JustPaste.it

ادارہ الاشباب الامۃ برائے نشرواشاعت پیش کرتا ہے

مجاہدین اور امت مسلمہ کے نام ماہِ رمضان میں پیغام

خلیفۃ المسلمین و امیر المومنین ابو بکر الحسینی القرشی البغدادی حفظہ اللہ

 

***


ـــــــــ:ــــ«»ــــ:ـــــــ


بلاشبہ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، ہم اس کی حمد بجا لاتے ہیں‘ اس سے مدد مانگتے ہیں‘ اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ ہم اپنے نفوس کے شر اور اپنی بد اعمالیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔

 

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ}
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا‘‘
[آل عمران: 102]

 

{يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاء وَاتَّقُواْ اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} 
’’اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اول)اور اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد وعورت (پیدا کرکے روئے زمین پر) پھیلا دیئے۔ اور اللہ سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت بر آری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے‘‘
[النساء: 1]

 

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا * يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَن يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا}
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو اور بات سیدھی کہا کرو * وہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک بڑی مراد پائے گا‘‘
[الأحزاب: 70-71]

 

أما بعد:

 

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ}
’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو‘‘
[البقرة: 183]

 

اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 

{شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}
’’رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے‘‘
[البقرة: 185]

 

ہم زمین کے مشرق و مغرب میں امت مسلمہ کو ماہ رمضان المبارک کی آمد پر مبارکباد دیتے ہیں، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی تعریف بجا لاتے ہیں کہ ہمیں اس فضیلت والے مہینے تک پہنچایا، بخاری و مسلم سیدنا ابو ھریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"مَن صام رمضان إيمانًا واحتسابًا: غُفر له ما تقدّم مِن ذنبه"
’’جو رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں‘‘

 

اور فرمایا:


"مَن قام رمضان إيمانًا واحتسابًا: غُفر له ما تقدّم مِن ذنبه"
’’جو ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان میں عبادت کرے ، اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں‘‘


تو اے اللہ کے بندو تمہیں مبارک ہو کہ اللہ نے تمہیں اس با برکت مہینے تک پہنچا دیا، اللہ کی تعریف بجا لاؤ اور اس کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہاری عمروں میں وسعت رکھی اور تمہیں موقع عنایت فرمایا کہ اپنی گزشتہ زیاں کاری کا ازالہ و اصلاح کر سکو، پس رمضان کا استقبال توبۃ النصوح اور سچے عزم کے ساتھ کرو؛


{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الأَنْهَارُ يَوْمَ لا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ}
’’اے ایمان والو! اللہ کے آگے صاف دل سے توبہ کرو۔ امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ اس دن پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا‘‘
[التحريم: 8]


{وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ}
’’اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے‘‘
[آل عمران: 133]


اور اس با فضیلت مہینے یا اس کے علاوہ کسی بھی مہینے میں کوئی بھی عمل جہاد فی سبیل اللہ سے افضل نہیں ہے، پس اس موقع کو غنیمت جان کر اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے سلف الصالحین کے نقش قدم پر چلو، جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے اللہ کے دین کی مدد کرو، تو اے مجاہدین فی سبیل اللہ آگے بڑھو، اللہ کے دشمنوں کو دہشت زدہ کرو اور موت کو اس کے متوقع مقامات میں تلاش کرو، کہ دنیا (دنیاوی زندگی) تو زائل و فانی ہونے والی ہے، جبکہ آخرت دائمی اور باقی ہے؛


{فَلا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَن يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ}
’’تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی طرف نہ بلاؤ۔ اور تم تو غالب ہو۔ اور اللہ تمہارے ساتھ ہے وہ ہرگز تمہارے اعمال کو کم (اور گم) نہیں کرے گا‘‘
[محمد: 35]


{إِنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ}
’’دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے‘‘
[محمد: 36]


{وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلاَّ لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ}
’’اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے‘‘
[العنكبوت: 64]


{وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلاً}
’’اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں‘‘
[الكہف: 46]


اور خوشخبری ہے اس کے لئے جس نے رمضان میں دنیا سے فراق حاصل کیا اور مغفرت کے دنوں میں سے ایک دن اپنے رب سے جاملا۔ پس اے مجاہدین فی سبیل اللہ، رات کے عبادت گزار اور دن کے گھڑ سوار بن جاؤ، مومنوں کے سینوں کو ٹھنڈا کر دو، اور طواغیت کو وہ دکھا دو جس چیز کا انہیں تم سے ڈر ہے۔


اے مجاہدو! بلاشبہ یہ اللہ کا دین ہے، بلاشبہ یہ اللہ کی تجارت ہے، اور یہ ایک نفس ہے، زندگی کا وقت محدود ہے، جو زیادہ ہوتا ہے نہ کم، بے شک جنت ہے اور جہنم ہے، سعادت ہے یا شقاوت ہے؛ جہاں تک اللہ کے دین کا معاملہ ہے تو وہ بلاشبہ مدد کیا گیا ہے، اللہ نے اپنی مدد کا وعدہ فرمایا ہے، اور جہاں تک اللہ کی تجارت کی بات ہے تو وہ بہت قیمتی اور نایاب ہے،


"ألا إنّ سلعة الله غالية، ألا إنّ سلعة الله الجنة"
’’ اچھی طرح سن لو، اللہ کا سودا گراں قیمت ہے، خبردار اللہ کا سودا جنت ہے‘‘
[الحدیث]


جہاں تک نفس کی بات ہے تو وہ کیا ہی حقیر نفس ہے! کیا ہی بد بخت نفس ہے! کیا ہی شقی نفس ہے اگر وہ اس چیز کی طلب نہیں رکھتا جو چیز اللہ کے پاس ہے، اور اللہ کے دین کی مدد نہیں کرتا!


اللہ کی قسم اگر ہم اپنے نفوس و اموال میں بخل کریں تو ہم کبھی مجاہدین نہیں ہوں گے، اللہ کی قسم اگر ہم انہیں اعلائے کلمۃ اللہ اور اللہ کے دین کی مدد کے لئے قربان نہ کریں تو ہم کبھی سچے نہیں ہوں گے؛


{إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ}
’’اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے‘‘
[التوبۃ: 111]


اے دولۃ کے سپاہیو! اسلحہ اٹھاؤ اسلحہ! قتال کرو قتال! خبردار دھوکہ مت کھانا نہ کمزور پڑنا۔ خبردار رہو! دنیا تمہاری طرف ہچکچاتے ہوئے آئی ہے، اسے لات مار دو، اپنے قدموں تلےکچل دو، اور پس پشت ڈال دو، کہ بلا شبہ جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔


یقیناً امت مسلمہ تمارے جہاد اور قتال کو امید کی نگاہوں سے دیکھ رہی ہے، اور دنیا کے مختلف گوشوں میں تمہارے ایسے بھائی ہیں جنہیں دردناک عذاب دیا جا رہا ہے، عزتیں پامال ہو رہی ہیں، خون بہایا جا رہا ہے، قیدی فریاد کناں ہیں اور مدد کے لئے چیخ پکار رہے ہیں، یتیم و بیوہ شکوہ کناں ہیں، بچوں سے محروم ہو جانے والی مائیں نوحہ کناں ہیں، مساجد کی بے حرمتی ہو رہی ہے اور حرمتوں کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، حقوق سلب اور ہڑپ کیے جا رہے ہیں؛ یہ سب چین، انڈیا، صومالیہ، جزیرۃ العرب، قوقاز، شام، مصر، عراق، انڈونیشیا، افغانستان، فلپائن، احواز، ایران، پاکستان، تونس، لیبیا، جزائر، مراکش میں ہو رہا ہے - (غرضیکہ) مشرق و مغرب میں - پس ہمت کرو ہمت اے دولۃ اسلامیہ کے سپاہیو! کہ دنیا کے ہر گوشے میں تمہارے بھائی تمہاری مدد کے منتظر ہیں، تمہارے دستوں کی آس لگائے ہوئے ہیں، اور وسطی افریقہ سے تمہیں جو مناظر دیکھنے کو ملے ہیں وہی تمہارے لئے کافی ہیں، اور اس سے قبل برما سے، اور جو کچھ مخفی رہا اور سامنے نہ آیا وہ ان سے بھی بڑھ کر تھا، پس اللہ کی قسم ہم انتقام لے کر رہیں گے، اللہ کی قسم ہم انتقام لے کر رہیں گے چاہے اس میں تھوڑا وقت لگ جائے! اور ہر ظلم کے بدلے میں اس سے بڑھ کر حساب چکائیں گے۔


{وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْيُ هُمْ يَنتَصِرُونَ}
’’اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم وتعدی ہو تو بدلہ لیتے ہیں‘‘
[الشورى: 39]


بلا شبہ ابتداء کرنے والا بڑا ظالم ہوتا ہے!


جلد ہی باذن اللہ وہ دن آئے گا جب مسلمان ہر جگہ قدر و عظمت اور رعب و دبدبے کے ساتھ چلے پھرے گا، سر اٹھا کر محفوظ عزت و شرف کے ساتھ، جو کوئی بھی اس کے خلاف کسی قسم کی جرات کرے گا تو اس کی تربیت کی جائے گی، اور جو کوئی بھی اس کی جانب دست درازی کرے گا اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا جائے گا۔


خبردار، دنیا جان لے! آج ہم ایک نئے دور میں ہیں۔ خبردار! جو کوئی بھی غافل تھا تو وہ منتبہ ہو جائے۔ خبردار! جو کوئی سویا ہوا تھا اب جاگ جائے۔ خبردار! جو حیران و حواس باختہ تھا اب وہ سمجھ جائے؛ آج مسلمانوں کا اپنا قول ہے، جو بلند و بانگ اور گرجدار ہے، اور وزنی قدم ہیں۔ ایسا قول جو دنیا کو سنائی دے گا اوراسے دہشت گردی کے معنی سمجھائے گا۔ قدم جو قومیت کے بت کو تہس نہس کر دیں گے، اور جمہوریت کے صنم کو ڈھا دیں گے اور اس کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیں گے۔ سو اے امت مسلمہ سن لو! سنو اور سمجھو، اٹھو اور چڑھائی کر دو، کہ اب تمہارے لئے وقت آ گیا ہے کہ کمزوری کی بیڑیوں سے آزاد ہو جاؤ، اور ظلم و جبر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خائن حکمرانوں، صلیبی اور ملحد ایجنٹوں، اور یہود کے محافظوں کے خلاف کھڑی ہو جاؤ۔


اے امت اسلام!


بلا شبہ آج دنیا دو کیمپوں - دو خندقوں - میں تقسیم ہو گئی ہے، ان کے علاوہ کوئی تیسرا کیمپ نہیں ہے؛ اسلام اور ایمان کا کیمپ، اور کفر و نفاق کا کیمپ، دنیا بھر کے مجاہدوں اور مسلمانوں کا کیمپ، اور یہودیوں‘ صلیبیوں اور ان کے حلیفوں کا کیمپ؛ اور ان کے ساتھ باقی تمام کفر کی اقوام اور ملتیں ہیں، امریکہ اور روس ان کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں، اور یہودی انہیں چلا رہے ہیں۔


یقیناً مسلمان اپنی خلافت کے سقوط کے بعد ٹوٹ پھوٹ گئے، پھر ان کی ریاست ختم ہو گئی؛ چنانچہ اہلِ کفر کے لئے مسلمانوں کو کمزور اور ذلیل و خوار کرنا، ہر جگہ ان پر تسلط حاصل کرنا، ان کے اموال و وسائل کو لوٹنا، اور ان کے حقوق سلب کرنا ممکن ہو گیا، اور یہ سب ان پر حملے کرنے اور ان کے ممالک پر قبضہ جمانے کے ذریعے کیا گیا، ان پر ایسے ایجنٹ خائن حکمران مسلط کیے گئے جو مسلمانوں پر آتش و آہن سے حکومت کرتے ہیں، جو تہذیب و تمدن و امن و بقائے باہم‘ اور آزادی و جمہوریت و سیکولرازم‘ اور بعثیت‘ قومیت‘ وطنیت، اور ان کے علاوہ دیگر جعلی و جھوٹے چمکدار و پر فریب نعرے بلند کرتے ہیں۔ یہ حکمران ابھی تک مسلمانوں کو غلام بنانے کے لئے اور ان نعروں کے ذریعے انہیں ان کے دین سے الگ کرنے کی مسلسل جد و جہد کر رہے ہیں؛ سو یا تو مسلمان اپنے دین سے الگ ہو جائے اور اللہ کے ساتھ کفر کرلے‘ اور مشرق و مغرب کے انسانوں کے بنائے شرکیہ قوانین کے سامنے تمام تر ذلت و انکساری کے ساتھ سر تسلیم خم کر لے‘ اوران کے تابع پستی و رسوائی کی زندگی بسر کرے‘ انہی نعروں کو دوہراتا ہوا‘ ایسی حالت میں کہ اس کی مرضی و ارادہ چھن گئے ہوں اور عزت و وقار سلب کیا جا چکا ہو؛ اور یا پھر (دین سے الگ نہ ہو جس صورت میں) تکلیفیں دیا جائے‘ نشانہ بنے‘ بے گھر کیا جائے‘ یا قتل کیا جائے‘ یا قید میں ڈالا جائے اور دہشت گردی کے الزام میں اسے بد ترین اذیتوں سے دوچار کیا جائے۔


کیونکہ دہشت گردی کی تعریف یہ ہے کہ آپ اِن نعروں کا انکار کریں اور اللہ پر ایمان رکھیں، دہشت گردی یہ ہے کہ اللہ کی شریعت کے ذریعے فیصلے کریں، دہشت گردی یہ ہے کہ اللہ کی ایسے عبادت کریں جیسے اللہ کا حکم ہے، دہشت گردی یہ ہے کہ (کفار کے روبرو) ذلت و انکساری و سرنگوئی و ماتحتی سے انکار کر دیں، دہشت گردی یہ ہے کہ مسلمان آزاد اور با عزت و با وقار مسلمان کی سی زندگی بسر کرے، دہشت گردی یہ ہے کہ آپ اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ان سے دستبردار نہ ہوں!


لیکن یہ دہشت گردی نہیں ہے کہ برما میں مسلمان قتل کیے جائیں اور ان کے مکان جلائے جائیں، اور فلپائن‘ انڈونیشیا‘ کشمیر میں ان کے ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں اور ان کے پیٹ چاک کیے جائیں!


یہ دہشت گردی نہیں ہے کہ مسلمان قفقاز میں قتل اور بے گھر کیے جائیں! یہ دہشت گردی نہیں ہے کہ بوسنیا اور ہرزیگووینا میں ان کی اجتماعی قبریں بنائی جائیں اور ان کے بچوں کو ذبح کیا جائے!، یہ دہشت گردی نہیں ہے کہ فلسطین میں مسلمانوں کے گھر منہدم کیے جائیں‘ ان کی زمینیں چھین لی جائیں‘ ان کی عزتیں پامال کی جائیں‘ اور ان کی مقدسات کی بے حرمتی کی جائے! یہ دہشت گردی نہیں ہے کہ مصر میں مساجد جلائی جائیں‘ اور مسلمانوں کے مکان منہدم کیے جائیں‘ اور پاکدامن عورتوں کی عزتیں پامال کی جائیں‘ اور سیناء اور دیگر علاقوں میں مجاہدین کا قلع قمع کیا جائے!


یہ دہشت گردی نہیں ہے کہ مشرقی ترکستان اور ایران میں مسلمانوں کو بدترین اذیتوں سے دوچار کیا جائے، ان کی تذلیل کی جائے، وہ بے عزت و رسوا کیے جائیں، اور بنیادی ترین حقوق سے محروم رکھے جائیں!


یہ دہشت گردی نہیں ہے کہ ہر جگہ کی جیلیں مسلمانوں سے بھر دی جائیں! یہ دہشت گردی نہیں ہے کہ فرانس اور تونس وغیرہ میں پاکدامنی کے خلاف جنگ کی جائے اور حجاب پر پابندی عائد کی جائے، اور فحاشی‘ فسق و فجور‘ اور زنا کو عام کیا جائے!
یہ دہشت گردی نہیں ہے کہ رب العزت پر سب و شتم کیا جائے، ہمارے نبی ﷺ کا استہزاء کیا جائے!


یہ دہشت گردی نہیں ہے کہ وسطی افریقہ میں مسلمانوں کو ذبح کیا جائے اور بھیڑ بکریوں کی طرح ان کے گلے کاٹے جائیں، جبکہ نہ کوئی ان کے لئے روئے اور نہ ہی ان پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرے!


یہ سب دہشت گردی نہیں ہے، بلکہ آزادی و جمہوریت ہے، امن و بقائے باہم ہے!!! فحسبنا اللہ و نعم الوکیل ( پس اللہ ہی ہمارے لئے کافی ہے اور وہی ہمارا کارساز ہے)!


{وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلاَّ أَن يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ}
’’یہ لوگ ان مسلمانوں سے(کسی اور گناہ کا) بدلہ نہیں لے رہے تھے سوائے اس کے کہ وہ اللہ غالب لائق حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے‘‘
[البروج: 8]


اے دنیا بھر کے مسلمانو!


خوشیاں مناؤ اور اور خیر کی امید رکھو، اپنے سر بلند کر لو کہ آج اللہ کے فضل سے تمہارے پاس ایک ریاست اور خلافت ہےجو تمہاری عزت و کرامت کو واپس لوٹائے گی، تمہارے حقوق اور سیادت کو دوبارہ بحال کرے گی۔ ایسی ریاست جس میں عجمی اور عربی‘ گورا اور کالا‘ مشرقی اور مغربی‘ سب بھائی بھائی ہیں۔ یہ خلافت ہے جس نے قفقازی و ہندوستانی و چینی و شامی و عراقی و یمنی و مصری و مراکشی و امریکی و فرانسیسی و جرمن و آسٹریلی کو اکٹھا کر دیا ہے، اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا ہے، اور وہ اللہ کے کرم سے بھائی بھائی بن گئے ہیں جو اللہ واسطے ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں، ایک خندق میں کھڑے ہیں، ایک دوسرے کا دفاع کرتے ہیں، ایک دوسرے کی حفاظت کرتے ہیں، اور ایک دوسرے پر قربان جاتے ہیں، ان کے خون ایک جھنڈے تلے اور ایک مقصد کے تحت اور ایک کیمپ میں باہم مل گئے ہیں، وہ اس نعمت سے آسودہ حال اس میں خوب عیش کر رہے ہیں، ایمانی بھائی چارے کی نعمت، اگر بادشاہ کبھی اس نعمت کا مزہ چکھ لیں تو اپنی بادشاہت ترک کر دیں اور اس نعمت کی خاطر لڑیں۔ پس تمام تعریف اور تمام شکر اللہ کے لئے ہے۔


لہذاٰ اے مسلمانو اپنی ریاست کی جانب جلدی چلو، جی ہاں آپ کی ریاست، جلدی چلو، کیونکہ شام شامیوں کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی عراق عراقیوں کے لئے ہے،


{إِنَّ الأَرْضَ لِلّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاء مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ}
’’زمین تو اللہ کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے‘‘
[الأعراف: 128]

 

دولۃ مسلمانوں کی ریاست ہے، اور زمین مسلمانوں کی زمین ہے، سب مسلمانوں کی۔
سو اے دنیا بھر کے مسلمانو! جو کوئی دولۃ اسلامیۃ کی جانب ہجرت کی استطاعت رکھتا ہے تو وہ ہجرت کرے، کیونکہ دار الاسلام کی جانب ہجرت واجب ہے؛ ارشاد باری تعالیٰ ہے:


{إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُواْ فِيمَ كُنتُمْ قَالُواْ كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الأَرْضِ قَالُواْ أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُواْ فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا}
’’اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین فراخ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے‘‘
[النساء: 97]


پس دوڑو اے مسلمانو اپنے دین کے ساتھ، اللہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے؛


{وَمَن يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً وَمَن يَخْرُجْ مِن بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا}
’’اور جو شخص اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے وہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کرکے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے‘‘
[النساء: 100]


اور ہم خاص طور پر طلبائے علم‘ فقہاء‘ داعیوں کو پکارتے ہیں‘ اور ان میں سر فہرست قاضی ہیں اور عسکری‘ انتظامی‘ اور سروسز میں اہلیت کے حامل افراد ہیں؛ اور مختلف شعبہ جات و مخصوص میدانوں میں مہارت کے حامل ڈاکٹر اور انجینئر ہیں، ہم انہیں بلاتے ہیں اور انہیں اللہ کے تقوی کی یاد دہانی کراتے ہیں؛ کیونکہ ان کا نکلنا (اس وقت) ان پر فرض عین ہے، اس لئے کہ مسلمانوں کو اس وقت ان کی شدید ضرورت ہے۔ لوگ اپنے دین سے جاہل ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے ترستے ہیں جو انہیں علم سکھائیں اور سمجھائیں۔ سو اے اللہ کے بندو اللہ سے ڈرو۔


اور اے دولۃ الاسلامیۃ کے سپاہیو!


تمہارے دشمنوں کی بڑی تعداد تمہیں ہیبت زدہ نہ کرنے پائے، کیونکہ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور میں تمہارے بارے میں (تمہارے علاوہ) کسی اور دشمن سے خوفزہ نہیں ہوں، اور نہ ہی تمہارےبارے میں غربت و افلاس سے خوفزدہ ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ ضمانت دی تھی کہ وہ تم لوگوں کو قحط میں ہلاک نہیں کرے گا، اور نہ ہی تم پر ایسا (خارجی) دشمن مسلط کرے گا جو تمہاری جڑ کاٹ دے، اور اللہ نے تمہارا رزق تمہاری برچھیوں کے سائے تلے رکھا ہے، بلکہ میں تمہارے بارے میں تم سے ہی خوفزدہ ہوں؛ تمہارے گناہوں سے، اور تمہارے نفسوں سے!


موافقت اختیار کرو اور تنازعات مت کرو، اکٹھے ہو جاؤ اور اختلاف نہ کرو، اور اپنی خلوت و جلوت‘ ظاہر و باطن میں اللہ سے ڈرو، گناہوں سے اجتناب کرو، اور جو کوئی کھلم کھلا گناہ کرے اسے اپنی صفوں سے نکال دو، اور عُجب و غرور و تکبر سے خبردار رہو، اور اپنی بعض کامیابیوں پر فخر مت کرو، اللہ کے سامنے عاجزی و انکساری اختیار کرو، اور اللہ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش مت آؤ، اپنے دشمن کو کمتر مت سمجھو چاہے تمہاری قوت کتنی بھی زیادہ ہو جائے اور اور تمہاری تعداد کتنی بھی بڑھ جائے۔


اور میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ مسلمانوں اور اہل سنت کے قبائل کے ساتھ خیر و بھلائی سے پیش آؤ، ان کے امن و راحت کے لئے جاگو اور پہرے دو، اور ان کے مددگار بنو، ان کی طرف سے کسی بھی برائی کا بدلہ بھلائی سے دو، اور ان کے ساتھ نرمی لازم کر لو، عفو و درگزر کو پھیلا دو، ثابت قدم رہو، ایک دوسرے کو تھامے رکھو، اور جہاد کے لئے تیار رہو، جان لو کہ آج تم دین کے محافظ ہو اور ارض اسلام کے پاسبان ہو، اور تمہارے سامنے لڑائیاں اور جنگیں آنے والی ہیں۔ بلا شبہ بہترین جگہ جہاں تمارا خون بہے وہ ان مسلمان قیدیوں کو چھڑانے کی راہ میں ہے جو طواغیت کی جیلوں کی چار دیواریوں میں بند ہیں، پس تم اپنا سامان تیار رکھو، اور تقوی کا زاد راہ ساتھ لے لو، اور قرآن پڑھنے اس پر تدبر کرنے اور اس پر عمل کرنے میں پابندی سے قائم رہو۔


یہ تمہارے لئے میری نصیحت ہے، اگر تم نے اس پر التزام کیا تو تم یقیناً روم فتح کر لو گے اور تم یقیناً زمین پر راج کرنے لگو گے انشاءاللہ۔

 

{رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتْ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ}
’’اے ہمارے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہو چکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ‘‘
[آل عمران: 53]


{رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ}
’’اے ہمارے رب اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیے۔ اے ہمارے رب ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیے جیسا آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیے۔ اور (اے ہمارے رب) ہمارے گناہوں سے درگزر کیجیے اور ہمیں بخش دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے۔ آپ ہی ہمارے مالک ہیں سو ہمیں کافروں پر غالب فرمائیے‘‘
[البقرة: 286]

 

ـــــــــ:ــــ«»ــــ:ـــــــ

 

https://www.facebook.com/shabab.media2 

www.muwahideen.co.nr          http://bab-ul-islam.net/     

ہمیں اپنی نیک دعاؤں میں کبھی مت بھولئے گا