بیان کرتے ہیں تو جھگڑالو ہم سے جھگڑتے ہیں۔﴿كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ﴾ ہم زمین میں کمزور تھے،تنخواہیں،………گھر………رزق………تو کیا ان کے ایسے بہانے قبول ہوں گے!!!
فرشتوں کے جواب پر غور کریں کہ کیسے انہوں نے تنبیہ کی﴿قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾ کہنے لگے کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ،پس یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔………یعنی رزق کے دروازے وسیع نہیں تھے تو تم ہجرت کرتے………اس مشرک صف سے دوسری صف کی طرف!!!
چیونٹی کو کون رزق دیتا ہے………شہد کی مکھی کہاں سے رزق لیتی ہے………پرندے اور چوپائے ،مشرکین اور کفار کہاں سے رزق پاتے ہیں۔کیا تو سمجھتا ہے کہ وہ اللہ ،متقی و ابرار لوگوں کو رزق دینے سے عاجزہے جو مشرکین سے مفارقت محض اس کی محبت میں اختیار کرتے ہیں۔﴿تَعَالَی اللّٰہُ عُلُوًّا كَبِيرًا عَمَّا یَصِفُوۡنَ﴾………!!
اس کے ساتھ اللہ کی تہدید و وعید پر بھی غور کرو جو ایسے لوگوں کے لیے وارد ہوئی﴿فَأُوْلَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءتْ مَصِيرًا﴾ پس یہی لوگ ہیں کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔یہ معلوم ہے کہ وہ مشرکوں کے لشکر کا ساتھ دینے اور اپنے اختیار سے نہ نکلے تھے لیکن انہوں ہجرت کے معاملے میں سستی سے کام لیا تھا اور جب انہوں نے اس معاملے میں غفلت کا مظاہرہ کیا تو وہ موحدین کی صفوں کی طرف نکلنے سے پیچھے رہ گئے۔
اس آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا﴿إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًافَأُولٰئِكَ عَسَى اللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًارَّحِيمًا﴾ مگر جو مرد عورتیں اور بچے بے بس ہیں جنہیں نہ تو کسی چارۂ کار کی طاقت اور نہ کسی راستے کا علم ہے۔بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے در گذر کرے،اللہ تعالیٰ در گذر کرنے والا معاف فرمانے والا ہے۔پس اللہ نے کمزور ی کو عذر تسلیم نہیں کیا سوائے اس کے جو نکلنے کا حیلہ کرنے سے اور کفار کی صف سے فرار ہونے سے بھی عاجز ہو۔مثلاً یہ کہ وہ زخمی ہو،عاجز ہو جیسے قید میں یا گھیرے میں، جہاں اسے ہجرت اور مسلم صف کی طرف فرار کا کوئی رستہ نہ ملے یا یہ کہ کوئی عورت ہو، بچہ ہو یا بوڑھا ہو!!!
اس کے بعد کی آیت میں اللہ نے ان صفوں سے ہجرت و فرار کی ترغیب دلائی ہے اور ایسا کرنے والوں کو وافرو وسیع رزق کا وعدہ کیا ہے۔پس جو کسی چیز کو اللہ کے لیے چھوڑتا ہے تو اللہ اسے اس کا بہتر نعم البدل عطاء فرماتا ہے۔تاکہ قوم کی تمام بے کار دلیلوں کا رد کیا جائے،اللہ فرماتے ہیں﴿وَمَن يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً﴾ اور جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کے لیے نکلے گا تو وہ زمین میں وسعت و فراخی پالے گا۔جیسے کہ اللہ نے ایک اور مقام پرمومنوں کو دعوت دیتے ہوئے فرمایا﴿وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ إِن شَاءَ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴾ اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو عنقریب اگر اللہ نے چاہا تو وہ تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا بے شک اللہ علم و حکیم ہے۔
مجاہدین کے لیے وصیتیں!!
مجرد خوبصورت افکار اور حقیقتِ واقعہ میں فرق کریں!!
جب لوگ جہاد کے متعلق بات کرتے ہیں………تو یہ بہت خوبصورت کلمہ ہے………الجہاد فی سبیل اللہ………لیکن حقیقت اپنی تمام شکلوں میں اتنی خوبصورت نہیں ہوتی۔پس جہاد سے مراد لچھے دار تقریریں نہیں………نہ ہی جہاد چند خوبصورت کلمات کہہ دینے سے عبارت ہے………نہ ہی جہاد میں ہر وقت غنیمتیں ہی ہوتی ہیں………اور نہ ہی ہر وقت نصرت و فتح ہوتی ہے۔ بلکہ جہاد میں مشقت اور مشقتِ عظیم ہے……… پھر اس میں لشکروں کا اختلاط اور لوگوں کے درمیان جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔فلاں نے اس کیساتھ جھگڑا کیا،فلاں نے فلاں کو مارا………فلاں کا مسئلہ ہوگیا………یہ ایک بشری مسئلہ ہے اس میں اجتہاد و خطاء بھی ہے۔اس میں تاویل بھی ہے جو دوسری تاویلات پر حاوی ہو جاتی ہے………پس مجرد خوبصورت افکار اور حقیقتِ واقعہ میں فرق کرنا بہت ضروری ہے۔
اگر ہم لوگوں کے ’’اسلامی خلافت‘‘کے بارے میں تصور کو دیکھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ خوابوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں………جہاں ہرتصویر خوبصورت ہے،اڑتے ہوئے قالین ہیں………بکھرتے رنگ ہیں………اور آسمان سے ہر وقت مدد نازل ہوتی رہتی ہے اورہر چیز کا منبع قوت سے بھرا ہے۔ہمارے دشمن بھی اس بات سے خائف ہیں کیونکہ وہ ہمارے قتال میں فرشتوں کے نزول کی باتیں اچھی طرح جانتے ہیں۔پس سبھی یہ تصور کرتے ہیں کہ اسلام کی حکومت ایسی ہوگی کہ اس میں کوئی فقیر اور مریض نہ ہوگا اور ہر بندہ جو طلب کرے گا اس کے سامنے آموجود ہوگا۔لیکن اگر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک کی طرف نظرڈالیں تو یہ خیالی جنت ہمیں وہاں بھی نظر نہیں آئے گی۔بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کی تکالیف مدینہ میں ان کی مکہ میں تکالیف سے بھی زیادہ تھی۔
توکیا صحابہ کے ساتھ جو مدینہ میں پیش آیا وہ مکہ میں بھی پیش آیا تھا۔جب انہیں غزوہ خندق پیش آیا﴿إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَاهُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا﴾ جب وہ(افواجِ قریش)تمہارے اوپر اور نیچے کے علاقوں سے بھی آگئیں،جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل حلق کو آگئے،اس وقت مومنوں کی آزمائش کر لی گئی اور انہیں زلزلے کے ساتھ دہلا دیا گیا ۔ یہ اسلام کی حکومت میں ہی ان کی آنکھیں پتھرا گئیں اور دل حلق کو آگئے اور ایسی آزمائش نازل ہوئی جو زلزلوں کی مانند تھی۔
اس تصویر پر غور کیجیے اور اس تصویر کو ملاحظہ کیجیے جسے اس زمانے کے مشایخ پیش کرتے ہیں۔وہ اس میں ایسا رنگ بھرتے ہیں کہ اس میں کوئی مشقت نہیں، ہر انسان کے لیے علیحدہ گھر ہے اورلوگ صرف اسلام اور اہل اسلام کودیکھ کے ہی اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں اس طرح لوگ اسلام اور ہماری’’ جماعت ‘‘میں شامل ہوتے جاتے ہیں۔کیونکہ ایسے لوگوں کے ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ ساری جماعتوں اور گروہوں کے درمیان ہم ہی ایسا گروہ ہیں جسے یہ نعمت بخشی جائے گی جویہ امن لوگوں کو مہیا کر پائے گا۔
لیکن اگر میں کہوں کہ اسلامی حکومت میں ہی تین خلفائے راشدین ایسے لوگوں کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے جنہیں اس کام کے لیے زیادہ منصوبہ بندی بھی نہ کرنا پڑی۔امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ………انہیں ابو لو لوء ۃ المجوسی نے فجر کی نماز کے وقت قتل کیا جب مسلمانوں کے سردار، علماء و شیوخ وہاں موجود تھے………امیر المومنین ذالنورین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پربلوائیوں نے غلبہ پالیا اور مدینہ پر قبضہ کرلیا اور خلیفہ کو اس کے گھر میں گھس کر قتل کردیا………مدینہ کے وسط میں لوگوں کے درمیان………امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مسجد کے وسط میں کھڑے لوگوں کو فجر کی نماز کی طرف بلارہے تھے اور لوگوں کے درمیان………ابنِ ملجم خارجی آیا تو وہ آپ کے سر پر تلوار کی ضرب لگاتا ہے جبکہ اس نے اپنے گروہ کے ساتھ اسی دن معاویۃرضی اللہ عنہ اورابن العاص رضی اللہ عنہ کے قتل پر اتفاق کر رکھا ہے۔یہ خلافتِ راشدہ کا دور تھا اور کسی کو کیا معلوم کہ اس دور کے بعد کیا تھا؟؟
اس لیے ہم کہتے ہیں جو لوگ عملی عالمِ اسلام کا تصور کرتے ہیں………مسلمان انسان کی زندگی کی تحریک………یہ ایسی تحریک ہے کہ کسی بھی پہلو سے ایک بشری تحریک ہونے سے خارج نہیں ہے………لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تحریک انسانی پیمانوں سے بالا ہے وہ وہم میں مبتلا ہیں اورحقیقت سے آنکھیں بند کر کے خیالوں کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔لیکن جو نہی ایسے لوگوں کے خیالوں کی دنیا کا محل کسی تلخ حقیقت کے ساتھ گر جاتا ہے تو وہ فورا منہ موڑ لیتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی اس تحریک سے مکمل علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں کہ وہ اس مسئولیت کو اٹھانے سے عاری ہیں۔
کتابوں کے درمیان اور کتابوں کے ساتھ ہی زندہ رہنا………قلم،افکار اور اوراق………صرف یہی اسلام نہیں ہے بلکہ اسلام تو انسانی زندگی کی تحریک ہے………ایسا انسان جس میں خوبیاں بھی ہیں خامیاں بھی………خوبیاں تقویت ومدد کا باعث ہیں اور خامیاں و غلطیاں درست کی جاتی ہیں۔پس عملی عالمِ اسلام میں درستگی بھی ہے،اس میں ظلم بھی ہے،سچائی بھی اور جھوٹ بھی اور ہر چیز کا اسلام میں اپنا مقام ہے۔
اسلام وقوعِ خطاء کا اعتراف کرتا ہے اور اسے مخلوق میں ناپید نہیں سمجھتا۔اسی لیے اللہ عزوجل نے سزائیں اور حدود مقرر کی ہیں اور اس کے لیے احکام نازل کیے ہیں۔اسلامی احکام میں سارا خطابِ ربانی مسلمان موحد ومجاہد کے لیے ہی ہے نہ کہ غیر مسلموں کے لیے۔
اسی لیے ہم فتنہ یعنی آزمائش کے دور میں واقع ہوئی جنگوں جو علی اور معاویہ و ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہم کے درمیان بر پا ہوئیں، کے متعلق ہم صحابہ کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔اس کے متعلق ہم وہی احکام وارد کرتے ہیں جن کی صحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جیسے کہ آپ نے عماررضی اللہ عنہ سے فرمایا(تَقۡتُلُکَ الفِئةُ البَاغِیَة)تجھے باغی گروہ قتل کرے گا، اور اس جیسی دوسری احادیث!!۔لیکن اگر ہم اس حقیقت کو قریب سے دیکھیں تویہ ایسا دور تھا جواچھے زمانوں کے بہت قریب تھا………اس سب کے باوجود اگر ہم غور کریں کہ ایسے حادثات واقع ہوئے جن کی ہولناکی بچوں کو بوڑھا کردے………مثلاً
(۱)الخوارج………چار ہزار خارجیوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خلاف قتال کا فیصلہ کیا اور کوفہ میں تین ہزار خوارج نے ان کے خلاف عدمِ قتال کی راہ لی۔علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں کہاکہ میرے اور اپنے دشمن معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف میرے ساتھ چلو۔لیکن انہوں نے انکار کردیا کہ ہم نہ جائیں گے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے کفر کا اعتراف کریں اور اپنی توبہ کا اعلان کریں!!۔پھر جب انہوں نے خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کو ان کی حاملہ بیوی کے ساتھ قتل کردیا تو جنابِ علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف نہروان کے مقام پر جنگ کی اور ان سب کو قتل کردیا اور اس جنگ میں سوائے 400زخمیوں کے کوئی نہ بچا!!۔
(۲) جنگِ جمل جو بصرہ کے علاقے خریبہ میں ہوئی(جیسے کہ عمر بن شیبہ نے روایت کیا ہے) یہ معرکہ مسلمانوں اور مسلمان قبائل کے ہی درمیان تھا.جہاں قبیلہ مضر ،مضر کے خلاف،ربیعہ،ربیعہ کے خلاف اور اہلِ یمن ،یمنیوں کے ہی خلاف بر سرِ پیکار تھے۔وہ سب دین، منہج اور حتی کہ نسب میں بھی بھائی تھے………انہی جنگوں میں جنت کی بشارت دیے گئے صحابہ طلحہ وزبیر رضی اللہ عنہما قتل کردیے گئے۔
(۳)جنگِ صفین جو علی رضی اللہ عنہ و معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوئی………ایسا معرکہ جس میں لاشوں کے انبار لگ گئے باوجود اس کے کہ بعض لوگوں نے صلح کرنے پر ابھارا اور کہنے لگے’’شام کا محاذ اہلِ شام کے بعد اور عراق کا محاذ اہلِ عراق کے بعد کون سنبھالے گا………کون ہوگا عورتوں اور بچوں کے لیے………کیا تمہیں آپس میں اپنے رشتے بھی یادنہیں؟!۔ضعیف روایت سے دور جن میں بہت کچھ مذکور ہے لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ اس جنگ کی ہولناکی بہت شدید تھی۔
(۴)بعض عیسائی اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے یہاں تک کہ وہ کہنے لگے(لدیننا الذی خرجنا منہ خیر من دین ھوء لآء الذین ھم علیھم ماینھاھم دینھم عن سفک الدماء واخافة السبیل واخذ الاموال)کہ وہ دین جس سے ہم نکلے تھے ان کے دین سے بہتر تھا جس پر کہ یہ لوگ ہیں ،ان کا دین انہیں خون بہانے اور اموال لینے سے بھی نہیں روکتا۔(اسے طبری نے روایت کیا) اس پر علی بن طالب رضی اللہ عنہ نے ان عیسائیوں کے خلاف قتال کیا!!!۔
اس کے بعد جماعت کا سال آیا اور پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی جنگ………پھر………اور ………!!!۔پس یہ انسانی زندگی کی حقیقت کا ایک رخ ہے………انسان کی زندگی کا!!………اس لیے اس بات کو نہیں بھولناچاہیے کجا کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھ جائیں اور لوگوں کو یہ سمجھائیں کہ انسان کی ساری زندگی رات کے قیام،دن کے روزے،باربار کی خطاء ومعافی اور ہمیشہ کی خیر وبرکت سے عبارت ہے!!۔اس پر انسان تکیہ کر کے بیٹھ جائے کہ اس کا خیالی ولی مسلمان ایسے مثالی کردار کا حامل ہے………لیکن………
ولی بھی انسان ہی ہے………انسان………بشر!!
اور مجاہد بھی انسان ہے………انسان ………بشر!!
لیکن اسلام کی وہ خیالی تصویریں جو کبھی کارٹونوں اور فلموں میں جنوں اور فرشتوں کی دنیا کیساتھ پیش کی جاتی ہیں وہ ایسی صورت ہے جو اسلام کی شکل کو خوبصورت بنانے کے بجائے اور بگاڑ دیتی ہے۔یہ باتیں ہم اس قوم کو مخاطب کر کے کہتے ہیں جو چھوٹے امور کے لیے عظیم امور کو معطل کر دیتی ہے۔پھر ان کی حساسیت کسی بھی خیر اور فضلِ الہی کو دیکھنے سے غلطیوں کے موقع پر ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
جہاد اللہ کی راہ میں ایک انسانی تحریک ہے جس کا ہدف اختیار وملک ہے اسی لیے اس میں انسانی زندگی کے تمام عوامل کا دخل ہے۔پس جو کوئی تلوار کی طرف بلاتا ہے تو وہ اس بات کا انتظار نہیں کرتا کہ کوئی اس کے ساتھ بحثوں اور خوبصورت الفاظ کے ساتھ مرصع خطبوں کیساتھ مناقشہ کرے گا۔بلکہ اسے بھی انتظار کرنا ہوتا ہے کہ وہ بھی تلوار کی حرارت کا ذائقہ چھکے۔………یہ بندوں میں اللہ کی سنت ہے اور یاددہانی کے لیے ………تین خلفاء راشدین………الشہدآء………ایسے لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوئے جو مسلمانوں کے ہی درمیان رہ رہے تھے۔
ابو لو ء لوء ۃ الفارسی………کے مجوسی یا مسلمان ہونے میں اختلاف ہے!!
ابو ملجم………خوار ج میں سے تھا!!
عثمان رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے والے………ان کے بعض لوگ علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں قائد بنے!!
اس لیے اللہ تعالیٰ کی سلطنت و اختیار کو زمین پر قائم کرنے کی راہ پر جو بھی مسلمان اپنا قدم رکھتا ہے………اپنے نفس کو طاغوت کے خلاف لڑائی کے لیے وقف کردیتا ہے………تاکہ ان کے تخت ڈھادیے جائیں اور ان کی سرکشی کو توڑ دیا جائے………تو ایسے شخص کا انجام معلوم ہے………لیکن اگر وہ اپنے آپ کو اس کے لیے تیار نہیں کرتا تو وہ کسی دھوکے میں ہے………یعنی اسکی کوئی عقل نہیں………اس بندے کا انجام تخت ہے یا تختہ!!!
ہاں ………یہ تیرے لیے آسان ہے کہ ایک مجلہ نشر کردے تاکہ ایک جماعت وحزب کی تشکیل دی جائے اور جیلوں میں قید بھائیوں کی رہائی کا انتظار کیا جائے………یا بادشاہ کی موت کا انتظار کیا جائے کہ شاید دوسرا اس سے بہتر ہو۔اگر معاملہ ایسا ہے تو پھر تیرے لیے بہت آسان ہے۔یعنی تو ایک سیاسی اور بیان باز آدمی ہے اور تیری فائل انٹیلی جنس والوں کے پاس موجود ہے اور وہ تجھے ایسے کھاتہ میں رکھتے کہ تو ان کے بالکل خلاف نہیں یعنی مخالف سیاست کی حدود کے اندر ہی کام کرتا ہے۔
جیسے کہ پاکستانی ایجنسیوں کی پروردہ تنظیموں(جیسے کے جماعۃ الدعوۃ، جیش محمد وغیرہ)کا حال ہے کہ وہ بھی جب تک ان کی وضع کردہ حدود وقیود کے اندر کام کرتی رہیں تو ان کا سورج چڑھا رہتا ہے لیکن جو کوئی اس کی مخالفت کرے وہ ڈوب جاتا ہے۔اسلیے اپنے منہج سے دستبردار ہونا اور اصولوں پر سمجھوتا کرنا ایسے لوگوں کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ ایسے لوگ تو تنخواہ کے لوگ ہیں نہ کہ اصول و عقیدہ کے۔جہاں تک کارکنان کا تعلق ہے تو ان کے سولات پر ﴿إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾ کی تاویلیں پیش کردی جاتی ہیں۔اس پر بھی وظیفہ خور کارکن جو پہلے ہی اس کی تاویل کا انتظار کررہا ہوتا ہے وہ چپ سادھ لیتا ہے۔
لیکن جب تو………جہاد وقتال………کی راہ چلے گا تو پھر انتظار کر………
کیا تو اپنے سے پہلے اپنے اسلاف سے بہتر ہے………
تو اپنے پہلے ساتھیوں سے اتنا دور بھی نہیں………
یہ عبد اللہ عزام تجھ سے زیادہ دور نہیں………نہ ہی شیخ عمر عبد الرحمن تجھ سے دور ہیں………
ابو طلال القاسمی کا انجام تیرے سے زیادہ دور نہیں………نہ ہی انور شعبان !!………
نہ ہی غازی رشید اور مفتی شامزئی کسی اور زمانے میں ہو گزرے ہیں………
نہ ابو عبد اللہ احمد کا قصہ تجھ سے ڈھکا چھپا ہے………یہ فہرست اے میرے مجاہد بھائی بہت طویل ہے ۔لیکن تیرے لیے یہی مثالیں کافی ہیں۔
یہ تو ایسا کام ہے کہ جس کی ہولناکی بچوں کو بوڑھا کردیتی ہے………اس کام کے لیے بہادر مرد چاہییں!۔اس لیے اس میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لے ، بعد میں کہیں یہ نہ کہنا انہوں نے مجھے دھوکہ میں ڈال دیا تھا۔ہم تجھے کسی وزارت یا منصب کے حصول کی ضمانت نہیں دیتے………نہ ہی یہ کہتے ہیں کہ تیرے ساتھ جہاد کرنے والے فرشتے ہیں جو غلطی نہیں کرتے………نہ ہی ہم یہ کہتے ہیں کہ تیرے لیے آسمان سے ایسی پستول اترے گی جو تجھے بتائے گی یہ مومن ہے اسے نہ مار اور وہ کافر ہے یا یہ کہ وہ سنی اور بدعتی میں فرق کرے گی۔نہ ہی ہم تجھے اپنے اندر موجودکسی قائدنبی کی ضمانت دیتے ہیں جسے وحی سے راہنمائی ملتی ہو.بلکہ ہم آج ایک بات کہیں تو کل اس سے رجوع بھی کر سکتے ہیں۔لیکن اگر تو وہی خیالی دنیا ہی چاہتا ہے تو چاند پر چڑھ جا………﴿وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ﴾ہم نے جو دیکھا وہی بیان کیا اور ہم غیب جاننے والے نہیں۔لیکن اگر تو اس سب سے عاجز ہے تو تجھ سے پہلے بہت سے لوگ اس سہولت کی راہ چل کے چڑیوں کی طرح اپنے بچوں کے ساتھ گھونسلوں میں بیٹھے کھاتے پیتے ہیں اور گھروں میں لگے خوبصورت شیشوں سے زندگی کی رنگینیوں کے نظارے کرتے ہیں۔یہ سب دفاع کے وقت میں ہے………جب تو گھر بیٹھ جائے گا تو پھر وہ لوگ اپنے بڑے بڑے وعظ لیے ہمارے سامنے آئیں گے تاکہ ہمیں کہیں………ہم نے کہا تھا………ہمیں یہی توقع تھی………ہم نے خبردار کیا تھا………ہم نے اور ہم نے………طویل زبانوں کے ساتھ ۔ہم اللہ سے ایسی زبانوں کے چھوٹا کرنے کا سوال کرتے ہیں!!!﴿سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ﴾ وہ اپنی تیز زبانوں کے ساتھ تمہیں ملیں گے ، مال کے اوپر حریص۔ان بیٹھے ہوئے لوگوں کی حالت ایسے ہے جیسے فٹبال کھیلنے والے کے خلاف کسی ماہر کی تنقید ہو۔لیکن یہ سب بلند آوازوں کے ایسے لوگ ہیں جو معرکہ کی قیادت سے باہر کرسیوں پر بیٹھ نظارہ کرتے ہیں.اللہ جانتا ہے کہ ان کے پسینے چھوٹ رہے ہوتے ہیں اور وہ پسینے پونچھتے ہیں،ان کی آوازیں بیٹھ جاتی ہیں لیکن یہ لوگ ہاتھوں کے ساتھ فٹ بال کھیلنے والے ہیں(مقالات بین منھجین۔مقالہ نمبر83)۔
مرتدکے ساتھ قتال کا حکم………
………بنسبت اصلی کافر کے زیاددہ شدید ہے!!
جس نے بھی صحابہ کی جنگوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اس نے اس بات کو بہت واضح طور پر جان لیا ہوگا کہ ان کا مرتدین اور خصوصاً مسیلمہ کذاب اور بنو حنیفہ سے اسکے پیروکاروں کے خلاف جہاد کس قدر واضح تھا۔یہ شدید ترین جنگ تھی جس میں مسلمانوں کو بہت مشقت اٹھانا پڑی اور اس میں بنی حنیفہ کے مقتولوں کی تعداد10,000تھی جبکہ مسلمانوں کے مقتولوں کی اکثریت حفاظِ قرآن کی تھی یہاں تک کہ حفاظ کا اتنی بڑی تعداد میں قتل ہوجانا خلیفہ اول کے لیے جمعِ قرآن کا سبب بنا۔
پھر جو کوئی بھی اسلامی تاریخ پر نظر ڈالتا ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ زندقہ کے خلاف لڑی جانے والی جنگیں مسلمانوں پر کس قدر مصیبتوں کا باعث تھیں۔اگر ہم اس کاسبب جاننے کی کوشش کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا دووجہ سے تھا اور ان کو سمجھ کے آپکو جماعتِ توحید وجہاد کی حقیقت کا ادراک ہوجائیگا ۔ کہ جس امر پر وہ آج قائم ہیں اس پر صرف اہلِ ہمت ہی ٹہر سکتے ہیں اور اس کام کو وہی کرسکتا ہے جس نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے خالص کرلیا ہو۔یہ دو سبب ہیں………
(۱)مرتدین سے قتل کا حکم اصلی کافر سے زیادہ شدید ہے!!
امام الغزالی کہتے ہیں’’زنادقہ باطنیہ کے متعلق صحیح قول یہ ہے کہ ان کے بارے میں مرتدین والا معاملہ کیا جائے.خون میں،مال ونکاح میں،نفوذ و معاملات اور عبادات میں۔ان کے معاملے میں اصلی کافر کا طریقہ استعما ل نہ کیا جائے گا جبکہ اصلی کافر کے متعلق امام یعنی خلیفہ کو چار اختیار ہوتے ہیں………کہ انہیں احسان یا فدیہ کے ساتھ چھوڑ دیا جائے یا غلام بنایا جائے یا قتل کردیا جائے۔لیکن مرتد کے معاملے میں یہ اختیار نہیں ہوتا۔نہ ہی انہیں غلام بنانے کا کوئی راستہ ہے اور نہ ہی قبولِ جزیہ،احسان و فدیہ والا معاملہ ان کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔بلکہ ان کے متعلق واجب ان کا قتل اور زمین کو ان کے وجود سے پاک کرنا ہے ۔یہ ہے وہ حکم جس کے ساتھ باطنیہ پر حکم لگایا جائے گا۔پھر یہ حکم صرف قتال کے وجوب کے دوران ہی خاص نہیں بلکہ وہ جب تک لڑائی میں مشغول ہیں انہیں اغوا کر کے ان کا خون بہا دیا جائے(فضائح الباطنیہ صفحہ95)۔
پس مرتد کا حکم اصلی کافر سے زیادہ سخت ہے.اسی طرح مرتد کے ساتھ صلح و امن نہیں ہوسکتا جبکہ کافرِ اصلی کے ساتھ صلح وعہد جائز ہے۔
امام الشافعی کہتے ہیں’’جب مسلمان مشرکین کے خلاف قتال کرنے سے کمزور ہوں یا یہ کہ وہ ایسا گروہ ہوں جو ان کے علاقے سے دور ہو یا مسلمانوں کے خلاف دشمن بہت کثرت سے ہو یا کوئی اور اضطراب لاحق ہو تو ایسے وقت میں ان سے جنگ روک لینا اور صلح کرناجائز ہے اور اگر اس کے مقابل مشرکین کوئی چیز دینا قبول کرلیں تو اس کا لینا بھی جائز ہے(الاُم 186/4)۔
السیر الکبیر للشیبانی اور اسکی شرح للسرخسی رحمہ اللہ میں ہے ’’جب مسلمانوں کے پاس مشرکین کے خلاف قوت نہ ہو تو ان سے صلح کرنا جائز ہے کیونکہ ایسے وقت میں معاہدہ ہی بہتر ہے اور اللہ فر ماتے ہیں ﴿وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ﴾ اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی صلح کی طرف مائل ہوجائیے اور اللہ پر توکل کیجیے(1689/5)۔
ابنِ قدامہ کہتے ہیں’’مشرکین کے ساتھ مال کے علاوہ پر بھی صلح کرنا جائز ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ بغیر مال لیے حدیبیہ کے دن صلح کی تھی۔پس اگر یہ بغیر مال کے جائز ہے تو مال کے ساتھ بالاولیٰ جائز ہوئی‘‘(المغنی519/10)۔
یہ اصل کافروں کے احکام کے متعلق ہے ان کے ساتھ امام کو صلح و معاہدہ کرنا جائز ہے اور اس کی تفاصیل ائمہ کی کتب میں مذکور ہیں۔اس صورت میں ان کے ساتھ عہد کو وفا کرنا اور غداری نہ کرنا واجب ہے۔.جبکہ مرتدین کیساتھ معاہدہ وصلح جائز نہیں!!!
ابو اللیث السمرقندی کہتے ہیں جزیہ لینا اور ذمہ کا عہد کرنا تمام کفار کے حق میں مشروع ہے سوائے عرب کے مشرکین اور مرتدین کے کیونکہ ان سے جزیہ اور غلامی قبول نہیں کی جائے گی(تحفۃ الفقہاء وھو متن کتاب بدائع الصنائع للکسائی607/3)۔
الکاسانی کہتے ہیں’’کیونکہ مرتد سے اسلام یا تلوار کے علاوہ کوئی چیز قبول نہیں کی جاتی اللہ کے اس قول کے باعث(تقاتلوھم او یسلمون)ان سے قتال کرو یا وہ تسلیم ہوجائیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت بنی حنیفہ کے مرتدین کے متعلق نازل ہوئی کیونکہ اسلام میں مرتد کے ساتھ معاہدہ کا کوئی وسیلہ نہیں۔ظاہری بات یہ ہے کہ مرتد اسلام کے محاسن وخوبیوں کو جاننے کے بعد نکلا ہے اور اسی لیے اس کی کامیابی کے متعلق مایوسی واقع ہونے کے بعد اس سے کوئی عقدِ ذمہ نہیں کیا جاتا(بدائع الصنائع111/7)۔
القرطبی کہتے ہیں کہ ’’اوزاعی نے کہا ہر بت کے پچاری،منکر اور جھٹلانے والے سے جزیہ لیا جائے گا اور اسی طرح امام مالک کا مذہب ہے کہ سوائے مرتد کے تمام اقسام کے مشرکوں سے جزیہ لیا جائے گا چاہے وہ عربی ، عجمی،تغلبی یاقریشی ہوں(الجامع لا حکام القرآن110/8)۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں’’کہ سنت نے اس بات کو مقرر ٹہرایا ہے کہ مرتد کی سزا اصلی کافر سے متعدد وجوہ کی بنیاد پر شدید ہے۔اس میں سے یہ ہے کہ بخلاف اصلی کافر کے………
(۱) مرتد کو ہر حال میں قتل کیا جاتا ہے۔
(۲) اس پر جزیہ لگانا جائز نہیں
(۳) اس کے ساتھ عقدِ ذمہ منعقد نہیں ہوگا۔
(۴) یہ کہ مرتد چاہے جنگ کرنے سے عاجز بھی ہو اسے ہر حال میں قتل کیا جائے گا بخلاف اصلی کافر کے جو کہ (عجز کی صورت میں) اہل ِ قتال میں سے نہ ہوگا۔اسے اکثرائمہ جیسے ابو حنیفہ رحمہ اللہ،مالک رحمہ اللہ اور احمدرحمہ اللہ کے نزدیک قتل نہیں کیا جائے گا۔
(۵)مرتد کے ساتھ وراثت نہ ہوگی، نہ نکاح کیا جائے گا اور نہ ہی اس کا ذبیحہ کھایا جائے گا(مجموع الفتاویٰ532/28 )۔
جب ہم نے یہ جان لیا کہ ہمارے ملکوں کے حکمران مرتد ہیں………
تو پھران کیساتھ مصلحت کے نام پر صلح وامن جائز نہیں………یعنی جہادی جماعتوں کے لیے جائز نہیں کہ ان مرتدین کے معاملے میں کسی کے ساتھ بھی مداہنت کا اظہار کریں یا ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی لڑائی میں تعاون کریں۔
٭ الجزائرمیں………جماعۃ الجہاد کے لیے جائز نہیں کہ وہ الجزائر میں جہاد کی مصلحت کے نام پر مرتد حسن کے ساتھ صلح کرے۔
٭ نہ ہی مصر میں جماعۃ الجہاد کے لیے جائز ہے کہ وہ جہاد کی وہمی مصلحتوں کے لیے مرتد حسنی مبارک کے ساتھ صلح کرے۔
٭ اگر جہادی جماعتیں ایسی کسی مصلحت کا زعم رکھیں تو ایسی مصلحت کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ وہ شریعت کی بہت سی مصلحتوں کا قلع قمع کردیتی ہیں۔
٭ الجزائر میں جماعۃ الجہاد لیبیامیں اپنے مجاہد بھائیوں کو کیا جواب دے گی اگر وہ لیبیا کے مرتد(قذافی ملعون)کے ساتھ صلح کرلے۔اسی طرح اگر لیبیا کی جماعت الجزائر کے مرتد کے ساتھ صلح کر لے تو پھر حال کیا ہوگا۔لیکن اگر ایسا ہوجائے تو خود مجاہدین کے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے گا جب ایک جماعت ایک ملک کے طاغوت کو کافر سمجھے گی اور دوسرے کو ایسا نہ سمجھے گی۔اسلیے کوئی بھی جماعت ایسی کسی مصلحت کے وجود پر یقین رکھتی ہے تو وہ کالعدم ہے۔
جہاں تک اصلی کفار کے ساتھ صلح وامن کا تعلق ہے تو شارع ِ حکیم نے اسے بعض حالات میں جائز قرار دیا ہے جیسے کہ کتبِ فقہ میں مذکور ہے۔
اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ مسلمان ممالک میں ملحدوں کے پھیلائے ہوئے شبہات اور اشکالات کی بنا پر جہاد کی راہ کو بالکل ترک نہ کریں۔کیونکہ آج مسلمانوں کی عقلیں سہولت پسندوں اورکافر قوم پرستوں کے پراپیگنڈہ کی اسیر ہوگئی ہیں۔
ہاں ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی فردِ واحد کے لیے جائز نہیں کہ وہ پوری امت کی طرف سے کلام کرے بلکہ اس کے اہل وہی ہیں جنہوں نے ان امور کا گہرا مطالعہ کیا ہو اور وہ اسلام کے مصالح کو جانتے ہوں نہ کہ اپنی شخصی وذاتی مصلحتوں کو۔اسی طرح اس کام کو وہی سر انجام دیں گے جوشرک اوراسکے اہل سے بغض وبرأت رکھتے اور اسکااظہار واعلان کرتے ہوئے زندگی کے تمام افعال کی اللہ کے اوامر کے مطابق شرعی تحدید و تعین کرنے پر قادر ہوں۔
جب ہم نے یہ فہم حاصل کرلیا تو پھر یہ بھی واضح ہے کہ توحید و جہاد کی جماعتیں آج ایسے کڑے دور میں رہ رہی ہیں جو امتِ مسلمہ پر پہلے کبھی نہ آیا تھا۔آج یہ جماعتیں اللہ کے دشمن مرتدین کے خلاف جہاد کے لیے چٹانوں کو کاٹتی ہیں اور ان میں گڑھے بناکر رہتی ہیں اور انتہائی غیر محفوظ ٹھکانوں سے متحرک ہوتی ہیں۔جبکہ اوائل دور کے مسلمان جہاد کے لیے تیار ہوتے اور نکلتے تھے تو وہ اپنی زمینوں پر محفوظ ومامون ہوتے تھے۔
لیکن آج یہ جہادی جماعتیں ایسے بند دوراہے پر کھڑی ہیں جن میں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں۔دوسری طرف جدیت پسند کافر حکومتیں سکیورٹی کے امور میں بہت شدید ترقی کر گئی ہیں۔جبکہ پہلے ایسے حالت نہ تھی۔جہادی جماعتوں کے لیے کوئی ایسی زمین بھی نہیں جس کو وہ اپنا مرکز بنائیں۔لیکن جہادی جماعتیں تمام مصائب وتکالیف کے باوجود اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔یعنی اگر انہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو کوئی زمین نہیں جس کی طرف نکل کر وہ جاسکیں اور نہ ہی کوئی ایسا گروہ ہے جس کے ہاں وہ پناہ پکڑ سکیں۔
یا اللہ………کس قدر عظیم یہ جہاد ہے……اور کس قدر مشکلات سے بھرپور!!
ہاں………مرتدین کے خلاف جہاد مشکل ترین عمل ہے………اور اس میں ایسی ایسی تکالیف ومصائب ہیں کہ انہیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔مجاہد ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف منتقل ہوتا ہے ………اسکے گھر والے طاغوت کے دباؤاور اسکے جبر کا شکار ہوتے ہیں………یعنی وہ نصف عیاں ہے………پس یہ خاص جہاد ہے اور اس کے لیے اجر بھی خاص ہے۔جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کی خبر دی’’ کہ ایسے وقت میں دین کے ساتھ متمسک انسان کا اجر پہلے دور کے لوگوں کے اجر سے پچاس گنا زیادہ ہے کیونکہ پہلے دور والوں کو حق پر انصار مل جاتے تھے لیکن آج کے مجاہدین کو حق پر انصار نہیں ملتے۔
آج ایک مجاہد کو ارض ِ جہاد تک پہنچنے کے لیے کتنی مشقت اٹھانا پڑتی ہے۔وہ کتنی جہد کرتا ہے اور کتنا سوچتا ہے اور جہادکی سرزمین تک پہنچنے کے لیے اسے کس قدر مشقت وتکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے۔ان سکیورٹی کی پابندیوں کا ذرا تصور کریں جو جہاد وقتال جیسی عبادت کرنے والے مجاہد کی راہ میں حائل ہے۔
کیا مسلمانوں پر ایسی حالت اس سے قبل آئی ہے………؟؟
جواب ہے ………نہیں!!
آج ساری دنیا کا اجتماع دیکھیے………کفار ومرتدین کا………تاکہ وہ جہاد و مجاہدین کو روک دیں۔نہ انکی کوئی ڈھال ہے اور نہ ہی کوئی حکومت ان کی حمایت کرتی ہے اور نہ ہی کوئی میڈیا ان کی آواز پہنچاتا ہے………تو کیا مسلمانوں پر تاریخ میں کوئی ایسا دور بھی گذرا ہے؟؟
جواب ہے………نہیں
دوسرا سبب ہے………!!
سابقہ قدری وشرعی امر کی موافقت!
اس سے میری مراد یہ ہے کہ جب شارعِ حکیم نے مرتد کے حکم کو اصلی کافرسے شدید قرار دیا تو یہ اس سبب ہے کہ یہ حکم اس کے حال کے موافق ہے اور اسی کی طرف الکاسانی نے اپنے سابقہ کلام میں اشارہ کیاہے۔وہ یہ کہ مرتد سے یہ کفر اس کے اندر کے خبث وشر کی وجہ واقع ہوا ہے۔پس جس نے اسلام قبول کیا اور اس دین کی حقیقت اور نفوس پر اس کے اثر کو جان لیا پھر اس سے بغض و عناد کے ساتھ نکل گیا ،ایسا شخص اسی حکم کا مستحق ہے کہ وہ اس زندگی کا حق دار ہی نہیں کجا اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو۔
اسی لیے جب مرتدین کا اس دین کے خلاف بغض شدید ہے تو ان کے خلاف مسلمانوں کا قتال بھی شدید ترین ہے ۔بخلاف اصلی کافر کے کہ ان کی اکثریت اس بات سے بے خبر ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کیوں کی جارہی ہے اور وہ جنگ میں کیوں جھونکے جارہے ہیں۔اسی لیے جب جنگ اپنا زور توڑ دیتی ہے تو ان میں سے بہت سے لوگ اللہ کے دین میں داخل ہوجاتے ہیں۔
شیخ ابو الحسن الندوی رحمہ اللہ نے اپنی مفید کتاب(رِدَّةٌ وَلَا اَبَا بَکَر لَھَا)میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے………یعنی ان مرتدین کی نفسیاتی حقیقت کی طرف………یہ ایسی ذہنیت ہے جو تاریخ کے اندر اپنی جڑیں رکھتی ہے بلکہ اس نے اس رستے کے خدوخال کو شیطان سے لیا ہے۔کہ جب اس نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر جہنم میں ہمیشگی کا حکم لگادیا ہے تو اس نے اللہ عزوجل سے دنیا کے خاتمہ تک مہلت مانگی تاکہ وہ لوگوں کو اپنے ساتھ جہنم میں لے جاسکے۔اس طرح اس نے لوگوں سے ان کی عفت،طہارت اور ایمان کا انتقام لیا اور یہی حال مرتد کا ہے کہ وہ لوگوں سے ان کے اسلام کا انتقام لیتا ہے۔
شیخ نے اس کتاب میں مرتد کی ذہنیت کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کا نفس شہوتوں کے سامنے کمزور پڑگیا………مال کی شہوت،منصب کی شہوت یا پھر عورتوں کی شہوت!!تو وہ اپنے نفس کو حقیرو ذلیل دیکھتا ہے اور اپنے سامنے ایسے نوجوان کو دیکھتا ہے جو ان شہوتوں سے بہت دور ہے ،اپنے دین کو پکڑے ہوئے………پھر وہ اس فضیلت کا اس سے انتقام لیتا ہے اور اپنے سامنے اس مومن کو چھوٹا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بجائے اس کے کہ وہ اللہ کی رشد وہدایت کی طرف لوٹتا وہ اپنے خبیث کینے کے ساتھ اس جوان کے خلاف صف آراء ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کے سامنے عاجز و کمزور پاتا ہے۔
جب آپ مسلمانوں پر مرتدین کی تعذیب کے حقیقی قصے سنتے ہیں تو ان کی ہولناکی آپ کوتصور وخیال کی دنیا میں لے جاتی ہے کیونکہ مرتد ایسی قسم کا انسان ہے کہ ظلم ،کفر اور دشمنی میں جس کی کوئی نظیر نہیں۔اس لیے اس قسم کے خلاف قتال یعنی اپنی ہولناکیوں اور شدتوں کے باعث خاص ہے۔کیونکہ جان کی آخری رمق اور آخری سانس تک اس کے خلاف لڑائی جاری رہتی ہے۔میں ان صوفی فکر کے حامل لوگوں پر حیران ہوتا ہوں جو ان مرتدین کی ہدایت کی امید رکھتے ہیں………ایسے لوگ کسی شدید وہم میں مبتلا اوران حکمرانوں کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔
یہ ہمارے سامنے ایک ماضی قریب کا تجربہ موجود ہے………!!!
یہودیوں اور عرفات کے درمیان موازنہ۔ایک مظاہرہ میں جو غزہ(فلسطین)میں ہوا جہاں کچھ لوگ مظاہرے میں نکلنا چاہتے تھے تو اس میں15سے زائد اشخاص کو قتل کردیا گیا لیکن ایسا یہودیوں کی تاریخ میں کسی مظاہرے کے ساتھ نہیں ہوا………پس ان دونوں میں سے مسلمانوں کے خلاف زیادہ سخت اور غلیظ کون ہے؟؟
ہوسکتا کہ بعض لوگوں نے یہ قصہ بھی سنا ہو کہ جب ایک جزائری کو مجاہدین نے گرفتار کیا جبکہ وہ طاغوت کی صف میں تھا۔تو انہوں نے پستول اس کی کنپٹی پر رکھی اور کہا کہ کلمہ پڑھ تو اس نے تکبر کرتے ہوئے انکار کردیا……… پس کس قسم کے انسان ہیں یہ لوگ؟؟؟
٭ قدیم لوگ تاتاریوں کی شدید پکڑ کے قصے سنایا کرتے تھے؟؟
٭ لیکن کیا تاتاریوں کی پکڑ صدام کی خون ریزی کے برابر تھی؟؟
٭ کیا ساری تاریخ میں کافروں نے اس قدر ظلم کیا ہوگا جتنا کفر وظلم قذافی نے روا رکھا ہے؟؟
٭ کیا یہودیوں کی خباثت شاہ حسین کی خباثت کے برابر ہے؟؟
٭ کیا نازیوں کی تعذیب مصریوں کی تعذیب کے برابر ہے؟؟
٭ کیا لبنان میں عیسائیوں کی حکومت شام کے نصیریوں کے برابر ہے؟؟
٭ کیا پاکستان کا مجاہدین کے ساتھ سلوک امریکی ظلم کے برابر ہے؟؟
٭ کیا تاریخِ انسانی میں کوئی ایسا نظام بھی ہوگذرا ہے جو آلِ سعود کے نظام جیسا ہو؟؟؟………ان نظاموں میں جہاں حاکم و محکوم کے درمیان کوئی رشتہ نہیں………حاکم ساری قوم کا مالک اور باقی سب اس کے بندے اور غلام ہیں۔
ان مجرموں کی رگو ں میں سوائے کفر کے کچھ نہیں جو ان کے خون کے ساتھ گردش کرتا ہے………کفر جس کے بعد کفر ہے………جرم پر جرم کے پردے چڑھے ہیں۔اللہ کی قسم کوئی شخص مسلمانوں میں سے جو کسی لحظہ یہ سوچتا ہے کہ ان لوگوں میں خیر کا کوئی مادہ موجود ہے تو وہ ماؤف دماغ کا آدمی ہے………اور کوئی بھی شخص جو ان کے علاج کے متعلق تلوار کے علاوہ کسی دوا کو ڈھونڈتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے!!!۔
مسلمان مجاہد کو چاہیے………
اپنے آپ کو تسلیم نہ کرے بلکہ خفیہ رہن سہن بنالے!!
قیدیوں کو چھڑانے اور مظلوم کی نصرت اور ظالم کی تباہی کے لیے متحرک ہونا چاہیے۔انبیاء علیہم السلام کے قصوں میں غور کرنے والا دیکھتا ہے کہ ان کی دعوت ایک ہی محور کے گرد گھومتی ہے اور وہ ہے کلمۂ توحید۔لیکن اس کیساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء اپنی اس دعوت کے ساتھ ایک اور اہم دعوت بھی لیکر آتے تھے اور وہ دعوت توحید کی قبولیت کا امتحان ثابت ہوتی تھی۔جیسے کہ لوط علیہ السلام توحید کی دعوت کے ساتھ اپنی قوم کو رذائل سے باز آنے کی بھی دعوت دیتے تھے۔مثلاً مردوں کے پاس آنے اور بے ہودہ مجالس میں جانے سے انہیں منع کرتے جیسے کہ اللہ فرماتے ہیں﴿وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنكَرَ﴾ اور تم بری مجلسوں میں آتے ہو۔پس یہ شرعی امور توحید کے ساتھ اس دعوت کی قبولیت کی سچائی کا امتحان تھے۔
قرآنِ کریم نے موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کثرت کے ساتھ کیا ہے اور اس عظیم نبی کے متعلق قرآن کی آیات تکرار کے ساتھ وارد ہوئی ہیں. وہ مومن اور اول العزم رسولوں میں سے تھے۔توحید ان کی دعوت کا بنیادی محور تھا لیکن اس کے ساتھ ایک اور اہم مسئلہ بھی تھا!
اور ان اہم مسئلوں میں سے تھا باطل رب وطاغوت کی حکومت سے بنی اسرائیل کو نکالنا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
﴿ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ بِآيَاتِنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَظَلَمُوا بِهَا ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ وَقَالَ مُوسَىٰ يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ حَقِيقٌ عَلَىٰ أَن لَّا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ قَدْ جِئْتُكُم بِبَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ ﴾
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے دلائل دے کر فرعون اور اس کے امرا کے پاس بھیجا مگر ان لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہ کیا سو دیکھیے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔اور موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے فرعون میں رب العلمین کی طرف سے پیغمبرہوں۔میرے لیے یہ شایان ہے کہ میں بجز سچ بات کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی لایا ہوں سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔(الاعراف103-105)
اللہ نے فرمایا
﴿اذْهَبَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ قَالَا رَبَّنَا إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفْرُطَ عَلَيْنَا أَوْ أَن يَطْغَىٰ قَالَ لَا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ فَأْتِيَاهُ فَقُولَا إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْنَاكَ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكَ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ ﴾
تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سر کشی کی ہے۔اسے نرمی سے سمجھاؤکہ شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے۔دونوں نے کہا اے ہمارے رب ہمیں خوف ہے کہ فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرے یا اپنی سر کشی میں بڑھ نہ جائے۔جواب ملا کہ تم مطلقاً خوف نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا دیکھتا رہوں گا۔تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے،ان کی سزائیں موقوف کر،ہم تو تیرے پاس رب کی طرف سے نشانی لیکر آئے ہیں اور سلامتی اسی کے لیے ہے جو ہدایت کا پابند ہوجائے(طہٰ43-47)۔
اس کے بعد اللہ عزوجل نے یہی قصہ سورۃ الشعراء میں بھی روایت کیا ہے
﴿فَأْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولَا إِنَّا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾
فرعون کے پاس تم دونوں جاؤ اور اسے کہو کہ ہم رب العلمین کے پیامبر ہیں یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔
اس قصہ کو قرآن نے تین مواقع پر بیان کیا ہے………بنی اسرائیل کے طاغوتِ مصر کی حکومت سے اخراج کا قصہ………اسی طرح موجودہ دور کا قصہ ہے مرتدین اور اہل کفر وشرک کی جیلوں سے قیدی موحدین کے اخراج کا قصہ!!
جیل عذاب کی وہ صورت ہے جسے طاغوت موحدین کے خلاف بطورِ حربہ استعما ل کرتے ہیں۔اللہ عزوجل فرعون کا قول نقل فرماتے ہیں﴿لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَهًا غَيْرِي لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ﴾ اگر تو نے میرے علاوہ کسی کو معبود بنایا تو میں تجھے جیل میں ڈال دوں گا۔اسی طرح اللہ عزوجل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قریش کے معاملہ کی خبر دیتے ہیں
﴿وَإذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ﴾
اور جب کافر آپ کے بارے میں منصوبے بنا رہے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا قتل کرڈالیں یا آپ کو خارج وطن کردیں اور وہ تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب سے محکم تدبیر والا ہے۔
یہاں ایک بہت بدیعی نکتہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام جو لوگوں میں سب سے عظیم منزلت والے اور اپنے رب پر سب سے زیادہ یقین رکھنے والے ہیں………اور یہاں مسئلہ ہے بھاگنے کا اور چھپنے کا۔یہ موسیٰ علیہ السلام مصر سے پہلی بار ﴿خَائِفاً یَتَرَقَّبُ﴾ مراقبہ کیے جانے کے خوف کے ساتھ نکلتے ہیں………پھر اس کے بعد فرعون کے جاسوسوں کے خطرے کے پیشِ نظر مصر سے نکلتے ہیں………اسی طرح جنابِ رسالتماٰب صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ سے خفیہ قریش کی پکڑ کے خوف سے نکلنا………یہ تمام امور انبیاء علیہم السلام کی عظمت ، عصمت اور رجولت پر کوئی قدغن عائد نہیں کرتے۔
یہاں میں بعض مشایخ کے متعلق تنبیہا ًکہوں گا کہ جب انہیں بھاگ جانے کو کہا گیا………ایسے وقت میں جب طاغوت کے فوجی انہیں پکڑنے کے لیے ان کے مکان کے باہر پہنچ گئے تھے تو انہوں نے اس سے انکار کردیاپھر اسے اپنی کرامت وعزت کے مخالف جانا اور کہنے لگے میں ،جس کی طرف انگلیوں سے اشارے کیے جاتے ہیں اور یہ یہ کہا جاتا ہے………میں کوئی چور نہیں ہوں کہ اس طرح بھاگ جاؤں۔اسی طرح وہ اس سے بھی انکار کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کی کھڑکی سے کوئی رسی لگا کر نیچے کود جائیں تاکہ انہیں طاغوت کا کوئی فوجی پکڑ نہ لے تو وہ اس سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔یہ ذہنیت یقیناً ایک مصیبت ہے اور یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اسلامی اعمال کی قیادت ایک لڑاکے مجاہد کی نفسیات نہیں رکھتی سوائے اس کے جس پر اللہ رحم کرے،یا یہ کہ وہ ایک بیدار آدمی کی نفسیات نہیں رکھتی جو اس معرکہ حق وباطل کی طبیعت سے واقف ہو۔
پس جیل تو دعاۃ و مصلحین کو روکنے کے لیے ان طاغوتوں کا ایک اسلوب ہے جبکہ موجودہ وقت میں جیلیں مجاہدین کیساتھ بھر گئی ہیں۔آج کفر تکبر وغرور میں پھولے نہیں سمارہا تو ان مجرموں کو ان کے ٹیڑھ پن سے ہٹانے کا شرعی رستہ کیا ہے؟ ………ان موحدین مجاہدین کو جیلوں سے نکالنے کا شرعی طریقہ کیا ہے………اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے!!!۔
قیدیوں کو چھڑانا مسلمانوں پر شرعاً واجب ہے جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں اس پر ابھارا«أَطْعِمُوا الجَائِعَ،وَعُودُوا المَرِيضَ،وَفُكُّوا العَانِيَ»قیدیوں کو چھڑاؤ،بھوکوں کو کھلاؤاور مریض کی عیادت کرو(اسے بخاری نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا)۔
ابن حجر کہتے ہیں کہ ابن بطال نے کہا’’قیدیوں کا چھڑانا سب پر واجب ہے یہاں تک کہ کفایت کرجائے اور یہی بات جمہور نے کہی ہے.امیر المومنین عمر بن الخطاب صفرماتے ہیں(لأن استنقذ رجل من ایدی الکفار أحب الی من جزیرة العرب)کافروں کی قید سے ایک آدمی چھڑانا مجھے سارے جزیرہ عرب سے زیادہ محبوب ہے………مروی ہے کہ حجاج بن یوسف اپنے سندھ کے والی پر بہت زیادہ غصہ ہوا اور اس کا سبب یہ تھا کہ ایک عورت قید ہوگئی اور اسے سندھ کی طرف لے جایا گیا۔تو اس نے پے در پے لشکر روانہ کیے اور بیت المال کو خرچ کیا یہاں تک کہ اس عورت کو آزاد کرواکے اس کے اہل کی طرف لوٹا دیا۔
مسلمان قیدیوں کو چھڑانا ،مسلمانوں میں باہم ولاء کی ایک شکل ہے۔اس لیے جاننا چاہیے کہ مسلمان کو جیل کی صورت میں جوعذاب جھیلنا پڑتا ہے وہ وصف وخیال سے بالا ہے۔یہاں تک کہ پہلے وقتوں میں جو جیل چلا جاتا تو اس کے متعلق یہی سمجھا جاتا تھا کہ وہ زمین سے ختم ہوگیا ہے اور زندگی کی قید سے نکل گیا ہے………شاعر کہتا ہے
اذا جائنا السجّنّ یوما لحاجة عجبنا وقلنا جاء ھذا من الدنیا
کہ جب کوئی نیا آدمی کسی دن جیل میں کسی سبب آتا تو ہم کہتے کہ یہ دنیا سے آیا ہے۔
موجودہ شیطانی تہذیب نے اپنے مخالفین کے لیے تعذیب کے ایسے وحشی طریقے ایجاد کر لیے جس کا تصور محال ہے۔آج کی جیل فقط قیدِ تنہائی سے عبارت نہیں جبکہ محض قیدِ تنہائی شدید ترین عذاب ہے۔لیکن وہ قیدی کو ایسے طریقوں کا عذاب دیتے ہیں کہ جن کی ہولناکی کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جب ہم نے یہ جان لیا تو ہم پراور امت کے کندھوں پر عائد قیدیوں کو چھڑانے کی ذمہ داری واضح ہوگئی۔
القوانین میں ابن الجزی کہتے ہیں’’کافروں کے ہاتھوں سے قتال کے ساتھ قیدیوں کا چھڑانا واجب ہے اور اگر مسلمان اس سے عاجز ہوں تو پھر مال کے ساتھ ان کا فدیہ واجب ہے‘‘۔
ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ (الرسالہ القبرصیہ)میں اہلِ قبرص کو مسلمان قیدیوں کے ساتھ احسان کی دعوت دیتے ہیں اور مسلمانوں اور اہل ذمہ کی رہائی کے بارے میں اپنی جہد کو بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں’’ کہ عیسائی جانتے ہیں کہ جب میں نے تاتاریوں سے قیدیوں کے چھوڑنے کی بات کی تو قازان نے انہیں چھوڑ دیا اور مسلمانوں کی رہائی کی اجازت دے دی ‘‘۔اس کے بعد انہوں اہلِ ذمہ کے قیدی چھڑوانے کا تذکرہ کیا!!۔
یہ اور اس جیسی دیگر نصوص بیان کرتی ہیں کہ مشرکین ومرتدین کی جیلوں سے قیدیوں کو چھڑوانا مسلمانوں پر واجب ہے۔آج ان موحدین و مجاہدین کی تعداد بہت زیادہ بڑھ چکی ہے جن کو طاغوت نے انکی عفت، طہارت اور ایمان کا انتقام لیتے ہوئے جیلوں میں ڈال دیا ہے۔صرف مصر جیسے ملک میں مسلمان جماعتوں کے جیلوں میں قید مجاہدین کی تعداد50,000 تک پہنچ چکی ہے۔یہ تعداد ان کے علاوہ جنہیں اگرایک طرف پولیس رہا کرتی ہے تو دوسری طرف سے شر ک کی پولیس آکے دوبارہ گرفتار کر لیتی ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ ہے کہ مسلمان مجاہد کو ان ممالک میں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ان ملعونوں کے حوالے نہ کرے بلکہ اگر ان سے بھاگ سکے تو ٹھیک ورنہ ان سے قتال کرے حتی کہ قتل ہوجائے۔اللہ جانتا ہے مجھے بہت خوشی ہوئی جب مجاہد بھائیوں نے جدہ ،ریاض اور مکۃ المکرمہ میں اپنے آپ کومشرک انٹیلی جنس کے فوجیوں کے حوالے کرنے سے انکار کردیا بلکہ ان کے ساتھ جنگ کی۔ایسی صورت میں اگر کوئی قتل ہوجائے توباذن اللہ شہید ہوگا اور اگر قید ہوجائے تو ان شاء اللہ بطل ہے۔
اللہ کی قسم ………ان مرتدین کے خلاف قتال یہودیوں کے خلاف قتال سے زیادہ محبوب ہے کیونکہ یہودیوں کا کوئی اختیار ہمارے اوپر نہیں چلتا لیکن اس کا وسیلہ یہی مرتدین اور زندیق ہیں۔
اہم تنبیہ………!!
بعض لوگ سیاستِ شرعیہ میں یہ سمجھتے ہیں کہ سوائے دفاع نفس کے دیگر حالتوں میں یہ فوجی و پولیس ہمیشہ مجاہدین کا ہدف نہیں ہونے چاہییں بلکہ ساری کاروائیاں کفر کے سربراہوں اور طغیانی کے سرداروں کی طرف ہونی چاہییں۔مثلاً بڑے عہدوں والے،وزراء وغیرہ اور اس سے ان کا قصد و ارادہ معلوم ہے!!!………کہاجاتا ہے کہ مرتد حکومتوں کی بقاء امریکہ کے ساتھ مربوط ہے جب یہ گر جائے گا تواس کے ساتھ ہی یہ حکومتیں بھی گر جائیں گی۔اس لیے ہمیں اپنی ساری توجہ کفر کے امام امریکہ ویہود کی طرف ہی رکھنی چاہیے پھر ان کی باری آئے گی۔یہ اختلاف اصلِ مشروعیت میں نہیں ہے بلکہ یہ تو عسکری تکنیک میں ہے کہ ہم کس سے پہلے شروع کریں اور کسے ہدف بنائیں؟؟۔لیکن اسلام کے خلاف بغض وعداوت کے اظہار میں بعض اوقات یہ چھوٹے عہدوں والے اور فوجی اپنے بڑوں سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔اس لیے ان کے قتل سے اللہ کے بندوں سے فتنہ زائل ہوجاتا ہے۔ اس کا چھوٹے عہدہ کا فوجی ہونا یا چھوٹے رتبہ کا افسر ہونا اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ ان کا فتنہ اللہ کے بندوں پر ان کے بڑوں سے زیادہ ہوتا ہے۔(تفصیل اس مجال کی یہ ہے کہ تعذیب کی خفیہ جیلوں میں اذیت دینے والے یہی چھوٹے عہدہ کے لوگ ہوتے ہیں اور یہ مجاہدین کوقسم قسم کے عذاب دیتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جہاں مجاہد کو اذیت دینے کے لیے کسی شیعہ کافر کے حوالے کردیا جاتا ہے جو اسکے سنی ہونے کااس سے خوب انتقام لیتا ہے)۔
یہ مسئلہ ’’ کہ نوجوان اپنے آپ کو طاغوت کے حوالے نہ کریں‘‘ایک خوشخبری سے کم نہیں کیونکہ نوجوانوں نے اب اسے ازبر کر لیا ہے………!!!اب جزیرۂ محمد اوہ دن گئے جب مسلمان نوجوان اپنے آپ کوخاموشی کیساتھ طاغوت کی ایجنسیوں کے حوالے کردیتے تھے۔بلکہ الرویس اور حایر کی جیلوں میں مجاہدین کے ساتھ کیے جانے والے سلوک نے انہیں مجبور کیا کہ انہیں ذبیحہ کی طرح پکڑ کے قربان گاہ لیجایا جائے.اس سے موت زیادہ افضل ہے!!!
اس سے قبل یہ زنادقہ مسلمان مجاہدوں کو جیلوں میں دھکیلتے داخل کرتے اور اپنی شادمانی کے تازیانے برساتے تھے………اللہ کی ان پر لعنتیں ہوں………لیکن ان شاء اللہ آج کے بعد گھروں پر دھاوے بولنا انکے لیے آسان نہ ہوگا!!۔یہی ہماری اللہ سے امید ہے………لیکن اگر ایسی کاروائی کا تکرار ہوا تو تنخواہیں لینے والے انٹیلی جنس کے ساتھ کام کرنے کی قیمت دیکھ لیں گے………جب کہ ان کے سامنے یہ بہتا ہوا خون ہے جو راہیں کھول رہا ہے………اسی میں بشارت ہے اور اسی افاقہ ہے!!!
لہٰذا مجاہد نوجوان کو متنبہ رہنا چاہیے ۔اوپر مذکور بحث کو ہم اسی پر اکتفا کرتے ہوئے ختم کرتے ہیں اور اللہ سے فتح ونصرت کا سوال کرتے ہیں۔
خلاصہ وخاتمہ ٔ بحث
مسئلۂ مذکورہ میں اوپر کی سطور میں جو باتیں پیش کی گئی………جس کی علم کے طلبگار مجاہدین کو اشد ضرورت تھی………وہ جو اللہ کے معاملہ میں حق کا اظہار کرتے ہوئے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے………جھکنے وبک جانے کے اس دور میں جو اپنے سر بلند کیے ہوئے ہیں………جو تفرق کے زمانے میں اپنی صفیں جوڑے ہوئے ہیں………ذیل میں ہم ان کے لیے اس کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔
٭ یہ انٹیلی جنس والے، عالمی انٹیلی جنس، داخلی انٹیلی جنس،سکیورٹی انٹیلی جنس،سیاسی انٹیلی جنس………جیسے بھی ان کے نام ہوں………یہ سب کافر ومرتد ہیں ان کی کوئی شرعی حیثیت ان کے خلاف جہاد وقتال واجب ہے!!!
٭ ’’موانع کی وضاحت‘‘صرف اس بندے کے متعلق مشروع ہے جس پر قدرت و اختیار ہو جبکہ محارب وغیر مقدور علیہ کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔
٭ ان انٹیلی جنس والوں کے خلاف قتال………اگر بالفرض ہم یہ مان بھی لیں کہ یہ مسلمان ہیں………تو یہ مفسد دشمن کو دفع کرنے کے باب سے ہیں۔یہ کہ انٹیلی جنس کا مقتول جہنم میں اور مجاہد شہید ہے(ان شاء اللہ)۔
٭ قوم (مرجئۃُ العصر)کے شبہات کا رد بہت آسان ہے جسکو اللہ اسکی ہدایت دے لیکن ہم دین کی غربت کے زمانہ میں ہیں۔
٭ مجاہد کو مجرد خوبصورت افکار اور حقیقتِ واقعہ میں فرق کرنا چاہیے۔
٭ مرتدین کے خلاف قتال کا حکم اصلی کافر سے شدید تر ہے۔
٭ مسلمان مجاہد کو چاہیے کہ خفیہ رہنے کو شعار بنائے اور خود کو تسلیم نہ کرے۔
اہل الردۃ کے ایجنٹوں کو دعوت
وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو رسوا کردیا ہے………اور ان کے لیے طاغوت کے مفاد کی خاطر مسلمانوں کی جاسوسی کرنا آسان ہوگیا ہے………جبکہ ایسا وہ بعض گمراہوں کے فتووں کے سبب کرتے ہیں جن کا ظاہر علم پر مبنی ہوتا ہے۔چند ٹکوں کی خاطر طاغوت کی ایجنسیوں کو روپورٹیں دیتے ہیں………یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ خیر پر یا وہ کسی چیز پر ہیں۔لیکن ایک دن انہیں اپنے تمام افعال کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا……… اور اللہ ان کے ساتھ اپنے مظلوم بندوں کے معاملے میں انصاف کریگا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا
(مَنْ أَعَانَ ظَالِمًا بِبَاطِلٍ لِيَدْحَضَ بِبَاطِلِهِ حَقًّا فَقَدْ بَرِئَ مِنْ ذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ)
جس نے کسی ظالم کی اس لیے مدد کی تاکہ اس کے باطل کو حق کے میں بدل دے تو اللہ اور اسکے رسول ا اس کے ذمہ سے بری ہیں(اسے الطبرانی نے روایت کیا)۔
تو پھر اس شخص کا کیا حکم ہے جو طاغوتوں کی مدد مسلمانوں کے قتل ،گرفتاری ان کی حرمتوں کی پامالی پر کرتا ہے۔
کتنے ہی نوجوان حقیر وذلیل مخبروں کی روپورٹوں پر بیسیوں سال کے لیے طاغوتی جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں اس لیے گم ہوگئے………کہ ان کے قتل وپھانسی کا کوئی سبب موجود نہ تھا!!
صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
(اَلْمَؤْمِنِ مَنْ أَمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی أَنْفُسِھمْ وَأَمْوَالِھِمْ.وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ)
مومن وہ ہے جس سے مسلمان اپنی جان ومال کے بارے میں امن میں ہوں………اور مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ ہوں۔
وہ شخص جس سے نصِ حدیث کے مطابق مومن مامون نہیں اور اسکی زبان و ہاتھ سے محفوظ نہیں. ایسا شخص نہ مومن ہے اور نہ ہی مسلمانوں میں سے ہے۔
اے اللہ کے بندے ………اللہ سے ڈرجا………
اس بات سے خبردار رہ کہ تو ان لوگوں میں سے ہوجائے ………
جو طاغوت کی مصلحتوں کے لیے جاسوسی کرتے ہیں………
جو ان کے لیے جھگڑا کرتے اور ان کے دفاع میں قتال کرتے ہیں………اے ایسا کرنے والے پھر تیری دنیا وآخرت تباہ وبر باد ہوجائے گی!!!
آخر میں ہم پوری وضاحت سے کہنا چاہتے ہیں………
ہم کسی مسلمان کو کسی گناہ کے باعث کافر نہیں کہتے جب تک وہ اسے حلال نہ سمجھے۔نہ ہی ہم تمام لوگوں کو کافر قرار دیتے ہیں جیسے کہ ہمارے دشمن طاغوت کا اور ان کی معاون مُرْجِئَہ جماعتوں کامجاہدین کے خلاف پراپیگنڈہ کا وطیرہ ہے۔بلکہ ہم تو ان کی تکفیر کرتے ہیں جو توحید کو ڈھاتے اور اس کے گرانے میں مدد کرتے ہیں……… یا اس کے نواقض کا ارتکاب کرتے ہیں………یا اہل ِشرک کی مدد میں اہل توحید سے دشمنی کرتے ہیں!!
ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کفر کے لیے شروط وموانع ہیں اور نہ ہی ہم ان شروط وموانع کا لحاظ کیے بغیر کسی کی تکفیر کرتے ہیں۔ہم یہ بھی جانتے ہیں بعض اوقات انسان سے قولی یا عملی کفر صادر ہوتا ہے اور یہ کہ کسی مانع کے قائم ہوجانے کے بعد اسکی تکفیر نہ کی جائے گی۔
ان اوراق پر ہم نے جتنی بھی باتیں کی ہیں وہ صرف توحید کے دشمنوں۔ شرک کے فوجیوں کے متعلق ہیں………جنہوں نے شرکیہ دستوروں اور وضعی قوانین کی نصرت کی۔ان لوگوں کا کفر ہمارے ہاں شرعی دلائل کے ساتھ چڑھے سورج سے بھی زیادہ واضح ہے نہ کہ ہم نے خواہش، تقلید یا استحسان کے ساتھ انہیں کافر قرار دیا ہے۔
ہم اپنے مد مقابل سے کہتے ہیں………
اللہ سے ڈرجاؤ………حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤاور تم حق کو چھپاتے ہو حالانکہ تم اسے جانتے بھی ہو………ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کی چیز اللہ کی کتاب اور اسکے رسول کی سنت ہے۔ہم اس کے علاوہ کسی حکم کو قبول نہیں کریں گے ہمیں انہی دونوں میں سے کوئی دلیل فراہم کرو جو اس چیز کو ناقص کردے جو ہم نے کہی ہے۔پھر تم دیکھنا کہ سب سے پہلے اس دلیل کی طرف لوٹنے والے ان شاء اللہ ہمیں لوگ ہونگے﴿قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیجیے اپنی دلیل لیکر آؤاگر تم سچے ہو۔
لیکن یہ بوسیدہ فلسفے اور بکھرے خیالات اور باطل الزام وتہمتیں جن کی کتاب و سنت سے کوئی شرعی دلیل نہیں………سب مردود ہیں اور ان کی کوئی قیمت نہیں!!۔جو کوئی شرعی دلیل کو قبول نہیں کرتا اور اسکی اتباع نہیں کرتا اس میں کوئی خیر نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں………
﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَآيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ﴾
اللہ کی کتاب اور اسکی آیات کے بعد یہ لوگ کس چیز پر ایمان لائیں گے
اللہ شیخ الاسلام ابن قیم الجوزیۃ رحمہ اللہ پر رحم فرمائے جب وہ کتاب وسنت کے متعلق فرماتے ہیں.
|
من لم یکن یکفیہ ذان من لم یکن یشفیہ ذان من لم یکن یغنیہ ذان ان الکلام مع الکبار ولیس |
فلا کفاہ اللّٰہ شرَّ حوادث الأزمان فلا شفاہ اللّٰہ فی قلب ولاابدان رماہ رب العرش بالاقلال والحرمان مع تلک الأراذل سفلة الحیوان |
(۱)جسے یہ دو کفایت نہ کریں ،اللہ اسے زمانے کے بدترین حادثوں سے کفایت نہ کرے(۲)جسے یہ دو شفا نہ دیں ، اللہ اسکے دل وجسم میں شفا نہ دے(۳)جسے یہ دومستغنی نہ کریں رب اسے کمی ومحرومیوں کا شکار کرے(۴)کلام تو بڑوں کے ساتھ کیا جاتا ہے نہ کہ نچلے درجے کے ذلیل حیوانوں کے ساتھ!!
اختتامیہ………
یَالَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ!!
اے کاش میری قوم جان لیتی
بہت سے مسئلوں کیطرح اس مسئلہ کی حقیقت بھی جہالت کے اندھیروں میں گم ہے یعنی اسلامی حکومت کے قیام اور اقامتِ خلافتِ اسلامیہ کا مسئلہ!!۔جیسے عربی میں کہا جاتا ہے ﴿من جُھِلَ شَیْئًا عَادَاہُ﴾ جو کسی چیز کا جاننے والا نہیں ہوتا اس سے دشمنی کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ ابھی تک اسی شش وپنج میں مبتلا و حیران ہیں کہ یہ ساری خونریزی جو وطنِ عزیز ’’اسلامی جمہورا پاکستان‘‘کے ہر کونے میں پھیلتی جارہی ہے،اس کے پیچھے کون ہے؟؟۔نہ کہیں کوئی خبر سنائی دیتی ہے………نہ پتہ چلتا ہے کہ یہ کون لوگ تھے جو اتنے حکومتی کارندوں کو خون میں نہلاگئے………ان کے مقاصد کیا ہیں؟………یہ کیا چاہتے ہیں؟………کیوں خون ریزی کی راہ چل پڑے ہیں؟؟؟۔یہ اور اس جیسے کئی سوالات آج ہر مسلمان کے ذہن میں گردش کررہے ہیں جب کہ کسی سمت سے بھی اس کا واضح جواب سامنے آنے ہی نہیں دیا جاتا کیونکہ وہ لوگ جو اس راہ میں حائل ہیں دراصل وہ اس تلخ جواب سے خوفزدہ ہیں اور اپنے خوابوں کے جزیرے کو چھوڑنا نہیں چاہتے!!!
حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک کے آغاز سے ہی میڈیا کے تمام ذرائع کو ہر آنے والی وڈیو، ہر بیان اور وضاحت پہنچائی جاتی رہی لیکن جن لوگوں کے ہاتھوں میں مکڑی کے اس دجالی جالے کا کنٹرول ہے وہ اس پر ایسی کوئی چیز نشر ہی نہیں ہونے دیتے اور اس کوشش میں رہتے ہیں کہ لوگوں کے سامنے صرف وہی بات رکھیں جو ان کی طبعِ حساس کے موافق ہو۔اس اقدام کے پیچھے ان کے مقاصد ذیل ہیں………
(۱) دہشت گردوں کو ٹی وی سکرین پر پیش کرنا اور ان کی فکر کو لوگوں کے سامنے لانا انہیں ہیرو بنانے کے مترادف ہے۔اس سے نوجوانوں کو اور تحریض ملتی ہے اور وہ جہاد فی سبیل اللہ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
(۲)اس فکر کو سامنے لانے کا مطلب ہے کہ اس مسئلہ کو زیرِ بحث لایا جائے اور عوام کو اس کے متعلق سوچنے کی راہ دے دی جائے۔جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ ایک باقاعدہ مسئلہ بن جائے گا اور مختلف فورمز پر اس کے متعلق مباحثہ شروع ہوجائے گا۔
(۳)یہ فکر اگر عامۃ الناس میں اپنی صحیح شکل میں سامنے آگئی تو کہیں لوگ اسے اپنا ہی نہ لیں اور عوام حکومت سے اس کا مطالبہ ہی نہ کرنے لگ جائیں۔پھر کہیں یہ نہ ہو کہ عوام دہشت گردوں کو کسی اور نام سے پکارنے لگ جائیں اور ان کی حمایت اور زیادہ بڑے پیمانے پر پھیل جائے۔
اس لیے نہ اس فکر کو سامنے لایا جائے، نہ دہشت گردوں کو ہیرو بنایا جائے بلکہ ہر ممکنہ طریقہ سے ان کی اس جدو جہد کی شکل کو مسخ کیا جائے اور اسے ایسے رنگ میں سامنے لایا جائے کہ عوام کے لیے وہ ایک وحشیت وسفاکی کے علاوہ کچھ نہ ہو۔پھر کبھی ایسی سوچ کو ٹی وی کی سکرین پر لایا بھی جائے تو اس کی تفسیر دجالی مفسرین اورغامدی جیسے ملعونوں سے کروائی جائے جن کا کام کی اصولِ اہل السنۃ کو گرا کر طاغوت کے موافق دجل کو قائم کرنا ہے۔
ہمارے اس مسئلہ میں مجاہدین اور ان کی جد وجہد کی مثال کو کچھ اسطرح سمجھا جاسکتا ہے جیسے کہ طاغوتی پولیس کو کوئی مطلوب مفرور ہو۔ جب وہ مفرور ہوجاتا ہے تو پھر علاقے میں ہونے والی ہر دہشت گردانہ اور ظالمانہ کاروائی اسی کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہمارے امام شیخ اسامہ بن لادن حفظہ اللہ تعالیٰ کہ دنیا میں ہونے والی ہر کاروائی انہی کے کھاتے میں ڈال کر امریکہ اور اس کے حواری دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کا جواز لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھکتے نہیں۔یہ مسئلہ بہت واضح ہے اور ذرا سا تدبر کرنے سے سمجھ میں آجاتا ہے۔مجاہدین کی آواز کو دبا کر ہر برا کام ان کے کھاتے میں ڈال دینا اور جس کام کا کرنے والا بھی واضح نہ ہو اسے بھی ان کے نامہ اعمال میں لکھ دینا۔مثلاً بے نظیر کا قتل، مسجدوں میں بم دھماکے!!!۔ہر مسلمان جانتا ہے کہ مسجدوں میں اور پر امن مسلمانوں کو مارنا، یہ سب ایسے کام ہیں جسے کوئی مسلمان سر انجام نہیں دے سکتا۔کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ ایک مجاہد طاغوتی ایجنسیوں ،فوج و پولیس کی پکڑ کی پرواہ نہ کر کے عقل و ہوش کے ساتھ دین کی خاطر گھر بار چھوڑ کے نکلتا ہے تو کیا وہ ایسا پاگل و مجنون ہے کہ اپنی دنیا و آخرت برباد کر لے!!!۔اس کی تازہ مثال ایک لڑکی کے متعلق وہ جعلی وڈیو ہے جو سوات کے حوالے سے نشر کی گئی﴿فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ﴾ اے آنکھو والو عبرت پکڑو!
ہم ان طاغوتی وزراء کی عقلوں کی داد دیں گے جو کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے موساد، را اور غیر ملکی ایجنسیاں ہیں۔ پھر کوئی ان بھلے مانسوں سے پوچھے کہ اے عقل کے اندھو کروا گر ’’را‘‘ ہی سب کچھ کروا رہی ہے تو اس کو جواب دینے کے بجائے اپنی ہی سر زمین میں مجاہدین پر ڈرون حملے کرناچہ معنی دارد!!۔لیکن کیا کریں کہ تمہارا نہتّوں کے علاوہ کسی پر زور نہیں چلتا جبکہ ساری دنیا جانتی ہے تمہاری بہادری کے کارناموں کو۔ یہ سیاچن، کارگل اور ڈھاکہ کی سرزمینوں سے تمہارے جرنیلوں کی بہادری کے قصیدے ابھی تک سنائی دے رہے ہیں!!!!۔
ذیل کی سطور میں ہم چند ایک وضاحتیں صاف سیدھے سادھے الفاظ میں پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ اگر کوئی پولیس والا، کوئی فوجی اور ایجنسیوں کا زرخریدیا اسمبلی ممبر اس کتاب کو پڑھے تو اسے کچھ سمجھ میں آجائے۔ اس وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن و حدیث اور ان طاغوت کے دم چھلوں کے درمیان بُعد المشرقین ہے۔طاغوت کی خدمت، تنخواہوں، ترقیوں اور عہدوں کے حصول کی فکر وسعی سے وقت ملے تو وہ اس کی طرف دھیان بھی دیں جس کے لیے اللہ نے انہیں زمین پر بھیجا اور مسلمانوں کے معاشرے میں انہیں پیدا فرمایا۔یہ کیا قرآن و حدیث کو سمجھیں گے جن کے ہاں اگر کوئی مر جائے تو اس پر بھی قرآن پڑھنے کے لیے کرائے کے مولوی لانا پڑتے ہیں۔قرآن پڑھنا اور اسکو سمجھنا ان کے نصیب میں کہاں اور کبھی شوق فرمابھی لیں تو جاکے محلے کے مولوی کے پا س پوچھنے بیٹھ جائیں، جس کو اتنا بھی نہیں پتہ ہوتا کہ اسکی مسجد کا قبلہ بھی درست ہے کہ نہیں۔
(۱)نظام کافر ہے آپ کافر نہیں!!
ہمارے متعلق بڑے عرصہ سے اور دنیا بھر میں یہ پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ یہ اپنے علاوہ ہر مسلمان کو کافر کہتے ہیں اور یہ کہ ہم ’’تکفیری اور خوارج‘‘ ہیں۔سعودی عرب سے لیکر پاکستان تک تمام حکومتی مولوی اور ایجنسیوں کے پالتو ہمیں یہی نام دے رہے ہیں جس کا ہمیں ذرہ بھی دکھ نہیں۔کیونکہ (ماجاء احد بمثل ما جئت بہ الا عودی )نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی دعوت جو بھی لیکر آئے گا اس سے لازماً دشمنی کی جائے گی۔ہم اس بات کو صراحت سے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ہر ایک کی متعین تکفیر نہیں کرتے بلکہ ہم توحید کو ڈھانے والے اورشرک کی نصرت کرنے والے کی تکفیر کرتے ہیں۔لیکن جب کوئی مسلمان ہو اور شرک کی صف میں کھڑا ہو تو یہی بات اس کے قتل کو مباح کردیتی ہے اسی لیے شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ نے کہا تھا (لو رأیتمونی والمصحف فوق رأسی فاقتلونی)اگر تم مجھے ان (تاتاریوں )کے درمیان پاؤ تو مجھے قتل کردینا چاہے میرے سر پر قرآن ہی کیوں نہ ہو۔ہم آپ کے ظاہر پر حکم لگائیں گے اور آپ کا باطن اللہ عزوجل کے سپرد ہے کیونکہ آپ طاغوت کی صف میں کھڑے اور عملاً اس نظام کی نصرت کر رہے ہیں۔آپ کا معاملہ آپکی نیت پر اور اللہ کے ساتھ ہے جس کا ہم حکم نہیں لگاسکتے۔کسی معین شخص کی تکفیر ہم اسی وقت کریں گے جب اس سے واضح کفر کا صدور ہو اور جب کوئی مانع اس کی تکفیر میں حائل ہوجائے تو شریعت کے مطابق اس کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔
(۲)جمہوریت اسلام کے مخالف ایک دین ہے!!
آپ مسلمانوں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں………خلافتِ راشدہ، عہدئے خلفائے عباسیہ،عہد ِمغلیہ وغیرہ کیا آپ کو کہیں بھی ایسا نظام نظر آتا ہے کہ کسی خلیفہ یا کسی مغل بادشاہ نے کوئی پارلیمنٹ بنائی ہو اور اس کے مشورے کو اپنے اوپر لازم کیا ہو۔آپ کو ان سارے ادوار میں کہیں بھی جمہوریت نام کا کوئی نظام نظر نہیں آئے گا بلکہ تاریخ میں یہ آپ کو ایک ڈیڑھ صدی پہلے ہی ملے گا اور وہ بھی اس وقت جب خلافت ناپید ہوگئی اور استعمار نے حیلے ،مکر ودھوکہ اور مسلمانوں کی غفلتوں کے باعث ہماری سرزمینوں پر قبضے کر لیے۔پھر جب ہمارے وسائل کو لوٹنے اور ہمارے اندر فساد برپا کرنے کے بعد وہ ہماری سرزمینوں سے نکلے تو ہمیں جھوٹے نبیوں،بدعتیوں اورجمہوریت کے باطل دین کا تحفہ دے کر گئے!!۔
اسلامی نظامِ حکومت میں بادشاہ یا خلیفہ ایسے کسی مشورہ کا پابند نہیں ہو تاجو شریعت کے خلاف ہو بلکہ خود خلیفہ وبادشاہ کا ایسا اقدام جس پر اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نہ ہو مردود ہے۔چہ جائیکہ اسے اسمبلی میں بیٹھے جاہلوں، زانیوں،شرابیوں اورعزت ومال کے لٹیرے احمقوں کی رائے و مشورہ کا پابند بنایا جائے۔پھر آپ اس بات پر غور و تأمل کریں کہ اللہ کا نظام ’’شریعت بل‘‘کے نام پر ان کے سامنے پیش کیا جائے کہ اگر وہ پاس کر دیں تو ٹھیک ورنہ وہ اس قابل نہیں کہ ملک کا قانون بن جائے۔جبکہ اسلام میں تو خلیفہ وبادشاہ بھی الہی قانون کے سامنے سب کے ساتھ برابر جواب دہ ہے کہ اگر وہ کفر کا ارتکاب کرے تو اسے معزول کیا جائے گا جیسے کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے۔لیکن یہاں جمہوری آمرجو چاہے کرے کیونکہ اسے عوام نے اختیار سونپ دیا کہ اپنی شخصی و ذاتی سوچ کو پوری قوم پر مسلط کردے۔لوگوں کی رائے کو اس میں کوئی دخل نہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔ زمین اللہ کی نظام اسکا مخلوق اسکی اور حکم بھی اسی کا چلے گا﴿وَھُوَالَّذِیۡ فِیۡ السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَفِی الۡاَرۡضِ اِلٰہٌ﴾ وہ ذات جو آسمانوں میں الہ ہے وہ زمین میں بھی الہ ہے۔اس لیے جب آپ اسکے پہریدار بنتے ہیں تو آپ کفر کے پہریدار ہیں اور اسکی حفاظت کررہے ہیں ۔ آپ کو اس نظام میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کے تقدس کا خیال تو ہوتا ہے لیکن اللہ عزوجل کے وقار کا خیال نہیں ہوتا جبکہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں ﴿مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا﴾ تمہیں کیا ہے کہ اللہ کے تقدس ووقار کا خیال نہیں کرتے۔
جمہوریت میں اکثریت کی رائے کا احترام ہے چاہے وہ دین کی دشمنی پر ہی مبنی ہو۔صرف اکثریت کو ہی قانون بنانے کا حق ہے چاہے وہ اسلام کے مخالف قانون ہی کیوں نہ ہو۔اللہ قرآن میں فرماتے ہیں﴿وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ﴾ اگر آپ اکثریت کی پیروی کریں گے تو وہ آپ کو سیدھی راہ سے ہٹادیں گے۔اگر کسی کے ذہن میں یہ آئے کہ بڑے بڑے علماء بھی تو اسمبلیوں میں جاتے اور اسی نظام کوصحیح سمجھتے ہیں ۔اس پر ہم کہتے ہیں کہ آپ اپنی عقل پر ماتم کیجیے کہ پیٹ پرستوں کو جنہوں نے چہروں پر داڑھیاں سجالی ہیں آپ انہیں علماء سمجھتے ہیں۔ لیکن اگر آپ نے سچے علماء دیکھنے ہیں تو جاکے جہاد وقتال کے میدانوں میں دیکھیں جن کے پیٹ اندر کو دھنس گئے ہیں اورپوری اسلامی دنیا میں طاغوتوں کی خفیہ جیلیں جن کے مقدس وجود سے بھر دی گئی ہیں۔اللہ انہیں رہائی دلائے اور ہمیں ان کی رہائی کے لیے طاغوت کی تباہی وبربادی کا سبب بنا دے (آمین)۔ہم آپ کو وہی بات کہتے ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے کہی تھی(اعرف الحق تعرف اھلہ)حق کو پہچانوں ،اہلِ حق کو تم خود ہی پہچان لوگے۔شخصیتوں کے ساتھ حق کو نہ پہچانوں کہ اس کا چہرہ چمکتا ہے اور اسکی پگڑی بڑی خوبصورت ہے، وہ تقریر اچھی کرلیتا ہے بلکہ حق کو پہچانوں پھر ایسے شخص کے عمل کو دیکھو کہ وہ کتنا اس پر کاربند ہے!!!۔
(۳) شریعت سازی اور قانون سازی
قانون رب العلمین بناتاہے، قانون بنانے کا حق اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں عطاء فرمایا۔ہمارے پاس غلطیوں ،کوتاہیوں سے پاک منزل من اللہ قانون ہے………اللہ کی کتاب اور اسکے رسول کی سنت!!! کیا اسکے بعد کسی اور چیز کی ضرورت ہے۔جب کوئی اللہ کے مقابلہ میں قانون سازی کرتا ہے اور پھر اسے قانون کا درجہ دیتا ہے تو وہ اللہ کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے رہا ہے۔وہ مشرک ہے اور ہمارا دشمن ہے۔پھر پولیس و فوج اسی قانون کی رکھوالی کرتے ہیں اور اسکی مخالفت کرنے والے کو جیلوں میں ڈالتے اور سزائیں دیتے ہیں۔حقیقت تو یہ ہے حکمران اوراسکی رعایا سبھی اسلام کے قانون کے تابع ہیں۔کوئی چھوٹا یا بڑا قانون کے سامنے علیحدہ حیثیت نہیں رکھتا بلکہ سبھی قانون کے سامنے برابر ہیں۔جیسے کہ اسلام کا وطیرہ تھا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایک عورت نے چوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا)اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چور کرتی تو میں اسکے ہاتھ کاٹ دیتا اور فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوگئے کہ جب کوئی کمزور ان میں چوری کرتا تو اس کے ہاتھ کاٹ دیتے اور اگر امیر ہوتا تو اسے چھوڑدیتے تھے۔پس یہ ہماری آپ کے ساتھ دشمنی کی تیسری بنیادی وجہ ہے جس کے باعث ہم جنگ کررہے ہیں۔
وہ قانون جو یہ اسمبلیاں بنائیں گی اس کی کوئی قیمت نہیں چاہے وہ اسلامی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ جس طریقہ پر وہ بنائے گئے ہیں وہ ہے ہی غیر اسلامی اور ’’کفر‘‘۔لہٰذا مسئلہ صرف شریعت کے نفاذ کا نہیں جو ’’عوامی نمائندوں‘‘کے ہاتھوں نافذ ہوجائے تو ٹھیک ہے۔بلکہ مسئلہ تو خلافت کے قیام کا ہے جس میں صالح اور نیک انسان اللہ کا فرمانبردار خلیفہ اور اسکے سمیت سارے عوام الہی قانون کو جواب دہ ہوں۔نہ کہ جو شریعت یہ جاہلوں کے نمائندے پاس کریں گے پھر اس کی تفسیر یہ خود اور سپریم کورٹ میں بیٹھا طاغوت اس کے مطابق کرے گا جو اسے شیطان املا کروائے گا۔
(۴)وضعی قوانین اور بعض کی شریعت کے ساتھ موافقت
کوئی اگر یہ کہ کے دھوکہ دینا چاہے کہ’’ہمارے دستور‘‘میں بعض قوانین اسلامی بھی ہیں جیسے حدود آرڈیننس وغیرہ۔پہلی بات یہ ہے کہ ان کے اس جملہ’’ہمارے دستور‘‘ پر غور کریں تو آپ کو حقیقت سمجھ آئے گی۔ کیا کسی احمق نمائندے نے آج تک یہ کہا’’اللہ کے دستور میں ‘‘مسئلہ اسطرح ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا دستور اللہ کا قانون نہیں ہے۔
دستور کے اندر موجود بعض قوانین جو اسلامی ہیں وہ اس پورے دستور کو اسلامی نہیں بناسکتے۔وہ دستور جو اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا حق جاہل نمائندوں کو دیتا ہے………وہ دستور جو شرک کے مظاہر کی سرپرستی کرتا ہے………وہ دستور جس کی بنیاد انگریزوں کا1935کا ایکٹ ہے نہ کہ قرآن وحدیث.وہ دستور جو مسلمانوں کی نصرت کرنے کو جرم ودہشت گردی کہتا ہے………وہ دستور جو ان حکمرانوں کو کافروں سے دوستیاں لگانے سے نہیں روکتا………جو انہیں مسلمانوں پر بمباریاں کروانے اور انہیں پکڑ کے ٹارچر کے لیے کافروں کے حوالے کرنے سے منع نہیں کرتا………وہ دستور جو جہاد کو جاری نہیں کرتا بلکہ دہشت گردی کانام دے کر اسے مٹاتا ہے………وہ دستور جو ملک میں شراب پینے بنانے ، پھیلانے اور اسکی تجارت کرنے کی اجازت دیتا ہے………وہ دستورجو سود ی لین دین کرتا ہے اور اسکے اداروں کو خود تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ اللہ نے اسے اللہ ورسول کیساتھ جنگ قرار دیا ہے………وہ دستور جو زنا کے اڈوں کو باقاعدہ لائسنس جاری کرتا ہے اور زناء کاری کے تحفظ کے لیے آرڈینینس رکھتا ہے………وہ دستور جوہر غیر اسلامی عمل کی حمایت کرتا ہے چاہے اس میں کیسا ہی فساد ہو……… وہ جو مسلمانوں میں غیر مسلموں کے طریقوں کوجائز قرار دیتا ہے………یہ فہرست بہت طویل ہے۔لیکن اس دستور میں موجود بعض اسلامی قوانین اسے کفریہ دستور ہونے سے خارج نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلً أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا﴾
جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اسکے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اورجو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اوروہ چاہتے کہ اس کے اور اسکے بین بین کوئی راہ نکالیں۔یہی لوگ اصل کافر ہیں اور کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے(النساء150-151)۔
پس آپ بھی بعض اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض سے انکاری ہیں لیکن حقیقت میں آپ کا معاملہ اس آیت مذکور شکل سے بھی بدتر ہے۔
(۵)امریکی پالیسیاں اور دین سے دستبرداری
ویسے تو زمانوں سے ہی کفر کے یہ ذہنی وجسمانی غلام انہی کی مانتے اور انہی کی عبادت کرتے آرہے ہیں لیکن گیارہ ستمبر کے مبارک غزوہ کے بعد ان کی کفر کے لیے اطاعت اپنی آخری حدوں تک پہنچ گئی ہے۔کیونکہ طاغوتِ اکبر امریکہ کا حکم کی ان کے ارادے کے درمیان حائل ہے۔امریکہ نے جہنم کے بدلے ان کی جان ومال کا سودا کرلیا ہے اور یہ اسی کی راہ میں صبح شام کتے کی موت مرتے ہیں اور یہ ان کے ساتھ ایسا وعدہ ہے جو کیمپ ڈیوڈ اور وائٹ ہاؤس میں کیا گیا ہے۔وہ پیسے دیکر ساتھ بتاتا بھی ہے اتنا کھانا ہے اور اتنا فلاں مد میں خرچ کرنا ہے۔ساتھ ہی خبردار کرتا ہے کہ اسلامی قیادت، اسلام کے ساتھ وابستہ ہر اس عمل کی راہ پوری قوت سے روکیں جس کا ہدف مسلمانوں میں بطورِ نظام اسلام کا احیاء ہو۔
ایسا حکم ماننے میں حکمران اور ان کے دم چھلے اور فوج کے ادارے ذرہ بھر بھی پس وپیش نہیں کرتے اور انہیں اس کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کہ ان کا یہ عمل انہیں دائرہ اسلام سے خارج کردینے والا ہے۔وہ امریکہ کے حکم پر علاقے کا گھیراؤکر لیتے ہیں تاکہ ایسے گھیراؤمیں موجود صہیونی کافر ایک نہتی مسلمان معصوم بیٹی کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹے اوربے گناہ گرفتار کر کے لے جائیں۔ جب کہ ہم تو اس قوم کے وارث ہیں کہ جن کے اجداد نے ایک مسلمان بیٹی کی خاطر سندھ فتح کرلیا تھا اور اسے رہا کرواکے اسکے گھر بھیجا۔لیکن آج اسی محمد بن قاسم رحمہ اللہ کے وارث ہونے کا دعوہ کرنے والوں کی خفیہ جیلوں میں مسلمان بیٹیوں کی سسکیاں اور چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ایساکرنے والوں کے لیے یہ معمولی کام ہیں لیکن عقیدۃ الولاء والبراء کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ وہ اسلام سے خارج ہوچکے اور کفر کے کیمپ میں کھڑے ہیں!!!
(۶)تنخواہ دارعلماء کا کردار
پوری مسلمان دنیا میں نوجوانوں کے اندر بیداری کی اس لہر کے خلاف ہراول دستے کا کردار تنخواہ دارعلمائے حکومت سر انجام دے رہے ہیں۔ہم انہیں یہی کہنا چاہتے ہیں………ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو اور دنیا کے تھوڑے فائدے کے لیے اپنی آخرت تباہ نہ کرو۔علمی میدان میں وہ اہل السنۃ کے عقیدہ اور اسکے اندر ایمان کی تعریفات کو بدل دینا چاہتے ہیں تاکہ طاغوتوں کے لیے ان کے کفریہ اعمال کو شریعت کی چھتری کا سایہ دیا جاسکے۔ اس کے ساتھ وہ ایسے باطل و بے دلیل فتاویٰ جاری کرتے ہیں کہ جن سے مسلمانوں کے ان سچے لوگوں کا خون مباح ہوجائے۔طاغوت کی اعانت کے لیے دینی سیاست کی راہ میں اشکالات و شبہات کو فروغ دینا ان کا مشغلہ بن چکا ہے۔جہاد ولی الامر کی اجازت اور امام کے بغیر نہیں ہوتا، موجودہ دور میں جہاد سے بہت سے فساد واقع ہوتے ہیں اور یہ کہ کمزوری کے وقت طاقتور کو تسلیم کرلینا عین اسلام ہے چاہے اہل دین غارت ہوجائیں۔پھر انہوں نے تعطیلِ جہاد، تأجیلِ جہاد اور توقیفِ جہاد کی نئی نئی اصطلاحات ایجاد کر رکھی ہیں۔
ہم نہیں کہتے کہ وہ انبیاء کے وارث علماء ہیں بلکہ ہم انہیں اہلِ علم کہتے ہیں۔اس لیے ہم انہیں خبر دار کرتے ہیں قبل اسکے کہ عامۃالناس ان کے خون کو مباح کرلیں ،اللہ سے ڈرجائیں اور حق بات بیان کریں اور دنیا وی مفادات کی خاطر آخرت کو تباہ نہ کریں بلکہ آپ انبیاء کے وارث بنیں اور اس ذمہ داری کو جو اللہ عزوجل نے آپ کے کندھوں پر ڈالی ہے اس کو ادا کریں ۔میدان میں نکلیں اور ہماری قیادت کریں اور یاد رکھیں جب ہم میدانِ جہاد میں غلطیاں کریں گے اور انکی کی درستگی کے لیے علماء ہمارے پاس نہ ہوں گے تو اس کا گناہ آپ کے کندھوں پر بھی ہوگا۔اللہ کے اس قول کو یاد رکھیں﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَكُونُواْ مَعَ الصَّادِقِينَ ﴾ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو!!!۔
آخر میں ہم کہتے ہیں………
پولیس کے بھائیو………آپ کہیں گے کہ ہمارا قانون تو کسی زناء کاری اور اسکے اڈے کو تحفظ نہیں دیتا ،نہ ہی شراب خانوں کی اجازت دیتا ہے۔لیکن اس کے باوجود ایسے اڈے پورے دھڑلے کیساتھ موجود ہیں پھر اگر کوئی نوجوان اٹھ کے ایسے اڈے کو بم سے اڑادے تو کیا آپ اسے گرفتار نہیں کریں گے؟ اسے جیل میں ڈالیں گے اور ٹارچر کریں گے اور آخر میں زانیوں وشرابیوں کے عوض ایک سچے مومن کو پھانسی پر لٹکا دیں گے!!!۔تو پھر خود سوچیں آپ کس کا تحفظ کررہے ہیں؟آپ اللہ کے قانون کے رکھوالے ہیں یا وضعی کافر قانون کے پہریدار؟؟
اے فوجی بھائیو………ملٹری پولیس کی چیک پوسٹ پر اور ہر چھائونی میں جسے تم نے انگریزوں کی ناجائز اولاد جرنیلوں کے لیے پر امن جنت بنادیا ہے،جب اس کے آفیسر میسوں میں اور آڈیٹوریموں میں کنجروں اور گویوں کے فنکشن ہورہے ہوں اور جرنیلوں اور افسروں کی بدکار اولاد وہاں فحاشی میں مصروف ہو اور تم سنی مسلمان وہاں باہر کھڑے پہرہ دے رہے ہو تاکہ پورے امن وامان سے یہ فنکشن اختتام کو پہنچ جائے ایسے میں کوئی فدائی(بقول تمہارے خود کش)وہاں آکے تمہیں اڑادے………تو بتاؤتو سہی تم شہید ہوجاؤگے اور فدائی مردار وہلاک؟؟؟۔تم کس کا پہرہ دے رہے تھے اور وہ کہاں سے آیا۔تم نے کس کی حفاظت میں بندوق اٹھائی جب کہ مدمقابل کس کے لیے بارود لیکر آیا۔تمہارے افسر بے نماز،کرپٹ،بدکردار اور ہر بد اخلاقی مرتکب جب کہ تمہارے مخالف آنے والا ایک مجاہد،نمازی، پر ہیزگار ،اللہ اور اسکے رسول کے دین کا مددگار ،اسکے قیام طلبگار………کیا دونوں جانب کوئی بھی برابری تمہیں نظر آتی ہے۔﴿مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ﴾تمہیں کیا ہے کیسا حکم لگاتے ہو۔
ہم حکم نہیں لگاتے کہ تم جنتی ہو یا جہنمی بلکہ اس کا فیصلہ تو اللہ عزوجل ہی نیتوں پر کریں گے۔اعمال کا دارمدار صرف نیت پر ہے۔یہ اسلام کا سب سے بنیادی اصول ہے۔ فدائی کس نیت سے آیا اور تم کس نیت سے کھڑے تھے۔یہ موضوع طوالت کا متقاضی ہے لیکن یہاں ہم صرف ایک مثال اللہ عزوجل کی کتاب سے پیش کرتے ہیں جو اسے سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
اللہ فرماتے ہیں
﴿وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلى اللّهِ﴾
اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ کی طرف ہجرت کی(نیت )سے نکلا پھر رستے میں اسے موت آگئی تو اسکا اجر اللہ کے ذمہ پورا ہوگیا۔ اب دیکھوکہ وہ بندہ ہجرت گا ہ میں پہنچ پائے یا رستے مر جائے تو محض نیت پر اس کا اجر پورا ہوگیا۔
ہم تمہیں پوری صراحت کے ساتھ دعوت دیتے ہیں………
اے پولیس والو،اے فوجیو اور اے اسمبلیوں کے قانون سازوں صدر اور وزراء………قبل اس کے کہ کسی دن آپ ہماری گولی یابم کا شکار ہوجائیں بحثیت ِ مسلمان اس کافر نظام سے بیزاری وبرأت کا اظہار کرو اور خلافت کے قیام کی سعی کرو………اسلامی شریعت کا نفاذ فوج پر بالاولیٰ فرض ہے۔مجاہدین کی مخبری کرنے کی بجائے ان کے مددگار بنو………شریعت وخلافت کے قیام کی جدو جہد میں ہمارا ساتھ دو………دین کواپنا خون دواللہ کے لیے اپنے اعمال کو خالص کرو………مسلمان خدائی فوجدار ہے ایک یہودی تمہارا دشمن ہے چاہے تم پر حاکم ہو اور ایک مسلمان تمہارا بھائی چاہے وہ کسی بھی ملک میں کافروں کی قید میں ہو………نوکری و رزق کے جھوٹے بہانے اللہ کے ہاں تمہیں معذور نہ بنائیں گے………کیا مجاہدین جو اپنا سب کچھ چھوڑ کے نکلتے ہیں ان کا کیریئر نہیں انہیں رزق کی ضرورت نہیں………کیا ان کی فیکٹریاں ہیں جہاں سے انہیں وافر رزق آتا ہے………اپنے مسلمان مجاہد بھائیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو………شریعت و خلافت کے قیام کے لیے طالبان و القاعدہ کا ساتھ دو!!
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو
کچھ اس کتاب کے متعلق ………اس کا لکھنے والا ایک جری شیر مجاہدابو جندل الازدی ہے جو اس وقت سعودی طاغوتوں کی سفاکانہ جیلوں میں قید ہے۔ہم اللہ سے اسکی رہائی اور سعودی طاغوتوں کی تباہی کی التجا کرتے ہیں(آمین)۔ہمیں یہ کتاب انٹر نیٹ سے میسر آئی تو ہم نے اسے بہت مفید پایا اور چاہا کہ اس کا ترجمہ کریں۔لہذا اس کا ترجمہ کرنے کے ساتھ ہی ہم نے پاکستان کے حوالے سے وہ تمام تصریحات ذکر کردیں جو کہ اس میں مذکور نہ تھیں۔اس کی وجہ بالکل واضح ہے کہ پوری مسلمان دنیا میں ایک ہی مسئلہ امت کو در پیش ہے اور ایک ہی طریقہ سے دہشت گردی کے نام پر اسے دبایا جارہا ہے۔میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ میں نے آپ کو ابلاغ کردیا اور حجت تمام کردی۔اب آپ جو مرضی رستہ اختیار کرلیں.
اللّٰھُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ .اللّٰھُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ اللّھُمَّ فَاشْھَدْ
مترجم:آپ کا مجاہد بھائی (اللہ کا بندہ)

انٹرنیٹ ایڈیشن :
مسلم ورلڈڈیٹا پروسیسنگ پاکستان
http://www.muwahideen.co.nr
(0)
الموحدین اسلامی لائبریری